Translate

Monday, May 11, 2020

اسلامی شریعت میں مصائب ومشکلات اور اُن کا حل مفتی عین الحق امینی قاسمی

                     اسلامی شریعت میں مصائب ومشکلات اور اُن کا حل

مفتی عین الحق امینی قاسمی

  مصائب ومشکلات یہ دوایسے ہم معنی لفظ ہیں،جس سے تما م مخلوقات کواس کی نوعیت کے اعتبا ر سے واسطہ پڑتا ہے، کبھی کم اور کبھی زیادہ، یہی وجہ ہے کہ جب ہم اپنے معاشرے پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو انسانوں میں مختلف طبقات کے افراد ،الگ الگ پریشانیوں میں گھِرے نظر آتے ہیں،چاہے وہ نیکو کار ہوں یا حد اعتدال سے تجاوز کرنے والے انسان، مصائب ومشکلات سے دوچار ہونا سبھی کے مقدر کا حصہ رہا ہے ،البتہ یہ مصائب ومشکلات ،بعض کے لئے تنبیہ،تو بعض کے لئے آزمائش اور بعضوں کے لئے عذاب وسزاکے طور پر لاحق ہوتی ہیں ۔ عام طور پر جو مصائب وتکالیف گنہگاروں کو دی جاتی ہیں وہ تنبیہ کے طور پر ہوتی ہیں ،ان تکالیف کے نتیجے میں بہت سے بھلے انسان ہوش کے ناخن لے کر اپنی اصلیت پر لوٹ آتے ہیں ،یعنی عبدیت کو اختیار کرتے ہوئے وہ ان تکالیف سے عبرت پکڑتے ہیں، راہ راست پر آکر مطیع وفرماں بردار بن جاتے ہیں ،تو ایسوں کے حق میں یہ مصائب، تنبیہ ثابت ہوتی ہیں ،جب کہ بہت سے لوگ ،ہزار ہا تکالیف وآلام میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے ،بلکہ وہ بے راہ روی ، عداواں و سرکشی کی طرف بڑھتے ہی جاتے ہیں ،ان جیسوں کے لئے یہ مصائب، دنیا ہی میں بطور عذاب وسزاہیں۔

    یہ بات طئے ہے کہ مصائب اللہ کے حکم سے آتی ہیں ، مگر انسانوں کے افعال کے عمل دخل کے سبب آتی ہیںجیسا کہ قرآن نے سورہ شوری کی آیت نمبر ۳۰ میں کہا ہے :اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوںکئے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگذر ہی کرتا ہے۔ آگے سورہ فاطر آیت نمبر ۴۵ میں فرمایا :اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کرتو توں پر مواخذہ شروع فرمادے تو زمین پر کوئی چلنے والا ہی باقی نہ رہے۔ اسی طرح سورہ روم آیت نمبر ۴۱ میں فرمایا :  لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی ا س کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا ،تاکہ انہوں نے جو کام کئے ہیں اللہ اُن میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھا ئے ،شاید وہ باز آجائے ۔’’ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو عام مصیبتیں لوگوں پر آئیں ،مثلاً قحط،وبائیں،زلزلے،ظالموں کا تسلط،اُن سب کا اصل سبب یہ تھا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی ،اور اس طرح یہ مصیبتیں اپنے ہاتھوں مول لیں،اور ان کا ایک مقصد یہ تھا کہ ان مصائب سے دوچار ہوکر لوگوں کے دل کچھ نرم پڑیںاوراپنے بُرے اعمال سے باز آئیں،یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ دنیوی مصیبتوں کا بعض اوقات کوئی ظاہری سبب بھی ہوتا ہے ،جو کائنات کے طبعی قوانین کے مطابق اپنا اثردِکھاتا ہے،لیکن ظاہر ہے کہ وہ سبب بھی اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کیا ہواہے اور اس کو کسی خاص وقت یا خاص جگہ پر مؤثر بنا دینا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے ہوتا ہے اور عموما ً  اُس کی بنیادی وجہ انسانوں کی بداعمالیاں ہوتی ہیں‘‘ (توضیح القرآن ،ج:۳،ص:۱۲۴۸)
       سورہ نساء آیت نمبر ۷۹ میں بیان کیا گیا کہ :  تمہیں جو کوئی اچھا ئی پہنچتی ہے وہ تو محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو کوئی برائی پہنچتی ہے وہ تو تمہارے اپنے کسی عمل کی وجہ سے پہنچتی ہے۔اسی طرح سورہ تغابن آیت نمبر ۱۱ میں فرمایا گیا کہ: کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیںآتی اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ، ’’یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے دل کو مصیبت کے وقت یہ اطمینان عطا فرماتا ہے کہ ہر مصیبت اللہ کے حکم سے آتی ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے‘‘  سورہ حدید آیت نمبر ۲۲ میں فرمایا کہ : کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو ،مگر وہ ایک کتاب میں اس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا ۔سورہ سجدہ میں فرمایا کہ : اس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم اُنہیں کم در جے کے عذاب کا مزہ ضرورچکھائیں گے،شاید یہ باز آجائیں۔یعنی آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے  اسی دنیا میںانسان کو چھوٹی چھوٹی مصیبتیں اس لئے پیش آتی ہیں تا کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرکے اپنے گناہوں سے باز آجائے۔
          مذکورہ بالا آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی شریعت میں مصائب ومشکلات کا ذمہ دار انسانی جانوں اور اس کے ذریعے وجود میںآنے والے اعمال کوبنایا گیا ہے ،اور ا یسا اس لئے کیا گیا ہے تا کہ بندہ اپنی طاقت وقوت ، عقل وخرد،مال وزرودیگر اسباب ووسائل پر بھروسہ کر کے اِترانے اور سرکشی کرنے کے بجائے دنیا میں آنے والی مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ سے رجوع کرے اور اپنی طرف سے ہونے و الے گناہوں سے توبہ کرے اور آئندہ ایسی بزدلی وسرکشی سے بچنے کی اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرے۔
       یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اللہ کی طرف سے مومنوں کے لئے عمومی سزا یا آزمائش تب شروع ہوتی ہے جب بندہ اجتماعی طور پر اعمال صالحہ کو ترک کرنا شروع کردیتا ہے ،یا مجموعی طور پر نواہی سے بچنا بند کردیتا ہے ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ کسی بھی بندے کا  ذاتی عمل، عمومی سزا کا سبب نہیں ہوتا ،مثلاً ایک شخص احکام خداوندی پر عمل نہیں کرتا تو اس سے پوری قوم کو سزا نہیں دی جاتی ، ہاں اس آدمی کے لئے یہ گناہ، موجب خسران ضرور ہوگا اور دنیا وآخرت میں اس کی سزا ضرور وہ بھگتے گا ،مگر جب نافرمانی عام ہوجاتی ہے ،عمومی سطح پر احکام خدا وندی کی پامالی ہونے لگتی ہے ،لوگ جب اسباب دنیا میں مست ہوکر اپنے رب سے غافل ہوجاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تنبیہ ،مختلف علاقوں میں الگ الگ شکلوں میں مصائب ومشکلات کا نزول ہوتا ہے ، اس میں وہ لوگ تو پِستے ہی ہیں جنہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ،اُس کے ساتھ وہ لوگ بھی مصائب وآلام کا شکار ہوجاتے ہیں جو دین پر عمل پیرا ہوتے ہیں ،جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ : اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور،کبھی خوف سے کبھی بھوک سے اور     کبھی مال وجان اور پھلوں میں کمی کرکے۔جولوگ ایسے حالات میں صبر سے کام لیں اُن کو خوشخبری سنادو۔ مصائب ومشکلات کے حوالے سے گذشتہ سے پیوستہ قوموں کی تاریخ یا موجودہ دور میں دین کے تعلق سے ہماری سرد مہری اور ذاتی عمل تک دین کو محدود کرنے او ر احکام خداوندی سے عملاًچشم پوشی کا جو مزاج ہے اور بے جاتاویلوں کے ذریعے چور دروازہ نکال کر دلوں کو جھوٹی تسلی دینے کا جو رجحان بڑھتا جارہا ہے وہ بھی دیدئہ عبرت ونگاہ ہے ۔ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود ،یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔ قوت فکر وعمل پہلے فنا ہوتی ہے ،تب کسی قوم کی قسمت پر زوال آتا ہے ۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی ،نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا۔وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر ،اورتم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر۔ اور سورہ بقرہ کی یہ آیت بھی ہمارے فکر وشعور کی قلعی کھولنے کے لئےکافی ہے :  توکیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور دوسرے کو نہیں مانتے؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے دنیا کی زندگی کی ذلت ورسوائی کے، اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف، اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو‘‘۔ چنانچہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم میں سے ہر ایک کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایک بڑے عذاب سے پہلے جو مہلت ہمیں دستیاب ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں اور توبہ کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں۔
     دوسری چیز یہ ہے کہ جب جب حضرات انبیا علیہم ا لصلوٰۃ والتسلیم یا اُن کے متبعیین نے اجتماعی طور پر دینی اعمال کو زندہ کرنے کی فکر کی ہے اور دین حق کی اشاعت وحفاظت کی کوشش شروع کی ہے تب تب اُن کو آزمائشوں سے گذرنا پڑا ہے یعنی اللہ کا ایک محبوب بندہ ذاتی طور پر ایک مقام پر رہ کر دین پر عمل کررہا ہے تو اُ س کے اُس ذاتی عمل کی وجہ سے اجتماعی طور پر آزمائشوں کا سلسلہ شروع نہیں ہوگا ، ہاں انفرادی طور پر وہ بھی آزمایا جائے گا ،لیکن جب اُس عمل کی اشاعت اجتماعی فکروں کے ساتھ ہونے لگے گی تو سازشی کے کان کھڑے ہوجا  ئیں گے اوراُس عمل ،تحریک اور مشن کو ختم کرنے کے لئے اُن کی پلاننگ شروع ہوجائے گی اِس طرح آزمائشوں کے گھیرے میں نیکو کار آ تے چلے جائیں گے اورجب بھی اجتماعی مفاد اور سما جی قوت کے استحکام کے لئے کام کیا جائے گا ،آزمائشوں کا دور آئے گا ،اپنے اور بیگانے نشانے پر رکھنے کا کوئی موقع شاید ہاتھ سے جانے نہ دیں۔
        جہاں تک یہ سوال ہے کہ بدکاروں کے ساتھ نیکو کار ،مصائب ومشکلات میں کیوں مبتلا ہورہے ہیں ،تو اس کا جواب یہ ہے کہ مصیبتیں تو آئیں گی ،یہ آنے کے لئے ہی بنائی گئی ہیں ،  بھلے بُرے سبھوں کے ساتھ آئیں گی ،مگر بھلے لوگ اگر مصیبت کی زد میں آتے ہیں تو اِس سے ان کی خطائیں معاف ہوں گی یا اُن کا درجہ بلند ہوگا ۔ خود رسول پاک  ﷺ نے فرمایا کہ: مومن کو کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس پر نیکی عطا فرماتے ہیں ۔(ترمذی) سورہ بقرہ میں فر مایا گیا کہ: مسلمانو! کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے حالاں کہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے،جیسے اُن لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے گذرے ہیں ،اُن پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انہیں ہلا ڈالا گیا ،یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھی بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ سورہ توبہ میں فرمایا کہ : کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تمہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ۔ یہ آیا ت بتا رہی ہیںکہ بھلے لوگ بھی آزمائشوں کی زد میں آئیں گے اور اُنہیں محبت و استقامت کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا ، تاکہ یہ دنیا والوں کے سامنے واضح ہوجائے کہ بھلے کون ہیں اور برے کون ،کس نے ہر حال میں اپنے رب کو راضی کرنے اور اس کا حقیقی بندہ بن کر زندگی جینے کی پوری کوشش کی ہے اور مصائب ومشکلات پر صبر کیا  ہے ،  یقیناً ایسے ہی لوگوں کو  مصیبتوں میں نیکیاں ملتی ہیں اور انہیںکے لئے ہمیشہ کی جنت اور جنت کی ساری نعمتیں تیار کی گئی ہیں۔

      یہاں پر ایک سوال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا پچھلے لوگوں کی سزا موجودہ لوگوں کو مل سکتی ہے ؟یعنی جس طرح باپ دا کی نیکی آنے والی نسل کے آگے اُتر تی ہے کیا اسی طرح باپ دادا کی برائی کی سزا اس کی نسل کو بھی مل سکتی ہے ؟ اس بارے میں اخروی معاملہ بالکل صاف ہے کہ ہر ایک کو اس کے کئے کی سزا ملے گی البتہ دنیاوی معاملات میں قرآن سے جو ہمیں رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ جب حضرت موسی وخضر علیہما السلام ایک گاؤں پہنچے تو وہاں دو یتیم بچوں کے گھر کی ٹیڑھی دیوار کو سیدھی کرنے کا جوکام کیا تھا وہ دراصل اللہ نے کروایا تھا اور وجہ یہ بتا یا کہ چوں کہ اُن د ونوں کے والد نیک اور صالح تھے ، گویایہاں بچے کو اپنے والد کی نیکی کی جزا دی گئی ہے ،سورہ کہف آیت نمبر ۸۲ میں ہے  :رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑ کوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا،اس لئے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کی عمر کو پہونچیں اور اپنا خزانہ نکال لیں ۔مشہور محقق مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی لکھتے ہیں کہ : ’’ نیکی کے اچھے اثرات اور اس کا فیض کئی نسلوں تک پہنچتا ہے ،اثرات ِ بد میں کلام ہے ،البتہ صحیح یہ ہے کہ اگر کوئی باپ دادا کے برے اعمال میں شریک ہوگا یا اسے اچھا سمجھے گا توبر ے اثرات مرتب ہو ں گے،جیسا کہ سورہ کہف آیت نمبر ۸۲ اور سورہ مائدہ آیت نمبر ۱۰۴سے اس کی صراحت ہوتی ہے  ‘‘۔(مقالات نیموی)  اس کے علاوہ بھی بہت سی سماجی برائیاں اور مصائب ومشکلات ہیں جن کی قرآن نے نشاندہی کی ہے ،اگر ان سے نہ بچاگیا اور ان سے بچنے کی کوشش نہ ہوئی ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا سبق یاد نہیں رکھاگیا تو مشکلات سے ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا ،ہم دن بدن اللہ کی رحمتوں سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔
          ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ سے جڑیں اور ان کی اطاعت بجا لائیں ،گناہوں سے بچیں ،منکرات اور فواحش کے پھیلاؤ کا ذریعہ نہ بنیں،ان کی دی ہوئی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں ،اپنی پیشانیوں سے مسجدوں کو آباد رکھیں ،حرام وحلال کی تمیز کے ساتھ روزی کمانے کی فکر کر یں،اپنے گھروں میں دین زندہ رکھنے کی سچی فکر کریں،دین زندگی میں اللہ کی اطاعت سے آتا ہے ، ،اپنے ظاہر وباطن دونوں جگہ جب ہم رب کو حاضر وناظر جانیں گے تواطاعت والی زندگی نصیب ہوگی اور ہماری زندگی دیندارکہلائے گی۔اللہ سے دعائیں مانگنا ہمارے لئے بندگی کی علامت ہے، اپنے رب کی کامل بندگی سے دعائیں قبول ہوں گی،ہمیں اُن سے دعائیں کرنی چاہئے اور خوب دل سے پوری محتاجگی کے ساتھ مانگنی چاہئے ، یہ وقت ہے جب ہمارے لئے اللہ سے مانگنے کا موقع ملا ہوا ہے ، اس میں اپنے لئے ،اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے اور ملک کی امن و سلامتی کے لئے دعائیں کرنی چاہئے۔
         مصا ئب ومشکلات سے بچاؤاور اس سے تحفظ کے لئے ’’  توبہ واستغفار ‘‘ کی کثرت کو قرآنی اور نبوی علاج  بتلا یا گیا ہے،چنانچہ سورہ نوح،آیت نمبر۱۰ میں فرمایا گیا کہ : اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو ،یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے ، سور ہ غافر میں فرمایا کہ : اللہ ہی گناہ کا بخشنے والا اورتوبہ کا قبول فرمانے والا سخت عذاب والا، انعام وقدرت والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اُسی کی طرف واپس لوٹنا ہے ،اُسی سورہ میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : تو صبر کر ،اللہ کا وعدہ بلا شک وشبہ سچا ہی ہے تو اپنے گناہ کی معافی مانگتا رہ اور صبح وشام اپنے پر ور دگا ر کی تسبیح اور حمد بیان کرتا رہ ۔سورہ نساء میں فرمایا کہ: اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو ،بے شک اللہ تعا لیٰ بخشش کرنے والا ،مہر بانی کرنے والا ہے۔سورہ نصر میں ارشاد فرمایا کہ : تو اپنے رب کی تسبیح وتحمیدکر اور اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ ،بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ کہہ دواے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بالیقین اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے ،واقعی وہ بڑی رحمت اور بڑابخشش والا ہے ، (سورہ زمر ،آ یت ۵۳)نبی ﷺ نے فرمایا توبہ واستغفار کرنے سے مصائب ومشکلات دور ہوجاتی ہیں اور ایسی جگہ سے روزی  پہینچاتے ہیں جہاں سے بندے کو گمان بھی نہیں ہوتا ہے،،نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا : ابن آدم کا ہر فرد خطا کا ر ہے اور بہتریں خطاکار معافی مانگنے والا ہے ،نبی ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ سے توبہ کرو اور اس سے معافی مانگو ،کیوں کہ میں دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں،(صحیح بخاری وترمذی)
            ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ بیماری اللہ دیتا ہے اوراللہ کے حکم سے ہی صحت و شفاملتی ہے ، چھواچھوت سے بیماری پیدا نہیں ہوتی جس اللہ نے پہلے کو بیمار کیا ہے وہ دوسرے کو بھی بیمار کرنے کی قدرت رکھتا ہے،مگر احتیاط رسول مقبول  ﷺ سے ثابت ہے، چاہے صحت مند اونٹ کو بیمار اونٹ سے الگ رکھنے کی بات ہو  یا جہاں طاعون پھیلا ہوا ہو وہاں سے بھاگنے یا وہاں نہ آنے کی ہدایت ہو اور یا کھانے سے پہلے ،کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کی تعلیم ہو یا کھانستے اور جمائی لیتے وقت اپنے منھ پر ہاتھ رکھنے کا حکم ہو اور یا دواوعلاج کی سنت ہو ،اِن سب کے پیچھے احتیاطی تدابیر ہی کار فرما ہیں ، اس لئے احتیاطی تدابیر کے طور پر جو بھی جائز طریقے سماجی سطح پر کورونا جیسی وبا ؤںسے بچنے کے لئے بتلائے جائیں ،اُنہیں برتنا چاہئے اور اس سلسلے میں جو تحفظاتی ہدایات جاری کئے گئے ہیں اس پر عمل بھی کرناچاہئے  ۔ اللہ کے کچھ نیک بندوں کی طرف سے انسانی ہمدردی میںکرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سوشل میڈیا پر اس وقت چند دعا ئیں اور وظائف کا عمل بتایا جارہا ہے، کچھ مختصر ہیں تو کچھ طویل تر، لوگوں کی مانیں تو وہ صحیح اور غلط سے زیادہ ضروری اور غیر ضروری میں شکوک وشبہات کے شکار ہیں ، متعدد واسطوں سے مذکور دعائیں اور طریقے جو سوشل میڈیا پر گشت کررہے ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،کہیں ۱۳ مرتبہ پڑھنے کی تاکیدمذکور ہے تو کسی میں ۳۱۳ مرتبہ،اسی طرح کئی دعائیں ہیں جن میں احباب تردد کے شکار ہیں کہ اُسے پڑھنا چاہئے یا اِسے ،یہ پڑھنا بہتر ہے یا وہ ، کچھ لوگ خواب کا حوالہ دے کر اپنے عمل کو مؤید کررہے ہیں اپنی طرف سے جاری کردہ معمولات کا پابند بنانے کے لئے وہ بشارتوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
           حالاں کہ لوگوں کا ماننا ہے کہ قرآن میںمذکور دعائیں اور حدیث پاک میں ذکر کردہ مسنون مناجات سے اللہ ہماری مشکلوں کو دور کرسکتا ہے ،اس لئے وہ دواؤں کے ساتھ دعاؤں کا سہارا لینا چاہتے ہیں ،مگر جب ایک موقع کی الگ الگ دعائیں ان کے سامنے ہوتی ہیں اور الگ الگ دینی رہنماؤں کی طرف سے ان کو پڑھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو وہ الجھنوں کے شکار ہوجاتے ہیں، ایسے میں ضرورت ہے کہ امت خود بھی کسی الجھن کا شکار ہوئے بغیر، اس سلسلے میں اپنے کسی قریبی عالم دین اور دین کے بھروسہ مند جانکار سے رابطہ کر کے اذکار مسنونہ کا تعین کرلے اور حسب سہولت جتنا ہوسکے اُن اذکار کی پابندی کرے ،اس میں شرعا ً کوئی جبر واکراہ نہیںہے،اپنی سہولت کے پیش نظر بتائے گئے معمولات میں سے کچھ متعین کرلے ،ہاں البتہ خواب وبشارت سے الگ اُن معمولات کو ترجیح دینا چاہئے ،جو مسنون ہوں ،دعاء مسنونہ مقبولیت اور مفید تر ہونے میں زیاد ہ مؤ ثرہے، دعاء مسنونہ کا مطلب ہے جو دعاء جناب محمد رسول اللہ  ﷺ سے پڑھنا ثابت ہو ،یقینا ً دعاؤں کے جو الفاظ رسول پاک سے ثابت ہوں گے ،بعینہ اُنہیں الفاظ کے ساتھ اللہ سے مدد مانگنے میںہماری فریاد رب کے دربار میں جلد سنی جائے گی اور ہم مصائب ومشکلات سے بخوبی نکل پائیں گے ۔
        مشکلوں سے گھبرانا نہیں چاہئے ،مشکلوں سے نکلنے کی تدابیر اپنانی چاہئے ، اپنے بازو میں قوت وطاقت بھی چاہئے اور بطور اسباب کچھ مال وزر بھی ، جذبات پر قدرت رکھتے ہوئے میٹھے بول کا سہارا لے کر دلوں کو فتح کرنے کا حوصلہ رکھا جائے،مگر یہ بھی یاد رکھئے کہ کبھی کبھی پھپکار اور پھٹکار بھی علاج ثابت ہوتی ہے ۔ مشکلے نیست کہ آساں نہ شود،مرد باید کہ ہراساں نہ شود۔ مشکلات سے جو ڈر جائے وہ انسان نہیں ہوتا ، مصائب میں جو گھبرا جائے وہ مسلمان نہیں ہوتا ۔ حق کی راہ میں آزمائشیں آتی ہیں ،مگر جب بندہ کہتا ہے کہ میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں اور پھر اس پر جمتا ہے تو اللہ کی مدد آتی ہے اوردل میں یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ اللہ کہہ رہا ہے گھبراؤ مت ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ حالات کو پلٹنے والے اور دلوں کو پھیرنے والے ہیں ۔ آزمائش ہے نشان بندگان محترم ،امتحاں ہوتا ہے اس کا جس پہ ہوتا ہے کرم ۔ مومنوں کے ساتھ مصائب ومشکلات کا ایک لامتنا ہی سلسلہ رہا ہے ،مگر تمام تر پریشانیوں کو جھیلتے ہوئے یہ گنگنانے کی سکت بھی ہونی چاہئے کہ : میں کسی حال میں مایوس نہیں ہوسکتا ،ظلمتیں لاکھ ہوں امید سحر رکھتا ہوں۔  موجودہ حالات کے پیش نظربہت ہی قیمتی نسخہ مخدوم گرامی قدر امیر شریعت بہار اڑیسہ جھار کھنڈمفکر اسلام محترم مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا ہے کہ :  دشواریاں آتی ہیں اور دشواریاں آئیں گی، مصیبتیں آتی ہیں اور مصیبتیں آئیں گی، مصیبتیں تو پیدا اِسی لیے پیدا کی گئی ہیں کہ وہ آئیں، لوگوں کو پکڑیں، انہیں آنے سے کوئی روک نہیں سکتا، اس لئے کہ مرضی مولا یہی ہے۔ اللہ تعالی نے مصیبتیں اس لیے نہیں بنائی کہ وہ کسی جیل خانے کے اندر بند رہیں، وہ تو اس لئے ہی بنائی گئی ہیں کہ بندوں کے درمیان آئیں، جسے چاہیں پکڑیں۔ شیطان اور ابلیس کا اپنا کام ہے وہ اپنے کام میں لگا ہوا ہے، مصیبتیں اور آفتیں بھی اپنی روش پر چل رہی ہیں، ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ارادے اور عزائم میں کمزوری نہیں آنی چاہیے، ہمیں اور آپ کو شکست حوصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اگر میدان میں شکست کھا بھی جائیں، تو کوئی خاص بات نہیں، شکست حوصلہ نہ ہوں، یہ خطرناک بات ہے، اس لئے حوصلہ کے ساتھ جئیں اور حوصلے کے ساتھ مرنے کا ارادہ بنائیں۔
 خلاصہ کلام:    سورہ شوری کی آیت نمبر ۳۰ کی تفسیر میں علامہ بیضاوی ؒ نے بڑی اچھی بات لکھی ہے کہ :یہ آیت ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جن سے گناہ سرزد ہوسکتے ہوں، چنانچہ انبیاء علیھم السلام ،نابالغ بچے اور مجنوں اس آیت کے مخاطب نہیں ہیں،چوں کہ اُن سے گناہ سرزد نہیں ہوتا ، یا گناہوں کے کفارے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،اس لئے اِس حکم میں یہ داخل نہیں،مگر انبیاء اور درجہ بدرجہ اللہ کے نیک اورمخلص بندوں کوجو تکلیف پہنچتی ہے اس کے اسباب الگ ہیں ،منجملہ اُن اسباب میں سے رفع درجات اورایک خاص تربیت بھی ہے۔عام مومنین کے ساتھ جو پریشانیاں آتی ہیں ،چاہے آسمانی آفت،بارش،آسمانی ،بجلی،زلزلہ،آپس کے جھگڑے،بد امنی ،گھریلو حالات،معاشی تنگی یا ملک میں پائی جانے والی بے چینی وغیر ہ یہ سب اُن کے اعمال اور گناہ کا نتیجہ ہے ، اِن حالات میں ایک تو اللہ اپنے مومن بندے کو پاک وصاف کرانہیں اجرو ثواب سے نوازتا ہے ،بعض دفعہ اُن کے درجات کو بلند کرتا ہے ،اُن کے گناہوں کو مٹاتا ہے ،جن گناہوں کی وجہ سے آزمائشوں میں ڈالتا ہے ،قیامت کے دن اُن گناہوں کے بارے میں باز پُرس نہیں فرمائیں گے  ،مگر  سمجھنے کی چیز یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی مصیبتوں پر جو صبر کرے گا اُس بندئہ مومن کے لئے یہ سب بشارتیں ہیں اور اُن مصائب وآلام پر جوجزع فزع اور اللہ کی جانب شکوہ شکایت کاطریقہ اپنائے گا وہ اجر کے بجائے زجر کامستحق ہو گا،اور جو اِن حالات کے باوجود بھی رجوع الی اللہ نہیں کرے گاگنا ہوں سے باز نہیں آئے گا ، سچی پکی توبہ واستغفار کے ذریعہ معافی کا طلب گار نہیں ہوگا ،ایسے تمام لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب وعتاب کا شکار اور سزا کے مستحق ٹھہریںگے۔ مصائب ومشکلات کا حل یہ ہے کہ کثرت سے توبہ واستغفار کا اہتما رکھا جائے ،اپنی دعاؤں میں اللہ سے فریاد کیا جائے، آئندہ گناہوں سے بچا جائے،حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خاص خیال رکھ کر انکا اہتمام کیا جائے ،سماجی اور معاشرتی برائیوں سے بچا جائے، ذاتی زندگی میں بھی اور گھر خاندان کے سلسلے میں بھی نافرمانی کرنے سے ڈراجائے،احکام باری تعالیٰ اور تعلیمات نبوی ﷺ پر سختی سے عمل کرنے کی ہرممکن کوشش ہو تاکہ ہم ذلت ورسوائی اور دنیاکی چند روزہ زندگی میں بد دینی سے بچ کر آخرت کی ہمیشہ ہمیش والی زندگی میں سرخرو ہوسکیں












No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...