Translate

Monday, February 2, 2026

بہار کے سبھی اضلاع میں ضلع انتظامیہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ’’فروغ اردو سیمینار و مشاعرہ‘‘ کا مقصد و افادیت ڈاکٹر شاہد وصی معاون اردو مترجم، ضلع اردو زبان سیل، پٹنہ کلکٹریٹ، پٹنہ

بہار کے سبھی اضلاع میں ضلع انتظامیہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے 
’’فروغ اردو سیمینار و مشاعرہ‘‘ کا مقصد و افادیت

ڈاکٹر شاہد وصی 
معاون اردو مترجم، ضلع اردو زبان سیل، پٹنہ کلکٹریٹ، پٹنہ 

کلیم عاجز کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا، دبستان عظیم آباد کے خمیر میں جو دہلوی رنگ و آہنگ اور داخلیت ہے، شاد کے علاوہ ان کے یہاں بھی خوب خوب نظر آتی ہے۔ روز آفس آتے جاتے ان کے آشیانے پر نگاہ بے اختیار چلی جاتی ہےاور جب جب سماج و معاشرے میں رونما ہونے والی ناہمواریوں، تنقیصی تنقیدوں اور شترغمزوں یا دوسرے لفظوں میں بڑ بولے پن کو دیکھتا ہوں تو بے اختیار ان کا ایک مصرعہ ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔ ؎
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں 
یہی حالت بعض کم سن دانشوروں اور نابالغ پروفیسروں کا بھی ہے کہ بقول جوش ملیسانی ؎ 
آندھیاں آتی ہیں جب حضرت جوشؔ آتے ہیں
ان کے زعم و گمان کا یہ عالم ہے کہ یہ جہاں قدم رنجہ ہوتے ہیں، سبزیاں وہیں اگتی ہیں، پروگرام وہی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے، جس کے شہ نشیں پر یہ براجمان ہوتے ہیں، گویا روئے زمین پر بس اکلوتے یہی لائقِ مدح و سزاوارِ سر افرازی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ چاہے جس پایے کا پروگرام منعقد کرلیں، عالم برزخ سے میر و غالب ہی کیوں نہ آجائیں، وہ ان مہاشیے حضرات کے دیدۂ بینا میں ’’نشستند گفتند برخاستند‘‘ ہی ہوتا ہے۔ طبعیاتی فلسفے کی زبان میں کہئے تو یہ حضرات نرگسیت کے شکار ہوتے ہیں، جس کا دوسرا نام عجب، خود پسندی، انانیت اور تکبر ہے۔ نرگسیت زدہ ان حضرات کی طبعی قلابازی اور طوطا چشمی کو دیکھ کر بار بار نظیر کبر آبادی کا آدمی نامہ ورد زبان ہونے لگتا ہے کہ 
کل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہور
شیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زور
اور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور علامہ اقبال کی مشہور نظم جواب شکوہ کا ایک شعر اس پس منظر میں خوب ہے، آپ بھی محظوظ ہوں۔ 
ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

آمدم بر سر مطلب !!
چند دنوں سے عوامی رابطے کے تار عنکبوت (سوشل میڈیا) پر ریاست بہار کے سبھی اضلاع میں قائم ضلع اردو زبان سیل کے ذریعہ منعقد ہونے والا سالانہ فروغ اردو سیمینار موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مذکورہ بالا صفت کے حامل بعض دانشور، جو کسی وجہ کر شریک تقریب نہیں ہوپائے ، تنقید کے پیرایے میں طنز و تعریض کے تیر برسانے لگے اور تنقیص و تخریب کاری لہجہ اختیار کرنے لگے۔ 
خاکسار چونکہ ضلع اردو زبان سیل، پٹنہ کلکٹریٹ میں بحیثیت معاون اردو مترجم بحال ہے، اس اعتبار سے یہ ہماری اخلاقی و منصبی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان باطل مزعومات اور فاسد مفروضات کا محاسبہ کریں۔ الحمد للہ ہم لوگوں نے بھی پٹنہ ضلع میں انتہائی کامیاب پروگرام کیا تھا، اس کی یادیں ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں، اسی طرح دربھنگہ، مدھوبنی، چمپارن، گیا، سمستی پور وغیرہ میں بھی جہاں چند دوست احباب بحال ہیں، ان کی اور اخبارات کی زبانی وہاں کے پروگرام کی کامیابی کے تذکرے سننے اور پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ الحمد للہ چند ایک کو چھوڑ کر ہر جگہ سے مثبت باتیں ہی سننے کو ملیں۔ چند ایک جگہ کے پروگرام، جہاں تھوڑی بہت بد انتظامی ہوئی، اس کو بنیاد بناکر سبھی اضلاع کے پروگرام کو نششتن، گفتن، برخاستن کے زمرے میں رکھنا یہ کسی بھی طور درست نہیں۔ بلکہ یہ ان پروگراموں کی نوعیت اور مقصدیت سے بے علمی اور جاہلی کی دلیل ہے۔ 
*واضح ہو کہ فروغ اردو سیمینار و مشاعرہ ضلع انتظامیہ کے عمل دخل اور ضلع کے سربراہ ضلع مجسٹریٹ کی صدارت و نگرانی میں منعقد ہوتا ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد ہرگز ہرگز میر و غالب کا قد ناپنا نہیں، نہ ہی اس کے مقصدیت میں ادب میں پیدا ہونے والی نئی رجحانات کا جائزہ لینا ہے۔ یہ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے اکیڈمک سیمیناروں سے یکسر مختلف ہے۔* 
ضلع سطح پر منعقد ہونے والے فروغِ اردو سیمینار کا بنیادی مقصد اردو زبان کو عوامی سطح پر زندہ رکھنا، عام اردو داں طبقے میں بیداری پیدا کرنا، سرکاری دفاتر میں اردو کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا اور مقامی اہلِ قلم و طلبہ کو اردو سے جوڑنا ہوتا ہے۔ یہ پروگرام زبان کے عملی نفاذ اور سماجی بقا سے وابستہ ہوتے ہیں۔ 
*اسی طرح ضلع سطح کے سیمینار میں عام طور پر مختلف طبقوں کے لوگ شریک ہوتے ہیں، جن میں اساتذہ، طلبہ، مقامی شعرا و ادبا، اردو سے محبت رکھنے والے عام شہری اور اکثر اوقات ایسے سرکاری افسران بھی شامل ہوتے ہیں، جن کی مادری زبان اردو نہیں ہوتی۔ اتنے متنوع اور مختلف اللسان سامعین کے پیش نظر یہاں گفتگو کا اسلوب سادہ، رواں اور عوامی رکھا جاتا ہے۔*
سب سے اہم بات ضلع سطح پر سیمینار محدود وسائل میں منعقد ہوتے ہیں۔ بجٹ کی قلت، انتظامی ضابطے، وقت کی کمی اور انفراسٹرکچر کی محدود سہولتیں ان پروگراموں کی حقیقت ہیں۔ یہ اردو مترجمین کے جگرے کی ہی بات ہے کہ وہ کس قدر جگر سوزی، دست بوسی اور آبلہ پائی کے دلخراش مراحل کے بعد تقریب سجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہلکی پھلکی راہ پاجانے والی بد انتظامی کو ناکامی کے بجائے ایک مثبت کوشش کے طور پر دیکھنا چاہیے۔وہیں ضلع سطح کے سیمینار و پروگرام کو یونیورسٹی کے ادبی پروگرام کے پیمانے پر پرکھنا ایک سطحی اور غیر حقیقت پسندانہ رویہ ہوگا۔ ہر پروگرام کو اس کے مقصد، حالات اور امکانات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ دونوں کا باہم موازنہ علمی طور پر کمزور، سماجی طور پر غیر منصفانہ اور عملی طور پر غیر حقیقت پسندانہ رویہ شمار ہوگا۔ 
بعض لوگوں کو اس بات کا شکوہ ہے کہ بعض ضلع کے سیمینار میں چند ایک مہمانوں کے شین قاف درست نہیں تھے، تو بھائی اس معاملے میں خالص تشہیری و ابلاغی نوعیت کے پروگرام میں، جس کا مقصد ہی زیادہ سے زیادہ اردو آبادی سے ربط پیدا کرنا ہے، قل اعوذیا اردو کی تلاش زمینی حقیقت سے فرار اور توقع سے بڑھ کر امید باندھنا ہے۔ عین شین قاف کے ترکیبی مادے میں ایک طرف جہاں یونیورسٹیوں کا بڑا طبقہ گرفتار نظر آتا ہے، وہیں اس کی ملفوظات و ادائیگی میں بہت سارے اساتذہ بھی ’’الف پیش بو‘‘ معلوم پڑتے ہیں۔ 
یہاں ایک حقیقت کا اظہار کرتا چلوں کہ حکومت بہار نے ریاست کی دوسری سرکاری زبان کے عملی نفاذ، فروغ اور اس کی ترقی کے لئے اردو مترجمین کو ہر محکمہ، سبھی اضلاع اور تمام سب ڈویژن، بلاک اور انچل دفاتر میں بحال کیا ہے۔ ہمارے فرائض منصبی میں جہاں اردو درخواستوں کو ہندی کا جامہ پہنانا ہے، وہیں غیر اردو داں ملازمین و افسران کے لیے اردو زبان کی آموزش کا اہتمام بھی کرنا ہے۔ اسی وجہ سے ریاست میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اردو لکھتے، پڑھتے اور بولتے ہیں۔ اردو ان کی مادری زبان نہیں ہونے اور خاص پس منظر و ماحول نہیں ملنے کی وجہ سے ان کا شین قاف نستعلیقی انداز کا نہیں ہوتا۔ فروغ اردو کے لیے منعقد کئے جانے والے سیمیناروں میں ہمیں انہیں بھی نمائندگی دینی ہوتی ہے۔ بلکہ اس کے مقصد میں بھی داخل ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ایسے افراد سے رابطہ قائم کرسکیں، تاکہ زبان نئے مکانوں میں داخل ہو۔ 
*یہاں ہم ان نرگسیت زدہ نکتہ چینوں سے بس ایک سوال کرنا چاہیں گے کہ کیا خالص ادبی نوعیت کے پروگراموں میں شریک ہونے والے سبھی مقالہ نگاران کی زبان اتنی ہی شستہ، شگفتہ اور معیاری ہوتی ہے، جس کا تقاضا یہ خالص زبان کی تشہیر کے لیے منعقدہ سیمینار سے کرتے ہیں۔؟؟*
ہم  اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتے، ورنہ آپ کہنے لگیں گے کہ 
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی 
بڑا بے ادب ہے سزا چاہتا ہے 

اس موقع پر ایک شاعر کا شعر یاد آرہا ہے کہ 
چمن میں اختلاط رنگ و بو سے بات بنتی ہے
ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں تم ہی تم ہو تو کیا تم ہو
تنقید بہت اچھی چیز ہے، تجزیے و تبصرے سے کاموں میں بہتری آتی ہے، لیکن اصل مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے کہ جب ہم سب چیزوں کو اپنی عقل کی کسوٹی اور اپنے مزاج کے مطابق پرکھنے لگتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تنقید کے نام پر حوصلہ شکنی کے بجائے، ان کوششوں کو مضبوط کریں، بہتری کی تجاویز دیں اور اردو کے فروغ کے لیے ہر سطح پر ہونے والی سنجیدہ کاوشوں کی قدر کریں۔
ایسا ہم بھی دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ پروگرام ہر اعتبار سے ہر جگہ سو فیصد بامقصد اور کامیاب ہی ہوتے ہیں، اگر آپ کو کوئی کمی نظر آتی ہے، ضلع اردو سیل میں تشریف لائیں، آپ کا ہمہ وقت استقبال ہے۔ ان شاء اللہ چائے وائے سے ضرور مدارات کریں گے۔ 
*ایک بات اور سنتے جائیں! اگر ضلع انتظامیہ کے کسی کام سے آپ خوش ہیں، یا آپ کی کوئی شکایت ہے تو اردو زبان میں ایک درخواست بھی ساتھ لیتے آئیں، جس کو دیکھنے کو ہم اردو مترجمین کی آنکھیں ترستیاں ہیں۔ یقین جانیے اردو کے عملی نفاذ کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی خدمت نہیں ہوسکتی اور اصل کرنے کے یہی کام ہیں۔*

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...