روزہ کے چند جدید احکام و مسائل
(1)
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
روزہ کی حالت میں بھپارہ لینا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعض یونانی اور آیورویدک دواؤں کو استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کو جوش دئے ہوئے پانی میں ڈال کر منھ اور ناک کے ذریعہ اس کے بخارات (Fumes) کو اندر پہنچایا جاتا ہے، جس کا اثر بلا تاخیر حلق بلکہ سینہ میں پہنچتاہے، اس کو بھپارہ لینا کہتے ہیں، اس طرح بھپارہ لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے (اس کو انہیلر بھی کہتے ہیں)۔( جدید فقہی مسائل ج۱, ص، ۱۸۷)
روزہ کی حالت میں آکسیجن لینے کا حکم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دمہ کے مریض کو دورہ پڑنے کے وقت آکسیجن Oxygen پہنچائی جاتی ہے، روزہ کی حالت میں اس طرح آکسیجن لینے کا کیا حکم ہے؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے، فقہی جزئیات کو سامنے رکھا جائے تو خیال ہوتا ہے کہ اگر آکسیجن کے ساتھ کوئی دوا نہ ہو تو روزہ فاسد نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ سانس لینا ہے اور سانس کے ذریعہ ہوا لینا نہ مفسد صوم ہے اور نہ ہی اس پراکل و شرب یعنی کھانے پینے کا اطلاق ہوتا ہے، اگر اس کے ساتھ دوا کے اجزاء بھی ہوں تو پھر اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔( جدید فقہی مسائل، ج۔ ۱,ص ۱۸۸)
روزہ کی حالت میں انڈوس کاپی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امراض اور بیماریوں کی شناخت کا ایک طریقہ انڈوس کاپی Endoscopy بھی ہے، جو پیچھے کے راستہ سے کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ پیٹ کے اندر پاخانہ کے راستہ کا معاینہ کیا جاتا ہے، کیونکہ اس میں محض ایک پتلا پائپ ہوتا ہے، اس پائپ میں چھوٹا سا بلب 💡لگاتے ہیں، اس کےذریعہ پیٹ کا پورا معاینہ کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ کوئی دوا وغیرہ اندر داخل نہیں کی جاتی، پھر پائپ نکال لیتے ہیں، اس کی نظیر اور مثال کتب فقہ میں اس لکڑی اور اس جیسی دوسری چیز سے ملتی ہے جو پیچھے کے راستہ میں داخل کی گئی ہو اور اس کا دوسرا کنارہ باہر ہو، تو روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر پوری طرح اندر چھپ گئی تو روزہ فاسد ہوگیا، بعض آلات اجابت EaseBoweis کے لیے نلکی کا استعمال کیا جاتا ہے، اس میں سیال دوا ہوتی ہے، جو پیچھے کے راستہ سے اندر کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے اجابت ہوتی ہے، اس میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ فقہاء کرام اس کو حقنہ Enema کہتے ہیں جس سے مریض کے پیچھے کے راستہ سے پیٹ صاف کرنے کے لیے دوا چڑھائی جاتی ہے۔ (رمضان کے شرعی احکام ص، ۱۹۸)
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روزہ کی حالت میں معدہ میں نلکی ڈالنا
آج کل معدہ کے بعض امراض کی شناخت کے لیے منھ کے ذریعہ نلکی پہنچائی جاتی ہے جو بعض دفعہ گوشت کا ٹکڑا کتر کر اپنے ساتھ لاتی ہے اور اس پر تحقیق اور ریسرچ ہوتی ہے، ایسی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، اصل میں روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کا مدار اس پر ہے کہ معدہ میں داخل ہونے والی چیز اندر ٹھہر گئی ہو، اگر وہ چیز وہیں پر رہ گئ ہو تو روزہ ٹوٹے گا ورنہ نہیں۔
بوڑھا شخص یا شوگر کے مریض کے لیے روزہ میں سہولت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی شخص بہت زیادہ بوڑھا ضعیف ہو یا شوگر کے مرض میں دائمی طور پر مبتلا ہو اور روزہ رکھنا اس کے لیے بہت دشوار ہو تو اس کے لیے گنجائش ہے کہ روزہ نہ رکھ کر فدیہ ادا کرے، لیکن اگر بعد میں صحت یاب ہوگیا اور روزہ رکھنے کی قدرت ہوگئی تو فدیہ دئے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہوگی۔
غیر مسلم کی دی ہوئی چیز سے افطار کا حکم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو چیز بھی ناپاک یا حرام نہ ہو اس کا کھانا حلال ہے، لہذا غیر مسلم بھائیوں کی طرف سے بطور ہدیہ دی ہوئی اشیاء سے افطار کرنا درست ہوگا۔ بشرطیکہ وہ پاک اور حلال ہوں اور ان کے تہواروں میں استعمال یا دیوی دیوتاؤں پر نہ چڑھائی گئی ہوں، کیونکہ اس طرح کی اشیاء قبول کرنے یا ان کے کھانے سے کفر کا تعاون یا اس پر رضا مندی کا اظہار ہوگا اور یہ جائز نہیں۔۔
روزہ کی حالت میں عورتوں کا ہونٹوں پر سرخی لگانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کوئی عورت روزہ کی حالت میں ہونٹوں پر سرخی لگا لیتی ہے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر منھ میں جانے کا احتمال ہو تو مکروہ ہوگا۔
موجودہ افطار پارٹی کا حکم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی جماعتوں، وزیروں اور گورنروں کی طرف سے دی جانے والی افطار پارٹیوں کی جو صورت بنتی جارہی ہے ان سے احتراز کیا جائے، کیونکہ رمضان کا وہ مبارک وقت جس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، لغو مشاغل میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اگر چہ شرکت جائز ہے۔
توتھ پیسٹ یا ذائقہ دار منجن کا استعمال روزہ میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بغیر عذر شرعی کے توتھ پیسٹ یا ذائقہ دار منجن استعمال کرنے سے ( اگر حلق کے اندر نہ جانے پائے) روزہ مکروہ ہوگا، اسی طرح گل منجن کے استعمال سے بھی روزہ مکروہ تحریمی ہوگا اور اگر گل وغیرہ حلق کے اندر چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ گل سے چونکہ تمباکو اور سگریٹ کی طرح ایک تسکین حاصل ہوتی ہے اور ضرورت پوری ہوتی ہے، لہذا اگر حلق میں نہ بھی پہنچے تو مفسد صوم ہوگا، یعنی روزہ ٹوٹ جائے گا۔
روزہ کی حالت میں ٹیسٹ کے لیے یا کسی اور کام کے لیے خون دینا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روزہ کی حالت میں خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، خود آنحضرتﷺ سے روزہ کی حالت میں فصد لگوانا ثابت ہے، فصد ایک طبی عمل تھا، جس کے ذریعہ جسم کا فاسد خون باہر نکالا جاتا تھا۔ اسی طرح خون دینے میں کچھ حرج نہیں ہے، خواہ ٹیسٹ کے لیے یا کسی مریض کے لیے، البتہ اگر اندیشہ ہو کہ خون دینے سے روزہ کو قائم نہیں رکھ سکے گا اور اضطرار و مجبوری کی حالت نہ ہو تو خون دینا مکروہ ہے، اسی احتیاط کے پیش نظر رسول ﷺ نے روزہ کی حالت میں فصد لگوانے کو پسند نہیں فرمایا اس لیے کہ تمام لوگوں میں اس کی قوت برداشت نہیں ہوتی، اور خطرہ ہوتا ہے خون دینے والا اپنے روزہ کو قائم نہیں رکھ سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوٹ
جو حضرات مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کا مالی تعاون کرنا چاہتے ہیں وہ اس اکاؤنٹ نمبر پر رقم بھیجیں اور اسکرین بھیج کر رسید حاصل کریں ۔
اکاؤنٹ نمبر مدرسہ نور الاسلام
Account Name and Number
MADRASA NOORUL ISLAM
A/c No.: *6743002100000304*
IFSC.: *PUNB0674300*
*Punjab National Bank.*
Branch- Kunda
Pratapgarh, U.P. (India)
SBI,
Name : Qamruzzaman Nadvi
Branch name Dighi - 8399
A/C: No.: 11811294792
SBIN0008399
فون پے نمبر ہے ۔
9506600725
No comments:
Post a Comment