Translate

Friday, April 3, 2026

مسجدوں میں سماجی لگاؤ سے ائمہ اور علماء کی دوری ڈاکٹر ریحان غنی

مسجدوں میں سماجی لگاؤ سے ائمہ اور علماء کی دوری

ڈاکٹر ریحان غنی

          میں جمعرات کو  ارریہ ضلع کے گیاری میں   اپنے دیرینہ اور قریب ترین  دوست اقبال اختر کے بیٹے عزیزم کاشف سلمہ کے ولیمہ میں شریک ہوا ۔ میں ابھی اسی گاؤں میں ہوں۔ جمعہ کی صبح میں پٹنہ واپسی ہو گی ۔ ان شاءاللہ ۔ اقبال اختر اسی ( 80 )  کی دہائی میں  پٹنہ یونی ورسٹی کے شعبہ  اردو میں میرے کلاس فیلو تھے ۔ وہ 2015 سے 2018 تک بہار اردو اکادمی کے معزز رکن بھی رہ چکے ہیں ۔ میں 1982 میں ارریہ میں ان کی  برات میں بھی شریک ہوا تھا اور پھر ان کے بیٹوں کے ولیمے میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔   مجھے ولیمہ کے موقع پر یہاں کی مسجد انصار ، پورب  ٹولہ   میں کئی وقت کی نماز میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ مجھے مسجد میں نماز پڑھتے وقت شدت سے اس کا احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ائمہ اور  علماء آج بھی  مسجد سے غفلت برت رہے ہیں ۔ انہوں نے نہ تو نمازیوں کی تربیت پر توجہ دی اور نہ  مسجد آنے والوں سے کوئی سماجی سروکار یا رشتہ  رکھا۔ بس امامت کی ، خطبہ دیا ، نماز پڑھا اور پڑھایا اور چلے گئے ۔ اگر ان محترم شخصیات نے تھوڑی توجہ دی ہوتی تو لوگ شائستہ کپڑے پہن کر مسجد  آتے ، جیسے تیسے کپڑے پہن کر آنے سے گریز کرتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ لوگ عام طور پر اور نوجوان خصوصی طور پر ایسے کپڑے پہن کر مسجد آنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے جس سے ستر پوشی بھی نہیں ہوتی ۔ اس کا احساس یقینآ سب کو ہوگا۔ ائمہ کرام اور علماء نے بھی محسوس کیا ہو گا کہ ہماری مسجدوں سے تہذیب ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے یہ بات لکھنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ ہماری مسجدوں میں وقت پر نماز شروع ہونے کے علاوہ کچھ بھی اچھی بات نہیں رہ گئی ہے ۔ کسی بھی مسجد میں وقت مقررہ پر آپ کو جماعت  کھڑی ملے گی۔ ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں ہو گی۔  ورنہ امام کی سرزنش ہونے لگے گی۔ اس کے علاوہ ہر  مسجد کی حالت ایک جیسی ہے۔ وضو کرتے وقت لوگ دھڑلے سے پانی بہاتے ملیں گے، ایک مرتبہ جو نل کھولا تو پھر پیر دھو کر ہی نل بند کیا  ۔ اس دوران اتنا پانی بہہ  گیا ہوگا کہ اس سے ایک آدمی نہا سکتا تھا۔ ہمیں مسجدوں میں  بیٹھنے کا سلیقہ بھی  نہیں سکھایا گیا۔ جو جہاں چاہتا ہے بیٹھ جاتا ہے اور جیسے چاہتا ہے بیٹھتا ہے ۔ پہلی دوسری صف خالی ملے گی ۔ لوگ مختلف صفوں میں بیٹھے ملیں گے ۔ لوگ کندھے پھلانگ پھلانگ کر اگلی صفوں  میں جاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ہماری مسجدوں میں اب یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ جماعت اسلامی حلقہ بہار کے سابق امیر اور نامور خطیب ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ علیہ رحمہ  کا ایک کتابچہ میں نے بہت پہلے پڑھا تھا ۔ اس کا عنوان تھا " نماز قرب الہٰی کا ذریعہ" اس کتابچے پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ نماز قرب الہٰی کا ذریعہ تو ہے ہی ، یہ سماجی رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز ، پھر ہفتے میں ایک دن جمعہ کو  جامع مسجدوں میں ، اس کے بعد سال میں دو دن عید گاہوں اور پھر سال میں ایک مرتبہ حج کے موقع پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو جمع ہونے کا حکم دے کر اس امت کو محلے سے لے کر عالمی سطح تک  جس مضبوطی اور خوبصورتی کے ساتھ جوڑا ہے اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی ۔ لیکن نماز کی سماجی اہمیت کو بھی ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس کا احساس مجھے پہلے بھی اکثر ہوتا رہا ہے اور جمعرات کو  ارریہ ضلع کی گیاری جامع مسجد میں شدت سے ہوا۔ گیاری ایک گاؤں ہے جو ارریہ زیرو مائل کے قریب ہے ۔ گیاری کی  اس مسجد میں ظاہر ہے کہ گاؤں اور اس کے آس پاس کے مسلمان نماز پڑھتے ہوں  گے ۔ اس لئے اس مسجد میں باہری نمازیوں کی شناخت مشکل نہیں ۔ لیکن وہاں میرا کسی سے تعارف  نہیں ہوا ۔ حالانکہ لوگوں نے محسوس کیا کہ میں اس گاؤں کا رہنے والا نہیں ہوں ۔ میرے خیال میں جب مسجد میں کوئی نیا نمازی نظر آئے تو اس مسجد کے امام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سے  ملے ، اس کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور یہ جاننے کی کوشش کرے  کہ وہ اس علاقے میں کس لئے آیا ہے۔ یہ کام شہروں کی مساجد اور کثیر آبادی والی مساجد میں ممکن نہیں ہے ۔ لیکن چھوٹی چھوٹی مساجد میں یہ کام  ائمہ اور علماء کو کرنا چاہئیے ۔ اس سے لوگوں کو مسجدوں کی سماجی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہو سکے گا اور آپسی میل جول سے آپس کے  مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...