Translate

Thursday, February 12, 2026

علمِ حدیث میں علمائے بہار کی خدمات— ایک یادگار علمی سیمینار —محمد قمر عالم ندوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
علمِ حدیث میں علمائے بہار کی خدمات
— ایک یادگار علمی سیمینار —
محمد قمر عالم ندوی
استاد: مدرسہ احمدیہ ابابکر پور، ضلع ویشالی
و ناظم: مدرسہ حسینیہ چھپرہ خرد، ویشالی
8 فروری 2026ء کو آل انڈیا ملی کونسل اور مولانا ابوالکلام ریسرچ سینٹر کے اشتراک سے شہرِ عظیم آباد، پٹنہ—جو صدیوں سے علم و دانش، فکر و بصیرت اور دینی شعور کا مرکز رہا ہے—کی علمی و فکری سرزمین پر “علمِ حدیث میں علمائے بہار کی خدمات” کے عنوان سے ایک نہایت وقیع، بامقصد اور تاریخی سیمینار منعقد ہوا۔ یہ اجتماع محض ایک رسمی علمی نشست نہ تھا، بلکہ فکری بیداری، علمی خود شناسی اور تاریخی شعور کی تجدید کا ایک مؤثر مظہر تھا۔
یہ سیمینار اپنی علمی گہرائی، فکری سمت، حسنِ انتظام اور سنجیدہ و باوقار ماحول کے اعتبار سے ایک مثالی پروگرام ثابت ہوا۔ علمِ حدیث کے مختلف گوشوں پر بیس (20) تحقیقی مقالات پیش کیے گئے، جن میں بہار کے ماضیِ تابناک، حال کی علمی سرگرمیوں اور مستقبل کے امکانات کو نہایت سنجیدہ اور تحقیقی انداز میں اجاگر کیا گیا۔
راقم الحروف محمد قمر عالم ندوی، استاد مدرسہ احمدیہ ابابکر پور، ضلع ویشالی کو بھی یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں نے اپنا ایک مختصر مقالہ بعنوان
“ہندوستان کی ممتاز جامعات و مدارس میں علمائے بہار کی خدمات”
پیش کیا، جس پر میں بارگاہِ ایزدی میں شکر گزار ہوں۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز صبح دس بجے ہوا۔ سب سے پہلے قرآنِ کریم کی پُرکیف تلاوت سے فضا کو معطر کیا گیا، اس کے بعد آقائے نامدار ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔ اس روح پرور آغاز کے بعد مقالات اور علمی گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا، جس نے اہلِ مجلس کے ذوقِ علم کو جِلا بخشی اور فکری سطح پر ایک سنجیدہ ارتعاش پیدا کیا۔
یہ حقیقت مسلّم ہے کہ علمِ حدیث، قرآنِ کریم کے بعد شریعتِ اسلامیہ کا سب سے اہم، بنیادی اور ناگزیر ماخذ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
“میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے، ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک کتابُ اللہ اور دوسری میری سنت۔”
بہار میں علمِ حدیث کی روایت نہایت قدیم، مضبوط اور درخشاں رہی ہے۔ اسلامی عہد کے آغاز ہی سے یہاں کے علماء، محدثین اور اہلِ علم نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روایت، تدریس، شرح و توضیح اور اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ حضرت میاں نذیر حسین دہلویؒ کا مسندِ ولی اللہی پر جلوہ افروز ہونا اسی درخشاں روایت کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔
جامعہ رحمانی، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ، خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف، خانقاہ منیر شریف اور دیگر علمی و روحانی مراکز—یہ سب بہار کی وہ تابناک نشانیاں ہیں جہاں حدیث، فقہ اور تفسیر کی آبیاری اخلاص، تقویٰ، علمی دیانت اور فکری توازن کے ساتھ کی جاتی رہی ہے۔ ان اداروں کے اساتذۂ کرام اور خانقاہوں کے سجادہ نشینوں نے فنِ حدیث میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ تاریخِ علم کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔
یقیناً یہ سیمینار وقت کی ایک شدید اور ہمہ گیر ضرورت تھا۔ عصرِ حاضر میں جب نئی نسل علمی روایت سے دوری، تحقیقی کمزوری اور فکری انتشار کا شکار ہے، ایسے میں حضرت مفکرِ ملت کی بصیرت افروز نگاہ نے اس خلا کو محسوس کیا، اور انہوں نے بروقت اس تاریخی سیمینار کے انعقاد کا فیصلہ فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پروگرام محض ایک نشست نہیں بلکہ ایک فکری تحریک کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس کامیاب اور بامقصد سیمینار کے انعقاد پر مفکرِ ملت، امیرِ شریعت، آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر حضرت مولانا مفتی قاضی انیس الرحمن قاسمی لائقِ صد تحسین و مبارک باد ہیں کہ انہوں نے وقت کی نزاکت، علمی ذمہ داری اور ملت کی فکری ضرورت کو سمجھتے ہوئے اس عظیم علمی کارنامے کی قیادت فرمائی۔
اسی طرح ان کی پوری متحرک ٹیم—بالخصوص حضرت مولانا محمد عالم قاسمی،
مولانا مفتی محمد نافع عارفی، مولانا رضا اللہ، مولانا عادل فریدی اور مولانا فیضان قاسمی—نے باہمی مشاورت، اخلاص، نظم و ضبط اور شب و روز کی انتھک محنت کے ساتھ اس سیمینار کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ آل انڈیا ملی کونسل اور مولانا ابوالکلام ریسرچ سینٹر نے اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف اپنی علمی ذمہ داری کا ثبوت دیا بلکہ تحقیق، روایت اور فکری تسلسل کو ایک خوبصورت اور مؤثر قالب میں پیش کر کے یہ واضح کر دیا کہ یہ ادارے ملتِ اسلامیہ کی فکری رہنمائی اور علمی وراثت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
آخر میں حضرت مفکرِ ملت کا اختتامی خطاب نہایت جامع، فکر انگیز اور بصیرت افروز تھا، جس میں انہوں نے پورے سیمینار کے علمی نکات کو نہایت سلیقے اور خوش اسلوبی کے ساتھ سمیٹتے ہوئے علمِ حدیث کی عظمت، علمائے بہار کی خدمات اور مذکورہ اداروں کی علمی کاوشوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
اسی نشست میں ڈاکٹر نور السلام ندوی نے چند اہم اور قابلِ عمل تجاویز پیش کیں، جنہیں اہلِ مجمع نے ہاتھ اٹھا کر مکمل اتفاقِ رائے اور پرزور تائید کے ساتھ منظور کیا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس علمی کارواں کو مزید استحکام عطا فرمائے، اس کے اثرات کو دور رس بنائے، اور ہمیں اپنے اکابر و اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے علم، تحقیق اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...