Translate

Saturday, November 28, 2020

عصر حاضر میں دعوت وتبلیغ کے مؤثر اسالیب

 مولاناعین الحق امینی قاسمی 


دعوت اورتبلیغ جب دونوں لفظ ایک ساتھ اور ایک جگہ استعمال ہوتے ہیں تو دونوں مرادی معنی میں یکساں مفہوم اداکرتے ہیں ،اسی لئے عموما ایک کے تلفظ سے دوسرے کا مفہوم بھی ازخود ذہن میں آجاتا ہے ۔ورنہ دونوں اصل وضع کے اعتبار سے الگ الگ معنی ومفہوم کے لئے ہیں،دعوت کے معنی ،بلانے، پکارنے اور مطالبہ کرنےکے ہوتے ہیں ،جب کہ تبلیغ کا معنی پہنچانا ہوتا ہے ،لیکن عموماً دعوت وتبلیغ بول کر اللہ  اور اس کے رسول کے احکام وتعلیمات کو ان لوگوں تک پہنچا نا مراد ہوتا ہے ،جو کسی وجہ سے اپنے مقصد تخلیق سے غافل اور اپنے رب حقیقی کی کامیابی والی راہ صراط مستقیم سے دور ہوتے ہیں ،اسی لئے دعوت کے اس اہم کام کی انجام دہی کرنے والے کو داعی یا مبلغ کہتے ہیں۔ دعوت الی اللہ کی ڈھیروں فضیلت وارد ہوئی ہے ،قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (آل عمران، 3/ 104)اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور وہی لوگ بامراد ہیں۔ يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ط وَاللهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ  اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِيْنَ (اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارالوگوں کو) پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اللہ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بے شک اللہ کافروں کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا)

 کُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَلَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ(تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں)

 قُلْ هٰذِهِ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللهِ عَلٰی بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ وَسُبْحٰنَ اللهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِيْن (اے حبیبِ مکرم!) فرما دیجیے: یہی میری راہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔)

اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے (ہر بات لوگوں تک) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔(مشکوۃ المصابیح)

ایک روایت میں حضرت ابو ِقرْصَاف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ بھی تم مجھ سے سنتے ہو اسے بیان کیا کرو اور کسی شخص کے لیے بھی مجھ پر جھوٹ باندھنا جائز نہیں ہے۔ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اور میرے فرمان کے علاوہ میری طرف کچھ منسوب کیا اُس کے لیے جہنم میں گھر بنا دیا جائے گا جس میں آتشِ جہنم اُس کی غذا ہوگی۔(ترمذی شریف)

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًی، کَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَالِکَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا. وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَةٍ، کَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے (دوسروں کو) ہدایت کی طرف بلایا اس کے لیے اس راستے پر چلنے والوں کی مثل ثواب ہے جبکہ ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ جس نے گناہ کی دعوت دی اس کے لیے بھی اتنا گناہ ہے جتنا اس غلطی کا ارتکاب کرنے والوں پر ہے جبکہ ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔(مسلم شریف)

دینی مآخذ سے ثابت ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ فرض ہے، البتہ حسب استطاعت جملہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حسب توفیق اس اہم فریضے کو انجام دیتے رہیں۔عصری تقاضوں کے پیش نظر اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔

دعوت وتبلیغ کے مؤثراسالیب سے مراد: اسلوب ، طریقہ کار اور حکمت عملی ہے اور ہمیشہ دعوت وتبلیغ کا اسلوب اور طریقہ کار ،وقت حالات کے اعتبار سے مختلف رہا ہے ، تبدیلی اسلوب  بھی دعات اور عام عوام کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے،چوں کہ بعض اوقات دعوت وتبلیغ کا ایک اسلوب ،ایک شخص کے لئے بہت مؤثر ہوتا ہے اور وہی طریقہ دوسرے کے لئے بالکل بھی اثر انداز نہیں ہوتا،اسی طرح اسلوب دعوت کے مؤثر ہونے نہ ہونے میں ادوار کا بھی خاصا فرق پڑتا ہے ،ایک دور میں ایک انداز کا فی مقبول ہوتا ہے ،جب کہ دوسرے دور میں وہ طریقہ عمل کچھ بھی کار گر نہیں ہوتا،اسی لئے اپنی دعوت کو مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ داعی ،حکمت عملی میں تبدیلی کی گنجائش کے ساتھ میدان دعوت وتبلیغ میں اپنا فرض نبھائے ۔جہاں تک دعوت وتبلیغ سے سیکھنے سیکھانے کے عمل کو فوقیت دینے کی بات ہے تو یہ سلسلہ اچھا ہے ،مگر یہ کا م نجی مجلسوں تک ہی محدود رہے تو زیادہ مفید ہے ،ورنہ عام طورپر نوآموز کے ذریعے وعظ و نصیحت کا طریقہ بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ،ہونا تو یہ چاہئے کہ نوآموزوں کی تعلیم وتربیت کے لئے مخصوص اوقات کا  ہی استعمال ہو ،تاکہ غیر سنجیدہ اور نئے ساتھیوں کے ذریعہ کوئی بے سند باتیں عام لوگوں تک نہ پہنچے ،جس سے کہ دینی  امور میں اختلاف وانتشارسے بے چینی کا ماحول تیار ہو۔

عمومی خطاب ،یا تشکیلی وترغیبی بات چیت ہر لحاظ سے کسی معتمد عالم دین کے ذریعے ہی کرائی جائے اور پوری کوشش ہوکہ علماء کی نگرانی میں اور علماء کرام کے ذریعے مستند باتیں بطور پیغام لوگوں تک پہونچائی جائے۔داعی کو اپنے اسلوب دعوت کو مؤثر بنانے کے لئے  جہاں ہمت وحوصلہ ،صبر تحمل ، قوت برداشت ، برد باری وجفاکشی ،اخلاص وللہیت اور فکر ولگن کی بہت ضرورت ہوتی ہے وہیں طریقہ کار اوراپنے اسلوب کو مؤثر بنانے کے لئے استقامت فی العمل ، گہرے علم ومطالعہ اور اللہ والوں کی صحبت یافتہ ہونے کی بھی اہم ضرورت ہے چوں کہ علم ومطالعے اور اہل اللہ کی مجالس کا حاضر باش بنے   بغیر اسرار دعوت کا کھلنا  نہ صرف محال ہے ،بلکہ اس راہ کے مجاہدے کو  پوری طرح سےجھیلنا اور استقامت کے ساتھ اس پر جمنا بھی  ناممکن ہے ،جب داعی علم ومطالعے اورزمانے کے  حالات وواقعات پر نگاہ رکھ کر دعوتی عمل کو سر انجام دے گا تو یقینا زمانے کے وقتی تقاضے بھی اس کے سامنے ہوں گے اور لوگوں کے رخ کا بھی صحیح اندازہ ہوگا ،یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہر دور کے حالات اور اس کے تقاضے مختلف رہا کرتے ہیں ،داعی جب ان باریکیوں پر نظر رکھ کر چاق وچوبند ہوکر دعوتی مشن کو لے کر چلے گا تو وہ بہت سی آنے والی آفتوں سے بچے گا ،ورنہ رٹو طوطے کے طرز پر شکاری آئے گا ،جال پھینکے گا تب وہ شکار کرے گا، تب تک معلوم ہوا کہ وہ شکار ہو بھی چکا  تو ایسی سونچ ،دعوت کو مؤثر بنانے میں ناکام رہی ہے ،ابھی کورونا کال میں ’’دعوتی مشن‘‘ پر آفتیں آئیں ،اس میں یقینا ہماری ناعاقبت اندیشی کا بھی کہیں نا کہیں دخل رہا ہے ،ہمیں حالات پر بھی نگاہ رکھنا ہوگا اورآ نے والی ہواؤں کے رخ کو  بھی بھانپناہوگا، تبھی ہم طوفان بلا خیز سے اپنے مشن کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح ہم جس طبقے میں بھی دعوت پیش کریں ،ضروری ہے کہ اس طبقے کے عمومی احوال کابھی ہمیں علم ہو ،تاکہ ہم اس حوالے سے بات کو شروع کرکے اپنے مدعا پر انہیں لاسکیں ،حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ اہل علم کے سامنے اس کے مبلغ علم کی روشنی میں گفتگو کریں،مختلف شعبہائے زندگی سے وابستہ افراد کے سامنے ہمیں دین کی دعوت پیش کرنی ہے ،مگر سب کے لئے ایک انداز ،ایک لہجہ، ایک اسلوب اور ایک حکمت عملی نہیں اپنائی جاسکتی ،ظاہر ہے کہ ہمیں اپنے دعوتی مواد وامور میں بھی تنوع رکھنی ہوگی ،تاکہ لوگوں سے اس کے مقام و مرتبے کا لحاظ  رکھ کر ہی دعوتی غرض  بیان کی جائے ۔

مؤثر اسالیب اور منصوبہ بند حکمت عملی کے ضمن میں اس بات کو بھی کشادہ قلبی کے ساتھ جگہ دی جائے کہ  بدلتے تقاضے کے پیش نظر عصری تکنیکی پروگرامس کے ذریعے بھی مستند دینی معلومات کو عام کرنے کی طرف توجہ دی جائے تاکہ وہ طبقہ بھی اس سے براہ راست مستفید ہوسکے جو کسی وجہ سے اب تک  روایتی دعوت وتبلیغ کا برہ راست حصہ نہ بن سکا ہو ۔ عصر حاضر میں اپنی دعوتی حکمت عملی کو بدلنے اور بدل کر اسے مؤثر بنانے کی سخت ضرورت ہے۔

موجودہ ماحول میں مؤثر اسلوب کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ احباب اپنے اپنے مقام پر محنت کریں ، فکر مند علماء کرام کی ایک کمیٹی تشکیل دیں ،دعوت وتبلیغ کا یہ مبارک کام اس کمیٹیی کی نگرانی میں ہو ،اپنے اپنے مقا م پر رہتے ہوئے گھروں میں یا کسی مخصوص جگہ پر چھوٹی  چھوٹی مجلسیں قائم کی جائیں  ،جن میں نئے تشکیل شدہ ساتھیوں کو دین کے احکام وامور سکھلائے جائیں۔ اسی طرح مقامی احباب کو ساتھ لے کر دینی تعلیمی حلقوں کو مضبوط کیا جائے ،یہ حلقے، مردحضرات کے ذریعے مردوں کےدرمیان لگائے جائیں ،جب کہ مستورات کے  بھی حلقے لگیں ،مگر ان کے حلقے الگ ہوں  اور ایسی کسی بھی طرح کی کوشش یا ایسا کوئی وعظ بیان قطعا نہ ہو جس سے ملک بیزاری اور یا امن ومحبت کو بھنگ کرنے میں شرپسندوں کو کوئی موقع ہاتھ لگ جائے ۔برادران وطن کے بیچ بھی دعوت کا کام مضبوطی ، حکمت عملی ،رجوع الی اللہ اور کامل یقین سمیت علمی مواد کی روشنی میں کیا جائےجس سے باتوں میں وزن بھی پیدا ہو اور عقلا بھی وہ قابل قبول ہو ۔


No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...