Translate

Saturday, November 15, 2025

ضلع سیتامڑھی کے چند مدرسوں میں حاضری محمد صدر عالم ندوی ویشالی

ضلع سیتامڑھی کے چند مدرسوں میں حاضری محمد صدر عالم ندوی ویشالی 

سیتا مڑھی ترہت پرمنڈل کا ایک اہم اور تاریخی ضلع ہے پہلے یہ مظفر پور میں شامل تھا 11/ دسمبر 1972ء کو یہ اس سے الگ ہوا اور ایک مستقل ضلع بن گیا یہ ضلع بہار کے اتری حصے میں ہے ، ہندو دھرم کے مطابق یہاں " دیوی سیتا جی" کا جنم استھان ہے اور یہاں ایک مشہور جانکی مندر بھی ہے جو ہندوؤں کا تیرتھ استھل ہے ، ہندو زائرین اچھی خاصی تعداد میں یہاں آتے ہیں اس کے علاوہ یہاں اسلامی علوم کی چھوٹی بڑی کئی معروف درسگاہیں ہیں جیسے الجامعتہ العربیہ اشرف العلوم کنھواں ، جامعہ قاسمیہ دارالعلوم بالا ساتھ ، مدرسہ امدادیہ اشرفیہ طیب نگر راجو پٹی ، ادارہ دعوت الحق مادھو پور سلطان پور ، مدرسہ ابو بکر صدیق راجوپٹی سیتامڑھی ، مدرسہ نعیمیہ ٹھکہا مجہور وغیرہ یہاں دینی ، تعلیمی ، تربیتی اداروں کے علاوہ بڑی بڑی علمی فکری اور دعوتی شخصیتں بھی گذریں ہیں جیسے حضرت علامہ مولانا صوفی رمضان علی آواپوری ، حضرت مولانا عبد العزیز بسنتی ، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کنھواوی و کماوی ،مولانا بشارت کریم گرھولوی، حضرت مولانا محمد اویس القاسمی رائے پوری ، حضرت مولانا عبد الحنان صاحب قاسمی ، حضرت مولانا حکیم محمد ظھیر صاحب قاسمی اور بریلوی مکتب فکر کے ایک بڑے عالم علامہ شبنم کمالی صاحب کا وطن بھی اسی ضلع کی ایک معروف بستی پوکھریرہ میں تھا یہ بھی ایک اچھے اور وسیع الفکر عالم ، بڑے خطیب اور بر جستہ شاعر تھے جن کا انتقال 2006 میں ہوا ہے ان کی نعتیہ شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں ان میں انوار عقیدت ، ریاض عقیدت ، ضیاۓ عقیدت ، فردوس عقیدت ، اور صہباۓ عقیدت مشہور ہیں سیتا مڑھی ضلع کا ویشالی ضلع سے ایک خاص دینی ، علمی اور دعوتی رشتہ رہا ہے پہلے ویشالی ضلع بھی سیتا مڑھی کی طرح مظفر ضلع میں شامل تھا 14/ اکتوبر 1972ء کو ویشالی بھی الگ ضلع بنا ۔ جامعہ اسلامیہ قاسمیہ بالا ساتھ کے بانی و ناظم حضرت مولانا عبد الحنان صاحب قاسمی رحمہ اللّٰہ اپنی حیات مبارکہ میں ویشالی برابر جلسوں میں مدعو کئے جاتے تھے اور اپنے ماتحت مکاتب بھی چلواتے تھے اب یہ مکاتب بند ہو چکے ہیں اس وقت مولانا محمد انوار اللہ فلک قاسمی ہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی ہیں اچھے خطیب ہیں ، اپنی خطابت کے ذریعہ بہت جلد لوگوں کو مسحور کر لیتے ہیں ان دنوں مولانا فلک صاحب ویشالی کا سفر کر تے رہتے ہیں اور وہ یہاں کے چھوٹے بڑے پروگراموں میں یاد کیے جاتے ہیں ان کا ایک عرصہ سے بڑا اصرار تھاکہ سیتامڑھی کا ایک سفر ہو اور یہاں کے مدارس کی زیارت کی جاۓ ۔ اس سلسلہ میں ایک سفر مولانا محمد قمر عالم صاحب ندوی استاد مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ویشالی ، مولانا محمد وہاج الہدی قاسمی ، بابو محمد صفوان القمر اور راقم الحروف محمد صدر عالم ندوی پر مشتمل ایک قافلہ 19/ اکتوبر 2025 ء مطابق 26 / ربیع الآخر 1447ھج بروز اتوار ، بعد نماز فجر مہوا , ویشالی سے روانہ ہوا ، اب بہار میں سفر کرنا آسان ہو گیا ہے چاروں طرف راستے بن گیۓ ہیں ,خوف کا ماحول نہیں ہے ۔ایک سرے سے دوسرے سرے تک آنا جانا آسان ہو گیا ہے موجودہ حکومت نے بہار کی راجدھانی پٹنہ کو پورے بہار سے چار سے پانچ گھنٹے میں جوڑنے کا ہدف لیا ہے اور لوگ آسانی سے بہار کی راجدھانی پٹنہ کا سفر کر رہے ہیں ۔ ہم لوگ سیتامڑھی دس بجے پہنچ گئے پہلے سے مولانا محمد انوار اللہ صاحب فلک قاسمی منتظر تھے لیکن پھلوریہ گاؤں میں مولانا کے رشتہ دار میں ایک خاتون کا انتقال ہو گیا تھا ان کی نمازِ جنازہ مولانا کو پڑھانی تھی اس لیے مولانا وہیں تھے ، ہم لوگ بھی اسی جگہ پہنچ گئے اور وہیں سے ہم لوگوں کے ساتھ ہو گئے سب سے پہلے جمعیتِ علماء ضلع سیتامڑھی کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد احسان اللہ صاحب شمس کے گاؤں" بسول "پہنچے مولانا محمد احسان اللہ صاحب مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے فارغ التحصیل ہیں اور بہت فعال ہیں ، اسی فعالیت کا نتیجہ ہے کہ متعدد دینی ، ملی سرگرمیوں کے ساتھ اپنے گاؤں میں لڑکیوں کا ایک اچھا ادارہ چلاتے ہیں وہاں کی صورت حال کے تناظر میں لڑکیوں کے جسم و جان اور دین ایمان کی بنیادی فکر کے ساتھ لڑکیوں کا مدرسہ قائم کیا ہے یقیناً مدرسہ کی پختہ عمارت تو نہیں ہے لیکن معمولی رہائش اور شکستہ مکان میں لڑکیوں کی تعلیم کا پختہ انتظام ہے ، عربی اول تک تعلیم ہوتی ہے لڑکیاں اس کثرت سے آتی ہیں کہ انتظامیہ کو بچیاں واپس کرنی پڑتی ہیں آج بھی یہ سچائی مشکبار ہے کہ تعلیم اچھی ہوتی ہے تو بچے وسائل نہیں کھوجتے ہیں بلکہ اپنی تعلیمی تشنگی بجھانے کے لئے پریشان رہتے ہیں یہاں کی تعلیم قابل اطمینان ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بے سروسامانی کا گلہ شکوہ نہیں کرتے ہیں بلکہ کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں یہاں کے بعد ہم لوگ مدرسہ طیب العلوم پریہار ضلع سیتامڑھی بہار ، تقریباً دن کے ساڑھے بارہ بجے پہونچے ۔ مدنی مسجد اور مدرسہ دونوں ساتھ میں ہے مدرسہ کی عمارت بھی قابل رحم اور حد درجہ قابل توجہ ہے ، یہاں ناظرہ اور شعبہ حفظ میں دوسو سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں نئے تعلیمی سال شوال کے مہینے میں بچے داخلے کے لئے ٹوٹ پڑتے ہیں کم جگہ کی وجہ سے انتظامیہ بچوں کو واپس کردیتی ہے آٹھ اساتذہ کا ایک خوبصورت قافلہ شب و روز ان طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مصروفِ عمل رہتا ہے قاری احمد اللہ صاحب اس مدرسہ کے ذمہ دار ہیں اور بہت فعال ہیں یہاں کی خصوصیت یہ ہے کہ ناظم مدرسہ جب تک حافظ ہونے والے بچوں کا حفظ قرآن خود سن نہیں لیتے ہیں اس وقت تک ان بچوں کی دستاربندی نہیں ہوتی ہے اور حفظ قرآن کی سند اُنہیں نہیں دی جاتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چھوٹے اداروں میں وہ مدرسہ اپنی تعلیم و تربیت کی وجہ سے مرجعیت رکھتا ہے اور طلبہ کا رجحان خاص طور پر حفظ قرآن کے لیے یہ مدرسہ اہم ہے ۔ یہ ساری باتیں اسی خطے کے احباب نے بتائیں اور ہم لوگوں نے بچشم خود جو دیکھا تو اس میں صداقت پائی اسی درمیان ہم لوگ ظہر کی نماز سے پہلے ناشتہ اور کھانے سے فارغ ہو چکے تھے ڈیڑھ بجے ظہر کی نماز ہوئی ہم لوگوں نے باجماعت نماز اداکی اور نماز بعد مولانا محمد قمر عالم صاحب ندوی کا پر مغز ، بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب ہوا مولانا نے اپنے بیان میں فرمایا کہ آپ منتخب طلبہ ہیں ، اللہ نے آپ کو قرآن کریم کی خدمت کے لیے چن لیا ہے اور قرآن اللہ کی کتاب ہے قرآن کے حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لیا ہے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون جب قرآن اللہ کی حفاظت میں ہیں تو قرآن کو پڑھانے والے اور قرآن پڑھنے والے سب لوگ اللہ کے امان میں ہیں اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کتاب سے جو لوگ جڑ جاتے ہیں وہ بھوکھے نہیں مرتے ہیں بلکہ ہر وقت شاداں و فرحاں رہتے ہیں بلکہ ان کے صدقے میں کتنے بھوکوں کو روزی مل جاتی ہے مدرسہ کے استاذ نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں ہم لوگوں کی آمد کو نیک فال بتایا اور کہا کہ آپ لوگ برابر آتے رہیں جس سے ہم لوگوں کو حوصلہ ملے گا مولانا محمد وہاج الہدی قاسمی کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا یہ مدرسہ پریہار شہر میں ایسی جگہ واقع ہے جہاں مدرسہ کے آس پاس ہندوؤں کی بھی آبادی ہے گرمی کے زمانے میں ہندو بھائی مدرسہ کے پانی سے بھی مستفیض ہوتے ہیں یہ مدرسہ ایک طرف قرآن کے درس و تدریس میں مشغول ہے تو دوسری طرف پیام انسانیت کے کام میں بھی مشغول ہے یہاں کے ذمہ دار نے بتایا کہ یہاں پر غیر مسلم بھائیوں سے بھی اچھے تعلقات ہیں ہم لوگ ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہیں اہل ثروت حضرات کو اس طرح کے مدرسوں کی بھر پور مدد کرنی چاہیے اور گاہے بگاہے جائزہ بھی لینا چاہیے ہم لوگ یہاں سے تین بجے جامعہ عربیہ اشرف العلوم کنھواں کے لیے روانہ ہوۓ دور ہی سے مدرسہ کا فیض نظر آرہا تھا اس کی روحانیت و نورانیت کا سماں بندھا ہوا تھا یہ مدرسہ ہندوستان اور نیپال کے سرحد پر قائم ہے دارالعلوم دیوبند کے نصاب کے مطابق درجہ ششم تک تعلیم ہوتی ہے یہاں تعلیم و تربیت دونوں قابل اطمینان اور تشفی بخش ہے ہم لوگ چار بجے کے آس پاس پہونچے طلبہ اساتذہ پڑھنے پڑھانے میں مشغول تھے ناظم جامعہ حضرت الحاج مولانا محمد اظہار الحق صاحب مظاہری دامت برکاتہم العالیہ سفر پر تھے ان کی غیر موجودگی میں مفتی صدر عالم صاحب قاسمی نائب ناظم جامعہ نے ہم لوگوں کی رہنمائی کی ۔ جامعہ کی وسیع عریض شاہکار لآیبریری بھی دیکھایا کچھ طلبہ سے ملاقات ہوئی یہاں آٹھ سو سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں پچاس کے آس پاس مدرسین ہیں عمارت دیدہ زیب ہے 1920ء کا یہ جامعہ ہے اہالیان کنھواں کا اس مدرسہ سے اچھے روابط ہیں پورا گاؤں مدرسہ کا محافظ ہے یہاں موروثی نظام نہیں چلتا ہے اسی وجہ کر یہاں نظامت بدلتی رہتی ہے مدرسہ میں ایک چیز کی کمی کا بہت احساس ہوا وہ ہے صفائی ستھرائی ۔صفای ستھرائی نہیں کے برابر تھی اس پر توجہ کی ضرورت ہے مدرسہ کی طرف سے ہم لوگوں کو ہدیتا کتابیں بھی دی گئیں ۔تاریخ اشرف العلوم مرتب حضرت مولانا نسیم احمد صاحب القاسمی ، فتاوی اشرف العلوم ترتیب و تحقیق مجلس تحقیقات علمیہ اشرف العلوم کہنواں ، اسلام کا قانون طلاق عقل کی نظر میں مرتب مفتی صدر عالم صاحب قاسمی ، حیات زبیر مرتب مفتی صدر عالم صاحب قاسمی ۔ یہ جامعہ شمالی بہار کا تعلیمی و تربیتی قبلہ سمجھا جاتا ہے اس کے خدمات کا دائرہ سوسال سے متجاوز ہے آییے اس جامعہ کے تعلق سے حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمۃ اللّٰہ علیہ سابق استاد دارالعلوم دیوبند کی تحریر پڑھتے ہیں "مدرسہ اشرف العلوم کے سر پرستوں میں پہلا نام تو اس کے بانی و مدرسین اولیں عالم ربانی مذکور الصدر فاضل دارالعلوم دیوبند مولانا صوفی رمضان علی کا ہے ۔ان کے بعد اس کے سرپرست ان ہی کے رفیق درس اور پیر بھائی فاضل دارالعلوم دیوبند عارف باللہ مولانا عبد العزیز بسنتی رہے،انھی نے مدرسہ اشرف العلوم کہنواں کی تاسیس کا تولیدی مشورہ دیا تھا ۔اس کے تیسرے سرپرست صاحب نسبت شیخ فاضل دارالعلوم دیوبند مولانا نور الحسن سنگا چوڑی متوفی 1953 رہے چوتھے سرپرست صاحب دل بزرگ دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ مولانا جمال الدین خستہ مکیاوی متوفی 1972 رہے جب کہ پانچویں سرپرست کنہواں ہی کے مولانا سید میاں دیوبندی ثم الدہلوی کے تلمیذ صاحب قال و حال بزرگ و عالم دین مولانا محمد طیب کنہواں متوفی 1991 رہے جو بعد میں عرصہ دراز تک مدرسے کے ناظم بھی رہے ان سے بھی مدرسہ کو بڑا فیض پہونچا اور اس کو بڑے پیمانہ پر ظاہری و باطنی ترقی ملی کیونکہ ان کا دورانیہ عمل بھی دیگر نظماء کی بہ نسبت زیادہ طویل رہا ۔پھر مدرسہ کو یہ سعادت حاصل رہی کہ اس کی سرپرستی کی ذمہ داری محبوب العوام و الخواص مشہور شیخ طریقت عارف بااللہ مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی متوفی 1997 نے قبول فرمائی ،جو 1995 سے تا وفات مدرسہ کے سر براہ اعلی رہے جس سے مدرسہ کی روحانیت اور تعلیم و تربیت میں اس کی انفرادیت کو چار چاند لگے( صفحہ 24 تاریخ اشرف العلوم) کہنواں کے بغل میں شمسی ایک گاؤں ہے جو نیپال کے بارڈر پر ہے ہم لوگوں کا قافلہ عصر کی نماز اور چاۓ نوشی کے بعد شمسی کے لیے روانہ ہوا لیکن ہندوؤں کا ایک بڑا تہوار دیپاولی تھا جس کی وجہ سے بہت بھیڑ بھاڑ تھی بالآخر ہم لوگ وہیں سے واپس ہو گۓ اور پریہار ساڑھے پانچ بجے شام پہونچے مغرب کی نماز ادا کی کچھ ناشتہ کیا اس کے بعد منزل کی طرف روانہ ہوگئے راستے میں معلوم یہ ہوا کہ پریہار میں ایک اور مدرسہ ہے جس کا نا م طیب المدارس ہے مولانا محمد انواراللہ فلک صاحب کی خواہش تھی کہ جب آپ لوگ یہاں تک آ گئے ہیں تو بہت مناسب ہوگا کہ اس مدرسے کو بھی دیکھ لیں چنانچہ ہم ساڑھے سات بجے وہاں پہنچے بچے اساتذہ کی نگرانی میں پڑھ رہے تھے ذمہ دار مدرسہ مالی فراہمی کے لیے بہار سے باہر کے سفر پر تھے بس کھڑے کھڑے احوال معلوم کیا حضرت حکیم صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ بانی مدرسہ کی قبر پر فاتحہ پڑھا مولانا محمد انوار اللہ صاحب فلک قاسمی دیر تک مصروف دعا رہے دعا چونکہ سری تھی اور سب لوگ اپنے طور مصروف تھے دعا کے بعد مولانا فلک صاحب کی مخلصانہ اور مشفقانہ محبتوں کے تقاضوں پر آواپور روانہ ہوا مولانا کے دوسرے داماد مولانا بختیار حیدر ندوی اور صاحب زادے عزیزی ابرار احمد غازی سلمہ اتفاق سے گھر ہی پر تھے جلدی جلدی ہم لوگوں کے لیے دسترخوان بچھایا اسی درمیان کچھ باتیں بھی ہوئیں معلوم یہ ہوا کہ آواپور کی آبادی میں اس وقت چالیس سے زائد علماء و حفاظ ہیں مولانا کا پورا خاندان تعلیم یافتہ ہے ٹرین کی پٹری سے قریب کشادہ جگہ پر ادارہ سبیل الشریعہ رحمت نگر آوا پور شاہ پور کے نام سے قایم ہے اور کثیر المقاصد مسجد بھی ہے جو مسجد ایمان کے نام سے موسوم ہے یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تعلیم بالغان و بزرگان کا نظم ہے جہاں اسلامی کلمات اور دین کی بہت بنیادی باتیں سکھائی جاتی ہیں یقینا یہ اچھا اور یونیک کام ہے بچوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی تعلیم کا نظم کیا گیا ہے اس ادارہ کو حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب شیخ الحدیث جامع العلوم مظفر پور کی سرپرستی اور حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الھدیٰ صاحب قاسمی کی صدارت کا اعزاز حاصل بے سرو سامانی وسائل کی قلت اور مسائل کے ہجوم میں جو کچھ کام ہو رہا وہ اللہ پاک کی خاص مہربانی اور ادارہ کے ذمہ دار ، حضرات اساتذہ کی محنت و جفا کشی اور قربانیوں کا ثمرہ ہے ۔ حکومت کے طرف سے بھی اکچھر آنچل کا نظم کیا گیا تھا جس سے ہمارے بہت سارے مردو خواتین مستفیض ہوۓ تھے ۔ دس بجے رات کے آس پاس ہمارا قافلہ مہوا کے لیے روانہ ہوا اور رات کے ایک بجے ہم لوگ مہوا پہونچے اور اس کامیاب و پُرسکون سفر پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔

محمد صدر عالم ندوی ویشالی 
تاریخ 28 اکتوبر 2025 بروز منگل
9661819412

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...