پھلواری شریف 26/نومبر 2025(پریس ریلیز)
ہمارا ملک بھارت دنیا کا ایک عظیم جمہوریت ہے،اس کا اپنا دستور وآئین ہے،جس کی پابندی ملک کے ہر شہری پر لازم ہے،ہمارا دستور26/نومبر 1949ء کو پارلیامنٹ سے منظورکیا گیااور26/جنوری 1950ء کو ہم نے اس دستور کو اپنے اوپر نافذ کیا،آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزارصدرحضرت امیر شریعت مولاناانیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ ہمارے ملک کی سالمیت اوراس کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت اوراسی کثرت میں وحدت کے نظریہ پر قائم ہیں،امن کی فضا قائم رہے گی اوردستور کے مطابق جب ہر شہری اورہندوستان کا ہر محکمہ دیانت داری سے فیصلے کرے گا تو ملک ترقی اورخوش حالی کی طرف تیزگامی سے سفر کرے گا،لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ کثرت میں وحدت کے نظریہ اوراخوت وبھائی چارگی کو کمزورکرنے کوششیں جاری ہیں،نیز بہت سی ریاستوں میں دستورہند کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے تناظرمیں یہ ضروری ہے کہ جمہوری اقدار اوراس کے سماجی،سیاسی تانے بانے کے استحکام کی غرض سے ملک کے سبھی انصاف پسند طبقات،دلت،آدی باسی, بدھسٹ،جین،سیکھ،عیسائیوں اورسیکرلزم پر یقین رکھنے والوں نیز ہر طبقہ اورسوسائیٹی کے ساتھ ساتھ ماہر ین قانون،میڈیا کے افرادکو دستور کے تحفظ کے لیے آگے آناہوگا؛کیوں کہ آج ہمارا دستور ہی ایک خاص طبقہ کی زدمیں ہیں،جس کا تحفظ ہر بھارتی کی اولین ذمہ داری ہے،کیوں کہ اگر دستورپر زد پڑی اوردستورختم ہو گیا،توہماراملک ظلم وناانصافی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ڈوب جائے گا،مولاناقاسمی نے ائمہ مساجد سے اپیل کی ہے کہ اس جمعہ کو اپنی تقریروں کا موضو ع دستور ہنداوروقف بورڈمیں رجسٹرڈاوقاف کوامیدپرٹل پراندراج کرنے کوبنائیں اوردستورہند میں دیئے گئے حقوق سے لوگوں کوواقف کرائیں۔
No comments:
Post a Comment