Translate

Monday, May 11, 2020

باہمی تعاون کی اہمیت مولانا محمد اعظم ندوی


 باہمی تعاون کی اہمیت    مولانا محمد اعظم ندوی








باہمی تعاون کا مفہوم
 تعاون عربی کے لفظ ’’عون ‘‘ سے بنا ہے ، جس کے معنی مددگار کے ہیں ، اس سے اعانت مدد کرنے کے معنی میں ہے ، اور اسی سے تعاون ہے جس کے معنی ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے ، شریعت میں بھی تعاون کے معنی یہی ہیں ؛ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ تعاون حق کے معاملہ میں ہو اور اللہ کی رضا کے لئے ہو ، باطل کے معاملہ میں تعاون ظلم ہے ، اس طرح اسلام میں تعاون کی اصطلاحی تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کا کا ر خیر ،اللہ کی اطاعت اور گناہوں سے اجتناب میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
باہمی تعاون کے فوائد:
 ۱۔بڑے سے بڑے کام باہمی تعاون سے انجام پاتے ہیں ۔
۲۔باہمی تعاون سے فرد کو قوت کااحساس ہوتا ہے اور وہ کسی کام کو مشکل نہیں سمجھتا ۔
۳۔باہمی تعاون دوسروں سے محبت کی دلیل ہے ۔
۴۔باہمی تعاون کے ذریعہ ہر قسم کے خطرات سے مقابلہ آسان ہوتا ہے ۔
۵۔باہمی تعاون ہر انسان کی ضرورت اور ایمان کی علامت ہے۔
۶۔باہمی تعاون اسلامی اورانسانی اخوت کا تقاضہ ہے ۔
تعاون ایک معاشرتی ضرورت
علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں : انسانی معاشرہ انسان کے جینے کے لئے ضروری ہے ، حکماء اسی بات کو اس طرح کہتے ہیں کہ انسان فطری طور پر تمدن پسند ہے ، یعنی اس کے لئے معاشرہ کا وجود ناگزیر ہے ، اس کی وضاحت اس طرح ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے اور اس کا ڈھانچہ اس طرح بنایا ہے کہ اس کی زندگی او راس کی بقاء غذاپر موقوف ہے اور فطری طور پر غذا کو حاصل کرنے کی صلاحیت بھی اس میں ودیعت فرمادی ہے ؛ لیکن صرف ایک شخص اپنی ضرورت کی غذا خو د سے حاصل نہیں کرسکتا ؛ بلکہ اس کو اپنے جیسے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے ، یہی حال زندگی کی دوسری ضرورتوں کا ہے ۔
باہمی تعاون کا بنیادی اصول اور اس کی وسعت
  اسلام نے مختلف بنیادوں پر باہمی تعاون کی ترغیب دی ہے اور اس سلسلہ میں ایک اصول متعین کردیا ہے ، قرآن مجید کی آیت ہے : ’’وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوٰی وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَان‘‘]المائدۃ:[2
(جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو )۔یہ آیت واضح کرتی ہے کہ باہمی تعاون اللہ کا حکم ہے اور اس کی دو بنیادیں ہیں ،ایک ’’برّ‘‘ اور دوسری ’’تقویٰ ‘‘، برّ کے معنی نیکی ، بھلائی اور ہر ایسا کام جس سے اللہ کے بندوں کو فائدہ پہنچتا ہو ، ایک حدیث میں ہے :’’ برّ خوش خلقی کا نام ہے ‘‘ (مسلم : باب تفسیر البر والإثم ، حدیث نمبر : 2553)اور تقویٰ کے معنی ہیں ایساکام جس سے اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوتی ہو ، اگرچہ راست طور پر اس کا تعلق حقوق العباد سے نہ ہو ، اس حکم سے یہ بات خود بخود سمجھ میں آرہی تھی کہ ایسے کاموںمیں تعاون اسلام کے منشأ کے خلاف ہے ، جن سے اللہ کے بندوں کو نقصان پہنچتا ہو اور وہ اللہ کو ناپسند ہو ؛ لیکن تاکید اور مزید وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمادیا کہ گناہ اور ظلم کے معاملہ میں کسی کا تعاون کرنا درست نہیں ، گنا ہ کے لئے ’’الإثم‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کی تعریف حدیث میں یہ کی گئی ہے کہ’’گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم یہ ناپسند کرو کہ لوگ تمہارے اس کام سے واقف ہوں ‘‘ (مسلم ، حدیث نمبر : 2553)اور ’’عُدْوَان‘‘ کے معنی دوسروں کی حق تلفی اور ظلم کے ہیں ، جس طرح پہلے دونوں کاموں کا کرنا قابل تعریف ہے ، ان میں دوسروں کا تعاون بھی شریعت کا حکم ہے ، اس کے برخلاف دوسرے دونوں کا کرنا بھی ممنوع ہے ، اور ان میں دوسروں کا تعاون بھی ناپسندیدہ اور قابل گرفت ہے ، پہلی وحی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ ا  کو تسلی دی تھی اور یہ کہا تھاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہیں کرے گا اور اس کے بعداس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ ا کے چند اوصاف ذکر کئے تھے ،تو ان میں ایک وصف یہ بھی ذکر کیا تھاکہ آپ ا حق کے معاملہ میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں (بخاری: باب أول ما بدئ بہ رسول اللہ ا ، حدیث نمبر : 6982) اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ تعاون کی اصل بنیاد نیکی ، بھلائی اور حق وصداقت ہے ۔
اس آیت نے باہمی تعاون کا ایک وسیع تصور پیش کیا ہے ، اگر خیر کا کوئی کا م ہو تو خوا ہ وہ کام سماجی ہو یامعاشی ، مذہبی ہو یا سیاسی ، مسلمانوں کے تعاون کا مستحق ہے ، تعاون کی ضرورت مسلمانوں کو ہو یا عام انسانوں کو ، اپنوں کو ہو یا بیگانوں کو ، تعاون کی ضرورت کسی انفرادی کام میں ہو یا اجتماعی کام میں ۔
  تعاون کے سلسلے میں یہ اصول بھی ذہن نشیں رہنا چاہئے کہ شریعت میں جو حکم اصل کا م کا ہے وہی اس میں تعاون کا ہے ، اگر وہ کام واجب ہے تو اس میں تعاون بھی واجب ہوگا اور اگر وہ کام مستحب ہے تو تعاون بھی مستحب ہوگا ، حضورا نے فرمایا :’’ خیر کی رہنمائی کرنے والا اس کارِ خیرکو انجام دینے والے کی طرح ہے ‘‘ (ابو داؤد : باب في الدال علی الخیر ، حدیث نمبر : 5129)اگر اس کام میں تعاون کرنے کی صلاحیت کئی لوگوں میں ہو تو ان سب پر مشترکہ طور پر تعاون واجب یا مستحب ہوگا اور اگر اس کام میں تعاون کرنے کی صلاحیت صرف ایک ہی شخص میں ہو تو صرف اسی پر تعاون واجب یا مستحب ہوگا ، مثلاً کوئی شخص ڈوب رہا ہو اور پیراکی کا فن وہاں کوئی ایک شخص ہی جاننے والا ہو تو اس ڈوبنے والے کی جان بچانا متعینہ طور پر اسی پر واجب ہے ، ایک دوسری ضروری بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ اگر دو لوگ بیک وقت آپ کے یکساں تعاون کے محتاج ہوں تو جس کا آپ پر زیادہ حق ہے ، وہ آ پ کے تعاون کا زیادہ مستحق ہے ، مثلاً آپ کے والد بھی بیمار ہوں اور پڑوسی بھی اور آپ کے اندر کسی ایک ہی کے تعاون کی صلاحیت ہے تو ظاہر ہے کہ آپ پر اپنے والد کا تعاون پہلے ضروری ہے ۔
ایمانی بنیاد پر تعاون
 قرآن کریم میں ایمان والوں کو بھائی بھائی قرار دیا گیا ہے ]الحجرات : [10 اور حضور ا نے ایمان والوںکے اتحاد وتعاون کی مثال ایک جسم سے دی ہے کہ اگر اس کے کسی عضو میں بھی کوئی درد ہو تو پورا جسم بے خوابی اور بخار سے تڑپ اٹھے (بخاري : باب رحمۃ الناس والبہائم ، حدیث نمبر : 6011) ایک اورحدیث میں آپ نے یہاں تک فرمایا :
 ’’مومن مومن کے لئے ایک عمارت کی طرح ہے ، اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے‘‘ (بخاری : باب تشبیک الأصابع في المسجد وغیرہ ، حدیث نمبر : 481) ایک حدیث میں آپ ا نے فرمایا :’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، اس پر ظلم نہ کرے اور اس کو بے سہارا نہ چھوڑے ، جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرروت پوری فرمائی گا ، کسی مسلمان کی کسی مصیبت کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عوض قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کسی مصیبت کو دور فرمادے گا ، او رجو کسی مسلمان کے عیب پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائیں گے ‘‘ (بخاري : باب لا یظلم المسلم المسلم ، حدیث نمبر : 2442)ان احادیث میں خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں سے تعاون کا حکم دیا گیا ہے ، یہ تو انفرادی تعاون ہے ، مسلمانوں کے درمیان باہمی تعاون کی بہت سی اجتماعی شکلیں بھی ہیں، جیسے مسجد اور دینی اداروں کی تعمیر میں تعاون، جہاد کے لئے کسی مجاہد کا مالی تعاون ، زکوۃ کے ذریعہ مخصوص مسلمانوں کا تعاون وغیرہ ۔امام بخاری ؒ نے تعمیر مسجد کی فضیلت کے لئے جو احادیث ذکر کی ہیں ، ان پر یہ عنوان قائم کیا ہے ، ’’باب التعاون في بناء المسجد ‘‘ (بخاری ، باب نمبر : ۶۳) مسجد نبوی کی تعمیر میں حضور اکرم ا نے بہ نفس نفیس صحابہ ث کے ساتھ حصہ لیا ، اس سے پہلے حضرت اسماعیل ں نے خانہ کعبہ کی تعمیر میں حضرت ابراہیم ں کی مدد کی۔حضور ا نے فرمایا : ’’جس نے کسی غازی کو تیار کیا اس نے خود جہاد کیا ‘‘(بخاري : باب فضل من جہز غازیا، حدیث نمبر : 2843) ،غزوہ خندق میں حضور ااور صحابہ ث نے خندق کی کھودائی میں باہمی تعاون کا بے نظیر نمونہ پیش کیا یہاں تک کہ ان کو اپنے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے ، اسلامی بنیاد پر ایک مسلمان کا سب سے بڑا تعاون تو یہ ہے کہ وہ دعوت دین کے کام میں حصہ لے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا کُونوا أَنصَارَ اللَّہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ أَنصَارِیْ إِلَی اللَّہِ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّہِ فَآَمَنَت طَّائِفَۃٌ مِّن بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَکَفَرَت طَّائِفَۃٌ فَأَیَّدْنَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا عَلَی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاہِرِیْن‘‘ ]الصف : [14(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو جس طرح عیسی مریم نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا:  ہم ہیں اللہ کے مدد گار، اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا، پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے)۔حضرت موسی ں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنادیجئے ، اور ان کے ذریعہ میرے ہاتھوں کو مضبوط کردیجئے اور ان کو میرے کاموں کا شریک کردیجئے ۔]طہ :[32-29
صحابہ ث  حصول علم میں بھی ایک دوسرے کا تعاون کیا کرتے تھے ، حضرت عمر ا فرماتے ہیں کہ ’’میں نے اپنے ایک انصاری پڑوسی سے یہ طئے کرلیا تھا کہ ہم دونوںباری باری مجلس رسول میں حاضر ہواکریں گے ، چنانچہ ایک دن وہ جاتا ، ایک دن میں جاتا ، جب میں جاتا تو آکر اس دن کی باتیں اس کو بتاتا ،اور جب وہ جاتا تو وہ مجھے اس دن کی باتوں سے آگاہ کرتا ‘‘ (بخاری:باب الثناوب في العلم ، حدیث نمبر : 87) حضورا نے افضل ترین کاموں کا ذکر فرمایا تو اس میں ایک کام یہ بھی ذکر فرمایا کہ ’’تم کسی ہنر مند کی مدد کردو ، یا بے ہنر کا کام کردو‘‘(مسلم : باب بیان کون للإیمان ، حدیث نمبر : 84)وقف او رزکوۃ کا اجتماعی نظام مسلمانوں کے باہمی تعاون کی ہی علامت ہے ، مسلمانوں کے باہمی اجتماعی تعاون کا ایک نمونہ اسلام کا شورائی نظام بھی ہے ۔
خانگی بنیاد پر تعاون
اسلام نے عام انسانوں اور عام مسلمانوں کے مقابلہ میں رشتہ داروں او ربالخصوص اپنے اہل خانہ کو خصوصی حقوق دینے کی تاکید کی ہے ، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو تعاون میں بھی مقدم رکھاجائے ، یہ تعاون جسمانی بھی ہوسکتا ہے اور مالی بھی، حضور ا نے اشعری لوگوں کی تعریف فرمائی کہ
’’جب کسی غزوہ میں ان کازاد سفر ختم ہوجاتا ہے ، یا مدینہ میں ان کا کھانا کم پڑجاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے ، اس کو ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں اور ایک برتن سے برابر سرابر اسے آپس میں تقسیم کرـتے ہیں ‘‘، آپ ا نے فرمایا : ’’وہ مجھ سے ہیں میں ان سے ہوں ‘‘(بخاری:باب الشرکۃ في الطعام، حدیث نمبر : 2486)
قرآن مجید میں جگہ جگہ والدین اور رشتہ داروں کے خصوصی حقوق بیان کئے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ داروں کو تعاون میں فوقیت دینا چاہئے ، حضور ا  اپنے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے ، غلام بھی گھر میں رہتے ہیں ، حضور ا نے ان کے بارے میں بھی ہدایت فرمائی کہ ’’ان کو زیادہ کام نہ دیا جائے ، او راگر تم ان کو زیادہ کاموں کا مکلف بناؤتو ان کا تعاون کرو ‘‘(مسلم: باب إطعام المملوک مما یأکل ، حدیث نمبر : ؟؟؟)اسلام میں نفقہ اور وراثت وغیرہ کا نظام کا بھی اسی خانگی تعاون کا حصہ ہے ۔
انسانی بنیاد پر تعاون
  اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوسری تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے ، فرمایا ہے :’’وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاہُمْ مِّنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلا‘‘]بنی اسرائیل : [70
(ہم نے یقینا بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی)۔اس لئے تعاون کی سب سے بڑی بنیاد انسانیت ہے ، ظلم کسی پر بھی ہو وہ ہمارے تعاون کا مستحق ہے ، حضور ا نے فرمایا : ’’اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم ‘‘ صحابہ ث نے عرض کیا : اگر مظلوم ہوتو اس کی مدد کریںگے ، ظالم کی مدد کیسے کریں ؟ آپ ا نے فرمایا : ’’ظلم سے اس کا ہاتھ روک دو، یہی اس کی مدد ہے ‘‘(بخاري : باب أعن أخاک ظالمًا أو مظلوما ، حدیث نمبر : 2443)
نبوت سے پہلے حجاز کے علاقہ میں کوئی باضابطہ حکومت نہ تھی ؛ البتہ مختلف قبیلوں کے مخصوص طریقوں اور متعینہ دستور کے مطابق تحفظ ہواکرتا تھااور لوگوں کے باہمی تعلقات قائم رہتے تھے ، اسی زمانہ میں مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا کہ مکہ کے ایک شخص نے ایک بیرونی شخص کا حق ادا کرنے سے انکار کردیا ، چونکہ اس کا تعلق مکہ سے نہیں تھااور مکہ میں اس کے قبیلہ کے افرادبھی نہ تھے ؛ اس لئے ممکن نہ تھاکہ وہ طاقت کے زور پر اپنا حق حاصل کرسکے ، اس اجنبی شخص نے صحن کعبہ میں مکہ کے لوگوں کے سامنے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا ذکر کیا اور ان کے ضمیر سے انصاف مانگا ، اس موقع سے کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے کھڑے ہوگئے ، اور عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر اس کی نشست ہوئی ، اس میں آپ ا نے بھی شرکت کی اور اس طرح ’’حلف الفضول‘‘ نامی ایک معاہدہ ہوا جس کا مقصد انصاف کو قائم کرنا ، ظلم کو روکنا اور ظالم کے خلاف مزاحمت کرنا تھا، یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا تھا؛ لیکن رسول اللہ ا  کو یہ کام اس قدر پسند آیاتھاکہ آپ ا نے فرمایا : ’’اگر مجھے آج بھی اس کی طرف بلایاگیا تو میں اس پر لبیک کہوں گا ‘‘(البدایۃ والنہایۃ: ۲؍۲۹۱)یہ واقعہ مظلوم کی مدد کے لئے بھی دلیل فراہم کرتاہے اورحضور ا خواہش کہ اگر اب بھی مجھے کسی ایسے معاہدہ کے لئے بلایاجائے تو میں اسے قبول کروں گا ، اس بات کی دلیل ہے کہ انصاف پسند حکمرانوں کے ساتھ سیاسی تعاون بھی درست ہے ، اگر چہ وہ مسلمان نہ ہوں ، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ’’منکر‘‘ کو روکنے کا حکم دیا گیا ، منکر میں تمام برائیاں شامل ہیں ، اور یقینا ظلم بھی اس میں داخل ہے او ر ظلم کسی پر بھی ہو اسے روکنا اسلام کا حکم ہے ، یہاں تک کہ انسانوں کے علاوہ اللہ کی دوسری مخلوقات پر بھی ظلم ہوتو وہ ممنوع ہے ، اس کا روکنا اور روکنے میں تعاون کرنا ضروری ہے ۔
اسی طرح انسانی بنیادپر معاشی او رمالی تعاون بھی درست ہے ، نبوت کے بعد بھی رسول اللہا نے ابوسفیان اور جبیر بن مطعم کے ساتھ مضاربت کی ہے ، مکہ میں شدید قحط پڑا ،لوگ مردار وغیرہ کھانے پر مجبور ہوگئے ، یہ زمانہ مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان شدید اختلاف کا تھا، اس کے باوجود آپ ا نے مکہ میں قحط زدہ مشرکین کے لئے پانچ سو دینا ربھیجے ، اور یہ رقم آپ نے سرداران قریش ابوسفیان اور صفوان بن امیہ کو بھیجی جو مسلمانوں کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور مشرکین کی قیادت کررہے تھے۔حضرت عمر صنے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ وہ بھیک مانگ رہا ہے ، جب حضرت عمر ص نے اس کی وجہ معلوم کی تو اس نے کہا کہ وہ جزیہ ادا کرتا ہے ، حضرت عمر ص ،نے بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر فرمایا اور کہا کہ ہم نے تمہاری جوانی کو کھایا او راب پھر ہم تم سے جزیہ وصول کریں ، یہ انصاف کی بات نہیں۔ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے یہودی رشتہ داروں کو تیس ہزار درہم تقسیم فرمائے ، حضرت عبد اللہ بن عمر ص کے گھر میں بکری ذبح ہوئی ، انہوں نے پڑوسیوں کو بھیجنے کی ہدایت فرمائی ، واپسی پر دریافت فرمایا کہ کیا یہودی پڑوسی کو بھی اس میں سے بھیجا گیا ہے ، جب جواب : نہیں ، ملا تو خاص طور پر ان کو بکرے کا گوشت بھیجا ، حضرت عمر ص نے اپنے ایک مشرک بھائی کو تحفہ بھیجا۔چنانچہ فقہاء کا اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ نفلی صدقات غیر مسلموں کو دیا جاسکتا ہے ، احناف کے نزدیک راجح یہ ہے کہ زکوۃ کے علاوہ دوسرے واجب صدقات بھی غیر مسلموں کو دیئے جاسکتے ہیں ۔
باہمی تعاون میں تعاون حاصل کرنا بھی شامل ہے ، علم جیسی مقدس شے میں اسلام نے کسی تعصب سے کام نہیں لیا اور علم وحکمت کو مومن کی متاع گمشدہ قرار دیا (ترمذی: باب ما جاء في فضل النفقۃ علی العبادۃ ، حدیث نمبر :۲۶۸۷)چنانچہ جنگ بدر کے قیدیوں میں جوپڑھنے لکھنے سے واقف تھے ،آپ ا نے ان کا فدیہ یہی مقرر کیا تھاکہ وہ دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں ،حضور ا نے ہجرت کے سفر میں ایک مشرک عبد اللہ بن اریقط کو اپنا رہبر بنایا اور اس سے تعاون حاصل کیا ، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق وانصاف کے کاموں میں انسانیت کی بنیاد پر تعاون حاصل کرنا درست ہے ، حضور انے عام حکم فرمایا :’’ جس کے پاس زائد سواری ہو تو وہ اس کو دیدے جس کے پاس کوئی سواری نہ ہو او رجس کے پاس زائد توشہ سفر ہو وہ اس کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو ‘‘(ابو داؤد ، باب في حقوق المال، حدیث نمبر : 1663) ۔
کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے پس منظر میں اس موضوع کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، ہم میں سے ہر شخص کی ذمہ دای ہے کہ اس مشکل گھڑی میں سماج کے تئیں اپنی خدمات اور تعاون پیش کریں،اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...