Translate

Saturday, May 9, 2020

رمضان المبارک کی خصوصیات مفتی محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری




 ماہِ رمضان کی آمدہے، ہر طرف خوشیوں کی برسات ہے اور ایسا کیوں نہ ہو
یہ مہینہ بڑی عظمت و برکت والا ہے، یہ روزہ رکھنے ، عبادت کرنے اور زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کا مہینہ ہے ، یہ ایسا مہینہ ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، سرکش شیاطین پابہ زنجیر کر دیے جاتے ہیں اور لوگوں کے لئے نیکی کی راہیں آسان ہو جاتی ہیں، ہر مسلمان کے چہرے سے کچھ نہ کچھ اسلام کا ظہور ضرور ہوجاتا ہے اور اس کے اندر کسی نہ کسی حد تک خوفِ خدا ضرور پیدا ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس کا یہ خوفِ خدا اور تقویٰ و پرہیزگاری دیر پا ہو یا عارضی …
اس مبارک مہینہ کی متعدد خصوصیات ہیں ، جن کی وجہ سے اسے دیگر مہینوں پر فضیلت عطا کی گئی، ان خصائص کو بالتفصیل بیان کرنے کے لئے یقینا سینکڑوں صفحات چاہیٔں، جس کے لئے یہ مضمون فی الحال قاصر ہے، میں احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اختصار کے ساتھ باتیں پیش کرتا ہوں جو انشاء اللہ ہم سب کے لئے مفید ہوں گی ۔(۱) قرآن کریم کا نزول
 اس کتاب الٰہی کو اس مہینہ کی ایک مبارک رات ’’ لیلۃ القدر ‘‘ میں لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر یکبارگی نازل کیا گیا اور اسے ’’بیت العزۃ‘‘ میں رکھ دیا گیا، وہاں سے تھوڑا تھوڑا قرآن یعنی چند آیات اور سورتوں کی شکل میں ہمارے آخری نبی محمدﷺ پر جبرئیل ؑ کے واسطے سے نازل ہوتا رہا ، اللہ کا ارشاد ہے :
’’وہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لئے باعثِ ہدایت ہے، اس میں ہدایت کی اور ( حق وباطل کے درمیان)  فرق کرنے کی نشانیاں ہیں‘‘ (البقرۃ : ۱۸۵)۔  دوسری جگہ فرمایا :  ’’ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ِ‘‘ (القدر: ۱)۔
(۲) جہنم سے چھٹکارا
اس مبارک مہینہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت سارے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں اور جنت کو ان کا ٹھکانہ بناتے ہیں، حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’ ان لِلہ تبارک و تعالیٰ عتقاء فی کل یوم و لیلۃ __  یعنی فی رمضان __  وان لکل مسلم فی کل یوم و لیلۃ دعوۃ مستجابۃ ‘‘ (مسند البزار، صحیح الترغیب والترہیب للألبانی: ۱۰۰۲، اسی طرح کی ایک روایت حضرت جابرؓ سے مروی ہے جو ابن ماجہ : ۱۶۴۳، صحیح البجامع الصغیر للألبانی : ۲۱۷۰ میں ہے ۔ ) بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ رمضان المبارک میں روزانہ ( دن و رات) بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اورہر دن و رات ہر مسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے ۔
(۳) دعاء کی قبولیت
مذکورہ حدیث سے جہاں ایک طرف جہنم سے آزادی و نجات پانے کا علم ہوتا ہے، وہیں ایک دوسری بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ماہ رمضان میں ہر دن اور ہر رات ہر مسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ کم از کم کا ذکر ہے یا یہ کہ ایک دعا یقینا قبول ہوتی ہے، ورنہ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جن کی اللہ تعالیٰ بہت ساری دعائیں قبول کرتا ہے۔
(۴۔۶) ابوابِ جنت کا کھولا جانا، ابوابِ جہنم کا بند کیا جانا، سرکش شیاطین و جنات کو پابہ زنجیر کیا جانا
اس مبارک ماہ میں جنت سنواردی جاتی ہے، اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازوں پر قفل لگا دیئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو پابہ زنجیر کر کے اس کے چلنے پھرنے کے اختیارات ختم کر دیئے جاتے ہیں ، حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے :
’’جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں چھوڑا جاتا اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں چھوڑا جاتا اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے : اے خیر کے طلبگار ! آگے بڑھ اور اے شر کے طلبگار ! اب تو رک جا  ‘‘۔ (الترمذی، ابن ماجہ، صحیح الترغیب والترہیب از شیخ البانی:۹۹۸)۔
(۷) ماہِ رمضان کی کوئی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر رمضان المبارک کے مہینہ میں ایک رات ایسی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لیکن وہ رات کو ن سی ہے جسے مخفی رکھا گیا ہے، احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہے، اس رات کو ’’ لیلۃ القدر ‘‘ یعنی شبِ قدرکہا جاتا ہے، اس رات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے کہا :
’’لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ‘‘۔ (القدر : ۳)  لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ماہِ رمضان کے آغاز میں فرمایا :  ’’بے شک یہ مہینہ تمہارے پاس آچکا ہے، اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور جو شخص اس سے محروم ہو جاتا ہے، وہ مکمل خیر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کی خیر سے تو کوئی محروم ہی محروم رہ سکتا ہے‘‘(ابن ماجہ:۱۶۴۴)۔
(۸) ماہِ رمضان کا عمرہ حج کے برابر
اس مہینہ میں ہر عمل کے ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے ، اسی لئے رمضان میں عمرہ کرنے کے ثواب کو حج کے برابر قرار دیا گیا ، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک انصاری خاتون کو فرمایا : ’’ فاذا جاء رمضان فاعتمری، فان عمرۃ فیہ تعدل حجۃ‘‘ (متفق علیہ، بخاری:۱۷۸۲، مسلم:۱۲۵۶) جب ماہِ رمضان آجائے تو تم اس میں عمرہ کرو؛ کیوں کہ اس میں عمرہ حج کے برابر ہوتا ہے ۔
(۹) بسا اوقات رمضان کا پالینا شہید سے پہلے جنت میں جانے کا سبب
بسا اوقات رمضان کا مہینہ پالینا اور اس میں عبادات کے ذریعہ رفعِ درجات کا حاصل کر لینا، آدمی کے لئے شہید کے مرتبہ سے بھی زیادہ بلندی کا سبب ہوجاتا ہے، جیسا کہ ایک روایت میں ہے :
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ :دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے بیک وقت اسلام قبول کیا، اس کے بعد ان میں سے ایک آدمی زیادہ عبادت کرتا تھا اور وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا، جب کہ دوسرا آدمی ، جو پہلے آدمی کے بہ نسبت کم عبادت گذار تھا، اس کی شہادت کے ایک سال بعد فوت ہوا، تو حضرت طلحہؓ نے خواب میں دیکھا کہ یہ دوسرا آدمی شہادت پانے والے آدمی سے پہلے جنت میں داخل ہوا ہے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے لوگوں کو خواب سنایا تو سبھوں نے تعجب کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’ کیا یہ دوسرا آدمی پہلے آدمی کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا؟ جس میں اس نے رمضان کا مہینہ پایا، اس کے روزے رکھے اور سال بھر اتنی اتنی نمازیں پڑھیں، تو ان دونوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے ‘‘۔ (ابن ماجہ:۳۹۲۵،صحیح ابن حبان:۲۹۸۲، صحیح الجامع الصغیر، از شیخ البانی:۱۳۱۶)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کا ملنا اور اس میں عبادات کرنا بہت اجر و ثواب کا باعث ہوتا ہے، ہمیں چاہئے کہ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں اور اپنے لئے نیز دوسروں کے لئے دعاؤں کا اہتمام کریں ۔
یہ تھیں رمضان مبارک کی وہ خصوصیات جو دیگر مہینوں کو حاصل نہیں ہیں، اگر مزید لکھا جائے تو اور بھی خصوصیات بیان کی جاسکتی ہیں۔




No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...