Translate

Wednesday, April 8, 2026

انسان کی رعایت محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

انسان کی رعایت 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اس کو محبت و شفقت اور حکمت و دانائی کے ساتھ سمجھاؤ ،جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو سمجھاتا ہے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ نفرت کے جواب میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت ۔ 
اسلام ہمیشہ بشارت و خیر خواہی، یسر و سہولت اور نرمی و آسانی پر زور دیتا ہےاور سختی اور شدت سے منع کرتا ہے ۔ 
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
یسروا ولا تعسروا و بشروا 
ولا تنفروا (بخاری شریف حدیث نمبر 79)
یعنی تم لوگوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرو تم لوگوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہ کرو ۔ تم لوگوں کو خوشخبری دو ،تم لوگوں کو متنفر نہ کرو ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ رعایت کے پہلو کو ترجیح دی اور پوری زندگی اس کی تلقین کرتے رہے اور اس انداز سے صحابہ کرام کی تربیت فرماتے رہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میں فجر کی جماعت میں اس لئے پیچھے رہ جاتا ہوں کہ فلاں شخص ہماری مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور وہ اس کو بہت لمبا کر دیتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غضب ناک ہوگئے ۔ حتیٰ کہ اس سے زیادہ غضب ناک میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا ۔پھر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا یا ایھا الناس ان منکم منفریں ، فمن ام الناس فلیتجوز، فان خلفہ الضعیف و الکبیر و ذا الحاجة،، (صحیح بخاری شریف حدیث نمبر 704)
یعنی اے لوگو! تم میں سے کچھ ایسے ہیں جو لوگوں کو دین سے دور کر دیتے ہیں ۔ تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کرے ،اس کو چاہیے کہ مختصر نماز پڑھائے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی کمزور ہے ،کوئی بوڑھا ، کوئی ضرورت مند ہے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھی ، ایک آدمی لمبی قرآت سے گھبرا کر نماز سے الگ ہوگیا ۔اس کے بعد حضرت معاذ اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا ۔ البتہ حضرت معاذ کی بابت فرمایا:
فتان ،فتان ،فتان ،،( بخاری شریف حدیث نمبر 701)
یعنی فتنہ انگیز فتنہ انگیز فتنہ انگیز 
ان سب سے بڑھ کر ذرا اس واقعے کو سنئیے ۔ ایک دیہاتی شخص مسجد نبوی آیا اور مسجد نبوی کے ایک گوشے میں پیشاب کرنے لگا ۔ لوگ اس کی طرف دوڑے تو آپ نے لوگوں کو روکا ۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو چکا تو آپ نے گندگی کی صفائی کرائی اور صحابہ سے فرمایا فانما بعثتم مبشرین ولم تبعثوا معسرین ۔ (بخاری شریف حدیث نمبر 6128)
یعنی تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ہو ۔
روایت میں ہے کہ قدیم زمانہ میں کعبہ کی عمارت ایک بار بارش کی زیادتی کی وجہ سے گر گئی تھی، قریش نے دو بارہ بنایا تو سامان کی کمی کی وجہ سے اصل بنائے ابراہیمی پر نہیں بنایا ، بلکہ چھوٹا کرکے بنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس کو دو بارہ بنائے ابراہیمی کے مطابق بنوا دیں ، مگر اس اندیشہ سے کہ کہیں کعبہ کی عمارت کے ساتھ جو تقدس ہے ، اس کی وجہ سے لوگ شاید اس کے انہدام کا تحمل نہ کرسکیں ۔ آپ اس سے باز رہے یعنی اس کام سے رکے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا:
لولا حداثة عھد قومک بالکفر لنقضت الکعبة ، و لجعلتھا علی اساس ابراھیم ،، (صحیح البخاری حدیث نمبر 1585/ صحیح مسلم حدیث نمبر 1333)
یعنی اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر پھر سے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے مطابق بنا دیتا۔ 
ان احادیث اور واقعات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں انسان کی رعایت کس درجہ رکھا گیا ہے اور عفو و درگزر کی کتنی تعلیم دی گئی ہے، نیز فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے کہ کہیں ماحول خراب اور پراگندہ نہ ہو ،کیسی حکمت اور رعایت اپنائی گئی ہے کہ ایک جائز کام کو بھی انجام دینے سے سدا للذرائع روک دیا گیا ۔
 دوستو ! 
انسانی معاشرہ محبت، رواداری، خیر خواہی اور باہمی احترام کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔ جہاں سختی، نفرت اور انتقام کا غلبہ ہو وہاں دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں، جبکہ نرمی، درگزر اور رعایت سے دل جڑتے ہیں اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسانی رعایت کو نہ صرف ایک اخلاقی قدر کے طور پر پیش کیا بلکہ اسے اپنی تعلیمات کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے۔ اسلام کی روح میں یسر، سہولت، محبت اور خیر خواہی رچی بسی ہے، اور یہی اوصاف ایک متوازن اور پرامن انسانی معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نفرت کے جواب میں نفرت ہی جنم لیتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت۔ انسانی فطرت کا یہی اصول اسلام کے اسلوبِ دعوت میں نمایاں نظر آتا ہے۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اسے حکمت، دانائی، شفقت اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ، نہ کہ سختی اور تحقیر کے ساتھ۔ یہ انداز بالکل اس شفقت بھرے رویے کی مانند ہے جو ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اختیار کرتا ہے—جس میں اصلاح بھی ہو اور محبت بھی۔
اسلام کی بنیاد ہی آسانی اور سہولت پر رکھی گئی ہے۔ اس کی تعلیم ہے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، ان پر سختی نہ کرو، اور انہیں خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔ یہی اصول انسانی رعایت کی اساس فراہم کرتا ہے۔ اسلام ہرگز ایسا دین نہیں جو انسان کو ناقابلِ برداشت پابندیوں میں جکڑ دے، بلکہ یہ انسان کی فطرت، اس کی کمزوریوں اور اس کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک معتدل اور قابلِ عمل نظام پیش کرتا ہے۔
اسلام کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ خود ظلم کا شکار بنو۔ اسی طرح نقصان پہنچانے اور بدلہ لینے کے بجائے درگزر اور اصلاح کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ اصول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام محض ظاہری قوانین کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے باطن کو سنوارتا ہے اور اسے ایک بااخلاق اور باوقار فرد بناتا ہے۔
اسلام کا لفظ خود “سلم” سے نکلا ہے، جس کے معنی امن، سلامتی، سکون اور بھائی چارے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اسلام کا ہر حکم اور ہر تعلیم انسانیت کے امن اور فلاح کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اسلام یہاں تک تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی سچ کے اظہار سے فتنہ و فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے روک لیا جائے، اور اگر کسی موقع پر ایسی نرمی یا مصلحت اختیار کرنے سے معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہو تو اس کی گنجائش بھی دی گئی ہے۔ یہ پہلو اسلام کی عملی حکمت اور انسان دوستی کو واضح کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں ظلم کرنے والوں کو معاف کیا گیا، مجرموں کے ساتھ رعایت برتی گئی، اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو اصلاح کا موقع دیا گیا۔ یہ واقعات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اسلام انتقام کے بجائے اصلاح کو ترجیح دیتا ہے اور سختی کے بجائے نرمی کو اختیار کرتا ہے۔ تاہم، یہ رعایت ہرگز اس معنی میں نہیں کہ انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ اگر ایسا ہو تو معاشرہ انتشار اور بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔
درحقیقت، رعایت کا مفہوم یہ ہے کہ اصلاح کے عمل میں توازن برقرار رکھا جائے۔ اعمال کے ظاہری پہلوؤں میں نرمی اختیار کی جائے، جبکہ اصل توجہ انسان کے باطنی پہلو—یعنی نیت، اخلاص اور اخلاق—پر دی جائے۔ کیونکہ محض ظاہری اصلاح سے دلوں کی اصلاح ممکن نہیں ہوتی، بلکہ جب اندر سے تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر خود بخود ظاہر پر بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔
انسانی رعایت کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ دین کو قابلِ عمل اور دلکش بنا دیتی ہے۔ جب انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالا جا رہا، بلکہ اس کی صلاحیتوں اور حالات کے مطابق رہنمائی کی جا رہی ہے، تو وہ خوش دلی کے ساتھ دینی تعلیمات کو قبول کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر دین کو سختی اور جبر کے ساتھ پیش کیا جائے تو انسان اس سے متنفر ہو سکتا ہے۔
اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو انسانی رعایت صرف اسلام ہی کا خاصہ نہیں بلکہ تمام مذاہب اور اخلاقی نظاموں میں اس کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ لیکن اسلام اس معاملے میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے کیونکہ اس نے رعایت کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک عملی اصول کے طور پر متعارف کرایا ہے، اور اس کی مکمل رہنمائی فراہم کی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی رعایت دراصل انسانیت کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو ختم کرتی ہے اور معاشرے کو امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بناتی ہے۔ اسلام نے جس وسعت، حکمت اور توازن کے ساتھ اس تصور کو پیش کیا ہے، وہ اسے ایک عالمگیر اور ابدی پیغام بنا دیتا ہے۔ آج کے دور میں، جب دنیا شدت، تعصب اور نفرت کا شکار ہے، انسانی رعایت کا یہی پیغام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...