Translate

Friday, March 27, 2026

ابھی امت کو ایسے افراد کی ضرورت ہے ! محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ یوپی

ابھی امت کو ایسے افراد کی ضرورت ہے !

 محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ یوپی 9506600725

  تعلیم، تدریس،نظام تعلیم، طریقئہ تدریس اور نصاب تعلیم پر برابر گفتگو ہوتی رہنی چاہیے تاکہ خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہے، اور جس زمانہ میں جو چیزیں حدود شریعت میں رہ کراس سلسلہ میں مفید ہوں ان کو اخذ کرنا چاہیے ، اس کو نصاب تعلیم میں شامل کرنا چاہیے ، اور جدید اسباب و وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہیے ، زندگی کے ہر میدان اور شعبہ میں ندرت اور جدت شرعی حدود میں ہم قبول کر رہے ہیں تو تعلیم، نظام تعلیم تدریس اور طریقئہ تدریس اور نصاب تعلیم میں اس ندرت اور جدت کو قبول کرنے میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ہر زمانے کے اعتبار سے افراد و اشخاص کو تیار کرنا اور زمانہ کی زبان اور اسلوب میں اسلام اور فلسفئہ اسلام کو پیش کرنا اور شریعت کے مزاج سے واقف کرانا کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے ؟ کیا ہم اس کے مکلف نہیں ہیں؟ 
اس سلسلہ میں راقم کے ذہن میں چند باتیں ہیں ،جو قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ امید کہ اس پر توجہ دی جائے گی ۔ 
دوستو !!!
    یہ دور اور زمانہ عالمی معاشی ترقی کا دور ہے، ہر شعبہ میں وسعت، جدت اور ندرت پیدا ہو رہی ہے ، سائنس ، صنعت و حرفت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا اتنی ترقی کرگئی ہے کہ پوری دنیا ایک گاؤں کے مانند ہوگئ ہے۔ تحقیق و ریسرچ اور حوالہ و ریفرنس کے بغیر لوگ کسی بات اور حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اس لئے مسلمانوں کو ہر اعتبار سے میدان کار میں آنے کی ضرورت ہے ۔ 
   دوسری طرف مسلمان اس وقت جن حالات سے گزر رہے ہیں اور زمانہ جس تیز رفتاری سے ترقی کی راہ پر ہے، اس پس منظر میں امت کو اس وقت دو طرح کے افراد کی شدید ضرورت ہے ۔ 
    امت کو جہاں ایک طرف دینی، مذھبی، ملی اور سیاسی قیادت کے لئے ایسے راسخ علماء کی ضرورت ہے ، جو ایک طرف تقویٰ و طہارت، صدق و صفا، اخلاص و للہیت ،علم کی گہرائی اور عمل کی پاکیزگی میں اپنے اسلاف کا نمونہ اور ان کے ذوق و مزاج کے امین و وارث ہوں، دوسری وہ حالات زمانہ اور اس کی گردش و رفتار سے واقف ہوں ،نیز وہ جدید اور ماڈرن تعلیم یافتہ طبقے بالخصوص نئی نسل اور نوجوان طبقہ کی الجھنوں اور نفسیات سے اچھی طرح واقف ہوں اور ان کے اندر یہ صلاحیت اور استعداد ہو کہ وہ ان سے ان کی زبان اسلوب اور معیار میں بات کرسکتے ہوں اور ان کو مطمئن کرسکتے ہوں ۔
 علماء کے اس طبقہ میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اسلام کے دین فطرت اور مسائل زندگی کے واحد حل ہونے کا یقین دلا سکیں ۔ 
ان علماء کے دل و دماغ اور ذوق و مزاج پر بگڑے ہوئے سماج اور سوسائٹی کے لئے غصہ اور نفرت کے بجائے داعیانہ ہمدردی اور خیر خواہی کے مثبت جذبات کا غلبہ ہو اور جو محبت،ہمدردی، حکمت اور دلسوزی کے ساتھ نہ صرف اپنوں کو بلکہ برادران وطن اور اور پوری انسانیت کے سامنے اسلام کا محبت بھرا پیغام اچھے انداز اور بہتر اسلوب میں زبان قال اور زبان حال سے رکھ سکیں ۔ آج کےحالات میں یقینا اس امت کو ایسے علماء کرام اور رہبران ملت اور داعیان قوم کی ہر ہر قدم پر ضرورت ہے ۔ 
    اس کے علاؤہ ملت اسلامیہ کو آج کے حالات میں میں اس کی بھی سخت ضرورت ہے کہ امت کا وہ بڑا طبقہ جو قانون، انتظامیہ، سول سروسز، دفاع ،صحت، تعلیم، اکونامس (معاشیات) صحافت، ادب ،سائنس، انجینئرنگ اور صنعت و تجارت کے شعبوں میں ہیں یا ان شعبوں میں پہنچنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں، ان لوگوں پر صحیح محنت کے لئے اور ان کی صحیح اور اسلامی تربیت کے لئے ایسے افراد کی سخت ضرورت ہے جو عصری تعلیم یافتہ لوگوں یا ان اداروں میں زیر تعلیم افراد پر ایسی محنت کریں کہ ان شعبوں میں موجود مسلمان صحیح معنی میں مسلمان بن جائیں اور وہ اپنے اپنے دائرے عمل میں وہ اسلام کی نمائندگی کرنے لگیں ۔ وہ ان شعبوں کی فنی مہارت کے ساتھ ایمانداری اور جذبہ خدمت کے لحاظ سے اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو جائیں ۔ ان کا کام صرف مال کمانا اور عہدہ حاصل کرنا نہیں رہ جائے ۔اور ان کی یہ پیشہ وارانہ مشغولیت صرف مال کمانے کا ذریعہ نہ رہے ۔ بلکہ ان کا مقصد کسب معاش کے ساتھ خدمت خلق دعوت دین اور رضائے الٰہی کا حصول بھی بن جائے ۔ اور وہ اس راستے سے اسلام کا داعی دین کا ترجمان اور نمونہ بن جائیں ۔
    پہلے افراد یعنی راسخ مخلص اور دین دار علماء کی تیاری کے لئے مدارس کی چہار دیواریاں کافی ہیں شرط یہ کہ اس کے لئے منصوبہ بندی کے ساتھ محنت کی جائے اور ان صفات کے حامل علماء کی پوری ٹیم تیار کی جائے، مدارس کو صرف رسمی انداز میں نہ چلایا جائے بلکہ اس کو بیک وقت تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ نیز تبلیغ و اشاعت دین کا مرکز بنایا جائے ۔ 
   دوسری قسم کے لوگوں کو تیار کرنے کے لئے یعنی عصری تعلیم یافتہ لوگوں کے مزاج کو دینی اور دعوتی بنانے کے لئے بہت سے نسخے ہیں اور ہوسکتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک کامیاب حل اور طریقہ وہ ہے جس کا خاکہ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی رح سابق صدر شعبئہ دینیات عثمانیہ یونیورسٹی نے پیش کیا تھا کہ اس کے لئے اسلامی اقامت خانے کو قائم کیا جائے، لیکن افسوس کہ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی رح کی اس تجویز پر امت نے نہ دھیان دیا نہ اس کی طرف پیش قدمی کی ۔ 
   مولانا مرحوم کی فکر تھی کہ مسلمانوں کے لئے کالج اور یونیورسٹیوں کے قائم کرنے سے زیادہ ضروری اسلامی ہوسٹل یا اسلامی اقامت خانے قائم کرنا ہے، جہاں ان کی پوری علمی اور فکری تربیت کی جاسکے، جہاں ان کی نقل و حرکت کی نگرانی ہوسکے، اور ان کی زندگی کو ملت کے لئے مفید اور آئیڈیل بنایا جاسکے، ان اقامت خانوں میں وہ طلبہ قیام کریں، جو سرکاری اور نیم سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوں ۔ اس تجویز کا فائدہ تعلیم گاہوں کے قیام سے زیادہ تھا ،اور کم خرچ بالانشیں کا مصداق تھا ۔لیکن افسوس کہ اب تک کسی نے اس بے مثال تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اگر جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا ملی کونسل، جمعیت اہل حدیث ، جماعت اسلامی ہند چاہ لے اور مخلص مسلمان سرمایہ داروں کو یہ لوگ اس جانب متوجہ کرلیں اور اپنی نگرانی میں اس کام کا بیڑہ اٹھایا لیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ 
اللہ تعالٰی ہم مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ 

  ناشر/ مولانا علاءالدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...