Translate

Monday, March 30, 2026

صبر، محاسبہ اور غور و فکر، ایک مومن کی تعمیر کا سہ جہتی نظام محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

صبر، محاسبہ اور غور و فکر، ایک مومن کی تعمیر کا سہ جہتی نظام

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725


  انسانی زندگی آزمائشوں، تجربات اور مسلسل تغیرات کا نام ہے۔ ایک مومن کے لئے یہ زندگی محض وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ ایک شعوری سفر ہے، جس کا مقصد اپنے ایمان کو مضبوط بنانا، اپنے کردار کو سنوارنا اور اپنے رب کی خوشنودی و رضا حاصل کرنا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے تین بنیادی اوصاف نہایت اہم ہیں: صبر، محاسبہ اور غور و فکر (توسم)۔ یہ تینوں صفات دراصل مومن کی داخلی تعمیر کا وہ نظام ہیں جو اسے نہ صرف مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے، بلکہ ترقی کی راہ پر بھی گامزن کرتا ہے۔

صبر: استقامت کا سرچشمہ ہے۔
صبر مومن کی زندگی کا سب سے بنیادی ستون ہے۔ دنیا میں انسان کو ہر لمحہ موافق اور غیر موافق حالات کا سامنا رہتا ہے۔ کبھی کامیابی کی خوشی ہوتی ہے تو کبھی ناکامی کا صدمہ، کبھی لوگوں کی تعریف نصیب ہوتی ہے تو کبھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام حالات میں ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ صبر کا دامن تھامے رکھے۔
صبر کا مطلب صرف خاموشی سے برداشت کرنا نہیں، بلکہ یہ ایک فعال کیفیت ہے ،جس میں انسان اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے اور حق کے راستے سے نہیں ہٹتا۔ جب انسان کو کوئی ایسی بات پیش آئے جو اسے بے برداشت کر دے، تب اس کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ اگر وہ اس وقت صبر اختیار کر لیتا ہے تو وہ دراصل اپنے ایمان کی حفاظت کر لیتا ہے۔
صبر انسان کو انحراف سے بچاتا ہے۔ یہ اسے جذباتی فیصلوں سے روک کر سوچ سمجھ کر عمل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صبر کو ایمان کا نصف کہا گیا ہے، کیونکہ یہ انسان کو ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

محاسبہ: اصلاح کا ذریعہ

انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس سے غلطیاں ہوتی ہیں، بھول چوک ہوتی ہے، اور بعض اوقات وہ اپنی خواہشات کے زیر اثر ایسے فیصلے کر لیتا ہے جو اس کے ایمان کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے محاسبہ، یعنی خود احتسابی، مومن کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔
محاسبہ کا مطلب ہے اپنے اعمال، نیتوں اور رویوں کا بے لاگ جائزہ لینا۔ یہ دیکھنا کہ ہم نے کیا کیا، کیوں کیا، اور اس کے نتائج کیا نکلے۔ ایک مومن وہ ہے، جو دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا احتساب اور محاسبہ کرے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے۔
محاسبہ انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اسے عاجزی کی راہ پر ڈالتا ہے۔ جب انسان اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے تو اس کے اندر بہتری کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہی خواہش اسے مسلسل اصلاح کی طرف لے جاتی ہے۔ یوں وہ ایک بہتر انسان اور پختہ مومن بنتا چلا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محاسبہ محض ایک وقتی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جیسے ایک تاجر روزانہ اپنا حساب کتاب دیکھتا ہے، ویسے ہی ایک مومن کو بھی روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہی عمل اسے غفلت سے بچاتا اور بیداری کی حالت میں رکھتا ہے۔

غور و فکر (توسم): شعور کی بیداری

تیسری اہم صفت غور و فکر ہے، جسے یہاں “توسم” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے زندگی، اپنے تجربات اور اپنے اردگرد کے حالات پر گہری نظر ڈالنا اور ان سے سبق حاصل کرنا۔
ایک مومن محض دیکھنے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہر چیز میں معنی تلاش کرتا ہے۔ وہ اپنے تجربات سے سیکھتا ہے، دوسروں کی زندگیوں سے نصیحت لیتا ہے اور کائنات کے نظام پر غور کرتا ہے۔ یہی غور و فکر اس کے شعور کو بیدار کرتا ہے اور اسے ایک بصیرت والا انسان بناتا ہے۔
غور و فکر دراصل ایمانی غذا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی ترقی ممکن نہیں۔ جب انسان سوچتا ہے تو اس کے اندر سوال پیدا ہوتے ہیں، اور یہی سوال اسے سچائی کی تلاش پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ عمل اسے سطحی زندگی سے نکال کر ایک بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں انسان مصروفیت اور بے فکری کا شکار ہے، وہاں غور و فکر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر انسان رک کر سوچے ہی نہیں تو وہ اپنی غلطیوں کو کیسے پہچانے گا اور اپنی زندگی کو کیسے بہتر بنائے گا ؟

تینوں صفات کا باہمی تعلق

صبر، محاسبہ اور غور و فکر تین الگ الگ صفات نہیں بلکہ ایک مربوط نظام ہیں۔ صبر انسان کو حالات میں ثابت قدم رکھتا ہے، محاسبہ اسے اپنی اصلاح کی طرف لے جاتا ہے، اور غور و فکر اسے صحیح سمت کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اگر صبر نہ ہو تو انسان مشکلات میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر محاسبہ نہ ہو تو وہ اپنی غلطیوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اور اگر غور و فکر نہ ہو تو وہ صحیح اور غلط میں تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ اس لئے ایک کامل مومن کے لئے ان تینوں کا امتزاج ضروری ہے۔
شعوری سفر کی ضرورت
اسلامی زندگی ایمان سے شروع ضرور ہوتی ہے، لیکن یہ محض آغاز ہے، انتہا نہیں۔ اس کے بعد انسان کو مسلسل عمل صالح، صبر اور حق کی تلقین کے راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے، جو رسمی اعمال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے شعور کی بیداری ضروری ہے۔
یہ شعوری سفر انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے، اپنے اعمال کو پرکھے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔ جب انسان اپنے شعور کو متحرک کرتا ہے، تو وہ ان صفات کو اپنی زندگی میں شامل کر لیتا ہے، اور یہی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں۔
مختصر یہ کہ صبر، محاسبہ اور غور و فکر ایک مومن کی زندگی کے بنیادی ستون ہیں۔ یہ صفات اسے آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتی ہیں، اس کی اصلاح کرتی ہیں اور اسے شعور کی بلندیوں تک پہنچاتی ہیں۔ ان کے بغیر ایمان ادھورا رہ جاتا ہے اور انسان اپنی حقیقی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔
لہٰذا ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، ان پر مسلسل عمل کرے اور ایک شعوری، بامقصد اور متوازن زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ یہی راستہ کامیابی کا ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے، جس کے ذریعے انسان اس دنیا کے امتحان میں سرخرو ہو سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...