محمد صدر عالم ندوی ویشالی
9661819412
مفتی عبد السلام قاسمی مدرسہ اسلامیہ اماموری ،پاتے پور، ویشالی کے مدرس تھے ،بعد میں صدر مدرس اور اسی عہدہ سے 28 فروری 2026 دس رمضان المبارک 1447ھج بروز سنیچر مدرسہ بندی میں اپنی باسٹھ سالہ مدت ملازمت بحسن و خوبی پوری کرنے کے بعد ریٹائر کر گئے ،مفتی صاحب میرے والد محترم مولانا عبد القیوم شمسی کے ریٹائرمنٹ نومبر 2022 کے بعد مدرسہ کے صدر مدرس منتخب ہوئے تھے گویا کہ تین سال صدر مدرس رہے 2025 سے ہی اپنی بیماری کی وجہ سے چارج مولانا انور رحمانی کو دے کر میڈیکل پر چلے گیے تھے اس لحاظ سے اب مولانا محمد انور رحمانی صدر مدرس ہوئے مدرسہ اسلامیہ اماموری میں پرائیویٹ سطح سے بہت سارے اساتذہ آءے اور چلے گئے سبھوں نے اپنی اپنی جگہ مدرسہ کی خوب محنت کی اور بام عروج تک پہونچانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن چھ لوگوں کی جوڑی بے مثال تھی جس میں سے پانچ لوگ ریٹائر کرکے تین لوگ حافظ محمد توحید عالم ،ماسٹر محمد شمیم انجم اور ماسٹر محمد مظفرعالم اللہ کو پیارے ہو گئے اب والد محترم مولانا عبد القیوم شمسی اور مفتی عبدالسلام با حیات ہیں مولانا محمد انور رحمانی ضابطہ کے مطابق اپریل دو ہزار چھبیس تک ہیں اس کے بعد چھ پہیے کی گاڑی مدرسہ سے ختم ہو جاءے گی ۔ان لوگوں نے مدرسہ کو اپنا سمجھا اور اسی سوچ کے ساتھ مدرسہ کا کام کیا کبھی ذہن و دماغ میں بھی نہیں آیا کہ یہ سرکاری مدرسہ ہے اور ہم سرکاری اساتذہ ہیں ان لوگوں کی بحالی بھی صاف ستھرے ماحول میں ہوئی تھی اور اس وقت کے ذمہ دار بھی مخلص اور مدرسہ کے حق میں بہی خواہ تھے آج جو مولانا محمد امام الدین ندوی ،مولانا محمد جنید عالم ندوی، مولانا محمد قمر عالم ندوی، حافظ رضی احمد ،محمد ابصار عالم ندوی، حافظ ندیم انجم ندوی اور راقم الحروف وغیرہ اسی دور کی پیدوار ہیں مولانا محمد نظیر عالم ندوی نے ماحول بنایا تھا اور ان کے مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں چلے جانے کے بعد مفتی عبدالسلام قاسمی نے اس ماحول کو اور چار 🌙 لگا دیا یہ لوگ جہاں بھی رہیں گے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے مفتی صاحب مدرسہ میں قابلیت اور صلاحیت کی بنا پر بحال ہوئے تھے اسی وجہ کر ان پر کسی کی انگلی نہیں اٹھتی تھی ۔ مجھ سے بے تکلف تھے اور بہت کھل کر بات کرتے تھے شکوہ شکایت سے دور رہتے تھے خالی اوقات کو تلاوت یا مطالعہ میں صرف کرتے تھے کتاب کے شوقین تھے ایک چھوٹی سی لائیبریری بھی ان کی اپنی تھی میری کتاب جب بھی چھپ کر آتی بہت خوش ہوتے اور یہ بھی کہتے کہ اپنی کتاب مجھے بھی دیجیے اور جو قیمت ہو لے لیں گے یہ ان کا بڑکپن تھا اور چھوٹوں کو آگے بڑھانے کا جذبہ ۔اب ایسے لوگ کہاں؟ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ لفظ مفتی ایسا ان کے ساتھ سابقہ کے طور پر لگا کہ لوگ اصل نام بھول گیے اور سابقہ ہی سے مدرسہ اور اس کے آس پاس مشہور ہوئے ۔مفتی صاحب دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے مدرسہ حسینیہ دلدار نگر یوپی میں بھی پڑھایا تھا مفتی صاحب کے آنے کے بعد عوام کا رشتہ مدرسہ سے بڑھا اور شرعی امور میں دریافت کرنے کے لیے قرب و جوار سے لوگ آنے لگے ان کے جانے کے بعد اس جگہ کا پر ہونا بظاہر مشکل نظر آرہا ہے ویسے اللہ کے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے مفتی صاحب مدرسہ میں تیس سال سے زیادہ رہے اور جب تک رہے اپنی عالمانہ شان میں میں رہے مفتی صاحب ضیافت کے بھی دھنی تھے جب بھی میں حاضر ہوتا اگر صبح کا وقت ہوتا تولٹی اور چاءے پیش کرتے اس کے علاوہ کوئی وقت ہوتا تو چاءے ضرور پیش کرتے میں بخوشی اس کو قبول کرلیتا اور جیب خاص سے رقم ادا کرتے ۔ اس لحاظ سے میں مفتی صاحب کا بہت قرض دار ہوں اور نہ جانے یہ قرض کیسے ادا ہوگا ۔مفتی صاحب کی جاءے پیدائش تو اجرا مدھوبنی رہی لیکن جائے عمل مدرسہ اسلامیہ اماموری ویشالی رہا اپنے دونوں بچوں کو اسی مدرسہ میں پڑھایا کچھ سال اپنی فیملی کے بھی ساتھ رہے چند سال اماموری کے بغل کے گاؤں کواہی اور چک نصیر میں بھی امامت کے فرائض انجام دیے بعد کے دنوں میں گھٹنے کے درد سے پریشان رہتے تھے جس کی وجہ چلنا پھرنا کم کر دیے تھے اور معتکف فی المدرسہ ہو گئے تھے مفتی صاحب کے اندر نمایاں وصف میں نے دیکھی وہ تھی قناعت اور صبر ۔جو ملتا اس پر مضبوطی سے قانع رہتے اور دوسری چیز کتابوں کا شوق ۔خوب مطالعہ کرتے تھے جس کی وجہ کر مدرسہ میں پڑھنے پڑھانے کا ماحول تھا اب مفتی صاحب کس حال میں ہیں پتا نہیں لیکن اللہ سے امید ہے کہ جہاں بھی رہیں گے خیر خوبی کے ساتھ رہیں گے اور اپنا اثر ڈالتے رہیں گے
No comments:
Post a Comment