Translate

Monday, November 24, 2025

بڑی مشکل سے کوئی باپ اپنا گھر چلاتا ہےتحریر...جمیل اختر شفیق

بڑی مشکل سے کوئ باپ اپنا گھر چلاتا ہے

تحریر...جمیل اختر شفیق

زندگی کے سردوگرم سے گزرتے ہوئے،حال کے شعلوں میں جل کر روشن مستقبل کے احساس سے نکھرتے ہوئے ، ہر قدم پہ ہزاروں ٹھوکریں کھاکر بھی سنورتے ہوئے میری آنکھوں نے سب سے پہلے جس انسان کو بہت قریب سے دیکھا وہ میرے والد صاحب تھے،تلاشِ رزق میں پاگلوں کی طرح دوڑتے بھاگتے ان کی پیشانی سے نکلنے والے پسینے کی قطرے میرے جذبوں کی پتھریلی زمین کو آج بھی سرسبزوشاداب رکھتے ہیں ، میں نے پوری زندگی میں اُنہیں کبھی تھک ہار کر اپاہج کی طرح بیٹھتے ہوئے نہیں دیکھا ،کچھ فطری نقل وعمل سے نظریاتی اختلافات کے باوجود مجھے اپنے ابو سے بےپناہ محبت ہے، یہی وجہ ہے آج بھی زندگی کی کٹھنائیوں کے بیچ جب جب میرے حوصلوں کے پیر لڑکھڑانے لگتے ہیں تو سب سے پہلے جو صورت میری نگاہوں کے سامنے اُبھر کر آتی ہے،جو چہرہ صبرواستقلال کی علامت بن کر رقص کرنے لگتا ہے وہ ابو کا ہی ہوتا ہے اور میں ایک نئے عزم کے ساتھ ہر مصائب کی آندھی سے مقابلہ کے لیے تیار ہوجاتا ہوں-

*جلاکر خون سارا جسم کا پیسہ کماتا ہے*
*بڑی مشکل سےکوئ باپ اپنا گھرچلاتا ہے*

ایک روز ایک نوجوان اپنے والد صاحب کے حوالے سے کچھ شکایت کر رہا تھا حقائق کی تہہ تک پہونچنے سے قطعِ نظر اس کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ غلطی اس کے والد صاحب کی ہی ہے،اس کا تیور بتا رہا تھا کہ وہ یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اپنے والدین سے وہ فاصلہ بناکر رکھنے میں ہی اپنے مسائل کا حل سمجھتا ہے، اس کے غصے اور ناراضگی کی لو تھوڑی ہلکی ہوئ تو میں نے بڑی سنجیدگی سے اُس سے کہا :آپ مجھے یہ بتائیں ویسے بات اپنے اپنے مقدر کی ہے پھر بھی مان لیا جائے اگر آپ کے مقدر میں کوئ شرابی باپ ہی اگر آجائے تو کیا آپ اُسے دھکے مار کر گھر سے باہر نکال دوگے؟ میرے اس سوال پہ اس کے چہرے سے ظاہر ہوتی احساسِ شرمندگی کی عبارت میں صاف طور پر پڑھ سکتا تھا۔

   خود میرا ذاتی تجربہ ہے کہ غلطی اپنی ہو یا نہ ہو ، بات چاہے اصول کی ہو یا خلافِ اصول کی ،حالات کے تحت چاہے جیسے مسائل پیش آجائیں ابو کی پیشانی پہ اُبھرنے والی پریشانی کی لکیریں مجھے کس درجہ اندر سے مضطرب کرتی ہیں اسے میں ہی محسوس کرسکتا ہوں، مجھے نہیں معلوم وقت کے ساتھ والدین کے نظریات کس حدتک تبدیل ہوجاتے ہیں ؟بچے اگر کئ ہوں تو ہر بچے کے تعلق سے ان کی سوچ کیسے الگ الگ ہوجاتی ہے؟وہ میرے حق میں بھلا سوچتے ہیں یا بُرا؟ بس اتنا جانتا ہوں کہ لاکھ منفی خیالات کو دل میں جگہ دینے کے باوجود اس حقیقت سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ میری رگوں میں ان ہی کا خون دوڑ رہا ہے ،وہ میرے ان لمحوں اور ان سانسوں کے گواہ ہیں جہاں خاموشی سے اگر کسی معصوم کا گلا گھونٹ بھی دیا جائے تو سماج طبعی موت سمجھ کر اس حادثے پہ پردہ ڈال کر ہمیشہ کے لیے سکوت اختیار کرلے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان لمحوں میں بھی قیمتی خزانے کی طرح ہمارے والدین نے ہماری حفاظت کی ہے تو کیا ان کے خلوص پہ کوئ انگلی اٹھا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں !!

ماں کی طرح باپ کی موجودگی کو بھی غنیمت جانیے ،ان کے سایے کو اللہ کی خصوصی عنایت،ان کے غصے کو ان کا حق، ان کی بیزارگی کو شدید محبت کی علامت، ان کی پھٹکار کو آبشاروں کا ترنم ،ان کے لہجے کی کرختگی کو ابرِ رحمت، ان کی برہمی کو اپنائیت کا ثبوت سمجھنے کی ہمت جُٹا لیجیے تو زندگی بہت تلخ ہوتے ہوئے بھی خوبصورت معلوم ہوگی۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...