محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
دگھی،گڈا،جھارکھنڈ
آج کا انسان بظاہر ترقی کی بلند ترین چوٹیوں پر کھڑا نظر آتا ہے، مگر باطن میں ایک عجیب اضطراب، بے چینی اور خلا محسوس کرتا ہے۔ جدید دور کی چکاچوند، سائنسی ترقی، مادی آسائشیں اور سہولیات کے انبار کے باوجود انسان کے دل کو وہ سکون میسر نہیں، جو اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں، ہر طبقے میں، ہر عمر کے انسان میں ایک انجانی بے قراری پائی جاتی ہے۔ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا،ہر ایک کے لبوں پر یہی شکوہ ہے کہ دل مطمئن نہیں۔
یہ بے اطمینانی محض معاشی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی بحران ہے۔ انسان نے اپنی توجہ مادّی ترقی پر مرکوز کر دی ہے اور روحانی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ نتیجتاً دل کی وہ کیفیت، جسے اطمینان کہا جاتا ہے، ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت، شہرت، طاقت یا عہدہ انہیں سکون فراہم کرے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جتنا انسان ان چیزوں کے پیچھے بھاگتا ہے، اتنا ہی وہ اندر سے خالی اور بے چین ہوتا جاتا ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی مسائل کی نوعیت بدل چکی ہے۔ خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہے، اولاد نافرمان ہو رہی ہے، میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور اعتماد و محبت کا فقدان عام ہو چکا ہے۔ کوئی اپنی اولاد کے رویے سے پریشان ہے، کوئی شریکِ حیات کی بے اعتنائی سے دل گرفتہ ہے، تو کوئی معاشی تنگی یا معاشرتی دباؤ کا شکار ہے۔ ان تمام مسائل کا مشترکہ نتیجہ ایک ہی ہے: دل کا بے سکون ہونا۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو انسان کے دل کو حقیقی سکون عطا کر سکتی ہے؟ کیا اس کا حل مزید دولت کمانا ہے؟ یا مزید طاقت حاصل کرنا؟ یا دنیاوی لذتوں میں اضافہ؟ تاریخ اور تجربہ دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز دل کے سکون کی ضامن نہیں۔
یہاں قرآنِ مجید ایک نہایت واضح، جامع اور حتمی رہنمائی فراہم کرتا ہے:
“الا بذکر اللہ تطمئن القلوب”
یعنی خبردار! دلوں کا اطمینان تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
یہ آیت انسان کو اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ دل کا سکون کسی مادی ذریعے سے نہیں بلکہ خالقِ کائنات سے تعلق میں پوشیدہ ہے۔ جب تک انسان اپنے رب کو نہیں پہچانتا، اس سے جڑتا نہیں، اور اس کی یاد میں نہیں رہتا، تب تک اس کے دل کو حقیقی اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔
ذکرِ الٰہی کا مفہوم محض زبان سے چند الفاظ دہرانا نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر کیفیت کا نام ہے۔ یہ انسان کے دل، دماغ، سوچ اور عمل سب پر محیط ہوتا ہے۔ ذکر کا مطلب ہے کہ انسان اپنے رب کو ہر حال میں یاد رکھے، اس کی نعمتوں کا اعتراف کرے، اس کے احکام کی اطاعت کرے، اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
جب انسان اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرتا ہے تو اس کے اندر ایک عجیب سکون پیدا ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب ہر حال میں اس کے ساتھ ہے، اس کی مشکلات کو جانتا ہے، اور وہی اس کا حقیقی مددگار ہے۔ یہ یقین انسان کو ہر طرح کے خوف، اضطراب اور بے چینی سے نجات دلاتا ہے۔
اسی طرح اللہ پر بھروسہ (توکل) بھی اطمینانِ قلب کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اللہ کی مشیت سے ہو رہا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے، تو وہ حالات کی سختیوں سے ٹوٹتا نہیں بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتا ہے۔ یہ کیفیت اس کے دل کو مضبوط اور مطمئن بناتی ہے۔
ذکرِ الٰہی کا ایک پہلو شکرگزاری بھی ہے۔ جو انسان اللہ کی نعمتوں پر غور کرتا ہے اور ان پر شکر ادا کرتا ہے، اس کا دل حسد، لالچ اور بے اطمینانی سے پاک ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن رہتا ہے اور دوسروں سے تقابل میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو شخص ہمیشہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اپنی کمیوں اور محرومیوں پر نظر رکھتا ہے، وہ کبھی سکون حاصل نہیں کر سکتا۔
موجودہ دور میں انسان نے مختلف فلسفوں، نظریات اور نظاموں کو آزما لیا ہے، مگر دل کا سکون پھر بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام کوششیں انسان کے ظاہر کو سنوارنے پر مرکوز ہیں، جبکہ اصل مسئلہ اس کے باطن کا ہے۔ جب تک دل کی اصلاح نہیں ہوگی، باہر کی دنیا کی کوئی بھی تبدیلی انسان کو سکون نہیں دے سکتی۔
قرآن کا پیغام دراصل انسان کو اس کے اصل مرکز کی طرف واپس بلاتا ہے۔ وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ تمہاری اصل حقیقت ایک بندہ ہونا ہے، اور تمہارا حقیقی سکون اپنے رب کی بندگی میں ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے، تو اس کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔ وہ دنیا کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھتا ہے، اور اپنی ترجیحات کو اسی کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔
اطمینانِ قلب کی دولت دراصل وہ نعمت ہے جو نہ خریدی جا سکتی ہے، نہ چھینی جا سکتی ہے، اور نہ ہی کسی مادی ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے، اس کی یاد میں رہنے، اور اس پر کامل یقین و اعتماد رکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آج کی بے چین دنیا کو اگر کسی ایک چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ ذکرِ الٰہی ہے۔ یہی وہ نسخہ ہے جو انسان کے دل کو سکون، اس کی زندگی کو توازن، اور اس کے وجود کو معنویت عطا کرتا ہے۔ اگر انسان واقعی اطمینانِ قلب کی دولت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے، اس کی یاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، اور اسی پر بھروسہ کرے۔ یہی راستہ ہے، اور اسی میں کامیابی اور سکون پوشیدہ ہے۔
No comments:
Post a Comment