منہج نبوت پر چلنااورکار نبوت کوعام کرناہی عزت کی ضمانت ہے۔
محمدامام الدین ندوی
ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس روئے زمین پر مسلمان ذلیل ترین قوم بن چکاہے۔اسلام دشمن طاقتیں متحد ہوکر اسے لقمہ تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔دنیا کی جدید ترین اسلحے کے استعمال کے لئے مسلمانوں ہی کےسینےتختہ مشق بنائے جاتے ہیں۔
دنیا کی تمام تر میڈیا مسلمانوں کی بیخ کنی میں معاون مددگاربنتی جارہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی وسیع و عریض زمین اس پرتنگ ہوتی نظر آرہی ہے۔نام نہاد مسلم ممالک بھی غلامی کی دبیز چادر اوڑھے ہوئے اپنی اسلام دشمن آقاؤں کی جی حضوری اور کرسی کی بقا کی بھیک ماںگنے میں مصروف نظرآتےہیں۔اس ذلت ونکبت کی اصل وجہ منہاج نبوت سے دست برداری اور کار نبوت سے کنارہ کشی ہے۔ کبھی ہم نےان دونوں خوبیوں سے آراستہ ہوکر جہاں بانی وجہاں گیری کی تھی۔آج ان خوبیوں سے دوری کی وجہ سے ہم محکومانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔
ہم دنیا میں خلیفہ بن کر آئے۔جب تک ہمارے اندر دونوں صفات تھیں ہم مسند خلافت پر متمکن رہے۔ہمیں امامت بھی ملی اورہم نے قیادت بھی کی۔دنیا کو امن وامان عطاکیا۔دنیا ظلم وجور کی چکی سے نکلی اور عدل وانصاف کے شیریں چشمے سے سیراب اور فیضیاب ہوئی۔
منہاج نبوت ،اور کارنبوت،ایک مومن کی زندگی کا لازمی جز ہے۔اس ڈگر سے ہٹ کر وہ کبھی کامیاب ہوہی نہیں ہوسکتا ہے۔تمام شعبہائے زندگی اسی محور کے گرد گھومتی ہے۔ایک صالح معاشرے کی تشکیل اس منہج سے ہٹ کر اور کٹ کبھی وجود میں اہی نہیں سکتی ہے۔
آج کی دنیا مغرب کی ذہنی غلام بنی ہوئی ہے۔اس کے پاس نہ تو منہاج نبوت ہے اور نہ ہی وہ کارنبوت پر عامل ہے۔ سماج ومعاشرہ ہلاکت کے دہانے پر کھڑاہے۔طبیعت شریعت پر غالب ہے۔دین،دنیا کی کامیابی کے لئےچند سکوں میں فروخت ہورہے ہیں۔مسجدیں عالی شان ہیں۔ہر طرح کے رنگ وروغن،قیمتی ماربل اور ٹائلس سے مزین ہیں۔وضو خانے کی حالت بہت اچھی ہے۔موسم کے لحاظ سے گرم اور ٹھنڈے پانی کا انتظام بھی ہے۔عمدہ قالین اور جائے نماز بھی بچھے ہیں۔امام اور مؤذن بھی ہیں۔ان کی تنخواہیں بھی دی جاتی ہیں پر یہ مساجد نمازیوں سے اور ہدایت سے خالی ہیں۔کتاب ہدایت ( قرآن شریف)جزدان میں ملبوس طاق یا اونچی جگہ پر باحفاظت رکھی ہوئی ہیں ۔نہ کوئی اسے چھوتاہے اور نہ ہی کوئی اس کی تلاوت کرتا ہے۔ماضی میں اسی کتاب ہدایت سے ہمارے اکابرین زندگی کی تمام گتھیاں سلجھاتے رہے اور اس میں وہ صد فی صد کام یاب بھی رہے۔ آج ہم کتاب ہدایت سے دور ہوکر اپنی زندگی کے تمام مسائل کو گنجھلک اور لاینحل بنا لئے ہیں۔دین محض نام کا ہی رہ گیاہے اس پر رسومات غالب ہیں۔دین میں روز نئی نئی چیزیں شامل کی جارہی ہیں۔حقوق الله اور حقوق العباد پورے نہیں ہورہے ہیں۔پڑوسی پڑوسی کا دشمن ہے۔بھائی بھائی کا غدار ہے۔رشتے توڑے جاتے ہیں۔دینی علوم عبث اور بیکار سمجھے جارہے ہیں۔عصری علوم کا بول بالا ہے۔جس میں نہ منہج نبوت کا خیال رکھا گیاہے اور نہ ہی کار نبوت کا ۔ایک پیشہ ورانہ سسٹم ہے۔کفروشرک کی تعلیم دی جاتی ہے جومادیت سے پر ہے۔
دنیا لٹ چکی ہے۔اصل پٹری سے ہٹ چکی ہے ۔اس کی تیز دھار ایک ایسے سمت بہ رہی ہے جس کی کوئی منزل ہی نہیں ہے۔اسے صحیح سمت دینے اور صحیح منزل پر لے جانے والی قوم ایک ہی ہے جسے منہاج نبوت اور کار نبوت کی عظیم ذمہ داریاں ملیں گرچہ وہ اس ذمہ داری نبھانے سے دست بردار ہوگئی۔اس کے سنگین نتائج سارے عالم کو بھگتنے پڑرہےہیں۔
محمدعربی صلی الله عليه وسلم،اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔باب نبوت آپ کے بعد بند ہوگیاہے۔آپ صلی الله عليه وسلم نے ٢٣ برس کی مختصرسی مدت میں دنیا کو صحیح سمت عطا کیا۔شجر وحجر کے پجاریوں کو اللہ وحدہ لاشریک کا سچا پرستار بنادیا۔دنیا میں بہتے ظلم وجور کے تمام سوتے بند کردئے۔دشمنوں کو دوست بنادیا۔حیوانیت انسانیت میں تبدیل کردی۔پرائے اپنے نظر آنے لگے۔عفو درگذر کی فضا قائم کردی۔ادائیگی حقوق کا جذبہ دل ودماغ میں مرتسم کردیا۔حق تلفی کا قلع قمع کر دیا ۔عورتوں کو حیا کی چادر عطا کی۔پتمیوں کو سہارا دیا۔بیواؤں کی دست گیری کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط کیا۔ ان کے قلوب کو مجلی ومصفی کیا۔اس پر نبوی رنگ غالب کیا۔ان کے دل ودماغ کو منہاج نبوت اور کار نبوت کے لئے تیار کیا۔ان کی زندگی منہاج نبوت پر صد فی صد کاربند ہوگئی۔اور کار نبوت ان کے رگ وریشہ میں پیوست ہوگئی۔اس کام کو لے کر وہ چلے اور چلتے گئے۔مخلوق کو خالق سے جوڑتے گئے۔
مخلوق کے دل میں ان کی محبت بیٹھتی چلی گئے۔لوگ ان سے جڑتے گئے۔اس کے عوض اللہ تعالیٰ نے انہیں امامت،خلافت۔سیادت۔عزتسب عطا کئے۔جہالت اور جاہلیت کازور ٹوٹا۔علم ومعرفت کا چشمہ ابلنے لگا۔کمزوروں کو طاقت ملی۔غم زدوں کو خوشی میسر ہوئی۔گھمنڈوں کی گھمنڈی ختم ہوئی۔تکبر کا خاتمہ ہوا۔ہم دردی،ایثارو قربانی کا جذبہ دل میں موجزن ہوا۔دنیا ظلم وستم کی بھٹی بنی ہوئی،تھی آن کی آن میں امن وسلامتی کا گہوارہ بن گئی۔بڑے چھوٹے،اونچ نیچ،امیر غریب،آقا اور غلام کابھید بھاؤ ختم ہوگیا۔اور سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
منہاج نبوت اور کار نبوت کی بہ دولت مسلمان ہر شعبہائے زندگی میں بام عروج کو پہونچ گئے۔اس کی نغمگیں فضاؤں نے پورے عالم کو معطر کردیا۔رہزنوں کورہبر بنادیا۔معصوم اور بے قصور بچیوں کے قاتلوں کو ان کا کفیل بنادیا۔بات بات پر لڑنے جھگڑنے والوں کو الفت ومحبت کا جام پلادیا۔
آج دنیا پھر ایک بار فسادوبگاڑ کے دل دل میں پھنس چکی ہے۔منہج نبوت اور کار نبوت سےدنیاوالے کلیۃ دست بردار ہوگئے ہیں۔دنیاوالوں کو منہج نبوت پر کاربند ہونے اور کار نبوت کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ماہ ربیع الاول کا یہی پیغام ہے۔اسی پیغام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام کیا۔اور لوگ اسی پر چل کے کام یاب ہوئے۔
مسلم قوم کی ذلت ونکبت اسی وقت دور ہوگی جب وہ اپنی زندگی کو منہج نبوت پر ڈال کر کار نبوت دنیا والوں کو پیش کرے گی۔
No comments:
Post a Comment