مطالعہ نگار:
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور
سوشل میڈیا پر کئی روز سے ایک کتاب
"جنہیں میں نے دیکھا ہے" سے ماخوذ تحریریں بعض قلم کاران کی جانب سے سامنے آرہی تھیں معلومات کرنے پر انکشاف ہوا یہ خاکے دارالعلوم ندوة العلماء کے مایۀ ناز فرزند ،علی گڈھ کے فیض یافتہ، صاحب طرز ادیب، میرے محسن وکرم فرما مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن فیضی ندوی دامت برکاتہم کے قلم سے نکلے ہوئے دنیائے علم وادب کے لئے گنجہائے گراں مایہ ہیں،جو نسل در نسل منتقل ہوتے آرہے ہیں اور علم وتہذیب، مطالعہ وتحقیق کی عمارت میں چار چاند لگارہے ہیں مولانا سے بات کی آپ نے پی ڈی ایف کی شکل میں اپنی کتاب بھیج دی،اس کتاب نے خاکوں پر پڑھی جانے والی وہ امتیازی کتب جن کو حرفا حرفا، ذائقہ،حلاوت وچاشنی کے ساتھ پڑھا گیا اس میں شمولیت اختیار کی۔
ان خاکوں میں کچھ ایسے پھول چنے گئے ہیں جن سے فکر وفن کے چراغ روشن ہیں، خوشبو ورعنائی ہے، روشنی کے وہ مینار اس بزم میں سجائے گئے ہیں جن کی ضو فشانی سے عالم منور ہے،میکدۀ علم وعمل کے ان شہ سواران کو سامنے لایا گیا ہے جو علوم و معارف کے بحر بیکراں فکر وسخن کے رازداں تھے،جن کے علوم ومعارف کی عطر بیز کرنوں سے یہ امت گرانبار ہے،اس وارد میں ان عظیم شخصیات کے کارناموں، امتیازات وخصوصیات کو زندگی بخشی گئی ہے، یہ وہ شخصیات تھیں زندہ رہیں تو ممتاز بن کر، رخصت ہوئیں تو نرالی شان کے ساتھ
اور سب اس حقیقت کے ترجمان
ڈھونڈوگے ہمیں ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
کسی بھی شخصیت پر لکھنے کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کا سراپا پردۀ ذہن پر مرتسم ہوجائے،اور اس کی خصوصیات امتیازات تحریر کے آئینے میں جلوہ گر ہو جائیں ڈاکٹرفیضی صاحب دام ظلہ کے انداز نگارش سے یہ چیز ظاہر ہے انہوں نے زندہ اور پختہ اسلوب میں لکھا ہے زبان کی لطافت وروانی کے ساتھ ادب کی چاشنی اور فکر کی سلامتی نے ان کی تحریر میں چار چاند لگا ئے ہیں،ان کی تحریریں تازہ کاری وشگفتگی کا مظہر ہیں اپنی داخلی کیفیات کو ظاہر کرنے کے لئے بھاری بھرکم الفاظ کا سہارانہیں لیا گیا ہے نہ ہی مشکل ومبہم تشبیہات واستعارات کا استعمال کیا گیا،بلکہ عام فہم اور سہل اسلوب کے ساتھ اپنی بات قاری کی بصارتوں کے نذر کردی،لفظی پہلوانی سے قارئین کو پچھاڑنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ زبان کی سلاست کے ساتھ نئے مضامین اور فکر وعمل کے نئے گوشے وا کئے ہیں۔
یہ خاکے باصرہ نواز ہوئے،ان کے مطالعہ سے یہ بات آشکارا ہوجاتی ہے کہ ایسی خوبصورت بامعنی معیاری اور ادبی چاشنی سے مزین تحریریں آپ کا حصہ ہیں،اور آپ کی گہری ادبی بصیرت کا مظہر ہیں،جن میں علم وآگہی ہے،فکرودانش کا سرمایہ ہے، آپ کی علمی وعملی، سماجی واصلاحی، دعوتی وفکری شہرتوں کا سفر عروج پر ہے،ان کی شخصیت میں ہیرے کی سی چمک ہے، وہ اپنوں کے لئے آغوش مادر،ہم عصروں کے لئے بازوئے برادر اور راحت عزیزاں ہیں۔
ان کی مقبولیت ومقناطیسیت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹوں پر بے پناہ شفیق ہیں،دلجوئی وجانثاری کے رفیق ہیں، نہ جانے کتنے چھوٹوں کو آپ نے بڑا بنایا،کتنے گرتوں کو سہارا دیا،اور ان کے چہرہ کی مسکراہٹ کا سبب بنے یہ نبوی ادائیں اب خال خال ہی نظر آتی ہیں، وہ اپنا فیض پہنچانے میں سورج کی یکساں ہیں۔
آپ کا خاندانی تعلق ہندوستان کی اس سر زمین (کیرانہ) سے ہے جو تاریخی بھی ہے اور مردم خیز بھی،علم و فضل اور معرفت الہی اس کے بام ودر سے جھلکتی ہے،یہاں ایسے ایسے نفوس قدسیہ نے جنم لیا جن ہوں نے دین و ایمان کی شمع روشن کی اور نسیم ہدایت کے جھونکے چلائے،اور اپنی پوری زندگانی اسی محبوب مشغلہ میں صرف کی جن کی دینی و اسلامی جد وجہد کے انمٹ نقوش ہمیشہ زنده و تابندہ رہیں گے، یہاں جن شخصیات نے علم دین کی خدمت، دعوت و تبلیغ کی
جد و جہد ، تعلیم و تدریس اور تصنيف وتالیف کے میدان میں زریں نقوش ثبت کئے ، ان میں ایک نمایاں نام آپ کے دادا محترم ملک کے ایک جلیل القدر عالم دين اور دار العلوم ندوۃ العلماء کے دوسرے بیچ کے فارغین میں چھ اولین طلباء میں شامل تھے، ندوہ اور اس کی فکر کے فدائی تھے،علامہ سید سلیمان ندویؒ کے رفیق تھے،آپ نے ایک ایسے خاندان میں آنکھیں کھولیں جہاں علم وعمل کی محفلیں آباد اور علماء ومصلحین کی بزمیں سجی تھیں،اور اس خاندان پر باد نسیم کے جھونکے چل رہے تھے،آپ کے والد ماجد جن کی گود اور نگرانی میں آپ کی تعلیم وتربیت ہوئی، حضرت مولانا محبوب الرحمن از ہریؒ تھے، جو خاندان کے خلف اور سلف کے آئینہ دار تھے۔
حضرت مولانا محبوب الرحمن از ہریؒ ایک عالم با عمل، اخلاق و کردار سے متصف نہایت شریف و ملنسار، متقی و پرہیزگار اور ایک مایہ ناز مربی تھے، وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے قابل فخر استاد تھے، عشق نبوی سے سرشار توحید خالص کے پرستار تھے۔
ملک کے معروف ادیب دوراں ڈاکٹر محمد نعیم صدیقی ندوی صاحب آپؒ کے محاسن پر روشنی ڈالتے ہوئےرقم طراز ہیں:
اگر ماموں جان کی شخصیت کا فنی تجزیہ کیا جائے، تو جرأت مندی، حق گوئی،با ضمیری، ایثار پیشی،اتباع سنت اور دینی شعائر کا احترام، طبیعت کی خودداری، بے لوثی وبے غرضی، گہری شرافت،انسانی بلندی، آسوده تمنا اور محدود طلب، عزت نفس اس کے چند روشن عنوانات ہونگے۔
ایسے خاندان اور ایسی شخصیات کے درمیان آپ کی پرورش وپرداخت ہوئی اور پھر اعلی تعلیم،تزکیہ وتطہیر میں آپ کو اہم مینار کی جھرمٹ میں سکون ملا، جن کے سائے تلے آپ ترقیات کی دہلیز پر قدم رکھتے گئے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ آپ کے وصال کے بعد تخت علی میاںؒ کے وارث مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ ادیب زماں حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندویؒ جیسے جبال علم وعمل کے مشوروں اور توجہات کے ساتھ اپنا علمی سفر جاری رکھا اور ان بابرکت نفوس، ادب کے جیالوں کی صحبتوں سے فیض اٹھایا اور ان کی توجہات قلبیہ سے آپ علمی وعملی میدان کو سر کرتے چلے گئے،آپ کی شخصیت دوآتشہ ہے،ندوہ وعلی گڑھ کے فیض یافتہ اور دیار غرب وشرق کے دیدہ ہیں، آپ بڑے خلیق وملنسار، کردار کے غازی اور خورد نوازی میں بہترین مثال ہیں، پہلےآپ نے ایک عرصہ ریاض میں گزارا وہاں ریاضت ومجاہدہ کے بعد اب یورپ کے کلیساؤں میں تکبیر مسلسل کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور دعوت دین،فکر اسلامی کی نشر و اشاعت اور تشییع میں شب و روز مصروف ہیں،وہ اپنی عمر کی چھ دہائی دیکھنے کے بعد بھی سفر سے نہیں گھبراتے بلکہ دعوت دین اور اعلاء کلمةﷲ کی خاطر دور دراز طویل مسافتی اسفار کرتے ہیں ان کے دل میں یہ جذبہ اخلاص کے ساتھ سرایت کر گیا ہے کہ گم گشتہ راہوں کو آئینہ دکھایا جائے اور وہ صراط مستقیم پر آکر اپنی دنیوی و اخروی زندگی کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔
لیکن آپ کی تدریسی وانتظامی مشغولیات، دعوتی اسفار کی کثرت کے باوصف قلم و کتاب سے آپ کا رشتہ پیوست ہے ،مطالعہ میں گہرائی ہے،فکر میں وسعت ہے،قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ پر نظر ہے، صاحب علم بھی ہیں اور ادبی ذوق بھی نمایاں ہے،آپ کی تحریر میں قوت استدلال اور فنکارانہ ذوق ہے،کتاب میں موجود بعض مضامین اس کے شاہد ہیں،جبکہ آپ کا میدان خاص طب یونانی ہے لیکن آپ ایک طبیب سے بڑھ کر جید عالم جلیل نادرۀروزگار ادیب قرآنی علوم کے عاشق اور فکر اسلامی کے محب ہیں۔
اپنے دیار سے ہزارہا میل دور دعوت دین کی تڑپ لے کر الندوہ ایجوکیشنل اسلامک سینٹر کا قیام آپ کی زندگی کا عظیم کارنامہ ہے کناڈا کی دعوتی و اصلاحی تاریخ میں یہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے،نوجوانوں کے کردار کی تشکیل میں آپ کی محنت بے پایاں ہے،ان کے اندر اسلامی تعلیمات کے فروغ میں آپ کا کردار نمایاں ہے،فکر کےاعتدال اور اصلاحی تحریکوں کے اتحاد و یگانگت کے ذریعے مضبوط اور مؤثر کوششیں آپ ہی کا حصہ ہیں،ان سب خدمات وامتیازات کے باوجود قلم سے ان کا تعلق ان سے محبت کا باعث ہے،خداوند تعالی ان کی عمر میں صحت وعافیت کےساتھ برکت عطا کرے (جاری)
No comments:
Post a Comment