Translate

Monday, May 11, 2020

رمضان نیکیوں کا موسم بہار مولانا محمد ا فضل ندوی

  رمضان نیکیوں کا موسم بہار            مولانا محمد ا فضل ندوی    رمضان مبارک ومسعود اور بخشش ومغفرت کا مہینہ ہے قمری مہینوں میں نواں مہینہ ہے یہ مہینہ امت مسلمہ کے لئے بڑی افضلیت و اہمیت کا حامل ہے یہ جہاں کھانے پینے کو چھوڑنے کا حکم دیتا ہے وہیں انسانی خواہشات کو بھی لگام دیتا ہے اور اللہ تعالی کی مرضیات پر چلنے کی انسان کو راہ بتلاتا ہے اللہ تعالی نے اس مبارک مہینہ کی نسبت خاص اپنی ذات کی جانب فرمائی ہے حدیث شریف میں ہے کہ رمضان شهر الله رمضان اللہ کا مہینہ ہےاسی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے اس ماہ میں رحمت خداوندی موسلا دھار بارش کی طرح برستی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے اور مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے اور سر کش جنوں کو بھی بند کر دیا جاتا ہے دوزخ کے دروازے بھی بند کر دئیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک آواز دینے والا یہ ندا لگاتا ہے کہ اے نیکی کے طالب آگے بڑھ اور اے بدی کے چاہنے والے پیچھے ہٹ  اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھیہ فضل ربی ہے کہ رمضان جیسا مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے اور اللہ تعالی نے اس متبرک ماہ کی رحمتوں اور نعمتوں سے مستفیض ہونے کا ہم کوموقع عنایت فرمایا ہے یہ دیگر بات ہے امسال اس ماہ میں کووڈ 19 کے پیش نظر اجتماعی عبادتوں سے دور ہیں لیکن انفرادی طور پر اپنے گناہوں کو بخشوانے اور اپنے معبود حقیقی کی رضا پانے کے لئے سرگرداں ہیں اور شب و روز عبادت وتلاوت ذکر و اذکار دعا ومناجات میں صرف کررہے ہیں اللہ تعالی نے اس مہینہ میں مسلمانوں پر روزے کو فرض کیا ہےچنانچہ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے. يايها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون (البقرة)  اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئےگئے تھے تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ.رمضان المبارک کی سب سے خاص اور منفرد عبادت روزہ ہے روزہ رکھنے کی بے پناہ فضیلتیں اور برکتیں احادیث میں بیان کی گئی ہیں.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے اس دروازے سے قیامت کے دن روزہ رکھنے والے ہی داخل ہونگے ان کے علاوہ کوئی بھی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا اور کہا جائیگا کہ کہاں ہیں روزہ رکھنے والے پھر وہ اس دروازے سے داخل ہونگے اور جب روزہ رکھنے والوں میں سے آخری شخص داخل ہو جائیگا تو وہ دروازہ بند ہو جائیگا اور پھر کوئی بھی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جسکو رب ذوالجلال نے اپنی جانب منسوب کیا ہے اور قیامت کے دن اس کا بدل اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے چنانچہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ  الصوم لي و أنا أجزى بہ یعنی روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں بذات خود ہوںسبحان اللہ روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جسکا بدلہ اللہ تعالی خود اپنی ذات مقدسہ کو فرما رہا ہے یہ اعزاز دیگر کسی عبادت کو حاصل نہیں ہے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اگر میری امت کو یہ معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ کاش پورا سال رمضان ہوتا"(ابن خزیمہ)اللہ تعالی نے رمضان المبارک کو امت محمدیہ کے لئے خاص نعمت بنایا ہے یہ مہینہ بقیہ تمام مہینوں سے افضل ہے یہ مہینہ داغ دھبوں کو دھونے اور نگاہ و دل زبان کو پاک کرنے اور دیگر اعضاءو جوارح کو غسل طہارت دینے کا مہینہ ہے.اس مہینہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کی یہ مہینہ ماہ قرآن و فرقان ہے قرآن جیسی پاک اور مقدس کتاب اسی مہینہ میں نازل ہوئی اس لئے قرآن اور روزہ کے درمیان بڑا گہرا تعلق ہے اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں قرآن کریم کی  تلاوت کثرت سے کیا کرتے تھےاور اللہ تعالی نے یہ نعمت ہم سب کو عطا فرمائی تو ہمیں چاہئے کہ رمضان المبارک کے دنوں کو روزہ سے اور اس کی راتوں کو نوافل سے آراستہ کریں.رمضان المبارک ہی وہ خاص مہینہ ہے جس میں ہر نیک عمل کا بدلہ ٧٠  گنا زیادہ ملتا ہے یعنی اس میں نوافل کا ثواب فرائض کے برابر اور فرائض کا ثواب ٧٠ گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے یعنی ہر نیکی کا بدلہ ٧٠ گنا زیادہ ہے عام دنوں میں جو ہم نیکی کرتے ہیں تو اس کا اجر تو ملتا ہی ہے لیکن رمضان میں جو نیکی کرتے ہیں اس کا اجر اللہ تعالی کے یہاں رمضان المبارک میں ٧٠ گنا زیادہ ملتا ہے. اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تراویح کو خاص رمضان میں ہی رکھا ہے اس میں بیس رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور بعض لوگ ۸ رکعتیں پڑھتے ہیں بہرحال اس مبارک مہینہ میں نوافل کا اہتمام کرنا چاہئے، راتوں کو تہجد میں گزارا نا چاہیے اور جتنی نیکیاں آدمی  کر سکتا ہے  کرے، اور اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کر ے.    اللہ تعالی پوری امت مسلمہ کو نیک اعمال کرنے اور برائیوں سے بچنے کی توفیق عنایت فرمائے نیز رمضان المبارک کے روزے سلامتی کے ساتھ رکھنے کی قوت عطا فرمائے۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...