Translate

Tuesday, March 31, 2026

دل کی صفائی کامیابی کے لئے شرط ! محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

دل کی صفائی کامیابی کے لئے شرط ! 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

ایک مشہور عالم دین اور اسلامی اسکالر اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں : 
مسجد میں ایک اہل حدیث بزرگ تھے۔ نماز کے لئے کھڑا ہو تو وہ صف میں میرے پاس تھے۔ حسب معمول میرے دونوں پاؤں قریب قریب تھے۔ انھوں نے اپنا پاؤں پھیلانا شروع کیا ، یہاں تک کہ میرے پاؤں سے ملا دیا۔ ہر بار وہ قیام میں ایسا ہی کرتے رہے۔ 
    نماز کے بعد انھوں نے کسی قدر تلخ لہجہ میں کہا کہ آپ لوگوں کی نماز درست نہیں ہوتی۔ حدیث میں قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور آپ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ قدم سے قدم ملانا ایک علامتی حکم ہے۔ اصل مقصد تو دل سے دل ملانا ہے۔ آپ نے قدم سے قدم ملانے کا مسئلہ تو جانا مگر دل سے دل ملانے کا مسئلہ آپ نہ جان سکے۔
(ڈائری مولاناوحیدالدین خان 9 اپریل 1992ء)
دوستو ! 
انسانی زندگی کی کامیابی، کامرانی، بلکہ ساری خوبصورتی اور معنویت دل کی کیفیت سے جڑی ہوئی ہے۔ بظاہر انسان کا ظاہر کتنا ہی اچھا اور سجا ہوا کیوں نہ ہو، اگر اس کا دل صاف نہیں، تو اس کی شخصیت ناقص اور ادھوری رہ جاتی ہے۔ دل ہی وہ مرکز اور محور ہے، جہاں سے خیالات، جذبات اور اعمال جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام میں دل کی صفائی اور اصلاح کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ ایک صاف دل نہ صرف انسان کو دنیا میں سکون و اطمینان اور راحت عطا کرتا ہے، بلکہ آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی بنتا ہے۔
آج کے دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔ لوگ بظاہر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مسکراتے ہیں، دوستی کا اظہار کرتے ہیں، دستر خوان پر خورد و نوش بھی کرتے ہیں ،لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ زبان پر محبت کے دعوے ہیں، مگر دلوں میں حسد، بغض اور نفرت کے بیج پنپ رہے ہیں۔ یہی وہ اندرونی بیماریاں ہیں، جو انسان کو بے سکون اور معاشرے کو انتشار کا شکار بنا دیتی ہیں۔
دل کا صاف ہونا محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک روحانی اور ایمانی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، کامیاب وہی ہوگا جو "قلبِ سلیم" لے کر حاضر ہوگا۔ یہ قلبِ سلیم دراصل ایسا دل ہے جو تعصب، کینہ، حسد، تکبر اور نفرت سے پاک ہو۔ ایسا دل جو دوسروں کے لیے خیر خواہی رکھتا ہو اور اللہ کی رضا کو مقدم جانتا ہو۔
نبی کریم ﷺ نے بھی دل کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا کہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی اصل اصلاح ظاہری اعمال سے زیادہ باطنی کیفیت کی اصلاح میں مضمر ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ آج کے انسان کے دل کو کیا ہو گیا ہے؟ کیوں دلوں میں اتنی دوریاں پیدا ہو گئی ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ مادہ پرستی، مفاد پرستی اور خود غرضی ہے۔ انسان نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ دولت، شہرت اور ذاتی مفاد کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسے میں دوسروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قریبی رشتوں میں بھی دراڑیں پڑ رہی ہیں، دوستیاں وقتی مفادات تک محدود ہو گئی ہیں، اور اخلاص ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک دوسرے سے دور ہیں۔ تعلقات کی بنیاد سچائی اور خلوص کے بجائے دکھاوے اور مفاد پر قائم ہو گئی ہے۔ بظاہر محبت کا اظہار ہوتا ہے، لیکن دل میں بدگمانی اور رقابت چھپی ہوتی ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
دل کی بیماریوں میں سب سے خطرناک بیماری حسد ہے۔ یہ انسان کو اندر ہی اندر جلا کر رکھ دیتی ہے۔ اسی طرح بغض اور کینہ انسان کو سکون سے محروم کر دیتے ہیں۔ تکبر انسان کو دوسروں سے دور کر دیتا ہے اور خود پسندی اسے حقیقت سے بے خبر رکھتی ہے۔ یہ سب بیماریاں مل کر انسان کے دل کو سیاہ کر دیتی ہیں، اور پھر وہ نہ خود خوش رہتا ہے اور نہ دوسروں کو خوش رہنے دیتا ہے۔
اس صورتحال کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں۔ خود سے سوال کریں کہ کیا ہمارے دل میں کسی کے لئے نفرت تو نہیں؟ کیا ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں یا دل میں تکلیف اور چبھن محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم واقعی اپنے تعلقات میں مخلص ہیں یا صرف ظاہری طور پر تعلق نبھا رہے ہیں؟ یہ سوالات ہمیں اپنی اصلاح کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
دل کی صفائی کے لئے ضروری ہے کہ ہم در گزر کرنا ،معاف کرنا سیکھیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کریں اور اپنے اندر درگزر کا جذبہ پیدا کریں۔ اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں، کیونکہ جب دل اللہ کی محبت سے بھر جاتا ہے، تو اس میں نفرت کے لیے جگہ نہیں رہتی۔ اسی طرح سچائی، دیانت داری اور خلوص کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا بھی دل کی اصلاح میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دلوں کا ملنا ہاتھوں اور قدموں کے ملنے سے زیادہ اہم ہے۔ اگر دل ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو فاصلے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک صاف دل نہ صرف انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے بلکہ اسے لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت دلوں کی اصلاح کی ہے۔ اگر ہم اپنے دلوں کو صاف کر لیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہو سکتی ہے، بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں اپنے اندر زندہ کرنا ہے کہ اصل کامیابی ظاہری چمک دمک میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی میں ہے۔
اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں تو یقیناً ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...