Translate

Monday, May 11, 2020

فضائل رمضان اور انسانی ہمدردی مولا نا محمد امام الدین ندوی

فضائل رمضان اور انسانی ہمدردی 

مولا نا محمد امام الدین ندوی




اللہ تعالی نے اس امت پر رمضان کے روزے فرض فرمائے ہیں كتب عليكم الصيام  ایے ایمان والوں تم پر رمضان کے روزے فرض کئے گئے یہ روزے کسی نہ کسی صورت میں سابقہ امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے ارشاد ربانی ہے كما كتب على الذين من قبلكم اس روزہ کا مقصد اللہ تعالی نے بتایا کہ تم صاحب تقوی بنو لعلكم تتقونروزہ دار جب روزہ رکھتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے کوئی ایسا کام صادر نہ ہو جائے جو اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سبب ہو اور اس کا روزہ اس کے منہ پر مار دیا جائے اور سوائے بھوکے پیاسے رہنے کے اسے کچھ حاصل نہ اس کے حلق میں کوئی حرام لقمہ داخل نہ ہو.روزہ انسان کے ظاہری اور باطنی پاکیزگی اور قرب خداوندی کا بہترین ذریعہ ہے اس سے نفسانی خواہشات اور نفس کی پیروی کی نکسیر ہوتی ہے نفس امارہ کمزور ہوتا ہے قوت بہیمیت (حیوانی) میں کمی اور قوت ملوکیت میں زیادتی ہوتی ہے اور انسانی زندگی میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے دل و دماغ میں تازگی پیدا ہوتی ہے دل اللہ کے فرمان کو قبول کرنے کے لائق ہوتا ہے.روزہ عبد و معبود کا آپسی تعلق ہے جسکا اظہار اعضاء انسانی سے نہيں ہوتا کون روزہ دار ہے اور کون روزہ سے نہیں ہے کسی کو معلوم نہیں ہوتا صاحب معاملہ ہی اس سے واقف ہوتا ہے یاپھر اللہ تعالی !
رمضان المبارک کے مہینے میں ہی قرآن کا نزول ہوا اللہ کا فرمان ہے شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن اور اس کو لوگوں کی ہدایت اور گائیڈ لائن بتایا ہے۔هدى اللناس اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کا نسخہ سمجھایا گیا جس نے قرآن کو پڑھا اور اس پر عمل کیا اللہ اسے سر بلند فرمائے گا دنیا میں عزت سے نوازے گا اور آخرت میں نعمت بھری زندگی عطا فرمائے گا اور دوسری قوموں سے ممتاز کرے گا اس لئے راتوں میں تراویح کا اہتمام کیا تاکہ لوگ اس مہینے میں قرآن سے وا بستہ رہیں اور تلاوت قرآن سے اپنے دل و دماغ کو منور کرے صراط مستقیم پر چلنے کی اسے توفیق نصیب ہو.رمضان صبر کا مہینہ ہے بھوک کی بے تابی اور پیاس کی شدت نفس امارہ اور خواہشات نفسانی پر لگام کسنے حرام سے افطار پر روک لگانے بد زبانی اور بد کلامی سے بچنے نگاہوں کی حفاظت کرنے جیسے امور پر صبر کرنا ہے.روزہ عذاب جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الصوم جنة روزہ ڈھال ہے جس طرح انسان آپسی لڑائی جھگڑے اور قتل و قتال میں بطور حفاظت ڈھال کا استعمال کرتا ہے اسی طرح روزہ روزہ دار کے حق میں جہنم کی عذاب سے بچاؤ کے لئے ڈھال بنے گا روزہ اللہ کا حق ہے اور اللہ ہی اس کا بدلہ دے گا جیسا کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے (الصوم لي و أنا أجزى به) ایک روایت میں ہے میں ہی اس کا بدلہ ہو جاؤں گا الصوم لي وأنا أجزى به جسطرح دیگر عبادتوں کی عنداللہ مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے ٹھیک اسی طرح روزے کی عنداللہ مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے من صام إيمانا و إحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه جس  نے حالت ایمان اور ثواب کی امید میں روزہ رکھا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اس قید ایمان سے دوسرے مذاہب کے لوگ نکل گئے جو صاحب ایمان نہيں ہیں اور ابواس کرتے ہیں روزہ دار کے منہ سے نکلی ہوئی بدبو مشک سے بھی عمدہ یہ مہینہ رحمت و مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کا ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا پہلا عشرہ رحمت کا اور دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ جہنم سے چھٹکارے کا ہے.اس لئے بندہ کو چاہئے کہ اس مہینہ میں استغفار کی کثرت کرے عام دنوں میں فرائض نماز پر جو ثواب اللہ نے رکھا ہے وہ ثواب رمضان کی نفلی نمازوں کا ہے اس لئے کثرت سے نوافل نماز ادا کی جائے اس مہینہ میں ایک فرض نماز کا ثواب ستر(٧٠) فرض کے برابر ہو جاتا ہے اس لئے فرائض نماز کی پابندی نفلی نمازوں کی کثرت تلاوت کلام پاک میں انہماک ذکر و اذکار درود شریف تیسرے کلمہ کی ورد زبان پر جاری رکھنی چاہئے.اس مہینہ کے آخری عشرہ میں اللہ تعالی نے لیلتہ القدر رکھا ہے اور امت محمدیہ کو انمول تحفہ سے نوازہ یہ رات ہزار مہینوں رات سے بہتر ہے بندہ کو چاہئے کہ اس رات کو غنیمت جانے اور خدا کو راضی کرنے اور ثواب کی امید سے اچھے اعمال کرے اس رات نیند اور راحت و آرام کو قربان کر کے اللہ کے حضور ہشاش بشاش حاضر رہےاس رات کی تعین نہیں کی گئی اور کوئی تعین تاریخ نہیں بتائی گئی بلکہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں  میں تلاش کرو ہم ان پانچ راتوں میں جگیں اور شب قدر کو تلاش کریں.اللہ کے حضور حاضر ہوں کبھی تلاوت میں کبھی ذکر و اذکار میں کبھی نوافل میں تاکہ یہ رات ہمارے لئے ایسے وقت میں سامان نجات بنیں جب ہم نیکی کے لئے محتاج ہوں اور سارے سہارے ٹوٹ جائیں۔
رمضان ہمدردی اور غمگساری کا مہینہ ہے اپنے ماننے والوں کو انسانی ہمدردی کا درس دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ انسان ایک دوسرے کا ہم درد اور مددگار بنے اس لئے صاحب ثروت کو مال خرچ کرنے کی تاکید کی اور صدقہ فطر کو متعین کیا مقرر کیا تاکہ غرباء و مساکین مفلس و نادار ان خوشیوں سے مایوس اور محروم نہ رہ جائیںامراء کے بچے زرق برق لباس زیب تن کریں اور ان کے بچے کپڑوں کے منتظر رہیں اور ان نعتوں کو حاصل نہ ہونے کی صورت میں شکستہ دل اور احساس کمتری کے شکار ہو جائیں اور ان کی خوشیوں پر پانی پھر جائے۔امراء کے دسترخوان پر سحر و افطار اور کھانے کے وقت پر لطف اور لذت بخش انواع و اقسام کے کھانے کی چیزیں ٹھنڈے اور میٹھے مشروبات موجود ہوں اور ان کے فریج ان اشیاء سے بھرے ہوئے ہوں اور بغل کا غریب پڑوسی ان نعمتوں سے محروم صرف نمک روٹی اور پانی پر صبر و قناعت کرے  اسی دکھ اور درد کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالی نے مالداروں کو اپنے راستہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا اور ان کے مال میں غریبوں کا حق رکھا ہے خفیہ طور پر خرچ کرنے کو بہتر بتایا ہے تاکہ لینے والے ہاتھ کو ذلت و رسوائی اور شرمندگی نہ ہو اس کی غریبی اس کی ذلت کا سبب نہ بن جائے اور دینے والے ہاتھ کبر و غرور کا شکار نہ ہو جائے۔آج بھی غریب پرور لوگ موجود ہیں جنہیں غریبوں کی فکر دامن گیر رہتی ہے وہ خفیہ یا اعلانیہ صدقہ کرتے ہیں مگر تصویر نہیں کھچواتے اور شہرت و ناموری کے خواہاں نہیں ہوتے ہیں صدقہ و خیرات کر کے خدا سے ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ کار خیر منہ پر نہ مار دئے جائیں اور خدا کے دربار میں دھت کار نہ دئے جائیں.آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ داروں کو افطار کرانے کی فضیلت بتائی ہے اور فرمایا کہ روزہ افطار کرانے سے پورا ثواب ملے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی.روزہ افطار کرانے کے لئے کھجور اور پانی کو بھی قابل قدر سمجھا اس لئے اپنی استطاعت کے بہ قدر روزہ داروں کے افطار کرانے کا جزبہ پیدا کرنا چاہئے تاکہ غریبوں کا بھلا ہو سکے اور اللہ کی نگاہ میں ہم سرخرو ہوں ہم رحم دل بنیں اور رحم دلی کا جزبہ پیدا کریں اسلام کے اس سبق کو یاد رکھتے ہوئے غریبوں محتاجوں کو تلاش کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہئے.رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہمارے لئے سراپا رحمت ہے اس کے ایک ایک لمحے کو غنیمت سمجھیں گھر کی عورتوں کو بھی آمادہ کریں کہ وہ نیکی اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے میں پیش پیش رہیں زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن سنن و نوافل کی کثرت ذکر و اذکار کی پابندی صلوة و حاجت اور صلوة تہجد کا شوق پیدا کریں اللہ کے سامنے دامن پھیلا کر اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور آئندہ ان گناہوں کی قدم نہ اٹھانے کا عزم کریں اللہ رحیم ہے وہ ہمارے خطاؤں کو در گزر کرے گا ہمیں دنیا میں اچھی زندگی عطا کرے گا اور مرنے کے بعد قبر کی زندگی پل صراط کی ہولناکی اور محشر کی گرمی سے بچا کر اپنے فضل و کرم سے راحت آرام کی زندگی عطا کرے گا۔


No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...