Translate

Wednesday, November 26, 2025

حضرت مولانا عبدالقیوم شمسیؔ—خدمتِ علم و اردو کا روشن مینار(مولانا)طفیل احمد ندوی موسی پور،پاتے پور،ویشالی

حضرت مولانا عبدالقیوم شمسیؔ—خدمتِ علم و اردو کا روشن مینار
(مولانا)طفیل احمد ندوی 
 موسی پور،پاتے پور،ویشالی
096935 04846
بلاک پاتے پور،ضلع ویشالی کی علمی و دینی سرزمین میں حضرت مولانا عبدالقیوم شمسیؔ سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ اماموری کا نام ایک تابندہ ستارے کی حیثیت رکھتا ہے۔مولانا نے اپنی پوری زندگی خدمتِ علم،فروغِ اردو اور تربیتِ نسلِ نو کے لیے وقف کر دی۔بچوں کی اخلاقی و علمی تربیت،ان کی رہنمائی اور اردو زبان کے فروغ کی جدوجہد مولانا کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو رہی۔
اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لیے مولانا شمسی کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اردو کے جس محاذ پر بھی آواز بلند ہوئی،مولانا وہاں سرگرمِ عمل دیکھے گئے۔اسی جدوجہد کے اعتراف میں پروفیسر عبدالمغنی کے دورِ صدارت میں آپ کو انجمن ترقی اردو،بلاک پاتے پور کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم سے مولانا نے علاقے میں اردو کے چراغ روشن کیے اور کئی علمی و ادبی تحریکوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
مدرسہ اسلامیہ اماموری میں مولانا نے عمر بھر اردو کی تدریس کا فریضہ نبھایا۔سینکڑوں طلبہ و طالبات نے آپ سے علمِ اردو سیکھا اور آج مختلف حصوں میں علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خصوصاً اردو اساتذہ کی تربیت،رہنمائی اور تقرری میں مولانا کا کردار نہایت اہم رہا ہے،جس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد آج مختلف اداروں میں اردو کی شمع روشن کر رہی ہے۔
تعلیم و تربیت پر مشتمل منتخب مقالات کا ایک گراں قدر مجموعہ بھی مولانا نے ترتیب دیا، جس کا عنوان ’’تعلیم و تربیت کا فکری کارواں‘‘ ہے۔اس مجموعہ میں علامہ ابن خلدون،مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ، مولانا سید محمد رابع ندوی اور مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی جیسے اکابر کے قیمتی مقالات شامل ہیں،جو علمی دنیا میں خاص مقام رکھتے ہیں۔
مدرسہ اسلامیہ سے سبکدوشی کے بعد بھی مولانا نے خدمتِ خلق کا سفر نہیں روکا۔آج بھی جامع مسجد دھنکول میں نمازِ عصر کے بعد بچوں کو دینیات اور اردو کی بنیادی تعلیم دیتے ہیں۔عمر کے اس حصے میں بھی مولانا کا علم سے تعلق،تربیتی جذبہ اور دین کی خدمت کا شوق اہلِ علم کے لیے روشن مثال ہے۔
مولانا کی طویل خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا نیاز احمد قاسمی، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ انجمن فلاح المسلمین حاجی پور نے ’’علم و فضل کے نیرِ تاباں:حضرت مولانا الحاج عبدالقیوم شمسی‘‘ کے عنوان سے ایک جامع کتاب تصنیف کی،جس کی رسمِ اجرا نہایت شان و وقار کے ساتھ مدرسہ اسلامیہ انجمن فلاح المسلمین اور مدرسہ حسینیہ چھپرہ خُرد میں انجام پایا۔اس کتاب میں مولانا کی زندگی،علمی جدوجہد اور خدماتِ اردو کا جامع تذکرہ کیا گیا ہے۔
مولانا عبدالقیوم شمسی کے دل میں ہمیشہ یہ فکر رہی کہ علاقہ میں دینی تعلیم کس طرح عام ہو اور کون سے مقامات اس نعمت سے ابھی تک محروم ہیں۔اپنی مصروفیات کے باوجود آپ ایسے گاؤں اور بستیوں کا دورہ کرتے جہاں نہ کوئی بڑا مدرسہ تھا نہ مکتب،تاکہ وہاں بنیادی دینی تعلیم کا آغاز ممکن ہو سکے۔ اسی فکر کے تحت مولانا اکثر ہمارے گاؤں موسیٰ پور (بنجر) بھی تشریف لے آتے—وہ علاقہ جو طویل عرصے سے علمی و دینی سرگرمیوں سے محروم سمجھا جاتا تھا۔وہاں کے ذمہ داران،خصوصاً عم محترم حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب سے ملاقاتیں کرتے اور اس بات کی ترغیب دیتے کہ یہاں بھی کسی نہ کسی صورت میں دینی تعلیم کا نظم قائم ہونا چاہیے۔
جب مدرسہ عظمتیہ رحیمیہ موسی پور کی ازسرِنو تعمیر کا مرحلہ آیا تو مالی دشواریوں کے باعث ذمہ داران عارضی دیواریں،کرکٹ شیٹ وغیرہ لگا کر تعلیم شروع کرنے کا سوچ رہے تھے۔ایسے میں مولانا شمسی نے نہایت حکیمانہ مشورہ دیا کہ          
  "دینی کام کو کبھی عارضی بنیاد پر نہ کیجیے؛ چاہے ایک اینٹ ہی رکھنی پڑے،مگر بنیاد پختہ ہو۔ ’’دین کا کام اللہ کے حوالے کیجیے،نیت صاف رکھیے،اور مضبوط بنیاد رکھیے‘‘—
        مولانا کے ان الفاظ نے ذمہ داران کو نئی سمت دی۔انہوں نے مشورے پر عمل کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ آج وہی مدرسہ دو منزلہ مضبوط عمارت کی شکل اختیار کر چکا ہے،جس میں چھ پختہ کمرے،غسل خانے،بیت الخلاء اور رہائش کا مکمل انتظام ہے۔اگر اس وقت عارضی ڈھانچہ کھڑا کیا جاتا تو ہر سال مرمت پر ہی خرچ ہوتا اور ترقی کی راہیں مسدود رہتیں۔
مولانا شمسی کا یہ بصیرت افروز مشورہ آج بھی علاقے کے لیے قیمتی مثال ہے، جو بتاتا ہے کہ بڑے لوگوں کی رہنمائی میں ہمیشہ خیر اور مصلحت ہوتی ہے۔ان کی اس نگرانی اور مسلسل کوشش کے نتیجے میں موسیٰ پور جیسے علاقے میں بھی اب دینی تعلیم کا چراغ روشن ہے اور بچے اطمینان کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
حضرت مولانا عبدالقیوم شمسی کی زندگی علم، خدمت اور اخلاص کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی فکر،ان کی محنت اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کو صحت و عافیت کے ساتھ درازیِ عمر عطا فرمائے اور ان کے فیوض سے علاقہ مزید مستفید ہو۔آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...