طارق شفیق ندوی
ندوہ نے روز اول سے عربی زبان کو ایک زندہ ، متحرک اور حرارت سے لبریز زبان کی حیثیت سے پڑھنے لکھنے پر زور دیا ، بہت کم مدت میں عربی صحافت کو اپنی فکری تخیل کا آئینہ دار بنایا اور عالم عربی کے لوح قلب پر گہرا اور مؤثر نقش ثبت کیا ۔
مئی/ 1932 میں ندوہ کے سرمایہ افتخار و نازش سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی (ولادت 1884 ، وفات 1953 ) نور اللہ مرقدہ کی سرپرستی اور حضرت مولانا مسعود عالم ندوی ( ولادت11 / فروری 1910 پٹنہ ، وفات 16 / مارچ 1954 ) رحمۃ اللہ علیہ کی ادارت میں عربی زبان میں *الضیاء* نامی ایک علمی ، ادبی اور ثقافتی ماہنامہ وجود میں آیا . اس کا افتتاحیہ سید الطائفہ نے لکھا اور خوب لکھا جس میں ہندوستان میں عربی صحافت کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے اور اس کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی جسے ہر طبقہ نے پسند کیا . اس وقت یہ رسالہ عرب ممالک کے علمی و ادبی رسالوں پر فائق تھا اور ندوۃ العلماء کو عرب کے گوشے گوشے میں متعارف کرانے کا ایک کامیاب ذریعہ بھی تھا اس مؤقر رسالہ نے ایک طرف متعدد نئے قلمکاروں سے روشناس کرایا تو دوسری طرف اس کی وجہ سے طلبائے مدارس میں عربی لکھنے بولنے کا شوق افزوں بھی ہوا نيز عرب ادباء نے کھل کر ندوی قلم کو سراہا لیکن افسوس صد افسوس الضیاء زیادہ دنوں تک جاری نہ رہ سکا ، دو ڈھائی سال بعد اس کی ضوفشانیوں سے عالم اسلام محروم ہوگیا .
دوسرا عربی ماہنامہ *البعث الاسلامی* اکتوبر/ 1955 میں مولانا محمد الحسنی رحمۃ اللہ علیہ ( وفات 13 / جون 1979 ) کی ادارت میں منصۂ شہود پر آیا جس نے عرب قومیت ، الحاد و دہریت ، تجدد و مغربیت ، سرمایہ داری و اشتراکیت اور دوسری خدا فراموش تحریکات کے تعاقب و احتساب اور صحیح اسلامی فکر کی نمائندگی میں گرانقدر حصہ لیا اور اس کا اعتراف عالم عرب میں ہر جگہ کیا گیا ۔ الحمد للہ آج بھی *من الظلمات الی النور* آؤ تاریکی سے روشنی کی طرف کا علمبردار ہے . الحمدللہ آج بھی یہ رسالہ ڈاکٹر مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی حفظہ اللہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی ادارت میں کماحقہ اپنا فریضہ انجام دے رہا ہے .
*الرائد* یہ عربی کا پہلا پندرہ روزہ رسالہ 1959 میں طلباء کی انجمن *النادی العربی* کی طرف سے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں نکلنا شروع ہوا جس کے پہلے مدیر حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی رحمۃ اللہ علیہ تھے ۔ بقول ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی ندوی حفظہ اللہ حال مقیم کینیڈا " الرائد کی ابتدا میرے سامنے ہوئی مولانا سید محمد رابع صاحب علیہ الرحمہ اس وقت عربی ادب کے استاذ تھے انھوں نے الرائد کا منصوبہ بنایا اور مرحوم شفیق الرحمن بھائی کو ادارت دی جو مجھ سے درجہ میں کئی سال آگے تھے."
اس رسالہ کی ترتیب و تزئین میں حضرت مولانا اقبال اعظمی ندوی حفظہ اللہ اور حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین فردوسی ندوی ( سن ولادت 1943 ) رحمہ اللہ کی معاونت اور شراکت بھی تھی۔ رسالہ کی علمی و دینی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی اور اپنی خصوصیات اور مقاصد کے اعتبار سے عالم اسلام میں بہت مقبول ہوا . برصغیر ہند و پاک کا سب سے بہترین عربی رسالہ قرار پایا ۔
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں کہ
'' پندرہ روزہ عربی اخبار الرائد کے نام سے طلباء کی عربی انجمن النادی العربی کی طرف سے ادیب اول حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہ کی زیر نگرانی نکلا اور عرب دنیا میں اس کا زبردست استقبال ہوا ۔ وہاں سے لوگوں نے اپنی پسندیدگی کے بے شمار خطوط لکھے اور اس اقدام پر ندوہ کے طلباء کو مبارکباد دی۔ ''
( اسلامی ثقافت اور ندوۃ العلماء صفحہ 106 )
مولانا شفیق الرحمٰن ندوی رحمۃ اللہ اس زمانہ میں خوب لکھتے تھے اور لکھاری کہے جاتے تھے ۔ الرائد میں شائع مضامین ان کی عربی انشاء پرردازی کی بہترین نمونہ ہیں . اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا کی تحریروں میں دلآویزی ، آمد ، جاذبیت اور ادبیت ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے جدید و قدیم دونوں حلقوں میں ان کی دھاک بیٹھ گئی تھی .
ڈاکٹر مولانا محمد نعیم صدیقی ندوی حفظہ اللہ کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
مولانا شفیق الرحمٰن ندوی رحمہ اللہ کی اعلیٰ صلاحیتوں کے جوہر زمانہ طالب علمی ہی میں کھلنے لگے تھے انھوں نے اپنی جانکاہ محنت و لگن سے عربی زبان و ادب پرغیر معمولی عبور حاصل کرلیا تھا چنانچہ موصوف طلباء ندوہ کی عربی انجمن *النادی العربی* کے امین العام منتخب ہوئے ۔سال1959میں مذکورہ انجمن کی طرف سے الرائد کا اجراء عمل میں آیا تو مولانا شفیق الرحمٰن ندوی رحمہ اللہ اس کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور پھر الرائد کے مطلع پر ان کی عربی نگارشات کی چمک نے دھوم مچا کر رکھ دی .وہ بلاشبہ کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی عربی زبان لکھتے تھے. ان دنوں راقم الرائد میں *فی محیط دارالعلوم* کے تحت ایک کالم لکھتا تھا . راقم اپنی سعادت پر مفتخر ہے کہ مولانا شفیق الرحمٰن ندوی رحمہ اللہ اپنے دور ادارت میں میری نگارشات کو شرف قبول عطا کرتے ، میری حقیر عربی دانی کی تحسین آمیز حوصلہ افزائی کیا کرتے اور قیمتی نصائح و مشوروں سے نوازتے تھے.( بزم دانشوراں )
مولانا شفیق الرحمٰن ندوی علیہ الرحمہ ایک طویل عرصہ تک بعض اپنے داخلی اسباب کی وجہ سے ندوہ سے باہر رہے . الرائد سے ان کا رشتہ کمزور پڑگیا لیکن جب دوبارہ تدریس کے لئے ندوہ باصرار بلائے گئے تو ایک بار پھر الرائد سے انھیں وابستہ کر دیا گیا لیکن دنیا بدل چکی تھی کافی تبدیلیاں آچکی تھیں۔ اب وہ الرائد کے نوک وپلک سنوارتے ، عربی قواعد کے لحاظ سے خامیوں کی اصلاح کرتے ، ذیلی عنوانات لگاتے اور اپنی نگرانی خاص میں اشاعت سے قبل تک کے تمام مراحل طے کراتے ۔ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی خاص تاکید تھی کہ جب تک مولانا شفیق الرحمٰن صاحب کی الرائد پر آخری نگاہ نہ پڑجائے اور وہ ہر طرح سے مطمئن نہ ہوجائیں اسے اشاعت کے لئے پریس ہرگز نہ بھیجا جائے
No comments:
Post a Comment