محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
دوستو !
اس دنیا میں مومن کی زندگی حدود و قیود، شرائط و آداب اور قواعد و ضوابط سے مربوط ہے اور وہ ان چیزوں کا پابند ہے ، نظم و نسق اور قانون و ڈسیلین اس کی زندگی کا حصہ اور لازمہ ہے، وہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں شتر بے مہار نہیں ہوسکتا، شریعت کے گائڈ لائن ہیں، اختیارت اور حدود و آداب ہیں، یہ حلال ہے ، وہ حرام ، یہ جائز وہ ناجائز ہے ، یہ بہتر ہے ، وہ بہتر نہیں ہے ، یہ مکروہ ہے وہ مباح ہے ، ایسا کرو ، ویسا نہیں کرو ، اتنا کھاؤ اس سے زیادہ نہ کھاؤ، اتنا خرچ کرو اس زیادہ خرچ نہ کرو ، اتنا بولو ،اس زیادہ مت بولو، وہاں جاؤ، یہاں مت جاؤ ، ایسا پہنو ویسا مت پہنو ،اس سے جائز حد تک تفریح و مزاح کرو، اور اس سے ہنسی مذاق مت کرو، بلکہ اس کو اپنے لئے موت سمجھو، اس سے محبت کرو اور اس سے اللہ ہی کے لئے بعض رکھو، اس کو دو ،اس کو نہیں دو ۔
غرض جگہ جگہ یہ بورڈ اور تختی لگی ہے ۔،،تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا،، یہ اللہ کے بنائے ہوئے حدود ہیں اسے مت پھلانگو ۔
حدیث شریف میں تو یہ الفاظ ہیں کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں حکم و قانون کی پابندی کی قید والی زندگی گزاریں اور دنیا سے زیادہ جی نہ لگائیں، جو حدود و احکام ہیں اس کے دائرے میں رہ کر زندگی گزاریں اور یہ حقیقت پیش نظر رکھیں کہ اس دنیا کو اپنی جنت سمجھنا اور اس سے اپنا دل لگانا اور اس کے عیش کو اپنا مقصود بنانا کافرانہ طریقہ ہے ، یہ حدیث ایک آئینہ ہے ،جس میں ہر مومن اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے ۔قیدی اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر چیز میں دوسروں کے حکم کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ اسی طرح مومن اس دنیا میں آزاد نہیں وہ پابند عہد ،وہ پابند شریعت ہے، وہ پابند دین ہے ، یہاں ان کی ہر جائز خوائش پوری نہیں ہوسکتی ، اس کے لئے جنت بنائی گئی ہے ، جہاں مومن کی ہر خواہش پوری ہوگی، وہ رب چاہی زندگی گزارنے کا پابند اور مکلف ہے اور انہیں من چاہی زندگی گزارنے سے روکا گیا ہے۔
بہر حال اوپر کی تفصیلات سے یہ معلوم ہوا کہ مومن اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے، بلکہ اس کے لیے جگہ جگہ اسپیڈ بریکر ہے، جیسے ہی اس جگہ اور اس حد پر پہنچے اپنی زندگی کی رفتار کچھ دیر کے لئے کم کردے اور پھر آگے کی طرف پرواز کرے ۔
اسی حقیقت کے ایک مرد دانا نے اپنی تحریر میں بڑی حکمت کے ساتھ اپنے واقعہ سے جوڑ کچھ یوں لکھا ہے کہ:
"گاڑی تیزی سے سٹرک پر چلی جارہی تھی ۔
اچانک ڈرائیور نے رفتار بہت کم کر دی ۔ اس کے بعد ایک ہلکا سا جھٹکا ہوا اور پھر گاڑی اپنی رفتار سے چلنے لگی ۔ میں نے باہر کی طرف دیکھا تو سٹرک کے کنارے ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا رفتار روک (Speed Breaker) سڑک کے حادثے زیادہ تر گاڑی تیز دوڑانے سے ہوتے ہیں، چنانچہ سٹرکوں پر جگہ جگہ اونچا سا مینڈ کی مانند بنا دیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو رفتار گھٹانے پر مجبور کیا جاسکے۔ اسی بنا پر اس کو اسپیڈ بریکر (رفتارہ توڑنے والا ) کہا جاتا ہے۔
یہ سڑک کے سفر کو محفوظ بنانے کا طریقہ ہے۔ اسی طرح ضرورت ہے کہ زندگی کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے بھی اسپیڈ بریکر ہوں ۔ آدمی اپنے کو آزاد سمجھ کر بے لگام ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے کو صاحب اختیار پاکر سرکشی کرنے لگتا ہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ اس کو کوئی روکنے والا نہیں اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں اور جس طرح چاہوں رہوں، جو چاہوں بولوں اور جتنا چاہوں بولوں ، دوسروں کا وقت بھی میں ہی لے لوں، دوسروں کو بولنے کا موقع نہ دوں ۔ ایسی حالت میں اگر رکاوٹیں نہ ہوں تو آدمی بالکل بے قید ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ آدمی کی زندگی میں اسپیڈ بریکر رکھے جائیں ۔ زندگی کے سفر میں اس پر جگہ جگہ روک لگائی جائے۔
اسلام کے احکام ایک اعتبار سے گویا زندگی کے لئے اسپیڈ بریکر ہیں۔ وہ آدمی کو بار بار روکتے ہیں تاکہ وہ اپنے معاملات میں حد سے باہر نہ جانے پائے، آدمی دنیا کے کام میں مشغول ہے کہ اچانک مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ اپنا کام چھوڑ کر نماز کے لئے چلو۔ آدمی اپنے مال کو صرف اپنا سمجھ رہا ہوتا ہے کہ حکم آجاتا ہے کہ اس میں سے ایک حصہ دوسروں کے لئے نکالو۔ آدمی کھا رہا ہے اور پی رہا ہے کہ رمضان آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کھانا پینا چھوڑ دو ۔ آدمی اپنے عزیز و اقارب کے درمیان ہوتا ہے کہ حکم آتا ہے کہ سب کو چھوڑ کر حج کے لئے چلے جاؤ ۔ وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب گویا زندگی کے لئے ایک قسم کے اسپیڈ بریکر ہیں۔ یہ انسان کی رفتار کو بار بار کم کرتے ہیں تاکہ وہ حد کے اندر رہے، تاکہ وہ انصاف اور احتیاط کے ساتھ زندگی گزارے ۔ تاکہ وہ ہر مرحلہ میں اعتدال کی زندگی پر قائم رہے" ۔
(بحوالہ کتاب، الربانیہ؛ صفحہ: ۲۶)
لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ بعض لوگ زندگی میں اپنے لیے اسپیڈ بریکر کی ضرورت سمجھتے ہی نہیں، وہ اپنی رفتار میں مست رہتے ہیں اور مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے بے پرواہ رہتے ہیں ۔
ایسے لوگ اپنے کو دانا سمجھتے ہیں کہ میری رفتار تیز ہے، میری پرواز بلند ہے، اس میں کبھی کمی نہیں آسکتی ہے ۔
حالانکہ وہ غفلت میں ہیں ، زندگی کی تیز رفتاری کے ساتھ بھی اسپیڈ بریکر کی سخت ضرورت ہوتی ہے ، جو اس ضرورت کو سمجھے گا اور اس پر عمل کرے گا وہ کامیاب رہے گا اور اس کو جو ضروری نہیں سمجھے گا وہ کبھی بھی حادثہ کا شکار ہوسکتا ہے اور پٹری سے گر سکتا ہے ۔
No comments:
Post a Comment