Translate

Monday, March 30, 2026

علم سے عدالت تک — بہار کے نوجوانوں کے لیے ایک منظم تعلیمی و فکری رہنمائی توقیر بدر آزاد

علم سے عدالت تک — بہار کے نوجوانوں کے لیے ایک منظم تعلیمی و فکری رہنمائی

توقیر بدر آزاد

انسانی زندگی کی بنیاد اگر کسی ایک ستون پر قائم ہے تو وہ تعلیم ہے۔ یہی وہ نور ہے جو جہالت کی تاریکیوں کو چیر کر انسان کو شعور، تمیز اور وقار عطا کرتا ہے۔ تعلیم محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی قوت ہے جو فرد کی شخصیت کو سنوارتی، معاشرے کو مہذب بناتی اور قوموں کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرتی ہے۔ جس قوم نے علم کو اپنایا، اس نے عزت پائی؛ اور جس نے علم سے منہ موڑا، وہ تاریخ کے اندھیروں میں کھو گئی۔یوں انسانی زندگی میں تعلیم کی حیثیت روح کی مانند قرار پاتی ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بے جان ہوتا ہے، اسی طرح تعلیم کے بغیر انسان کی زندگی بے مقصد اور تاریک ہو جاتی ہے۔آج کی دنیا میں جہاں ترقی کا دار و مدار علم پر ہے، وہاں تعلیم کے بغیر نہ فرد کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی قوم ترقی کی منزل طے کر سکتی ہے۔

تعلیمی پس منظر میں آج یہ بات قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ بہار کے وہ طلبہ جنہوں نے حال ہی میں انٹرمیڈیٹ کا مرحلہ کامیابی سے طے کیا ہے، وہ درحقیقت اپنی زندگی کے ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ اس مرحلے پر صحیح رہنمائی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی بلکہ ملک و ملت کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بہت سے والدین اور طلبہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آگے کون سا تعلیمی مرحلہ اختیار کیا جائے۔
بہت سے والدین نے راقم سے اس بابت ذاتی طور پر فون کرکے اور ملاقات کرکے مشورہ لینے کی کوشش کی ہے۔سو اس کے پیش نظر اس وقت انہی کے لیے یہ ساری گزارشات پیش کی جا رہی ہیں،
 بالخصوص یہ ان نوجوان طلبہ و طالبات کے لیے ہیں ،جو مستقبل میں _*سول جج*_ بننے کا عزم رکھتے ہیں۔

دھیان رہے آج *سول جج* بننا صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ یہ وہ منصب ہے جہاں انسان کو انصاف کا محافظ، مظلوم کا سہارا اور قانون کا امین بننا ہوتا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلا قدم قانون (Law) کی تعلیم ہے۔انٹر کے بعد طلبہ کے لیے بہترین راستہ پانچ سالہ BA LL.B کا کورس ہے، جو نہ صرف قانونی تعلیم و مہارت فراہم کرتا ہے، بلکہ سماجی، سیاسی اور اخلاقی و تجزیاتی شعور بھی پیدا کرتا ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلے مرحلے میں جیسا کہ بتایا گیا کہ سول جج بننے کے لیے بنیادی شرط قانون (LLB) کی تعلیم ہے۔ انٹر کے بعد طلبہ کے لیے سب سے موزوں راستہ پانچ سالہ BA LL.B کا کورس ہے، اگرچہ تین سالہ LLB بھی ایک راستہ ہے، مگر وہ ان طلبہ کے لیے ہے جو پہلے کسی اور مضمون میں گریجویشن مکمل کرچکے ہوتے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں ایک اچھے لا کالج کا انتخاب نہایت اہم ہے۔ اگر طلبہ قومی سطح کے امتحانات جیسے CLAT یا دیگر AILET داخلہ امتحانات کے ذریعے پٹنہ علی گڑھ بنگلور دہلی ممبئی وغیرہ میں واقع معروف اداروں میں داخلہ حاصل کر لیں تو یہ ان کے لیے مزید آسانی پیدا کرتا ہے۔ تاہم یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کامیابی کا انحصار صرف ادارے پر نہیں بلکہ طالب علم کی ذاتی محنت، لگن اور خود اعتمادی پر ہوتا ہے۔ ایک اوسط درجے کے کالج میں پڑھنے والا محنتی طالب علم بھی بڑے سے بڑے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔

تیسرے مرحلے میں سول جج (Judicial Services) کے امتحان کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ امتحان تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:ابتدائی امتحان (Prelims)، تحریری امتحان (Mains) اور زبانی امتحان (Interview)۔ ان تینوں مراحل کو کامیابی سے عبور کرنے کے لیے مضبوط علمی بنیاد، تجزیاتی سوچ اور اظہار کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

چوتھے مرحلے میں ان مضامین کی اہمیت سامنے آتی ہے جو اس امتحان کی بنیاد ہیں۔ ان میں آئین ہند، تعزیرات ہند (IPC)، دیوانی و فوجداری قوانین (CPC, CrPC)، قانون شہادت، معاہدات کا قانون اور جائیداد کی منتقلی جیسے بنیادی قوانین شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان، علاقائی زبان (ہندی/اردو) اور عمومی معلومات بھی نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پانچویں مرحلے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیاری کب سے شروع کی جائے؟ اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ تیاری کا آغاز پہلے ہی سال سے کر دینا چاہیے۔ ابتدائی دو سالوں میں بنیادی تصورات کو مضبوط کیا جائے، تیسرے اور چوتھے سال میں قوانین اور کیس لاز کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، اور آخری سال میں مکمل تیاری کے ساتھ مشق اور امتحانی انداز اپنایا جائے۔

چھٹے مرحلے میں کامیاب مطالعہ کا طریقہ سامنے آتا ہے۔ روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی سنجیدہ پڑھائی، قوانین (Bare Acts) کا مستقل مطالعہ، خود سے نوٹس تیار کرنا اور سابقہ سوالات کو حل کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ وہ اصول ہے جسے اہلِ قانون ایک سنہری اصول کے طور پر بیان کرتے ہیں کہ “Bare Act ہی اصل رہنما ہے”۔

ساتویں مرحلے میں مناسب کتابوں کا انتخاب بھی اہمیت رکھتا ہے۔ بنیادی قوانین کے ساتھ ساتھ آئین ہند کے لیے معیاری کتب، اور دیگر قانونی موضوعات کے لیے مستند مواد کا مطالعہ کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

آٹھویں مرحلے میں کوچنگ کے حوالے سے سوال پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوچنگ ضروری نہیں، لیکن اگر مناسب رہنمائی میسر ہو، تو یہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اصل کامیابی کا دار و مدار خود مطالعہ اور مستقل مزاجی پر ہے۔

نویں مرحلے میں وقت اور مدت کا تعین کیا جاتا ہے۔ پانچ سالہ LLB کے ساتھ اگر طالب علم مسلسل تیاری کرتا رہے تو وہ پانچ سے چھ سال کے اندر اس قابل ہو سکتا ہے کہ سول جج کے امتحان میں کامیابی حاصل کر سکے۔

دسویں مرحلے میں کامیابی کے راز پوشیدہ ہیں: مستقل مزاجی، قوانین پر مکمل عبور، تحریری مشق، ماک ٹیسٹ اور صبر و تحمل۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ایک عام طالب علم کو ایک کامیاب جج بنا سکتے ہیں۔

گیارہویں اور آخری مرحلے میں ایک منظم عملی منصوبہ (Roadmap) پیش کیا جا سکتا ہے:ابتدائی دو سال بنیاد سازی، درمیانی دو سال گہرائی اور مہارت، اور آخری سال مکمل تیاری اور امتحانی مشق کے لیے وقف کیا جائے۔

ان تمام مراحل کے ساتھ عمر کی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ سول جج کے امتحان کے لیے عموماً کم از کم عمر 22 سال اور زیادہ سے زیادہ 35 سال مقرر ہوتی ہے، جبکہ 24 سے 28 سال کی عمر کو کامیابی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ سنہری دور ہے جب ذہن تیز، علم تازہ اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔لہذا آج جو طلبہ و طالبات اٹھارہ برس کی عمر میں انٹرمیڈیٹ پاس آوٹ کرچکے ہیں ،بائیس تئیس برس کی عمر تک انکے لیے LLB میں داخل ہوکر لا گریجویٹ ہونا کوئی مشکل نہیں!

آخر میں والدین سے یہ مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو سنجیدگی سے لیں۔ صرف ڈگری دلوانا کافی نہیں بلکہ ان کے اندر دینی شعور، اخلاقی اقدار، بڑوں کا احترام اور وقت کی قدر پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کی صلاحیتوں کو چھٹی جماعت سے ہی پہچاننے کی کوشش کریں اور انگلش اردو زبان ،میتھ و بنیادی سائنس اور جنرل معلومات میں انہیں اسی کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کریں۔ یہی بروقت توجہ انہیں ایک کامیاب اور باکردار انسان بنا سکتی ہے۔یہی وہ راستہ ہے جو علم سے عدالت تک جاتا ہے—اور یہی وہ سفر ہے جو ایک فرد کو انصاف کا علمبردار اور معاشرے کا معمار بناتا ہے.
30/03/2026
________
*ڈائریکٹر المرکز العلمی للافتاء و التحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار انڈیا سابق لیکچرار المعھد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ بہار انڈیا 
muftitmufti@gmail.com 
+918789554895

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...