Translate

Friday, February 13, 2026

ہوس کا اظہار اور انسانی تہذیب کا زوال مفتی توقیر بدر القاسمی الازہری

ہوس کا اظہار اور انسانی تہذیب کا زوال

مفتی توقیر بدر القاسمی الازہری

ویلنٹائن ڈے کی آمد آمد ہے ۔اس موقع سے جس جسن کا اہتمام ہوتا ہے وہ دراصل ہوس کا اظہار اور انسانی تہذیب کا زوال ہوتا ہے ۔
اس مصنوعی جشن میں ایک عجیب سی خاموش تباہی پنہاں ہوتی ہے جو انسانی روح کی گہرائیوں تک رسائی رکھتی ہے۔ 
یہ دن، جو مغربی تہذیب کی پیداوار ہے، محبت کے نام پر جذبات کی تجارت کرتا ہے؛ سرخ گلابوں کی خوشبو میں لپٹی ہوئی ہوس کی لہریں، کارڈز پر لکھی جھوٹی قسمیں، اور عارضی جوش کے پیچھے چھپی ہوئی تنہائی کا احساس !یہاں محبت نہیں، بلکہ نفس کی بے لگام ہوس ہے، جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ 
خاندانی رشتوں کی حرمت پامال ہوتی ہے، حیا کی دیواریں گرتی ہیں، اور نوجوان نسل ایک ایسی بے راہ روی کی دلدل میں پھنس جاتی ہے جہاں عفت و پاکدامنی کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔یہ زوال صرف اخلاقی نہیں، بلکہ سماجی اور معاشی بھی ہے؛ جہاں رشتوں کی گہرائی کی جگہ سطحی لذتوں نے لے لی، وہاں معاشرہ کمزور پڑتا ہے، خودکشیوں، طلاقوں اور نفسیاتی امراض کی شرح بلند ہوتی ہے، اور معاشی طور پر بھی یہ فضول خرچیوں کا طوفان پیدا کرتا ہے جو اصل ضروریات سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔
 یہ ایک ایسی زنجیر ہے جو انسان کو آزاد ہونے کا وہم دے کر اسے غلام بنا دیتی ہے۔اس کے برعکس اسلامی تہذیب محبت کو ایک ایسی پاکیزہ ندی کی مانند پیش کرتی ہے جو حدودِ شرع کے اندر بہتی ہے اور ہر طرف سرسبزی بکھیرتی ہے۔ اسلام میں محبت کوئی مخصوص دن کا قیدی نہیں، بلکہ زندگی کا مستقل رنگ ہے؛ والدین کی شفقت، اولاد کی پرورش، شوہر بیوی کا ایثار، اور اللہ کی رضا کی تلاش میں ڈوبا ہوا جذبہ۔ یہ محبت ظاہری تحائف پر نہیں، بلکہ قربانی، صبر اور وفا پر قائم ہے۔ جب معاشرہ اسی اسلامی اخلاقیات پر استوار ہوتا ہے تو اس میں زوال کی کوئی گنجائش نہیں رہتی؛ خاندان مضبوط ہوتے ہیں، معاشرتی ہم آہنگی بڑھتی ہے، اور معاشی استحکام پیدا ہوتا ہے کیونکہ فضول رسوم کی بجائے اصل اقدار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسلام کی یہ تہذیبی برتری اسی میں ہے کہ وہ انسان کو نفس کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے جاتی ہے، جہاں حقیقی سکون اور ابدی محبت کا حصول ممکن ہے۔ یہ ایک ایسی عمارت ہے جو صدیوں سے کھڑی ہے اور طوفانوں میں بھی نہیں ڈگمگاتی۔

آج جب ویلنٹائن ڈے کی چکاچوند میں بہت سے لوگ گمراہ ہو رہے ہیں، تو ہمیں بحیثیت مسلمان یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی عظمت ان اقدار میں ہے جو وقت اور جغرافیہ سے ماورا ہیں۔

 اسلامی اخلاقیات کی یہ روشنی نہ صرف فرد کو سنوارتی ہے، بلکہ پورے معاشرے کو ایک پاکیزہ اور مستحکم روپ دیتی ہے۔ اگر ہم اپنی تہذیبی شناخت کو مضبوط کریں، تو نہ صرف اپنے زوال سے بچ سکتے ہیں بلکہ دنیا کو بھی وہ راہ دکھا سکتے ہیں جو حقیقی محبت، امن اور ترقی کی طرف جاتی ہے۔ ویلنٹائن ڈے کی مصنوعی روشنی کے مقابلے میں اسلام کی ابدی روشنی ہی وہ شمع ہے جو اندھیروں کو چیر کر انسانیت کو منزل تک پہنچا سکتی ہے۔
_______
ڈائریکٹر المرکز العلمی للافتاء والتحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار سابق لیکچرار المعھد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ بہار انڈیا 
11/02/2026
+918789554995

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...