استقبال رمضان حافظ فرحان اشرف بگھونوی
اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں پر بے شمار احسانات کئے ہیں اور ان تمام احسانات کا اجمالی طور پر ذکر کر کے انسانوں کے مزاج کو بھی واضح فرما دیا ہے کہ انسان کی حقیقت یہی ہے کہ وہ بڑا ہی ” لالچی اور ناشکرا ہے " وإن تعدوا نعمة الله لا تحصوها إن الإنسان لظلوم كفار “ چنانچہ جب انسانوں کی زندگی ہی گناہوں سے ملوث ہے تو ظاہر ہے کہ اُن کے خالق و مالک نے ان کے گناہوں کو بخشنے کے لیے کچھ اصول و ضوابط بھی مقررکئے ہو ں گے اور کچھ ایسے مواقع واوقات بھی فراہم کئے ہوں گے جن میں وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو زیادہ سے زیادہ بخشے - خداوندقدوس کے فراہم کردہ انہی مبارک مواقع ، اورمقدس وباعظمت اوقات میں سے ایک موقع” رمضان المبارک “ کا بھی ہے جو عنقریب ہمارے اوپر بڑی آب و تاب کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ مسلمانوں کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی کہ وہ رحمن ورحیم مالکِ دوجہان کے بھیجے ہوئے مہمان کا استقبال پوری گرم جوشی کے ساتھ کریں اور عند اللہ ماجور ہوں ،اور اس کو غنیمت تصور کرتے ہوئے اپنے دامن مراد کو نیکیوں سے بھر لیں ۔ہم اپنے اسلاف کی زندگیوں کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدربے چینی سے رمضان کی آمدکاانتظار کرتے ، ان میں بہت سے رمضان سے چھ مہینے پہلے ہی سے یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرما ! اور جب یہ مہینہ رخصت ہو جاتا تو کہتے ، اے اللہ ! اس مہینے کی نیکیاں قبول فرما ! چونکہ ہمارے اسلاف اس مہینے کا خاص اہتمام کرتے اور اس کی قدر و منزلت اور مقام و مرتبہ کو خوب سمجھتے تھے تو ہمیں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اوراللہ کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے اس مہینے کے فیوض و برکات سے مستفید ہونا چاہیے ، اور بھرپور جوش و ولولہ کے ساتھ رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہیے تاکہ ہم اُس جنت کے مستحق بن سکیں جس کا ہم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔
ذیل میں ہم کچھ چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جن کے ذریعے ہم رمضان المبارک کا استقبال کر سکتے ہیں -:
چ ایک دوسرے کو خوشخبری دینا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ” رمضان المبارک“ کی آمد کی خوشخبری لوگوں کو دیتے تاکہ ان کے اندر عبادت کاشوق پیدا ہو اور وہ پوری طرح عبادتوں کے لیے کمر کس لیں - سنن نسائی کی ایک روایت ہے جس کے راوی حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” رمضان “کی آمد پر لوگوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہتے " أتاكم رمضان ، شهر مبارك ، فرض الله عز وجل عليكم صيامَه ، تفتح فيه أبواب الجنة ، وتغلق فيه أبواب الجحيم، و تغل فيه مردة الشياطين، لله فيه ليلة خير من ألف شهر ، من حرم خيرها فقد حرم “ تمہارے پاس رمضان آچکا ہے جو نہایت ہی بابرکت مہینہ ہے ، اللہ نے اس کے روزے تم پر فرض کئے ہیں ، اس میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ،اس میں اللہ کی ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس کی بھلائی سے محروم ہوا وہی حقیقی محروم ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو جو ایمان کی چلتی پھرتی تصویر تھے اس ماہ کی آمد کی بشارت دیتے- پھر ہمیں تو اپنے عوام کو بدرجۂ اولی اس کی آمد کی بشارت دینی چاہیے جو اسلام و ایمان کو بھول کر اپنی دنیا میں مگن ہیں اور اس رحمت کے مہینے میں بھی اپنے برے اعمال سے اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں ۔
چ بغض و حسد و کینہ کو دل سے نکال دینا: اس سلسلے میں موقوف روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ " آپ لوگ رمضان المبارک کا استقبال کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا: ما كان أحدنا يجرأ أن يستقبل الهلال وفي قلبه مثقال ذرة من حقد على أخيه المسلم “ہم میں سے کسی کی جرأت نہ تھی کہ وہ ہلا ل رمضان کو دیکھے اور اس کے دل میں اپنے مسلمان بھائی کے خلاف ذرہ برابر بھی کینہ ہو ، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم رمضان المبارک میں ایسے گناہوں سے دور رہیں اور اللہ کی جنت کے مستحق بنیں ،
چ رمضان سے ایک یا دو روز قبل احتیاطاً روزہ رکھنا ممنوع ہے: امام بخاری رح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" لا يستقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذالك اليوم “- تم میں سے کوئی رمضان کا استقبال ایک یا دو دن قبل روزہ رکھ کر نہ کرے الا یہ کہ کوئی اس دن کا روزہ رکھتا آیا ہو تو وہ رکھے ۔
چ نیک اعمال کے اندر منافست کا جزبہ رکھیں اور جنت کے حقدار بننے کے لیے اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کی مرضی کے حوالے کر دیں ، اللہ فرماتے ہیں: ” وسابقوا إلى مغفرة من ربكم و جنة عرضها السموات والأرض أعدت للمتقين “ سبقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے اور وہ متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے - قارئین ! ہم نے آپ احباب کے لئے دریا کو کوزے میں سمونے کی سعی لا حاصل کی ہے ، ہمیں ان جزبات کے ساتھ رمضان میں داخل ہونا ہے کہ ہر وہ کام جس کا تعلق نیکی سے ہوگا اسے کرینگے ، اور ہر وہ کام جس کا تعلق بدی سے ہوگا اس سے اجتناب کرینگے ، ہمیں یہ عزم مصمم کرنا ہے کہ اس رمضان کے اختتام کے ساتھ ہی ہماری زندگی "روزہ کے مقصد" یعنی صفت تقویٰ سے متصف ہوجائے۔ تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہیں بروز قیامت ”باب الریان “ سے آواز دی جائیگی
۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں پر بے شمار احسانات کئے ہیں اور ان تمام احسانات کا اجمالی طور پر ذکر کر کے انسانوں کے مزاج کو بھی واضح فرما دیا ہے کہ انسان کی حقیقت یہی ہے کہ وہ بڑا ہی ” لالچی اور ناشکرا ہے " وإن تعدوا نعمة الله لا تحصوها إن الإنسان لظلوم كفار “ چنانچہ جب انسانوں کی زندگی ہی گناہوں سے ملوث ہے تو ظاہر ہے کہ اُن کے خالق و مالک نے ان کے گناہوں کو بخشنے کے لیے کچھ اصول و ضوابط بھی مقررکئے ہو ں گے اور کچھ ایسے مواقع واوقات بھی فراہم کئے ہوں گے جن میں وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو زیادہ سے زیادہ بخشے - خداوندقدوس کے فراہم کردہ انہی مبارک مواقع ، اورمقدس وباعظمت اوقات میں سے ایک موقع” رمضان المبارک “ کا بھی ہے جو عنقریب ہمارے اوپر بڑی آب و تاب کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ مسلمانوں کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی کہ وہ رحمن ورحیم مالکِ دوجہان کے بھیجے ہوئے مہمان کا استقبال پوری گرم جوشی کے ساتھ کریں اور عند اللہ ماجور ہوں ،اور اس کو غنیمت تصور کرتے ہوئے اپنے دامن مراد کو نیکیوں سے بھر لیں ۔ہم اپنے اسلاف کی زندگیوں کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدربے چینی سے رمضان کی آمدکاانتظار کرتے ، ان میں بہت سے رمضان سے چھ مہینے پہلے ہی سے یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرما ! اور جب یہ مہینہ رخصت ہو جاتا تو کہتے ، اے اللہ ! اس مہینے کی نیکیاں قبول فرما ! چونکہ ہمارے اسلاف اس مہینے کا خاص اہتمام کرتے اور اس کی قدر و منزلت اور مقام و مرتبہ کو خوب سمجھتے تھے تو ہمیں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اوراللہ کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے اس مہینے کے فیوض و برکات سے مستفید ہونا چاہیے ، اور بھرپور جوش و ولولہ کے ساتھ رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہیے تاکہ ہم اُس جنت کے مستحق بن سکیں جس کا ہم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ذیل میں ہم کچھ چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جن کے ذریعے ہم رمضان المبارک کا استقبال کر سکتے ہیں -:
چ ایک دوسرے کو خوشخبری دینا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ” رمضان المبارک“ کی آمد کی خوشخبری لوگوں کو دیتے تاکہ ان کے اندر عبادت کاشوق پیدا ہو اور وہ پوری طرح عبادتوں کے لیے کمر کس لیں - سنن نسائی کی ایک روایت ہے جس کے راوی حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” رمضان “کی آمد پر لوگوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہتے " أتاكم رمضان ، شهر مبارك ، فرض الله عز وجل عليكم صيامَه ، تفتح فيه أبواب الجنة ، وتغلق فيه أبواب الجحيم، و تغل فيه مردة الشياطين، لله فيه ليلة خير من ألف شهر ، من حرم خيرها فقد حرم “ تمہارے پاس رمضان آچکا ہے جو نہایت ہی بابرکت مہینہ ہے ، اللہ نے اس کے روزے تم پر فرض کئے ہیں ، اس میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ،اس میں اللہ کی ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس کی بھلائی سے محروم ہوا وہی حقیقی محروم ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو جو ایمان کی چلتی پھرتی تصویر تھے اس ماہ کی آمد کی بشارت دیتے- پھر ہمیں تو اپنے عوام کو بدرجۂ اولی اس کی آمد کی بشارت دینی چاہیے جو اسلام و ایمان کو بھول کر اپنی دنیا میں مگن ہیں اور اس رحمت کے مہینے میں بھی اپنے برے اعمال سے اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں ۔
چ بغض و حسد و کینہ کو دل سے نکال دینا: اس سلسلے میں موقوف روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ " آپ لوگ رمضان المبارک کا استقبال کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا: ما كان أحدنا يجرأ أن يستقبل الهلال وفي قلبه مثقال ذرة من حقد على أخيه المسلم “ہم میں سے کسی کی جرأت نہ تھی کہ وہ ہلا ل رمضان کو دیکھے اور اس کے دل میں اپنے مسلمان بھائی کے خلاف ذرہ برابر بھی کینہ ہو ، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم رمضان المبارک میں ایسے گناہوں سے دور رہیں اور اللہ کی جنت کے مستحق بنیں ،
چ رمضان سے ایک یا دو روز قبل احتیاطاً روزہ رکھنا ممنوع ہے: امام بخاری رح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" لا يستقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذالك اليوم “- تم میں سے کوئی رمضان کا استقبال ایک یا دو دن قبل روزہ رکھ کر نہ کرے الا یہ کہ کوئی اس دن کا روزہ رکھتا آیا ہو تو وہ رکھے ۔
چ نیک اعمال کے اندر منافست کا جزبہ رکھیں اور جنت کے حقدار بننے کے لیے اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کی مرضی کے حوالے کر دیں ، اللہ فرماتے ہیں: ” وسابقوا إلى مغفرة من ربكم و جنة عرضها السموات والأرض أعدت للمتقين “ سبقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے اور وہ متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے - قارئین ! ہم نے آپ احباب کے لئے دریا کو کوزے میں سمونے کی سعی لا حاصل کی ہے ، ہمیں ان جزبات کے ساتھ رمضان میں داخل ہونا ہے کہ ہر وہ کام جس کا تعلق نیکی سے ہوگا اسے کرینگے ، اور ہر وہ کام جس کا تعلق بدی سے ہوگا اس سے اجتناب کرینگے ، ہمیں یہ عزم مصمم کرنا ہے کہ اس رمضان کے اختتام کے ساتھ ہی ہماری زندگی "روزہ کے مقصد" یعنی صفت تقویٰ سے متصف ہوجائے۔ تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہیں بروز قیامت ”باب الریان “ سے آواز دی جائیگی
۔

No comments:
Post a Comment