انسانیت کا بند قفل اور شاہ کلید کی ضرورت
محمد نظام الدین ندوی
تاریخ انسانی نے ہزاروں انقلابات کا مشاہدہ کیا، حیرت انگیز فلسفات کا مطالعہ کیا، بے شمار نظاموں کا تجربہ کیا اور معیار زندگی کی بلندی کی خاطر لاکھوں طریقے اپنائے، جنگیں لڑیں، سامان تعیش کی فراہمی کے لیے ہر حد سے گذر گئے، کبھی انسانیت سوز حرکتوں کو حرز جاں سمجھا اور کبھی انسانیت پسند عادات سے تنفر برتا، کبھی ترقی کے حصول میں چاند سے باتیں کیں، تو کبھی ترقی اور سکون کی تلاش میں کھیتوں میں چر کر بھی دیکھا اور جانوروں کی طرح چل کر بھی آزمایا، مگر تمام نظام ناکام ثابت ہوئے، تمام کوششیں ناتمام ٹھہریں اور انسانیت کو تمام تر محنت و مشقت کے بعد بھی نہ سکون نصیب ہوا اور نہ ہی ترقی کی ادنی راہ مل سکی۔
اس کی بنیادی وجہ نظام کائنات کے بند قفل پر اس شاہ کلید کا نہ لگنا تھا،جس کو اخیر دور میں حضورﷺنے لگایا، آپ ﷺنے جب اسلام کا نعرہ بلند کیا اور لوگوں کی صحیح فکر دی، ان کے خیالات کو درست سمت عطا کی، ان کی محنتوں کو ان کے محل پر لگایا، ان کی کوششوں کو صحیح رخ دیا، تو چند ہی برسوں میں ایسا تاریخ ساز انقلاب برپا ہوا جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔
روز مرہ کی زندگی میں ہمارا مشاہدہ ہے کہ بسا اوقات بڑی سے بڑی مشکل عباقرۂ زمان سے حل نہیں ہوتی اور ان کی ساری کوششیں گرد ہوجاتی ہیں، مگر وہیں ایک تجربہ کار سن رسیدہ شخص اپنی معمولی حکمت سے اس عقدہ کو ایسا حل کردیتا ہے، جیسا کہ وہ کوئی مسئلہ ہی نہ ہو، ٹھیک یہی مثال نظام عالم کی ہے، جس کے متعلق تجربہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جب تک رسول اکرمﷺ کی ہدایات و تعلیمات کو قابل تقلید نہ سمجھا جائے گا اور ان کی حیات مبارکہ کو اسوۂ حسنہ کے طور پر نہیں اختیار کیا جائے گا، تب تک یہ دنیا یوں ہی نوع بہ نوع کی آزمائشوں، پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرتی رہے گی، اس لیے کہ اس کی مرکزی گتھی کے سلجھانے کا حل محض تعلیمات نبویﷺ میں ہی پوشیدہ ہے۔
موجودہ دور میں ہمارے سامنے آزمائشوں کا سیلاب ہے، پوری دنیا مشکلات کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے، تمام تر ترقیات کے باوجود سکون کا فقدان ہے، تمام تر خوشحالی کے باوجود انسانیت سسک رہی ہے، تمام تر وسائل کے باوجود پوری انسانیت راحت و آرام سے بے زار ہے، اعلیٰ تعلیمی ماحول کے باوجود بھی آج بے ایمانی، بد دیانتی، خیانت، چوری، لوٹ کھسوٹ، ڈاکہ زنی، شراب نوشی، قمار بازی، سود خوری، زنا اور فحاشی کے دیگر کام عروج پر ہیں،ان حالات میں یکساں طور پر سبھی حکومتیں چاہتی ہیں کہ یہ فساد ختم ہو، تنظیمیں چاہتی ہیں کہ ہماری قوم کی اصلاح ہو، دانشور چاہتے ہیں کہ ان سوہان روح واردات کا قلع قمع ہو۔مگر افسوس یہ ہے کہ ان تمام امور سے لڑنے اور راحت و سکون کی تلاش میں وہ نظام حیات پر ایک ایسی چابی فٹ کرتے ہیں، جو اس تالے کے لیے بنائی ہی نہیں گئی ہے، اسی لیے بسا اوقات یہ طبقہ بھی اپنے معیار کے مطابق انہیں فواحش و منکرات کا مرتکب ہوتا ہے، جن کی اصلاح میں وہ دن رات اپنا ذہن کھپاتا ہے۔
اسی لیے موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کو دیکھ کر اہل علم و دانشور طبقہ کا فرض منصبی ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لیں اور ہر سطح پر تعلیمات نبویﷺ کے محاسن و جامعیت کو اجاگر کریں اور اس سے بھی قبل اپنے اندر کی احساس کمتری کو کھرچ کر نکال دیں، تاکہ کسی بھی طرح کی مرعوبیت سے دور رہیں، اگر ہم نے پوری غیرت، خودداری و خود اعتمادی اور جانفشانی کے ساتھ ہر سطح پر تعلیمات نبویﷺ کا تفوق ثابت کردیا، تو اس میں شبہ نہیں کہ دنیا اسی وقت سے اس نافعیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگی اور پھر حالات کا رخ صحیح ہوگا اور انسانیت کا بند قفل بھی بآسانی کھل جائے گا، جس کی چابی کو زمانہ کی تاریکیوں نے گم کردیا ہے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز!

No comments:
Post a Comment