Translate

Saturday, November 28, 2020

ہجرت مدینہ منصوبہ بندی کی بہترین مثال

  مولانا انتخاب پاشا ندوی

ہمارے رب نے دین اسلام کا پیغام قرآن کریم کے ذریعے محض نظریاتی طور پر عطا نہیں فرمایا بلکہ اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں عملی نمونہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا ، ان تمام مشکلات کا حل سنت رسول میں شامل کردیا جو قیامت تک اہل ایمان کو درپیش ہو سکتی ہیں ، ہجرت مدینہ اسی سنت رسول کا ایک فکر انگیز باب ہے، سفر ہجرت کے دوران کئی واقعات پیش آئے،یہ واقعات جہاں ولولہ انگیز ہیں وہیں اسلامی سوچ و فکر اور دینی مزاج کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں    ہمارا قادر مطلق رب اگر چاہتا تو اپنے سب سے پیارے بندہ حضرت محمد ﷺکو بغیر کسی تکلیف اور پریشانی کے شب معراج کی طرح مدینہ منورہ لے جاتا ۔ لیکن اللہ نے ایسا نہ کیا ، اس دانا و حکیم کا ہر کام حکمت سے معمور ہوتا ہے ، جس کا ہم ادراک نہیں کر سکتے، وہ علیم و خبیر اس موقع پر قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر اپنے دین کا خاص مزاج اسوہء حسنہ کی صورت میں واضح کرنا چاہتا تھا ۔ 

سفر ہجرت میں قدم قدم پر یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ آپ نے دستیاب انسانی وسائل کا بھرپور استعمال کیا ،  بہترینی تدابیر کا مظاہرہ کیا ، اور جب انسانی وسائل بے بس نظر آنے لگے تو اس وقت اللہ پر توکل کی شاندار مثال قائم کی ۔     آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کا واقعہ اگرچہ گزر چکا ہے لیکن اس کے احکام زندہ ہیں ، جب جب مسلمان مکہ جیسے حالات سے دوچار ہوں گے ، تب تب ہجرت کے احکام ان پر لاگو ہوں گے ، وجہ یہ ہے کہ ہجرت کا مفہوم ایک ملک سے دوسرے ملک یا ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہو جانے تک کا نہیں ، بلکہ یہ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقلی کا نام ہے ۔ ہجرت ہی کی بدولت اسلامی دعوت کمزوری سے طاقت کے عالم میں منتقل ہوئی ۔ قبل ہجرت یثرب کے لوگ تفرقہ و انتشار کا شکار تھے ، ہجرت کی بدولت اتحاد و اتفاق کا نمونہ بن گئے۔ ہجرت سے قبل مہاجرین اور انصار داخلی مسائل اور مشکلات کا شکار تھے جسکی وجہ سے وسیع پیمانے پر تبلیغ کا کام مشکل تھا جبکہ ہجرت کے بعد عظیم تحریک اور وسیع کارواں میں بدل گئے ۔

ہجرت نبوی پر غور کرنے سے کئی نکات سامنے آتے ہیں:

۱_ -اہل باطل کے غلبہ کی صورت میں مداہنت و سودے بازی کے بجائے اس سے نجات و دوری کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنا ۔

۲- اللہ تعالی پر توکل کرنے کے ساتھ ساتھ مشروع و مباح مادی اسباب کا اختیار کرنا۔

۳- اپنے دفاع و نجات کے لیے تدابیر اختیار کرنا ۔      

اسی طرح حضور نے مدینہ میں پہلی بار اسلامی حکومت کا سنگ بنیاد رکھا ، ہجرت سے قبل سرزمین عرب میں اسلامی حکومت اور نظام سیاست کا وجود نہیں تھا ، اسی وجہ سے خاندانی اور قبائلی جنگیں سال بھر پورے عرب میں ہوا کرتی تھیں،  مگر آپ کی تشریف آوری کے بعد تمام قبائلی جنگوں کا خاتمہ ہوگیا ۔

ہجرت کے سبب سے جو مقاصد حاصل ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

۱- مشرکین مکہ کے شر سے حضور کی حفاظت ۔

۲- اسلام ہجرت کے بعد رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔

۳- اسلام نے ہجرت کے بعد سیاسی اور سماجی زاویہ سے اپنے آپ کو مستحکم کیا ۔

۴- مسلمانوں نے ہجرت کے بعد دینی احکام اور اسلامی تعلیمات کا کھلم کھلا اظہار کیا ۔

۵- ہجرت کے بعد اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی۔

۶- ہجرت کے بعد مدینہ میں کھل کر مبلغین اسلام کی تربیت کی گئی اور دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کی منصوبہ بندی کا کام شروع ہوا ۔

ہجرت کی ان خصوصیات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے جس طرح انصار نے مہاجرین کے ساتھ کیا ، اور دعوت و تبلیغ اسلام کا فریضہ اسی جوش و جذبہ اور حکمت عملی کے ساتھ انجام دینا چاہیے جیسا کہ مہاجرین اور انصار نے انجام دیا اور زندگی اسوہ نبوی کو سامنے رکھ کر اسی طرح گذارنا چاہیے جس طرح کہ صحابہ نے گزاری ۔ کیوں کہ 

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لیے نمازی 


No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...