شہباز دانش
برصغیر کی علمی و روحانی تاریخ بعض ایسے مخلص خادموں کے تذکرے سے منور ہے جنہوں نے شہرت و ناموری کی تمنا سے بے نیاز ہو کر خود کو خاموشی کے ساتھ علم کی ترویج اور انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔ انہی گوشہ نشین اور درویش صفت عباقرہ میں حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتیؒ کا نامِ نامی ایک جلی عنوان کی حیثیت رکھتا ہے۔
آپ ایک ایسے عالم ربانی، یگانۂ روزگار مدرس اور مصلح امت تھے جن کی حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ درس و تدریس، اصلاحِ عقائد اور دینی اداروں کی آبیاری میں گزرا۔ شمالی بہار کی بنجر زمین کو اپنے علم و عمل کے زمزم سے سیراب کر کے وہاں ایک نئے علمی انقلاب کی بنیاد رکھنا آپ ہی کا طرۂ امتیاز تھا۔
طلوعِ سحر اور عہدِ طفولیت:
اس آفتابِ علم و عمل کا طلوع 1887ء میں ضلع مظفرپور (بہار) کے تھانہ "کٹرا" کی ایک غیر معروف بستی ’بسنت‘ میں ہوا۔ ابھی ہوش کی آنکھیں پوری طرح کھلی بھی نہ تھیں کہ شفقت پدری سے محروم ہو گئے ۔ قدرت نے آپ کی تربیت کا بیڑہ اٹھایا اور دادا شیخ امام علی، اور پھر چچا شیخ بابو جان کے آغوشِ شفقت نے آپ کی پرورش کی۔ اگرچہ خاندان علم کی خوشبو سے ناآشنا نہ تھا، مگر یتیمی کی وجہ سے ابتدائی ایام میں تعلیمی سفر کی رفتار سست رہی۔
سفرِ علم کی ابتدا:
علم کی پیاس آپ کو ننھیال (آواپور) لے گئی، جہاں کی علمی فضا نے آپ کے جوہرِ قابل کو جلا بخشی۔ مدرسہ آواپور میں آپ نے مولانا عبدالصمد آواپوری اور صاحبِ ’آثار السنن‘ مولانا ظہیر حسن شوق نیمویؒ جیسے جلیل القدر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مولانگر اسکول میں زیرِ تعلیم رہے، اس عرصے میں مولانا عبد الصمد آواپوری سے عربی کی متعدد کتابیں پڑھیں، مگر دینی علوم کی تڑپ آپ کو مدرسہ امدادیہ (دربھنگہ) کھینچ لائی، جہاں آپ نے صرف و نحو میں درک حاصل کیا، یہاں آپکے ہم جماعتوں میں صوفی رمضان علی آواپوری، مولانا اسماعیل آواپوری اور مولانا جمال اختر مکیاوی کا نام قابل ذکر ہے ۔
دیارِ بعید میں تحصیلِ علم :
علم کے اس مسافر نے اپنی منزل کی جستجو میں الٰہ آباد کے 'مدرسہ سبحانیہ' کا رخ کیا، جہاں مشکوٰة، جلالین، شرح ہدایت الحکمت اور ہدایہ جیسی معرکۃ الآرا کتابوں سے سیرابی حاصل کی۔ بالآخر، علمی پیاس بجھانے کے لیے اس عہد کے سب سے بڑے سرچشمۂ علم، دارالعلوم دیوبند جا پہنچے۔ وہاں پانچ چھ برس تک اکابرینِ دیوبند کی بارگاہ میں رہ کر علمِ نبوت کے وہ جام پیے جنہوں نے آپ کو کندن بنا دیا۔
مشاہیرِ وقت کی شاگردی :
آپ کی خوش بختی دیکھیے کہ آپ نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ سے بخاری شریف کا آغاز کیا اور امامِ عصر حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کے زیرِ سایہ اس کی تکمیل فرمائی۔ اس کے علاوہ آپ نے مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ جیسے کوہِ وقار و علم اساتذہ سے فیض پایا، جن کی صحبت نے آپ کو علم و تقویٰ کا پیکرِ جمیل بنا دیا۔
سن 1336ھ میں جب آپ کتبِ درس نظامی کی تکمیل کے بعد زیورِ علم سے آراستہ ہو کر اپنے وطن واپس لوٹے، تو اپنے گاؤں 'بسنت' کی خاک کو مشک بو بنا دیا۔ اور پانچ روپے ماہانہ مشاہرے پر نو نہالانِ ملت کی آبیاری شروع کر دی تاکہ چراغ سے چراغ جلتا رہے۔ اگلے ہی برس، 1337ھ میں آپ کی علمی جلالت نے مدرسہ محمود العلوم (دملہ، مدھوبنی) کے مسندِ تدریس کو زینت بخشی۔
کچھ عرصے بعد تقدیر آپ کو 'پوپری بازار' لے آئی، جو اس وقت گمنامی کے اندھیروں میں دبی ایک دیہی بستی تھی۔ یہاں آپ نے رزق حلال کے لیے کپڑے کی تجارت شروع کی، مگر دل تو دین کی شمع روشن کرنے کو بے قرار تھا؛ چنانچہ اسی دکان کے گوشے میں 'مکتبِ پوپری' کی بنیاد رکھی، جہاں قاعدہ بغدادی سے لے کر 'شرح جامی' اور 'شرح وقایہ' کی گتھیاں سلجھائی جانے لگیں۔ آپ کی اخلاص بھری محنت اور اصلاحِ عقائد کی تڑپ نے ایسا رنگ جمایا کہ منتسبین و مستفیدین کا ایک سلسلہ چل پڑا اور حلقہ وسیع تر ہوتا گیا، جسکے نتیجے میں باطل رسومات کے بادل چھٹنے لگے اور توحید کی صبح نمودار ہونی شروع ہو گئی ۔
حضرت ہی کے ایما پر صوفی رمضان علی آواپوریؒ نے 1338ھ میں 'مدرسہ اشرف العلوم' (کنہواں) کی بنیادرکھی، اور اس نوخیز پودے کی آبیاری میں مصروف ہو گئے۔ صوفی صاحب کے وصال کے بعد، 14 ربیع الثانی 1341ھ کو آپ نے اپنی جمی جمائی دکان کو خیرباد کہا اور اپنے شاگردوں کے ہمراہ کنہواں ہجرت فرما لی۔ 13 ربیع الثانی 1344ھ (1 نومبر 1935ء) کو جب اس مدرسہ کی نظامت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر آئی، تو آپ نے مدرسے کو تعلیمی و اصلاحی جدوجہد کا وہ مرکز بنا دیا جسکے اثر سے علاقے میں پھیلے شرک و بدعات کے بادل چھٹنے لگے اور توحید کا سپیدۂ سحر نمودار ہو نے لگا ۔ بقول شاعر:
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
1346ھ میں آپ دوبارہ پوپری تشریف لائے، لیکن اشرف العلوم سے تعلقِ خاطر تا حیات برقرار رہا۔ پوپری میں آپ نے 'کتب خانہ و عطار خانہ عزیزیہ' کی بنیاد رکھی، جسے اللہ نے وہ برکت دی کہ وہ محض دکان نہ رہی بلکہ 'تزکیۂ نفس' اور آپ کےوضع کردہ'اصولِ عشرہ' پر مبنی 'مکتبِ اشرفیہ' نشر دین کا گہوارہ بن گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوپری علم و عرفان کا مرکز بن گیا جہاں سے رشد و ہدایت کی وہ نہریں جاری ہوئیں جنکے سوتے آج تک خشک نہیں ہوے ۔
آپ کے وصال کے بعد اس علمی ورثے کو آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا محفوظ الرحمن مظاہریؒ (متوفی 3 دسمبر 2010ء) نے سینچا اور 1973ء میں اس مکتب کو'مدرسہ عزیزیہ خزینتہ العلوم' سے موسوم کیا ۔ آج یہ گلستاں مولانا محمد یامین اختر قاسمی صاحب کی زیرِ نظامت تشنگانِ علم کی پیاس بجھا رہا ہے۔
علمی و تصنیفی خدمات :
تزکیہ و اصلاح اور درس و تدریس کے علاوہ آپکی علمی جولان گاہ تحقیق اور تصنیف کا سنگم رہی۔ 1343ھ میں آپ نے ’آمد نامہ صفوۃ المصادر‘ کے قدیم نسخے کی کمالِ مہارت سے تصحیح فرمائی اور علمی بصیرت سے لبریز حواشی کے اضافے کے ساتھ اسے ’’لذۃ الخواطر در تحقیق مصدر صفوۃ المصادر‘‘ کے عنوان سے منصۂ شہود پر لایا۔
1344ھ میں آپ کے قلم سے ’’رسمِ شادی‘‘ جیسا شاہکار رسالہ تخلیق ہوا، جس میں شادی بیاہ کی فضول خرچیوں اور غیر شرعی رسومات کا نہایت دل نشیں رد پیش کیا گیا۔ جب یہ کاوش حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی بارگاہ میں پہنچی، تو انہوں نے اسے تحسین سے نوازتے ہوئے ’’خطابِ عبدالعزیز بجانبِ اہل تمیز‘‘ کا پرکشش تاریخی نام عطا فرمایا۔ 1345ھ میں یہ رسالہ شائع ہوا اور خواص و عوام میں اسے خوب پذیرائی ملی۔
مبتدی طلبہ کے لیے آپ نے ’’عزیز القواعد‘‘ تصنیف کی، جو آج بھی شمالی بہار کے مدارس میں داخل نصاب ہے اور علمِ صرف و نحو کی کلید سمجھی جاتی ہے۔ آپ کے دیگر علمی شہ پاروں میں ’’آرسی شرح فارسی‘‘ (1348ھ)، ’’باغستان‘‘ (گلستانِ سعدی کا اردو ترجمہ، 1349ھ)، ’’جدید اردو کا قاعدہ‘‘ (1365ھ) اور ’’رقعاتِ عالمگیری‘‘ کی گراں قدر شرح شامل ہیں، جو آپ کے تبحر علمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ملی شعور اور سیاسی وابستگی :
آپ کی شخصیت میں ملی حمیت اور سیاسی تدبر کا حسین امتزاج تھا۔ آپ جمعیت علماء کے ایک مخلص اور فکری سپاہی تھے، مگر شہرت سے گریزاں رہ کر ہمیشہ پسِ پردہ کام کرنے کو ترجیح دی۔ 4 مئی 1978ء کو سیتامڑھی کی جمعیت کانفرنس میں آپ کو ’’جمعیت علماء کا خاموش مبلغ‘‘ قرار دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ 1946ء کے انتخابات میں جب آپ کے تلمیذِ رشید مولانا عبدالرشید حسرت نے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا، تو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی پوپری تشریف آوری آپ ہی کی علمی و فکری نسبتوں کا ثمر تھی۔ اس کے علاوہ آپ امارتِ شرعیہ، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ اور دارالمصنفین اعظم گڑھ جیسے مقتدر اداروں کے رکنِ رکین اور مدرسہ اشرف العلوم کنہواں کے تاحیات سرپرست رہے۔
سلوک و احسان اور نسبتِ تھانوی:
فراغتِ تعلیم کے بعد آپ کا تعلقِ خاطر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے استوار ہوا، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک قلبی و روحانی وابستگی میں بدل گیا۔ آپ اپنی زندگی کی ہر لہر، خوشی و غمی اور معاملاتِ روزگار و احوال نفس حکیم الامت کے سامنے پیش کرتے اور حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ ان خطوط کا شفقت و حکمت بھرا جواب عنایت فرماتے ۔ صفر 1339ھ میں آپ کی بیعت کی درخواست پر حضرت تھانویؒ نے نہایت مشفقانہ مکتوب ارسال فرمایا، جس کے الفاظ تھے:
’’اس صدق و خلوص کی تحریر نے قلب پر ایسا اثر کیا کہ بجز اس کے دوسرا جواب دینے کو جی نہیں چاہتا کہ میں نے توکلاً علی اللہ تعالیٰ آپ کو بیعت کر لیا، حق تعالیٰ برکت دے۔‘‘
یہ نسبتِ تھانوی آپ کی زندگی کا کل سرمایہ رہی۔ 1367ھ (1947ء) میں آپ کو سعادتِ حج نصیب ہوئی، جو آپ کی روحانی زندگی کا ایک درخشندہ باب ہے۔
خانگی اور ازدواجی زندگی :
حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتی رحمۃ اللہ علیہ کی خانگی زندگی رشتوں کے احترام اور تربیتِ اولاد کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کا پہلا نکاح 1346ھ میں زہرہ خاتون سے ہوا، جن کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو صاحبزادگان (محمد قاسم، محمد ہاشم) اور تین صاحبزادیاں (صالحہ، صادقہ، عارفہ) عطا فرمائیں۔ 13 شوال 1366ھ (بمطابق 29 اگست 1947ء) کو آپ رشتۂ ازدواج ثانی میں منسلک ہوئے۔ اس رفاقت سے ایک صاحبزادے، مولانا محفوظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک صاحبزادی، بریدہ خاتون، تولد ہوئیں۔ زوجۂ ثانیہ نے حضرت کے وصال کے بعد تقریباً 32 برس صبر و استقامت کے ساتھ گزارے اور بالآخر 25 محرم 1405ھ (بمطابق 20 اکتوبر 1984ء) کو داعیِ اجل کو لبیک کہا۔
حضرت کی زندگی کے آخری ایام تسلیم و رضا اور توکل علی اللہ کا مظہر تھے۔ کنہواں سے دس میل کی مسافت پر واقع بستی 'بھرت پور' میں آپ کی کچھ زرعی زمینیں تھیں، جن کی دیکھ بھال کے لیے آپ سالانہ دورہ فرمایا کرتے تھے۔ 1952ء میں بھی اسی غرض سے سفر درپیش ہوا۔ اس سفر میں آپ کے ہمراہ عزیزِ قریب مولوی حبیب اللہ بسنتی اور مدرسہ اشرف العلوم کا ایک طالب علم تھا۔ قیامِ بھرت پور کے دوران آپ علیل ہو گئے اور بخار نے آہستہ آہستہ آپ کو نڈھال کر دیا۔ طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو آپ واپس کنہواں تشریف لے آئے، جہاں حکیم جمال اللہ صاحب کے زیرِ علاج رہے۔
تقدیرِ الٰہی کے فیصلے اٹل تھے۔ 'مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی' کے مصداق، بیماری کی شدت یہاں تک پہنچی کہ سماعت اور بصارت بھی متاثر ہونے لگی۔ نقاہت اور غشی کے عالم میں بھی زبانِ مبارک پر حرفِ شکایت کے بجائے صرف خاموشی اور شکر کے کلمات جاری رہتے۔ اسی دوران جب مولانا حکیم منظر الحسن صاحب گاڑھا عیادت کو آئے، تو انہوں نے بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر 'پوپری' منتقلی کا مشورہ دیا۔ حضرت کی اجازت کے بعد جب سواری تیار ہوئی اور آپ مدرسہ سے رخصت ہونے لگے، تو "اللہ حافظ" کہتے ہوئے فضا پر ایک عجیب رقت طاری ہو گئی۔
سفرِ آخرت کی گھڑیاں قریب تھیں۔ جب یہ قافلہ 'چند پورہ' پہنچا تو سانس کی ترتیب بگڑنے لگی۔ آپ نے فوراً سواری رکوا کر نہایت سکون سے دریافت فرمایا: "وقت کیا ہے؟" عرض کیا گیا: "عصر کا وقت ہے"۔ یہ آپ کی زبان سے ادا ہونے والا آخری لفظ تھا۔ اس کے بعد آپ نے قبلہ رو ہو کر "اللہ اکبر" کہا اور 17 محرم الحرام 1372ھ (بمطابق 8 اکتوبر 1952ء، بروز بدھ) اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔
چھپ گئے سازِ ہستی چھیڑ کر
اب تو بس آواز ہی آواز ہے
وصال کی خبر پورے علاقے میں آن کی آن میں پھیل گئی ۔ اسی روز رات آٹھ بجے جسدِ مبارک پوپری لایا گیا اور اگلے روز، 18 محرم الحرام بروز جمعرات، بعد نمازِ عصر 'گاڑھا' کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ کی نمازِ جنازہ حضرت مولانا محمد سلیمان آواپوری رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی، جس میں ڈھائی ہزار سے زائد عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ یہ ہجوم اس خاموش خدمتِ دین کا اعتراف تھا جو حضرت نے برسوں انجام دی تھی۔
حضرت مولانا عبدالعزیز بسنتی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ علم و عمل اور اخلاص و اصلاح نفس کا وہ روشن منارہ ہے، جس نے لوگوں کے قلوب کو روشن کیا اورجس نے تجارت کو معاش اور علم کو مقصد بنا کر زندگی گزارا۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمیــــن
No comments:
Post a Comment