Translate

Sunday, January 4, 2026

(چھٹی قسط )مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

(چھٹی قسط )
مطالعہ نگار: 
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس: 
جامعة الحسنین 
صبری پور
خاکہ نگاری میں انفرادی شان کی حامل اس کتا ب میں اب ذکر ہے بیسویں صدی عیسوی کی نابغۀ روزگار شخصیت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کا جنہوں نے قافلۀ انسانیت کو صحیح رخ دیا،عنوان ہے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی اور مغربی تہذیب کی تئیں آپ کا موقف ،
معروف قلم کار مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن فیضی ندوی کےمطالعہ وتحقیق کے مطابق آپ کی شخصیت کی تشکیل کے عناصر درج ذیل ہیں۔
1۔علمی خانوادہ، اس خاندان کا انتہائی پاکیزہ اور تربیتی ماحول،دین و ایمان کی حفاظت، ہر دور میں نامور علماء و فضلاء کی موجودگی۔
2۔ ان کی شخصیت میں نکھار میں دارالعلوم ندوة العلماء کا کردار اہم اور نمایاں ہے اس ادارے میں زیر تعلیم لے کر معاصر تحریکات، باطل نظریات اور جدید تخریبی رجحانات سے اچھی طرح واقف ہوئے اور ان کا حل تلاش کرنے کا موقع ملا۔
3۔ خاک مدینہ کو اپنی انکھ کا سرمہ بنانے والے علامہ اقبال کی انقلابی وعقا بی شاعری کے اثر نے آپ کی شخصیت سازی میں انقلابی کردار ادا کیا۔
4۔ قرآن کریم اور سیرت طیبہ سے استفادہ آپ نے اپنے فکر و فن کی بنیاد اسی پر رکھی کہ یہ دونوں اسلام کے سرچشمے ہیں۔
5۔ تاریخ اور علوم اسلامیہ آپ نے بڑی باریک بینی اور دقیقہ رسی سے تاریخ کا مطالعہ کیا اور علوم اسلامیہ کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ کیا جس نتیجے میں قوموں کے عروج و زوال کے تمام گوشے نگاہوں کے سامنے روشن ہوئے، پھر آپ نے وہ روشن مدلل گفتگو فرمائی اور کتابیں تصنیف کیں جو مدلل اور سلجھی ہوئی ہوتیں،خواص آپ کی آراء سے مطمئن ہوتے اور آپ کے ارشادات و فرمودات پر عمل شروع کر دیتے۔
6۔ خدا ترس علماء و صلحاء کے ساتھ خصوصی ربط و تعلق، علماء و مشائخ سے بے پناہ قلبی وارفتگی، وقتا فوقتا حاضری اور استفادہ، اسی وجہ سے آپ ایک عالم ربانی ثابت ہوئے،علامہ یوسف القرضاویؒ نے اپ کو العالم الربانی لکھا ہے مولانا اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ دین اسلام کی اشاعت رجال ﷲ اور کتاب ﷲ کے ذریعہ ہوئی ہے اس لیے مولانا نے اس جانب توجہ کی اور اہل ﷲ سے وابستہ رہے،وہ مشائخ عظام جن کی خدمت میں باریابی کو مولانا ندوی باعث خیر و برکت شمارکرتے تھے۔ 
* حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ 
* شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ
* بانی تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ
* حضرت مولانا شاہ یعقوب صاحب مجددی بھوپالیؒ

 یہ وہ اہم اور بنیادی مقاصد تھے جن سے مولانا ندوی کی شخصیت نکھر کر سامنے آئی اور وہ مر جع خلائق بنے۔
ڈاکٹر صاحب زید مجدہ نے مفکر اسلامؒ کا مغربی تہذیب کی تئیں موقف صراحت کے ساتھ بیان کرنے سے قبل ثقافت و تہذیب کا مفہوم واضح کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں۔
ثقافت ان علوم و معارف اور نظریات کا نام ہے جن میں مرور زمانہ اور گردش ایام کے ساتھ تبدیلی اور ارتقاءکا عمل ہوتا رہتا ہے، لیکن تہذیب کا قالب، نظام سیاست و معیشت،طرز رہائش، اقتصادی وسائل، علم و فہم، انسانی روایت سے ڈھلتا ہے،گویا تہذیب و تمدن دنیا کے اندر رہن سہن کے مختلف طریقوں سے عبارت ہے، لہذا جو بھی انسان اس عالم دو گیتی میں بستا ہے وہ ولادت سے وفات تک الحضارة یعنی تہذیب و تمدن کو لازمی طور پر اختیار کرتا ہے،چاہے وہ تعلیم یافتہ ہو،یا ناخواندہ، پڑھا لکھا ہو، یا انپڑھ۔

حضرت مفکر اسلامؒ اسلامی تہذیب و تمدن کو صحیح اور معیاری تہذیب و تمدن گردانتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
 اسلامی تہذیب و تمدن ہی صحیح معیاری اور مثالی تہذیب و تمدن ہے کیونکہ اس کی بنیاد توحید ،رسالت، آخرت اور اچھی بری تقدیر کے سلسلے میں ایمانی موقف پر ہے،اسلامی تہذیب میں جزا و سزا کا تصور ہے،وہ زندگی اور سماج کے صرف کسی ایک یا چند گوشوں میں مثالی کردار پیش نہیں کرتی ہے بلکہ ہر ہر گوشے اور ہر سمت میں رہنمائی کرتی ہے،یہ اسلام کا اعجازی کارنامہ ہے، اسلامی تہذیب درحقیقت ایک دائمی انسانی تہذیب ہے اس میں جسم روح دونوں کا بڑے توازن اور جامعیت کے ساتھ خیال رکھا گیا ہے،
مغربی تہذیب کی اساس اور اس کا آغاز اسپین کی تاریخ سے استفادہ اور اپنی طویل خرمستی و خواب سے بیداری کے بعد جب یورپ نے حکومت و اقتدار سے پر غلبہ حاصل کر لیا تب اس کی ترقی کی شروعات ہوئی اور تھوڑی ہی مدت میں تعمیر و ترقی کی چوٹی پر پہنچ گئی اور اس تہذیب نے یورپین افکار و نظریہ کو اپنی اساس قرار دیا۔
حضرت مولانا علی میاںؒ نے یورپ کے افکار کو مختصرا چار نکات میں پیش کیا ہے۔ 

محسوس پر ایمان اور محسوس اشیاء کے اندازے میں کمی
 خشوع و خضوع کا فقدان
زندگی کا بڑا اہتمام اور اس کی لطف و لذت کا ضرورت سے زیادہ خیال
 قوم پرستی کا رجحان
 چنانچہ اگر انسان غور کرے تو پوری طرح محسوس ہو جائے گا کہ مادیت وہ جامع کلمہ ہے جس پر یورپ کا بڑا پختہ ایمان ہے یورپین اقوام جس کلمے کا سب سے زیادہ ذکر کرتے ہیں وہ ہے پیٹ،اور معدہ،
 مادیت کا عنوان بہت ہی روشن اور اس کا جسم بڑا آبدار ہے اس کے اندر ایسی قوت اور کشش پائی جاتی ہے جو ہر ایک کو اپنے دام میں پھانس لیتی ہے، اور اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
مولانا علی میاںؒ اور تمدنی خرابیوں کی بیخ کنی۔
 انیسویں صدی کے وسط میں مغرب نے عالم اسلام پر حملہ کیا اور یہ حملہ انتہائی زبردست اور دور رس اثرات کا حامل تھا اس حملے کے مقابلے کے لیے فکر و نظر میں وسعت و گہرائی، دقیقہ رسی، و باریک بینی اور جرأت وشہامت کی ضرورت تھی اور اس دور کے مفکرین وقائدین میں یہ چیزیں تقریبا مفقود نظر آتی تھیں، تومغربی حملے کے مقابلے کے لیے مشرق میں جو ستارہ طلوع ہوا وہ علامہ جمال الدین افغانی کی ڈائنامیکی شخصیت تھی لیکن ان پر سیاسی رنگ کا غلبہ تھا، چنانچہ علامہ افغانی کی پوری توجہ اسلامی ممالک کو مغربی سامراج کے چنگل سے آزاد کرانے پر تھی،اور علامہ افغانی کے نامور شاگرد مفتی محمد عبدہ کا موقف بھی دفاعی انداز کا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اسلام کے بعض مسلمہ حقائق کی بھی تاویل کی اب امیدیں اخوان المسلمون سے وابستہ تھیں، لیکن ان کی راہ میں بھی بہت سی رکاوٹیں پیدا ہو گئیں، بر صغیر کے معروف شاعر اکبر الٰہ آبادی نے بھی مغربی تہذیب و تمدن پر زبردست یلغار کی،علامہ اقبال نے بھی مورچہ سنبھالا ،مگر علامہ کی تنقید اور حملوں کا دائرہ بھی بہت وسیع نہ ہو سکا ایسے ماحول میں دنیا کو ایک ایسی شخصیت کا انتظار تھا جس میں وسعت ہو، اعتدال ہو ،جن کے پاس فکر ارجمند کے ساتھ زبان ہوش مند ہو، عربی زبان و بیان پر اعلی درجہ کی قدرت ہو،وہ شخصیت زہد وقناعت اور اخلاص مع ﷲ، اخلاق و کردار کی دنیا میں بھی مثالی شان رکھتی ہو، چنانچہ ﷲ تعالی نے زمانے کی ضرورت اور حالات کے تقاضے کے مطابق مولانا علی میاںؒ ندوی کی ذات میں اس مطلوب و منتظر عبقری شخصیت کو جلوہ گر فرمایا،اور علامہ ندویؒ نے حیات بخش نسخے تجویز فرمائے، مسائل کا اطمینان بخش حل پیش فرمایا ،دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھا،ایک ایک ملک،ایک ایک سلطنت،اور مقتدر شخصیت کو خطاب کیا انہیں مخاطب کر کے اپنی بات پہنچائی، خیر کا اعتراف کیا، بھلائیوں کی نشاندہی کی ،اور اس خطرے سے بھی آگاہ کیا جو پوری پوری سلطنت کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا،مولانا نے اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ ہر باغیرت انسان کے ضمیر کو جھنجوڑا انہیں آواز دی تاکہ عالمِ اسلام سے اس احساس کمتری کا خاتمہ ہو جائے جس نے ہر بڑے چھوٹے کو اپنے شکنجے میں کس لیا تھا۔جاری

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...