Translate

Sunday, March 1, 2026

کوثر پرویز خاں ریٹائر کر گئےمحمد صدر عالم ندوی ویشالی

کوثر پرویز خاں ریٹائر کر گئے

محمد صدر عالم ندوی ویشالی 
9661819412
28 فروری 2026 بروز سنیچر بمطابق 10 رمضان المبارک 1447 ھج کءی وجھوں سے اہم تھا ایک تو فروری ماہ کا آخری دن رمضان کےتین عشرہ (رحمت ،مغفرت اور جہنم سے چھٹکارا) میں سے پہلے عشرہ کا آخری دن ۔اس 28 فروری کو اردو سیل ویشالی کے زیر اہتمام نگر پریشد ہال حاجی پور میں اردو پروگرام تھا اور آج ہی کے دن میرے بچپن کے استاد اور مدرسہ اسلامیہ اماموری کے استاد مفتی عبدالسلام قاسمی کا سروس کا آخری دن ۔اور اسی تاریخ کو پورے ضلع کو مجلسوں اور میٹنگوں کو گل گلزار کرنے والے کوثر پرویز خان کا ریٹائر منٹ۔آج اپنی اس تحریر میں اسی عظیم شخصیت کوثر پرویز خاں کو موضوع بنا رہا ہوں کوثر صاحب اسم با مسمی تھے اور جام کوثر باٹتے تھے اور لوٹاتےبھی تھے جس مجلس میں جاتے وہیں انڈیل دیتے ۔کوثر صاحب پیشے سے معلم تھے لیکن عمل سے اینکر تھے ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ اینکری اور اناؤنسری میں گذرا سونپور کا میلہ ہو یا الیکشن کی ٹریننگ ۔بی آر سی کی میٹنگ ہو یا ضلع میں کوئی پروگرام ہر جگہ ان کا جلوہ تھا ان کے رہتے ہوئے اناؤنسری ان ہی کے قسمت میں تھی ڈی ایم کے بہت قریب رہتے تھے لیکن اس کا اظہار کہیں بھی اور کسی پر کرتے نہیں تھے جب میں 2010 میں گورول بلاک کے پرائمری اسکول میں اردو معلم کی حیثیت سے جواءین کیا اس وقت خان صاحب بلاک میں اردو بی آر پی ہوا کرتے تھے لیکن ملنا جلنا بہت آسان تھا اسی وقت سب سے پہلے میں نے اکاون روزہ ٹریننگ حاصل کی اور اسکول میں رہنے کا طریقہ اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھا اس طرح میرے علاوہ بہتوں کے وہ استاد ہوئے جب میری بحالی ضلع اسکول بھگوان پور رتی ویشالی میں +2 میں اردو استاد کی حیثیت سے ہوئی اور ڈاکٹر ذاکر حسین فتح آباد ،سندواری کے دولت کدہ پر دعوت افطار میں ملاقات ہوئی اور ان کو میری بحالی کا پتا چلا تو بہت خوش ہوئے اور ڈھیر ساری دعائیں دیں جب بھی ملے ہنس کر ملے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ۔میں" تذکرہ شعرائے ویشالی" کتاب ترتیب دے رہا تھا تو میں نے اس بات کی کوشش کی کہ معروف شعراء کے ساتھ ساتھ غیر معروف شعراء کو بھی اس کتاب میں شامل کریں میں نے شاعر کی حیثیت سے ان کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا اور ان کی شاعری کتاب میں شامل کی جب کتاب چھپ کر آءی تو انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور قیمتا کتاب خرید کر میری ہمت افزائی کی ۔کوثر صاحب کے اندر دو تین چیزیں نمایاں طور پر میں نے دیکھی ایک یہ کہ ان کےاندر حسد اور جلن نہیں دیکھا دوسرا کسی سے مرعوب ہوتے ہوئے نہیں دیکھا اور تیسری چیز ۔کسی کام کو کرتے تو لگن اور محنت سے کرتے یہیں وہ چیزیں تھیں جس کی وجہ سے ہمیشہ چمکتے و دمکتے رہے اور آئیندہ بھی چمکتے دمکتے رہیں گے میں 2025 کے ودھان سبھا کے چناؤ میں سیکٹر مجسٹریٹ کی حیثیت سے متعین ہوا تومیرے لیے کچھ مشکل لگ رہا تھا لیکن مجھے یہ فخر تھا کہ خان صاحب جیسے مضبوط آدمی میرے ساتھ ہیں اور یہ کام آسانی سے ہو سکتا ہے انہوں نے میری رہنمائی اس طرح کی کہ الیکشن اچھے ماحول میں میں نے کرایا ۔خان صاحب کی میں کن کن خوبیوں کا تذکرہ کروں سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے ۔خان صاحب کی ملازمت کا پورا حصہ ویشالی کے گورول بلاک میں گزرا ۔اردو مکتب منجیا،یو ایم ایس شیخ پور سلونا اس کے بعد اردو مڈل اسکول بھکھن پورہ ان کا جاءے عمل رہا ۔اور اسی آخری اسکول بھکھن پورہ گورول سے 28 فروری کو مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے ویسے ہمت حوصلے اور کام سے ریٹائر نہیں ہوئے ہیں یہ تھے تو اسکول میں ایک استاد لیکن ان کا زیادہ تر وقت بلاک اور ضلع میں گذرا ۔ایک دو سال پہلے ان کے والد کا انتقال ہوا وہ بھی مبارک مہینہ رمضان کا تھا اور ان کا بھی ریٹائر منٹ ہوا وہ بھی رمضان کا مہینہ کیا مبارک گھڑی ہے یہ سب ان کے نام کا حصہ ہے اور قرآن کی ایک سورہ بھی سورہ کوثر کے نام سے ہے جو تیسویں پارہ میں ہے تمہارا آنا بھی مبارک اور تمہارا جانا بھی مبارک بس جہاں رہیں پھلتے رہیں اور پھولتے رہیں

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...