تقویٰ اور ماہ رمضان المبارک
مولانا عبدالستار ندوی
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۳قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر تقویٰ حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور متقیوں کے مختلف اوصاف بیان کئے گئے ہیں، نیز ماہ رمضان المبارک کو تقوی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بتایا گیا ہے، روزے کی فرضیت صرف اسی امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہم سے پہلے ہر امت پر کسی نہ کسی شکل میں روزہ رکھنے کا تصور تھا، آخر کیا وجہ ہے کہ اس رکن کی فرضیت ہر امت میں رہی ہے اس علت کی طرف آیت بالا میں نشاندہی کی گئی ہے، چنانچہ آیت کے اختتام پر کہا گیا ہے تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ" سب سے پہلے ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ تقوی کا مطلب کیا ہے؟ اس کے فوائد کیا ہیں؟ اور اس کے ذرائع اور راستے کیا ہوسکتے ہیں؟ تقوی کا سیدھا سادہ ترجمہ بچنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا اور ڈرنا ہوتا ہے خدا سے ڈرنے کا تصور بالکل وہ نہیں ہوسکتا جو ہم عام طور پر اردو زبان میں ڈراؤنی چیزوں سے ڈرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس میں خوف اور فرار پنہا ہے، جبکہ اللہ سے ڈرنے میں محبت اور لجو کی کیفیت ہے۔ اور محبت بھی ایسی کی جتنا دل میں خوف خدا ہوگا اتنی ہی خدا سے محبت بڑھے گی اور انسان خدا سے اتنا ہی قریب ہوتا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ ڈر کے اس معیار کو پہنچ جائے جو کہ مطلوب ہے تو پھر وہ اس خوشخبری کا حقدار ہوتا ہے، ترجمہ "جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا سورہ طلاق آیت 2,3.تقویٰ کا دوسرا مطلب بچنا اور پرہیزگاری بھی ہے حصول تقوی کے لئے جو چیزیں ناگزیر ہیں اسے ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، ایک خدا کے اوامر واحکامات کو بجا لانا، دوسرا خدا کی منع کردہ چیزوں سے رک جانا، اور ان دونوں چیزوں میں اصل پرہیزگاری ہی ہے یعنی منع کردہ چیزوں سے رکنا ہی اصل کمال عبودیت اور حقیقی فرما نبرداری ہے ورنہ یہ تو بہت ممکن ہے کہ ایک شخص ساری رات نوافل کا اہتمام کرے مگر برائیوں سے بچنا اس کے لیے مشکل ہو، اس لیے حصول تقوی کے لئے زیادہ زور برائیوں سے بچنے پر دینا چاہئے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ سے ترمذی شریف میں ایک روایت ہے ترجمہ "محارم یعنی اللہ کی منع کردہ چیزوں سے بچو سب سے زیادہ عبادت گذار انسان بن جاو گے" تقوی حاصل کرنا تو ہمہ وقت ہر مسلمان پر ضروری ہے مگر ماہ رمضان المبارک میں اس کے مواقع زیادہ میسر رہتے ہیں متقی بننے کے لیے ایک انسان کو جن صفات سے آراستہ ہونا ضروری ہوتا ہے روزے کی حالت میں ایک روزہ دار کو روزہ کے کمال ثواب کو پانے کے لئے تقریبا انھیں صفات سے متصف ہونا ضروری ہوتا ہے سورہ آل عمران میں اللہ رب العزت نے جنت کی خوبیوں کا تذکرہ کرکے کہا ہے کہ یہ متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد ہی متقیوں کے چند صفات کا ذکر کیا ہے ترجمہ "جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں،غصہ پینے والے اور لوگوں کو درگزر کرنے والے ہیں،اللہ ان نیک کاروں کو دوست رکھتا ہے، جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہوجائے، یا کوئی گناہ کر بیٹھے تو فورا اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں عمران آیت 132، 33۔ آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی بات کہی گئی ہے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے تو ویسے بھی بہت سارے فضائل ہیں مگر ماہ رمضان المبارک میں اس کی نیکیاں دوچند ہوجاتی ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک روایت ہے کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں تو عام حالات میں بھی سب سے زیادہ فیاض تھے لیکن رمضان میں تو گویا آپ سراپاجودوکرم ہی بن جاتے۔ آیت میں متقین کی صفات میں سے ایک صفت غصہ پینا بھی بتایا گیا ہے جب انسان بھوکا پیاسا ہوتا ہے تو اسے غصہ بھی بہت آتا ہے، ہر چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپے سے باہر ہونے لگتا ہے ایسی حالت میں اپنے غصے پر قابو پا لینا اور حدیث کے مطابق کسی جھگڑنے یا گالم گلوچ کرنے والے سے یہ کہہ دینا کہ "میں روزہ سے ہوں" یقینا قابل ستائش اور روزے کی بدولت قوت ارادی کے مضبوط ہونے کی دلیل ہے۔ اگر کوئی شخص ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھتا ہے تو پھر اس کے اندر محسنین کی صفات پیدا ہونے لگتی ہیں، گناہوں پر آمادگی بہت کم ہو جاتی ہے، ملکوتی صفات سے آراستہ ہونے لگتا ہے،شہوانی اور نفسانی خواہشوں پر ایک گونہ کنٹرول کی قوت پیدا ہو جاتی ہے، جذبہ ایثار و ہمدردی پروان چڑھنے لگتا ہے، قرآن کریم سے مناسبت بڑھنے لگتی ہے، جھوٹ سے انسان گریز کرنے لگتا ہے، اور سب سے بڑی چیز اس مہینہ میں تقوی حاصل کرنے کے لئے جو عنایت خداوندی ہے وہ ہے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا مسنون ہونا روزے کے اصل مقصد یعنی تقوی و تزکیہ نفس کو بذریعہ اعتکاف درجہ کمال کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے،آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام ضرور فرماتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے،اپنے اہل و عیال کو بھی شب بیداری کے لیے اٹھاتےاور کمر کس کر اللہ کی عبادت کے لیے کھڑے ہوجاتے۔اللہ تعالی ہمیں بھی تقویٰ حاصل کرنے اور ماہ رمضان المبارک سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق عنایت فرمائے۔
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۳قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر تقویٰ حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور متقیوں کے مختلف اوصاف بیان کئے گئے ہیں، نیز ماہ رمضان المبارک کو تقوی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بتایا گیا ہے، روزے کی فرضیت صرف اسی امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہم سے پہلے ہر امت پر کسی نہ کسی شکل میں روزہ رکھنے کا تصور تھا، آخر کیا وجہ ہے کہ اس رکن کی فرضیت ہر امت میں رہی ہے اس علت کی طرف آیت بالا میں نشاندہی کی گئی ہے، چنانچہ آیت کے اختتام پر کہا گیا ہے تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ" سب سے پہلے ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ تقوی کا مطلب کیا ہے؟ اس کے فوائد کیا ہیں؟ اور اس کے ذرائع اور راستے کیا ہوسکتے ہیں؟ تقوی کا سیدھا سادہ ترجمہ بچنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا اور ڈرنا ہوتا ہے خدا سے ڈرنے کا تصور بالکل وہ نہیں ہوسکتا جو ہم عام طور پر اردو زبان میں ڈراؤنی چیزوں سے ڈرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس میں خوف اور فرار پنہا ہے، جبکہ اللہ سے ڈرنے میں محبت اور لجو کی کیفیت ہے۔ اور محبت بھی ایسی کی جتنا دل میں خوف خدا ہوگا اتنی ہی خدا سے محبت بڑھے گی اور انسان خدا سے اتنا ہی قریب ہوتا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ ڈر کے اس معیار کو پہنچ جائے جو کہ مطلوب ہے تو پھر وہ اس خوشخبری کا حقدار ہوتا ہے، ترجمہ "جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا سورہ طلاق آیت 2,3.تقویٰ کا دوسرا مطلب بچنا اور پرہیزگاری بھی ہے حصول تقوی کے لئے جو چیزیں ناگزیر ہیں اسے ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، ایک خدا کے اوامر واحکامات کو بجا لانا، دوسرا خدا کی منع کردہ چیزوں سے رک جانا، اور ان دونوں چیزوں میں اصل پرہیزگاری ہی ہے یعنی منع کردہ چیزوں سے رکنا ہی اصل کمال عبودیت اور حقیقی فرما نبرداری ہے ورنہ یہ تو بہت ممکن ہے کہ ایک شخص ساری رات نوافل کا اہتمام کرے مگر برائیوں سے بچنا اس کے لیے مشکل ہو، اس لیے حصول تقوی کے لئے زیادہ زور برائیوں سے بچنے پر دینا چاہئے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ سے ترمذی شریف میں ایک روایت ہے ترجمہ "محارم یعنی اللہ کی منع کردہ چیزوں سے بچو سب سے زیادہ عبادت گذار انسان بن جاو گے" تقوی حاصل کرنا تو ہمہ وقت ہر مسلمان پر ضروری ہے مگر ماہ رمضان المبارک میں اس کے مواقع زیادہ میسر رہتے ہیں متقی بننے کے لیے ایک انسان کو جن صفات سے آراستہ ہونا ضروری ہوتا ہے روزے کی حالت میں ایک روزہ دار کو روزہ کے کمال ثواب کو پانے کے لئے تقریبا انھیں صفات سے متصف ہونا ضروری ہوتا ہے سورہ آل عمران میں اللہ رب العزت نے جنت کی خوبیوں کا تذکرہ کرکے کہا ہے کہ یہ متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد ہی متقیوں کے چند صفات کا ذکر کیا ہے ترجمہ "جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں،غصہ پینے والے اور لوگوں کو درگزر کرنے والے ہیں،اللہ ان نیک کاروں کو دوست رکھتا ہے، جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہوجائے، یا کوئی گناہ کر بیٹھے تو فورا اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں عمران آیت 132، 33۔ آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی بات کہی گئی ہے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے تو ویسے بھی بہت سارے فضائل ہیں مگر ماہ رمضان المبارک میں اس کی نیکیاں دوچند ہوجاتی ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک روایت ہے کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں تو عام حالات میں بھی سب سے زیادہ فیاض تھے لیکن رمضان میں تو گویا آپ سراپاجودوکرم ہی بن جاتے۔ آیت میں متقین کی صفات میں سے ایک صفت غصہ پینا بھی بتایا گیا ہے جب انسان بھوکا پیاسا ہوتا ہے تو اسے غصہ بھی بہت آتا ہے، ہر چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپے سے باہر ہونے لگتا ہے ایسی حالت میں اپنے غصے پر قابو پا لینا اور حدیث کے مطابق کسی جھگڑنے یا گالم گلوچ کرنے والے سے یہ کہہ دینا کہ "میں روزہ سے ہوں" یقینا قابل ستائش اور روزے کی بدولت قوت ارادی کے مضبوط ہونے کی دلیل ہے۔ اگر کوئی شخص ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھتا ہے تو پھر اس کے اندر محسنین کی صفات پیدا ہونے لگتی ہیں، گناہوں پر آمادگی بہت کم ہو جاتی ہے، ملکوتی صفات سے آراستہ ہونے لگتا ہے،شہوانی اور نفسانی خواہشوں پر ایک گونہ کنٹرول کی قوت پیدا ہو جاتی ہے، جذبہ ایثار و ہمدردی پروان چڑھنے لگتا ہے، قرآن کریم سے مناسبت بڑھنے لگتی ہے، جھوٹ سے انسان گریز کرنے لگتا ہے، اور سب سے بڑی چیز اس مہینہ میں تقوی حاصل کرنے کے لئے جو عنایت خداوندی ہے وہ ہے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا مسنون ہونا روزے کے اصل مقصد یعنی تقوی و تزکیہ نفس کو بذریعہ اعتکاف درجہ کمال کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے،آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام ضرور فرماتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے،اپنے اہل و عیال کو بھی شب بیداری کے لیے اٹھاتےاور کمر کس کر اللہ کی عبادت کے لیے کھڑے ہوجاتے۔اللہ تعالی ہمیں بھی تقویٰ حاصل کرنے اور ماہ رمضان المبارک سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق عنایت فرمائے۔


No comments:
Post a Comment