محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
ہمارے اسلاف، مشائخ، اور علماء کرام نے ہمیشہ استغنا، خود داری، اور خود اعتمادی والی زندگی گزاری اور کبھی کسی کی دولت و ثروت اور جاہ و جلال اور منصب و اقتدار سے متاثر و مرعوب نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی مرکزی حساس دینی ادارے کے ذمہ داران نے حکومت کی بخشش و اکرامیہ قبول کرنے کی ضرورت سمجھی بلکہ اس کو بڑی حکمت و دانائی کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کردیا اور انہوں نے استغنا میں ہی معراج مسلمانی سمجھا، آج بھی علماء اور مشائخ کو بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے اور ایسے کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ والے انسان کا ہدیہ اور تحفہ قبول نہیں کرنا چاہیے، جو بعد میں سر عام احسان جتائے اور علماء برادری کو رسوا اور ذلیل کرے، اور لفافہ کلچر کا طعنہ دے کر طبقئہ علماء کو نیچے کرنے کی کوشش کرے، بلکہ اگر کبھی مجبوری میں لینا ہی پڑے تو اس کو خرچ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس جو من و عن محفوظ رکھنا چاہیے کہ وقت پڑے تو ہم ایسے بے ضمیر لوگوں کو واپس کر دیں، جو ہدیہ اور تحفہ کے بدلے میں اپنا مفاد پورا کرانا چاہتا ہو۔
ہمارے اسلاف کی روشن تاریخ کا ایک نمونہ یہ بھی تھا کہ قاضی بکار بن قتیبہ رح کو بادشاہ وقت ہر سال ایک ایک ہزار دینار الگ سے ہدیہ دیتا تھا اور یہ سلسلہ اٹھارہ سال سے جاری تھا ، کسی مسئلہ پر قاضی بکار کا بادشاہ وقت ابن طولون سے کسی مسئلہ میں اختلاف ہوگیا ، قاضی صاحب سے بادشاہ کوئی ایسا فیصلہ کرانا چاہتا تھا ، جو قاضی صاحب درست نہیں سمجھتے تھے ۔
بادشاہ نے قاضی صاحب کو گرفتار کردیا اور یہ پیغام بھیجا کہ جتنے دینار اٹھارہ سال سے آپ کو بطور ہدیہ دئیے ہیں، وہ سب واپس کریں ۔
جب یہ پیغام قاضی صاحب کے پاس پہنچا تو قاضی صاحب کسی تردد کے بغیر گھر کے اندر گئے اور گھر سے اٹھارہ تھیلیاں مہر بند نکال لائے ،جس میں سے ہر ایک میں ایک ایک ہزار دینار تھے ۔
یہ تھیلیاں جب بادشاہ ابن طولون کے پاس پہنچیں تو اس نے دیکھا کہ یہ بعینہ وہی تھیلیاں ہیں، جو قاضی صاحب کے پاس تھیں اور ان کی مہریں تک نہیں ٹوٹی تھیں ۔ ابن طولون یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ قاضی بکار رح نے ان میں سے ایک تھیلی بھی نہیں کھولی ، بلکہ جوں کا توں محفوظ رکھ لیا تھا، بعد میں معلوم ہوا کہ قاضی بکار رح نے اس خیال سے استعمال نہیں کیا تھا کہ امیر سے بلا شبہ اس وقت تعلقات اچھے ہیں ، لیکن کبھی اختلاف پیدا ہوا تو انہیں جوں کا توں لوٹایا جاسکے ، ابن طولون قاضی بکار کی بلندئی کردار ذہانت و حکمت اور استغنا کی نرالی شان دیکھ کر شرم سے عرق عرق ہوگیا ۔ (النجوم الزاہرة فی اخبار ملوک مصر و القاہرة،)
ایک یا دو سال پہلے راقم الحروف نے ہدیہ و تحفہ کے تعلق سے ایک مختصر مضمون تحریر کیا تھا، جس میں اس تعلق سے کچھ ضروری باتیں بھی آگئی تھیں ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ،،قند مکرر،، کے طور پر پھر قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کر دوں ۔
دوستو !
مانگ کر اپنے لیے کسی سے کچھ لینا یہ سوال ہے، بلکہ اس کو عرف عام میں بھیک کہتے ہیں، شریعت میں بلا کسی شدید مجبوری کے ، کسی کے سامنے دست سوال پھیلانا بہت بری چیز ہے، حدیث میں آیا ہے کہ سوال کرنا یعنی کسی سے کچھ مانگنا بری بات ہے،، السؤال ذل،، ۔حدیث ۔
مانگنا بری چیز ہے۔
ہاں دین کی اشاعت، ملت کے نادار افراد کی خدمت و اعانت کے لیے ،تعلیم کے فروغ کے لیے نیز غریب بچوں اور نونہالوں کی دینی تربیت کے لیے دوسروں سے کہنا اور ان کاموں کی تکمیل کرانا، یہ اس سے الگ چیز ہے، یہاں تو یہ کام کار ثواب بن جاتا ہے، شرط یہ ہے کہ یہ کام اخلاص دیانت داری اور ذمہ داری کیساتھ ہو۔
بہر حال ایک سال پہلے کی بات ہے،میں مادر علمی ندوہ میں ایک عطر فروش کی دکان پر عطر لینے گیا اور اپنی پسند کا عطر لیا، میرے قریب ہی ایک نوجوان کھڑا تھا وہ بھی اسی مقصد کے لیے آیا تھا، اس نے دوکاندار سے کہا کہ آپ نے مولانا صاحب کو جو عطر دیا، وہی ہمیں بھی دے دیں۔
میں جب عطر کی قیمت دکان دار کو دینے لگا تو اس نوجوان نے کہا کہ مولانا صاحب یہ میری طرف سے ہدیہ اور گفٹ ہے، آپ اس کی قیمت بالکل نہیں دیں، میں نے بہت کوشش کی کہ قیمت میں ادا کر دوں، لیکن وہ اس پر تیار نہیں ہوئے اور مصر رہے، اور انہوں نے قیمت ادا کردی۔ میں نے بھی یہ سمجھ کر کہ عطر، تکیہ اور بھی بعض چیزیں ہیں، ان کو لینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے، بعد میں اس نوجوان نے اپنا تعارف کرایا کہ میں خطئہ شیراز ہند ضلع جون پور کا رہنے والا ہوں، ندوہ کا طالب علم رہا ہوں، لیکن میری قسمت میں عالم اور ندوی ہونا مقدر نہیں تھا، اب یہیں لکھنؤ میں تجارت کرتا ہوں، اپنی تعلیم کے مکمل نہ ہونے کا مجھے بڑا صدمہ اور افسوس ہے۔ لیکن اب کر ہی کیا سکتا ہوں، پھر علیک سلیک کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے سے رخصت ہوگئے ۔
چونکہ بات ہدیہ کی آئی اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ ،،ہدیہ اور اسلامی تعلیمات،،کے حوالے سے دو تین باتیں قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کر دوں۔ کیونکہ کہ یہ عمل بھی نبی کریم ﷺ کی ایک اہم اور دائمی سنت رہی ہے، اور صحابہ، تابعین اور تبع تابعین نیز اسلاف کا ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ وہ آپس میں ہدیہ لیتے دیتے رہتے تھے ،۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی زندگی میں جہاں بہت سے امور میں شریعت کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور لوگ سستی اور بے توجہی برت رہے ہیں ، ان میں ہدیہ اور تحفہ کی بہت سی شکلیں ہیں۔
آج لوگ ہدیہ کی شکل میں رشوت دیتے ہیں اور ہر جگہ اس کے پیچھے کوئی مفاد جوڑ کر رکھتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بجائے آپسی محبت و الفت کے اضافہ کے آپس میں دوریاں پیدا ہو جارہی ہیں،اس لیے یہاں بھی اور اس میدان میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے اور اس سے متعلق احکام و مسائل سے واقفیت بھی ضروری ہے ۔
ہدیہ کے معنی تحفہ اور گفٹ کے ہیں، تحفہ معمولی ہو یا قیمتی کسی انسان کی محبت میں اور اس سے اظہار تعلق کے لیے اس کو کچھ دینا ہدیہ کہلاتا ہے اور کسی محتاج کو اللہ سے تقرب کی نیت سے کوئی چیز دینا صدقہ نافلہ کہلاتا ہے ۔ (المغنی لابن قدامہ کتاب الھبة و العطیة / قاموس الفقہ جلد ۵)
ہدیہ دینا سنت اور مسنون عمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی عنھم کو ہدیہ دیا کرتے تھے، آپ نے ہدیہ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو۔ کہ یہ باہمی محبت و الفت کا باعث ہے۔ تھادوا تحابوا۔ (موطا امام مالک ۳۶۵)
ہدیہ کے اداب میں علماء نے لکھا ہے کہ جو چیز ہدیہ کی جائے خواہ وہ مقدار میں کم اور کیفیت کے اعتبار سے معمولی ہو، پھر بھی پوری رغبت اور دل داری کے ساتھ اسے قبول کیا جائے، آپ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص مجھے بکری کے کھر پر بھی دعوت کرے گا تو میں اسے قبول کروں گا۔( بخاری)
ہدیہ واپس کرنا کسی طرح مناسب نہیں کہ اس سے ہدیہ کرنے والے کی دل آزاری ہوتی ہے۔ لیکن خاص طور پر تین تحفوں کو واپس کرنے سے آپ نے منع فرمایا۔ تکیہ، خوشبو اور دودھ۔۔(شمائل ترمذی)
جس طرح عام لوگوں کے لیے ہدیہ لینا جائز ہے وہیں واعظ اور مفتی کے لیے بھی ہدیہ قبول کرنا جائز ہے اگر پہلے سے لوگ انہیں ہدیہ لے دے رہیں ہوں، اور اس سے یہ خطرہ نہ ہوکہ فیصلے اور افتاء پر فرق پڑے گا۔۔
غیر مسلموں کو بھی ہدیہ دینا اور ان سے لینا یہ جائز ہے، احادیث اور پیارے نبی ﷺ کے عمل سے اس کے ثبوت ملتے ہیں ۔
ایک موقع پر حضرت اسماء رضی اللہ عنھا کی والدہ آئیں، وہ مشرکہ تھیں، حضرت اسماء نے پوچھا کیا ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ آپ نے اثبات میں جواب دیا۔ مشرکین کو ہدیہ دینے پر اس آیت سے استدلال کیا ہے، جس میں امن پسند مشرکین کے ساتھ حسن سلوک اور عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے۔ (سورہ الممتحنہ)
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے خچر اور چادر کا تحفہ قبول کیا، دومتہ الجندل کے موقع پر ایک غیر مسلم نے ایک ریشمی جبہ دیا وہ آپ صلی اللہ علیہ نے اسے قبول کیا۔
کن صورتوں میں ہدیہ لینا درست اور کس صورت میں نا درست ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ کسی کے پاس کل آمدنی حرام ہو ایسے آدمی کا ہدیہ لینا درست نہیں ہے۔
اگر آمدنی کا زیادہ تر حصہ حرام ہو اور اس کی تفصیل نہ ہو کہ کہ ہدیہ میں جو مال دیا جارہا ہے، وہ حرام ہے یا حلال؟ تو ایسے شخص کا بھی ہدیہ قبول کرنا درست نہیں ہے۔جن کے پاس مال مشکوک ہو اس کے ہدیہ کو بھی لینے سے پرہیز کرنا چاہیے، اگر کسی کے پاس مال مخلوط ہو، حلال حرام دونوں، لیکن حلال کا حصہ غالب ہو تو اس کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔ لیکن معلوم ہی نہ ہو کہ کون سا مال غالب ہے تو ایسی صورت میں بھی احتیاط لازم ہے۔۔
ہدیہ دینے کے بعد احسان جتانا، اس کو دوسرے سے بتانا، تذکرہ کرنا اور بیان کرنا انتہائی غلط اور نازیبا بات ہے، ایسے لوگوں کو شریعت میں پسندیدہ اور بہتر نہیں مانا گیا ہے، اس سے بچنا چاہیے ورنہ سارا کیا، بے کار ہو جاتا ہے ، ثواب کے بجائے گناہ ہوتا ہے۔۔
ہدیہ لے کر واپس مانگنا انتہائی بری بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی آدمی کے لیے جائز کہ وہ کسی کو تحفہ دے اور پھر اپنے تحفہ کو واپس لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو ہدیہ دے کر واپس لے سکتا ہے، جو شخص ہدیہ دے کر واپس لیتا ہے اس کی مثال اس کتا کی سی ہے جو خوب کھا کر قے کرتا ہے، اور دو بارہ اپنی قے چانٹ لیتا ہے۔ (ترمذی)
بعض مخصوص صورتوں میں شریعت میں ہدیہ واپس لینے یا کرنے کی گنجائش ہے جس کی تفصیل پھر کبھی آئے گی۔۔۔
جن کے بارے میں ذرا بھی یہ شبہ ہو کہ وہ اس ہدیہ یا مدرسہ اور ادراہ کا تعاون کرکے اپنا کوئی سیاسی یا دنیاوی فائدے اٹھائے گا یا بعد میں احسان جتائے گا، اور سامنے والے کو ذلیل و رسوا کرے گا، ایسے لوگوں کا ہدیہ اور تعاون کبھی قبول نہیں کرنا چاہیے ۔
سب سے برا احسان جتانا یہ ہے کہ کوئی اپنے والدین کو کچھ دے یا گھر میں خرچ کرے اور پھر باپ کو جتائے کہ ہم نے یہ کیا ، وہ کیا،ہم نے آپ کے لیے یہ کیا۔ پوری زندگی بھی اگر کوئی ماں باپ کے لیے قربان کر دے، اپنی ساری کائنات لٹا دے،تب بھی وہ والدین کے احسان کا ادنیٰ حق ادا نہیں کرسکتا۔۔ ہدیہ سے متعلق یہ چند تعلیمات ہیں جس کو میں نے ذکر کردیا ہے، سفر کے دوران یہ تحریر احقر نے ضبط کیا ہے اس لیے حوالے کا التزام نہیں ہوسکا ہے۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو ان تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ ۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ/ اس وقت لفافہ کلچر پر بہت گفتگو ہورہی ہے ، ان شاءاللہ اس کے مثبت و منفی پہلو پر ہم آگے تحریر کریں گے ۔
No comments:
Post a Comment