°°°°°°°°°°°°°°°°°
از: آفتاب عالم ندوی۔
ناظم جامعہ ام سلمہ دھنباد جھارکھنڈ ۔
موبائل ۔۔ 7004464267
آج سے پچیس تیس سال پہلے ملک میں ملت کی بیٹیوں کی اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے ادارے انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے، خاص طور پر بہار، بنگال اور جھارکھنڈ میں غالباً ایک بھی مدرسہ ایسا نہیں تھا جہاں عالمہ کا مکمل نصاب پڑھایا جاتا ہو۔ ساؤتھ میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔ نوے کی دہائی سے پہلے خود اترپردیش میں بھی، جو دینی تعلیم کی راجدھانی ہے، لڑکیوں کے ادارے مشکل سے دو تین ہی ہوں گے۔ نوے کی دہائی میں مدارس البنات کی شروعات ہوئی اور پھر تیزی سے لڑکیوں کے مدرسے قائم ہونے لگے۔ اب ماشاء اللہ ہر جگہ بیٹیوں کی اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے ادارے موجود ہیں۔ اگرچہ ابھی تعلیم و تربیت، نصاب اور نظم و نسق میں سدھار اور بہتری کیلئے ان مدرسوں کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔ یہ الگ موضوع ہے، اس پر پھر کبھی گفتگو ہوگی۔
آج مجھے اپنی ان بیٹیوں سے بات کرنی ہے جو عالمہ کے نصاب کی تکمیل کرکے فارغ ہورہی ہیں۔
جامعہ ام سلمہ مسلم لڑکیوں کی دینی و عصری تعلیم و تربیت کیلئے 1996 میں قائم ہوا۔ اس وقت لڑکیوں کی دینی تعلیم کیلئے بہار، بنگال، نیپال وغیرہ میں شاید ایک بھی مدرسہ نہیں تھا۔ اس لیے جب جین مذہب کے مقدس پارسناتھ اسری سے قریب نواٹانڈ گاؤں میں ام سلمہ کا افتتاح ہوا تو موجودہ جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع کے علاوہ بہار کے متعدد علاقوں کی بچیاں ام سلمہ میں داخل ہوئیں اور نصاب کی تکمیل کے بعد سند حاصل کرکے اپنے وطن لوٹیں۔
اگرچہ اب ہر علاقہ میں دخترانِ ملت کی دینی تعلیم کیلئے ادارے قائم ہوچکے ہیں، اس کے باوجود آج بھی جھارکھنڈ، مغربی بنگال، بہار اور اڑیسہ کے دور دراز خطوں سے جامعہ ام سلمہ میں طالباتِ علومِ نبوت کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سال بھی فارغ ہونے والی طالبات میں پٹنہ، پورنیہ، مونگیر، کھگڑیا، جہان آباد، جامتاڑہ، گریڈیہ اور دھنباد کی بیٹیاں شامل ہیں۔
پیاری بیٹیو! آپ نے اپنے مدرسہ کی چہار دیواری میں معلمات کی شفقتوں کی گھنی چھاؤں اور جامعہ کے ذمہ داروں کی دیکھ ریکھ میں آٹھ دس سال گزارے۔ آپ نے کتابیں بھی پڑھیں اور یہاں کے ماحول اور ٹیچروں سے، ان کے اخلاق و کردار اور ان کے فکر و سوچ سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ وقتاً فوقتاً ادارہ میں تشریف لانے اور خطاب کرنے والے روشن ضمیر بزرگوں کی قیمتی نصیحتوں سے بھی آپ نے اذہان و قلوب کو جلا بخشی۔
آپ نے یہاں جو وقت گزارا، وہ آپ کی زندگی کے انتہائی قیمتی لمحات ہیں، کوالیٹی کے اعتبار سے بھی اور کونٹیٹی کے اعتبار سے بھی۔ انسان کی یہی عمر سیکھنے اور ذہن و فکر کی تشکیل کی ہوتی ہے۔ اس عمر میں انسان کو جیسا ماحول ملتا ہے، جیسی تعلیم و تربیت ملتی ہے، عموماً وہ ویسا ہی بنتا ہے۔ اسی عمر کی تعلیم و تربیت اس کا مستقبل طے کرتی ہے۔
اتنے اہم اور قیمتی دن جہاں بھی گزریں، وہ جگہ چاہ کر بھی آدمی نہیں بھلا سکتا۔ خاص طور پر بطور طالبعلم کے جس اسکول اور جس مدرسہ میں آٹھ دس سال گزریں، وہ ماہ و سال کیونکر بھلائے جاسکتے ہیں؟ وہاں کی صبحیں، وہاں کی شامیں، وہاں کے اشجار و طیور، ہاسٹل سے کلاس اور کلاس سے ہاسٹل آنے جانے کے مناظر، معلمات کا جلدی سلانے کی کوشش اور فجر میں جگانا آپ انہیں کیونکر فراموش کرسکتی ہیں؟
آپ اپنی مادرِ علمی سے فارغ ہوکر جارہی ہیں۔ پندرہ بیس روز کی چھٹیوں میں جانے سے اس بار کا جانا مختلف ہے۔ آپ کی چھوٹی بہنیں اسی طرح جارہی ہیں کہ جامعہ جس دن کھلے گا اسی دن ان کی حاضری ضروری ہے، لیکن اس بار آپ نہیں لوٹیں گی، کہ آپ فائنل امتحان دے چکی ہیں۔ جامعہ ام سلمہ کی طالبات جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے زیر انتظام میٹرک اور مادرِ علمی ام سلمہ کے عالمہ کے امتحانات سے فارغ ہوچکی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں ایک روایت یہ رہی ہے کہ فارغ ہونے والی طالبات کے اعزاز میں جونیر طالبات الوداعیہ تقریب کا انعقاد کرتی ہیں۔ اس موقع پر فارغ ہونے والی طالبات نظم و نثر میں اپنے جذبات و احساسات، ادارہ میں گزرے ہوئے ایام اور سینیر و جونیر سہیلیوں کے ساتھ بیتے خوبصورت شب و روز کو بیان کرکے خود بھی روتی اور محفل کو بھی رلاتی ہیں۔ طالبات اپنی بڑی بہنوں کے تجربات دلچسپی سے سنتی ہیں تاکہ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ چھوٹی بہنیں فارغ ہونے والی بڑی بہنوں سے اپنی غلطیاں اور گستاخیاں معاف کرواتی ہیں۔
بیٹیو! آج کے پرفتن دور میں اپنے عقائد اور اپنی تہذیب و شناخت کے ساتھ باقی رہنا ایک بڑا چیلنج اور آزمائش ہے۔ خاص طور پر مسلم خواتین اور بیٹیوں کیلئے بازار سے لے کر تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، دفتروں اور پبلک پلیس ہر جگہ دشواریاں اور آزمائشیں گھات میں لگی ہوئی ہیں۔ بے دینی اور انحراف و فساد کی ہر طرف یلغار ہے۔ مادیت اور سماج میں اونچا مقام و مرتبہ کے حصول کا طوفان آیا ہوا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ پہلے یہ فتنے نہیں تھے، لیکن آج یہ فتنے بڑے طاقتور اور ہر طرح کے اسباب و وسائل سے آراستہ ہیں۔ دین اسلام ہمیں ان تمام چیلنجوں، آزمائشوں اور فتنوں سے مقابلہ کرنے اور اپنی شخصیت و شناخت کی حفاظت کی بہترین رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام پوری زندگی کا ایک کامل و متوازن دستورِ حیات ہے۔ قرآن و حدیث میں زندگی کے تمام مسائل و مشکلات کا حل موجود ہے۔
صحابۂ کرام نے اور پھر تابعین و تبع تابعین، فقہاء و محدثین و مجتہدین اور مجددین و مفکرین نے ہر زمانے میں وقت کے اسلوب و زبان میں شریعت کی توضیح و تفسیر پیش کی ہے۔ دین کے کسی شعبہ میں کسی بھی زمانے میں کوئی غموض و ابہام نہیں رہا ہے۔
آپ نے یہاں اپنے اساتذہ اور استانیوں سے براہِ راست کلامِ الٰہی اور کلامِ نبوت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان دینیات و اسلامیات کے معاملہ میں بڑی مالدار اور خوش نصیب زبان ہے۔ اردو میں دنیا کی بہترین تفسیریں، فقہ و فتاویٰ کے مستند ترین مجموعے اور سیرت و علمِ کلام کے موضوعات پر قابلِ فخر لٹریچر موجود ہے۔ دنیا کی بیسیوں زبانوں میں ان کتابوں کا ترجمہ ہوچکا ہے۔
آپ ان کتابوں سے اپنے مطالعہ میں وسعت و گہرائی پیدا کرسکتی ہیں۔ فراغت کا مطلب کبھی یہ نہیں ہوتا کہ سیکھنے اور مطالعہ کا سلسلہ ختم ہوگیا، اب مزید پڑھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہرگز فراغت کا یہ مطلب نہیں ہے۔ فارغ ہونے کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کا ایک مرحلہ پورا ہوگیا یا رسمی تعلیم اور کلاس میں اساتذہ سے پڑھنے کا سلسلہ ختم ہوا۔
تو آپ مطالعہ کا سلسلہ کبھی بند نہ کریں۔ وقت کو مرتب شکل میں تقسیم کرلیں اور مداومت اختیار کریں۔ جو بھی طے کریں، سختی سے اس کی پابندی کریں۔ پابندی اور مداومت میں بڑی برکت ہے۔
أحبُّ الأعمال إلى الله أدومها وإن قلَّ۔
قرآن و حدیث سے ثابت شدہ عقائد اور متفق علیہ امور میں اختلاف سے پرہیز کریں۔ ائمۂ مجتہدین اور فقہاء کے اختلافات کو کفر و ایمان کا اختلاف نہ سمجھیں۔ تصلب اور شدت اصول و عقائد میں ہو، فروع و جزئیات میں شدت سے بچنا چاہیے۔ قرآن و حدیث سے ماخوذ و مستنبط مسائل میں اختلافات کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔
سیرت نبوی، اسلام کے ابتدائی عہد کی تاریخ اور نامور اسلامی شخصیات کے افکار و خدمات سے آپ کو واقف ہونا چاہیے۔ اسی طرح ملک کی تاریخ سے آپ کو نابلد نہیں رہنا چاہیے۔ ہندو اور بدھ مذہب اور ان کی دینی شخصیات سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ مغربی تہذیب اور دوسرے جدید معاشی، ادبی، فکری اور سیاسی تحریکات سے ناواقفیت داعی اور مبلغ کیلئے بڑا عیب اور مضر ہے۔ آپ کو اردو میں بھی ان موضوعات پر کتابیں مل جائیں گی۔
آپ میں سے کچھ ہوسکتا ہے آگے کی تعلیم کے لیے دوسرے دینی یا عصری اداروں کا رخ کریں یا گھر سے قریب کسی کالج میں داخلہ لیں۔ جہاں بھی رہیں، آپ اس طرح رہیں کہ آپ کا ادارہ، آپ کے والدین اور دینی تعلیم کا نام روشن ہو۔ اس کا خیال رہے کہ آپ کا کوئی قدم، کوئی عمل، کوئی فیصلہ آپ کے ادارے یا آپ کے خاندان کا سر نہ جھکادے۔
آپ کی چھوٹی غلطی دوسری لڑکیوں کی بڑی غلطی سے بھی بڑی سمجھی جائے گی۔ آپ امہات المؤمنین، صحابیات اور تاریخ اسلام کی قابلِ فخر خواتین کی نمائندہ ہیں۔ آپ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنی ہے۔
آپ مدرسہ میں جان چکی ہیں کہ آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں، آپ کو کس طرح زندگی گزارنی ہے۔ لیکن انسان کو صحیح راستے سے بھٹکانے والی چیزیں بے شمار ہیں۔ اللہ سے نیک کاموں کی توفیق و ہمت اور برے کاموں سے بچنے کی ہر مومن کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔
گھر اور سماج کا پاس و لحاظ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ شریعت کی پامالی ہوجائے، اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہوجائے۔ ہر وقت ذہن میں وہ عظیم نسبت رہنی چاہیے جو آپ کو حاصل ہوئی ہے: دینی تعلیم اور جامعہ ام سلمہ کی نسبت، اور جس عظیم خاتونِ اسلام کی طرف آپ کی مادرِ علمی کو انتساب کا شرف حاصل ہے، یعنی ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نسبت۔
آپ اس مقدس و اعلیٰ نسبت کو کبھی شرمندہ نہ ہونے دیں۔
دعا ہے کہ آپ ہمیشہ خوش رہیں، زمانہ کے فتنوں سے اللہ آپ کی حفاظت کرے اور آپ کے علم و عمل اور اخلاق و کردار سے خلقِ خدا کو نفع پہنچائے۔
آمین۔
24 رمضان 1447ھ 13 مارچ 2026ء، بروز سنیچر
No comments:
Post a Comment