مذہب میں سیاست یا سیاست میں مذہب
مفتی محمد نصر الله ندوی
مذہب انسان کی بنیادی ضرورت ہے،ہر انسان فطری طور پر مذہب سے وابستہ ہوتا ہے، مذہب اسے روحانی طور پر سکون دیتا ہے،اس کی زندگی کا مقصد متعین کرتا ہے،مذہب کی وجہ سے سماج میں امن وسکون پیدا ہوتا ہے،یہ انسان کو ظلم وانصافی سے روکتا ہے،اور اسے خود غرضی ،مفاد پرستی اور ہوی وہوس کے راستے پر چلنے سے منع کرتا ہے،مذہب سے وابستگی کے نتیجہ میں ایک صالح اور مہذب معاشرہ وجود میں آتا ہے،جہاں ہر طرف علم ،اخلاق اور محبت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور لوگوں کی زندگی عموما خوشحال اور پرسکون ہوتی ہے۔
مذہبی سے غیر معمولی تعلق کی بنیاد پر ہندوستان کے سیاستداں ووٹروں کے جذبات کا استحصال کرتے ہیں،ان کو اونچے اونچے خواب دکھاتے ہیں اور ان کی جہالت اور حماقت کا فائدہ اٹھاتے ہیں،تازہ معاملہ مہاراشٹر کا ہے ،جہاں میونسپل الیکشن کی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے اسدا الدین اویسی نے کہا کہ ایک دن ایسا آئے گا،جب باحجاب خاتون ہندوستان کی وزیر اعظم بنے گی،اس طرح کا بیان انہوں نے 2022ؑ میں یوپی الیکشن میں بھی دیا تھا،نتیجہ یہ ہوا کہ باحجاب خاتون وزیر اعظم تو نہیں بن سکی،البتہ یوگی آدتیہ ناتھ پوری اکثریت کے ساتھ وزیر اعلی بن گیا،جس کی خباثتیں اور مسلم دشمنی جگ ظاہر ہے،اب تک سیکڑوں مساجد،مدارس ، خانقاہیں اور مسلمانوں کے گھر بلڈوز ہو چکے ہیں،کتنے مدرسے بند ہو چکے ،مائک سے اذان پر پابندی لگ چکی ہے،مدارس میں دہشت گرد تلاش کئے جارہے ہیں۔
بہار کے حالیہ الیکشن میں انہوں نے کہا کہ جب ایک ملاح کا بیٹا نائب وزیر اعلی بن سکتا ہے،تو ایک مسلمان وزیر اعلی کیوں نہیں بن سکتا؟اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجلس کو پانچ سیٹ تو مل گئی ،لیکن بے جے پی پورے دم خم کے ساتھ اقتدار پر قابض ہوگئی،وزارت داخلہ کی کمان بی جے پی کے پاس ہے،اور ہر طرف بلڈوزر کا قہر جاری ہے،مسلمانوں کا ننگا کرکے ماب لنچنگ کی جارہی ہے،بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی بتا کر قتل کیا جارہا ہے،بیریسٹر صاحب کو ان واقعات کی خبر یا نہیں مجھے نہیں معلوم، وہ خود تو زیڈ پلس سیکورٹی کے سایہ میں چلتے ہیں،لیکن اس غریب مزدور مسلمان کی پرواہ نہیں کرتے،جو دوروٹی کی تلاش میں تن تنہا سڑکوں پر چلتا ہے اور گلی کوچوں کی خاک چھانتا ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں ایک میڈیکل کالج کو صرف اس لئے بند کردیا جاتا ہے کہ اس میں منتخب ہونے والے اکثر طلبہ مسلمان تھے،جہاں کوئی مسلمان یونیورسیٹی کا وی سی نہیں بن سکتا جب تک وہ آرایس ایس کا وفادار نہ بن جائے، جہاں ہندوستان کے دل دلی میں بلڈوز دندناتا رہتا ہے اور اسلامی آثار کو چن چن کر نیست ونابود کردیتا ہے،جہاں عمر خالد اور شرجیل امام جیسے ہونہار نوجوانوں کو جیل میں سڑنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے،جہاں عدالتیں کھلے عام آئین اور دستور کی دھجیاں اڑاتی ہیں، وہاں ایک باحجاب خاتون کے وزیر اعظم بننے کی باتیں کرنا،دیوانے کی بڑ جیسا ہے،لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس پر تالیاں بجارہے ہیں اور فرط مسرت سے جھوم رہے ہیں،جیسے بیریسٹر صاحب نے کوئی نادر نکتہ یا کوئی گہری بات کہ دی ہو ،جہاں تک کسی لیڈر کی رسائی نہیں ہے،یہ وہی طرز سیاست ہے جو بی جے پی کو بہت پسند ہے،جو لوگ اس طرز کو اختیار کرتے ہیں،بی جے پی ان سے ہمدردی رکھتی ہے،بلکہ ان کو کھلی چھوٹ دیتی ہے کہ وہ جو چاہیں بو لیں اور جس طرح چاہیں مذہب کے نام پر لوگوں کا استحصال کریں،حال ہی میں بنگال میں بابری مسجد کے نام پر لاکھوں کی بھیڑ جمع کی گئی اور اس کی آڑ میں اپنی سیاست کو چمکانے کی کوشش کی گئی،ملک میں کچھ ایسے بابا ہیں جو سناتن کے نام سے اپنی روٹی سینکتے ہیں،یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ملک مذہبی جنون کے راستہ پر چل پڑا ہے ،جس کا انجام تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں ہے،تقسیم ملک کے وقت وطن دنیا نے خونیں منظر دیکھا اور ملک کے ٹکڑے ہوگئے،آج ایک بار پھر اسی کہانی کو دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے،ماضی میں جو کام مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کیا نے کیا،اب مجلس اور بھا جپا اسی کردار کو دہرانے کی کوشش کررہی ہے ،اگر ملک کے دانشوران،قائدین اور سول سوسائٹی نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لیا،تو ملک کو ٹوٹنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
اگر کوئی اسلام کے مطابق سیاست کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے ابوبکررض وعمر رض کا دور خلافت موجود ہے،گاندھی جی نے کہا تھا کہ اگر کوئی حکومت کرنا چاہتا ہے تو اس کو بوبکر رض وعمر رض کا نمونہ دیکھنا چاہئے،ان دونوں حضرات نے عدل وانصاف ،مساوات اور انسانیت کی ایسی مثال پیش کی کہ دنیا آج تک اس کی مثال پیش کرنے سے دنیا عاجز ہے،اگر آج کوئ مسلم لیڈر سیاست کرنا چاہتا ہے تو اسے ان دونوں کے طرز عمل کو اختیار کرنا چاہئے،یہی دین کی روشنی میں سیاست کا منہج ہے،اس کو چھوڑ کر آرایس آرایس اور ہندو مہا سبھا کے طریقہ پر چلنا ، شرعا درست ہے ،نہ موجودہ حالات سے ہم آہنگ ہے۔
No comments:
Post a Comment