مولانا ابو حسن ندوی
جب دنیا کل طور پر فسادوبگاڑ کا شکار ہو گئی۔انسانوں کے اندر سے انسانیت ناپید ہو گئی ۔تعلیمات نبوی اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں رہیں بلکہ ان میں تحریف کر دی گئیں ۔مسجود حقیقی کو چھوڑ بندوں نے اصنام پرستی سے ارض خدا کو بھر دیا۔ ظلمت وجہالت سے دنیا آباد تھی ۔اللہ واحد کی عبادت کا تصور ختم ہو چکا تھا ۔دنیا تثلیث کی قائل ہو چکی تھی ۔حضرت عیسی کے آسمان پر اٹھائے جانے کا وقفہ طویل تر ہو گیا تھا ۔ایسی صورت میں دنیا کو ایک ہادی کی اشد ضرورت تھی ،جو بندوں کا رشتہ معبود بر حق سے جوڑ کر ظلمت و جہالت کے پردے کوچاک کرکے نور کی کرنوں سے گلستان عالم کو منور ومجلی کر کے انسانوں کو ظلم و جور کے عمیق غار سے نکال کرعدل وانصاف کے راستے پر کھڑا کردے ۔
اللہ تعالی نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کے طور پر دنیا والوں کو دیا ۔ آپ کی نبوت قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہے ۔آپ آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا ۔آپ کی آمد ہی انسانوں کی کامیابی وکام رانی کا ذریعہ بنی دنیا سے فسادوبگاڑ کا خاتمہ ہوا۔ انسانوں کا تعلق اللہ واحد سے وابستہ ہوا ۔آپ نے لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ابدی راحت بخش زندگی کا یقین پیدا کیا ۔لوگ آپ کی بات تسلیم کرتے گئے اور اسلام میں داخل ہوتے گئے ۔آپ نے لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا ۔زندگی بسر کرنے کے سارے طریقے سکھائے۔ آپ کی صداقت وامانت کے چرچے عام تھے۔ آپ نے لوگوں کو دیانت داری ،امانت داری،اخلاق بلندی ،معاملات کی درستگی ،آپسی لین دین میں انصاف کی پیروی،صدق وصفا،بلاتفریق رنگ ونسل سب کے ساتھ باہمی تعاون و ہمدردی ،اولوالعزمی،اپنےاور پرائے کے ساتھ ہر جگہ حق گوئی و بےباکی،تقوی وطہارت،خلوص وللٰھیت،امن پسندی ،کا سبق پڑھایا۔لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے اور آپ سے اٹوٹ محبت کرنے لگے۔آل واولاد ،بیوی بچوں کی محبت آپ کی محبت کے سامنے ہیچ ہوگئے۔آپ کے ایک اشارہ پر اپنی جان ومال آپ کی قدموں میں رکھنا ان کے لیے آسان ہوگیا ۔
ان لوگاں نے بحالت ایمان آپ کو دیکھا اور ان کا خاتمہ بھی ایمان پر ہواصحابی کہلائے ۔آپ نے ان برگزیدہ ہستیوں کی تربیت نبوی انداز سے کی۔بڑےاور چھوٹے امور سکھائے۔ حقوق اللہ ،اور حقوق العباد سکھائے۔حتٰی کہ پیشاب و پاخانہ کے طریقے بتائے ۔
اللہ تعالی نے صحابہ کے دل کی کھیتی کو تقوی کے لیے زرخیز بنا دیاتھا ۔ان کی ایمانی کھیتی قابل کاشت اور لہلہا اٹھی۔
یہی وہ جماعت تھی جسے آپ کی شاگردی کا شرف ملا۔ اس جماعت کا انتخاب خود اللہ تعالی نے فرمایا اور آپ کے حوالے کیا۔یہ پاکیزہ نفوس زیادہ اوقات آپ کے ساتھ گزارتے۔آپ کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کو قابل عمل سمجھتے اور اسے اپنے دل ودماغ میں محفوظ کرلیتے ۔قرآنی احکام،شان نزول،مکان نزول قرآن، نزول وحی،سب کو محفوظ کرتےاور بغیر کمی بیشی من وعن دوسروں تک پہنچاتے۔فرمان مصطفی،عمل نبوی، تقریر رسول کی حفاظت اور اس کے نشرو اشاعت ہی کے لیے اللہ نے اس جماعت کو چنا تھا۔ اس جماعت نے اپنی ذمہ داری پورے طور پر ادا کی، یہی وہ جماعت ہے جو اسلامی وراثت اورنبوی تعلیمات کی ضامن ، آسمانی احکام اور وحی الٰہی کی امین ہے ۔اس نے گھر بار ،مال و دولت لٹا کر اس وراثت کی مکمل حفاظت کی ۔اپنے اور اپنے آل واولاد ،بیوی بچوں کو فاقے میں رکھ کر اس دین کی مکمل حمایت کی ۔
اس جماعت پر ہی دین کا مدار اور بنیاد ہے ۔یہی اس دین کے خشت اول ہیں جسے پورے 3اعتماد کے ساتھ رسول اللہ صلعم نے رکھا تھا ۔ان پر آپکا پورا بھروسہ تھا۔جلوت،و خلوت میں ،خوشی وغم میں ،رنج والم،ان کا پورا تعاون رہا۔یہ آپ کے راز دار اور مشیر بھی بنے ۔بسا اوقات وحی الٰہی بھی ان کے مشورے کے مطابق نازل ہوئے ۔ان کی پوری زندگی فرمان نبوی کے حصول ،وحی الٰہی کی کتابت میں گزی ۔بھوکے ،پیاسے قرآنی آیات،فرمان نبوی کی کتابت کرتے اس طرح وراثت اثاثہ اسلام کی بقا ٕوتحفظ کی ذمہ داری نبھانے میں یہ حضرات عدیم المثال بنے۔صحابہ کرام کی عدالت، صداقت، ثقاہت، امانت، دیانت، ایفا ٕ عہد،انابت الی اللہ،ایثار وہمدردی،جاں نثاری و سرفروشی اپنی مثال آپ تھی ۔اس جیسی جماعت تیار کرنا بنی کے ہی بس کی بات تھی جس کی نظر کرم نے گلہ بان،کو دین کا امین بنا دیا ۔وراثت دین کی حفاظت کی وجہ سے زمام عالم کے مالک بن گئے۔
دین کے جو بھی احکام ،وقوانین،اصول وفروع آج ہمیں میسر ہیں وہ اسی مقدس نفوس کی دین ہے ۔ صحابہ معیار حق ہیں ۔ صحابہ دین متین کےمضبوط قلعےاورمحور ہیں ۔صحابہ تفقہ فی الدین میں دسترس رکھنے والے حضور کے بعد سب سے بڑے معلم تھے ۔صحابہ نصوص کو زیادہ سمجھنے والے تھے۔انہیں کے ذریعہ ہمیں شریعت ملی ۔انہیں کے ذریعہ ہم نے دین کو سمجھا ۔یہ ہمارے لیے چراغ ہدایت ہیں۔ان سے اللہ و رسول دنیا ہی میں راضی ہو گئے ۔ان کے بارے میں ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔زبان کو کبٹرول رکھنا چاہیے ۔ان کے متعلق کسی طرح کی بدزبانی،بدکلامی،بد ظنی،غلط بیانی، ہمیں دین سے خارج کر سکتی ہے ۔صحابہ سب کے سب عادل تھے ان کے متعلق ادنی سی بے ادبی ، بہتان تراشی وافترا پردازی ،علوم نبوی ،اور وراث دین متین ،پر بلا واسطہ حملہ ہے ۔صحابہ پر حملہ نبی پر حملہ ہے جوآخرت کی بربادی کے لیے کافی ہے ۔
صحابہ کے متعلق فرمایا گیا:’’الصحابۃ کلھم عدول‘‘کہیں کہا: بأیھم اقتدیتم اھتدیتم، اللہ اللہ فی أصحابی لاتتخذوھم من بعدی غرضاً فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم الخ۔
یہ سب صحابہ کی شان ،ان کی عدالت وثقاہت کی بین ثبوت ہے ۔صحابہ کی طعن وتشنیع حرام اور جرم عظیم ہے ۔ صحابہ دین کے صدفی صد حامل وعامل ان پر تنقیدوتنقیص ڈائرکٹ دین پر تنقید وتنقیص ہے ۔اپنی دنیا وآخرت کو سنوارنے کے لیے صحابہ کی عدالت و ثقاہت پر مکل بھروسا کر نے کی ضرورت ہے ۔دین کے اصول و فروع کو زندگی میں لانے کے لیے صحابہ کے ذریعہ ملی تعلیمات نبوی پر اعتماد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ ہمیں صحابہ کے نقش قدم پر چلنے ،ان سے سچی محبت کرنے، ان کی شان کو برقرار رکھنے،اپنی زبان پرکنٹرول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
No comments:
Post a Comment