Translate

Monday, September 22, 2025

حضرت قمر شمسی:ایک مرد حق کی تابندہ زندگی بقلم: حضرت مولانا شاہ عبدالقیوم شمسی اماموری،پاتے پور،ویشالی

حضرت قمر شمسی:ایک مرد حق کی تابندہ زندگی 
بقلم: حضرت مولانا شاہ عبدالقیوم شمسی 
اماموری،پاتے پور،ویشالی
    حضرت مولانا سید شاہ مظاہرعالم قمر قمرشمسی دامت برکاتہم علم، حلم، تقویٰ، زہد، تواضع اور اخلاص کے پیکر جمیل ہیں۔ ان کا وجود آج کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور کرم کا مظہر ہے۔ ان کے چہرے پر نورِ معرفت جھلکتا ہے، زبان پر حق گوئی، دل میں اخلاص، اور اعمال میں سنتِ رسول ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شخصیت سے جو روحانی کشش محسوس ہوتی ہے، وہ ہر سنجیدہ طالب علم اور سلیم الفطرت انسان کو ان کے قریب لے آتی ہے۔
حضرت کا تعلق ایک عظیم علمی و روحانی خانوادے سے ہے۔ سلسلۂ نسب حضرت شیخ مخدوم اولیاء رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتا ہے، جو حسینی سید تھے اور جن کے نام پر چک اولیاء بسا۔ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا سید شاہ محمد شمس الحق بن سید شاہ محمد ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ تھے، جو خود ایک جلیل القدر عالم، محدث اور مردِ حق تھے۔ آپ کی والدہ محمودہ خاتون بنت ڈاکٹر عبدالرشید بن شیخ ابو الحسن تھیں، جن کا خاندان بھی علم و قضا میں ممتاز مقام رکھتا تھا۔
حضرت کی ولادت 8 ستمبر 1943ء بمطابق 1361ھ کو آپ کے ننہیال رسول پور بکھری میں ہوئی۔ دو سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد آپ کی پرورش نانہال میں ہوئی۔ پانچ برس کی عمر میں دادا جان نے رسمِ بسم اللہ پڑھائی۔ ابتدائی تعلیم دادا ہی سے حاصل کی، جنہوں نے قاعدہ بغدادی، ناظرہ قرآن اور ابتدائی فارسی کتب گلستاں تک کی تعلیم دی۔ اردو پرائمری اسکول ابابکر پور میں داخلہ ہوا، جہاں مولانا حبیب الحق قاسمی اور مولوی ضمیر الدین جیسے اساتذہ سے تعلیم پائی۔ 1955ء میں مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں داخلہ لیا، جہاں مولوی سے متوسطات تک کی تعلیم حاصل کی۔ اساتذہ میں والد گرامی کے علاوہ مولانا عبدالمجید رحمانی، قاری صغیر احمد، حافظ عبدالحفیظ، ماسٹر ظہیر الدین علیگ جیسے ممتاز اساتذہ شامل تھے۔
1961ء میں دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں داخلہ لیا، اور 1963ء میں فضیلت کی سند حاصل کی۔ یہاں آپ کے اساتذہ میں مولانا عبید الرحمن عاقل رحمانی، مولانا ظہور احمد رحمانی، مولانا عبدالرحمن سلفی، مولانا آزاد رحمانی، مولانا اکمل اعظمی، اور مولانا حبیب المرسلین جیسے جید علمائے کرام شامل تھے۔ 1964ء میں بہار بورڈ سے میٹرک اور بعد ازاں 1965 و 1966 میں مدرسہ ایگزامینیشن بورڈ سے فاضل فارسی اور فاضل حدیث کی اسناد حاصل کیں۔
4/ نومبر 1964ء کو آپ کی تقرری مادر علمی مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں بطور معاون مدرس ہوئی۔ ابتدا میں متوسطات تک کی کتابیں پڑھانے کا موقع ملا، اور پھر یکم مارچ 1985ء کو آپ صدر المدرسین کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس عہدے پر تقریباً بیس سال خدمات انجام دیں، اور مدرسہ کو علمی، دینی، اور تعمیری لحاظ سے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ آپ کے دورِ صدارت میں مدرسہ نے بے مثال ترقی کی۔
 31 اگست 2005ء کو تقریباً چالیس سالہ خدمات کے بعد آپ مدرسہ سے سبکدوش ہوئے۔ آپ کی سبکدوشی کے موقع پر جس شاندار انداز میں آپ کو رخصت کیا گیا، وہ آپ کی مقبولیت اور محبت کا واضح ثبوت تھا۔ مولانا رئیس اعظم مرحوم نے جو منظوم الوداعیہ پیش کیا، وہ ایک تاریخی خراجِ عقیدت تھا۔
آپ کے شاگردوں میں ملک و بیرونِ ملک ممتاز شخصیات شامل ہیں، جن میں مولانا ظفر اللہ ابابکرپوی، پروفیسر انوارعالم، پروفیسر لیاقت علی خان، پروفیسر مقبول احمد پٹوری ، پروفیسر حسن رضا، پروفیسر غلام اشرف قادری، مولانا سراج الہدی ندوی ازہری، مولانا شمیم احمد شمسی، مولانا محمد حدیث چک معین الدین، عزیزم مولانا محمد قمرعالم ندوی اور عزیزم مولانا محمد صدر عالم ندوی جیسے معتبر اور خدمت گزار لوگ شامل ہیں۔
حضرت کا عقد نکاح 15 جون 1967ء کو عظیم النساء بنت محمد مکرم سے ہوا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک صاحبزادی اور پانچ صاحبزادگان سے نوازا، جو تعلیم یافتہ اور مختلف شعبوں میں مصروف خدمت ہیں، جن میں تعلیم، ٹیکنیکل، دینی، اور بیرونِ ملک کے شعبے شامل ہیں۔
1982ء میں حضرت نے حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، اور ان کے وصال کے بعد اپنے والد گرامی حضرت مولانا سید شاہ محمد شمس الحق کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی۔ حضرت والد نے آپ کو خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا۔ یہ سب کچھ حضرت کی سیرت و کردار، زہد و تقویٰ، روحانی بالیدگی، اتباعِ سنت، اور کشف و بصیرت کی بنیاد پر ہوا۔ حضرت کے کشف اور روحانی حالات کے کئی واقعات زبان زد عام ہیں، لیکن آپ کی طبیعت میں انکساری اور اخفاء کا وصف اس قدر غالب ہے کہ وہ انہیں ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے۔ حضرت کی زبان پر کثرتِ ذکر و درود، آنکھوں میں خشیتِ الٰہی، اور عمل میں پابندیِ سنت ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ 
حضرت کی زندگی درس و تدریس میں گزری۔ وہ نہ صرف ایک مربی استاد ہیں بلکہ بہترین منتظم، رہنما، داعی، خطیب، اور اصلاحی مزاج کے حامل بزرگ بھی ہیں۔ مدرسہ سے سبکدوشی کے بعد آپ نے کوئی ملازمت اختیار نہیں کی، البتہ کچھ اداروں سے تاحال وابستہ ہیں۔ ان میں رکن مجلس شوریٰ امارت شرعیہ، سکرٹری مدرسہ اسلامیہ شمسیہ چک معین الدین، متولی مسجد حسن پور گنگٹی، متولی مسجد چک اولیاء، سرپرست انجمن اصلاح المسلمین چک اولیاء، اور شمس اسٹڈی سرکل کے سرپرست شامل ہیں۔ والد محترم کی وفات کے بعد آپ عیدگاہ ابابکر پور میں عیدین کی مستقل امامت فرما رہے ہیں۔
حضرت کا مشغلہ تصنیف نہ تھا، مگر پھر بھی آپ نے والد گرامی کی نعتوں کا مجموعہ ’’یادِ حرم‘‘ اور ان کی منتخب 40 احادیث کو کتابی شکل میں شائع کیا۔ بعد ازاں اپنی نعتوں، غزلوں اور نثری مضامین کو ’’انوار قمر‘‘ کے نام سے 2019ء میں شائع کیا، جو عوام و خواص میں بہت مقبول ہوئی۔ ’’خطبات مظاہر‘‘ (مرتب مولانا قمر عالم ندوی)، ’’سلام و مصافحہ کی 40 حدیثیں‘‘، اور ’’احادیث قدسیہ‘‘ جیسے چند اہم دینی مواد بھی آپ کی نگرانی میں منظرِ عام پر آئے۔
حضرت کی خدمات کا دائرہ درس و تدریس تک محدود نہیں رہا، بلکہ آپ نے مسجد، مدرسہ، تبلیغ، ملی تنظیموں اور اصلاحی اداروں کے ذریعے بھی دین کی بھرپور خدمت انجام دی۔ آج بھی آپ جامع مسجد ابابکر پور میں خطبہ جمعہ سے پہلے خطاب فرماتے ہیں، اور علاقائی دینی و دعوتی پروگراموں میں مسلسل شرکت کرتے ہیں۔
بلاشبہ حضرت مولانا سید شاہ مظاہر عالم قمر شمسی دامت برکاتہم کا وجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمتِ کبریٰ ہے۔ ان کی صحبت ایک زندہ نصیحت ہے، ان کے کردار سے باطن کی صفائی ہوتی ہے، اور ان کی صحبت میں بیٹھنے سے دل میں دین کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ ایسے اللہ والے بزرگوں کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ 
حضرت مولانا سید شاہ مظاہر عالم قمر شمسی دامت برکاتہم نہ صرف عالمِ باعمل، محدث، مربی، اور ممتاز معلم ہیں بلکہ ایک سچے، پکے، کامل اللہ والے بھی ہیں۔ آپ کی زندگی تقویٰ، طہارت، سادگی، تواضع، انکساری، زہد، اور سنتِ رسول ﷺ کی عملی پیروی کا ایک درخشاں نمونہ ہے۔ دنیا کی رنگینیوں اور وقتی لذتوں سے بے نیاز، دل میں خشیتِ الٰہی، زبان پر ذکر و درود، اور ظاہر و باطن میں اخلاص کی چمک آپ کی شخصیت کا طرۂ امتیاز ہے۔
حضرت کا روحانی مقام نہایت بلند ہے۔ ان کے قلبِ منور سے اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات کا ظہور ہوتا ہے۔ ان کی مجالس میں بیٹھنے سے دل نرم ہوتا ہے، روح کو سکون ملتا ہے، اور ایک عجیب سی باطنی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ کئی مواقع پر ایسے واقعات پیش آئے جو حضرت کے کشف و فراست پر واضح دلیل ہیں۔ مگر آپ کی طبعی خاموشی، اخفاء، اور انکساری کا یہ عالم ہے کہ کبھی اپنی بزرگی یا روحانی کمالات کو ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ بس ہر وقت اللہ سے جڑے رہتے ہیں اور مخلوق کو اللہ سے جوڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔
میں نے خود ان کی زندگی کو نہایت قریب سے دیکھا، ان کے معمولات کو پرکھا، ان کی عبادات، تعلق باللہ، اتباعِ سنت، خدمتِ دین، اور خدمتِ خلق کو دیکھا تو میرا دل گواہی دینے لگا کہ یہ ہستی صرف ایک عالم نہیں، بلکہ ایک کامل مرشد، مردِ حق، اللہ کے محبوب بندے ہیں۔ انہی روحانی، اخلاقی، دینی اور باطنی اوصاف کو دیکھ کر میں نے اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا سید مظاہر عالم قمر شمسی دامت برکاتہم کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ یہ میرے لیے روحانی زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور پھر وہ بابرکت لمحہ بھی آیا کہ حضرت نے اپنے فضل و کرم سے، روحانی اعتبار سے مجھ ناتواں کو خلافت اور بیعت کی اجازت عطا فرمائی۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا شکر میں عمر بھر ادا نہیں کر سکتا۔
میں اپنے پیر و مرشد کا دل سے شکر گزار ہوں، اور ساتھ ہی رب کریم کا بھی شکر گزار ہوں جس نے مجھے ایک ایسے مردِ حق کی صحبت نصیب فرمائی، جن کی دعا، توجہ، اور صحبت آج بھی میرے دل و دماغ کو منور کیے ہوئے ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت کو صحت و عافیت کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے، ان کے فیوض و برکات سے ہمیشہ وابستگی قائم رہے، اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین یا رب العالمین۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...