ہم عید کیسے منائیں ؟
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، اما بعد!
برادرانِ اسلام! آج ہم ایک ایسے مبارک اور مسرت افزا موقع کے دہانے پر کھڑے ہیں جس کا انتظار پورا مہینہ دل کی گہرائیوں سے کیا گیا۔ رمضان المبارک کی رحمتوں، برکتوں، سعادتوں اور مغفرتوں سے لبریز ساعتیں اپنی تکمیل کو پہنچ چکی ہیں، اور اب ہمارے سامنے عید الفطر کا روشن، پرنور اور بابرکت دن طلوع ہونے والا ہے۔ یہ محض ایک عید اور تہوار نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے اطاعت گزار بندوں کے لیے انعام، اکرام، بخشش، مغفرت اور خوشی کا وہ دن ہے جس میں بندہ اپنی عبادتوں کی قبولیت کی امید کے ساتھ اپنے رب کے حضور شکرانہ ادا کرتا ہے۔
عید کا دن درحقیقت اس عظیم تربیت گاہ، یعنی رمضان المبارک، کا ثمرہ ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک مومن اپنے نفس پر قابو پانے، بھوک و پیاس برداشت کرنے، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنے کے بعد روحانی کامیابی کا جشن مناتا ہے۔ یہ جشن محض ظاہری خوشیوں، نئے کپڑوں اور لذیذ کھانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا حقیقی پیغام شکر، تواضع، اخوت، محبت اور بندگی ہے۔ گویا عید کا دن اس بات کا اعلان ہے کہ جس بندے نے رمضان میں اپنے رب کو پہچان لیا، اس نے اصل کامیابی حاصل کرلی۔
محترم سامعین! عید الفطر کا مفہوم سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ دن کیوں عطا کیا گیا؟ کیا یہ صرف خوشی منانے، میل جول بڑھانے اور دنیاوی لذتوں میں مشغول ہونے کا نام ہے؟ یا اس کے پسِ پردہ کوئی گہرا پیغام، کوئی عظیم مقصد اور کوئی دائمی سبق بھی پوشیدہ ہے؟ یقیناً شریعتِ مطہرہ نے اس دن کو محض رسم و رواج کا مجموعہ نہیں بنایا، بلکہ اس کے لیے ایک مکمل، بامقصد اور باوقار طرزِ عمل متعین فرمایا ہے، جس کے ذریعے ایک مومن اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوار سکتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ایک ماہ تک جس ضبطِ نفس، صبر، تقویٰ اور عبادت کا اہتمام کیا، وہ محض چند دنوں تک محدود نہ رہے بلکہ ہماری پوری زندگی کا حصہ بن جائے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری نمازیں آباد رہیں، دلوں میں اللہ کا خوف اور محبت باقی رہے، زبانیں ذکرِ الٰہی اور تلاوت قرآن سے تر رہیں، اور ہمارے معاملات میں دیانت و امانت جلوہ گر ہو، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے عید کا حقیقی پیغام پالیا۔
عید کا دن سماجی ہم آہنگی اور ملی وحدت کا بھی مظہر ہے۔ اس دن امیر و غریب، چھوٹا و بڑا، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کی عملی تصویر ہے کہ اسلام میں رنگ، نسل، ذات اور حیثیت کی کوئی تفریق نہیں۔ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے گرد و پیش کے محتاجوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کو نہ بھولیں، بلکہ ان کی خوشیوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ صدقۂ فطر کا نظام اسی مقصد کے تحت رکھا گیا تاکہ کوئی بھی شخص عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔
معزز حضرات! آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید کو اس کے اصل روح اور پیغام کے ساتھ منائیں۔ ہم اس دن کو فضول خرچی، نمود و نمائش اور غیر شرعی رسومات سے پاک رکھیں، اور اسے عبادت، شکرگزاری اور انسانی ہمدردی کا عملی نمونہ بنائیں۔ ہم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، ناراضگیوں کو ختم کریں، دلوں کو جوڑیں، اور معاشرے میں محبت و اخوت کا پیغام عام کریں۔
یہ عید ہمیں یہ بھی درس دیتی ہے کہ بندگی کا سفر رمضان کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو ایک نئی شروعات ہے۔ اگر ہم نے رمضان میں اپنے اندر جو نیکیوں کا چراغ روشن کیا ہے، اسے باقی سال بھی روشن رکھا، تو یہی عید کی حقیقی کامیابی ہوگی۔ ورنہ اگر رمضان گزرتے ہی ہم دوبارہ غفلت کی نیند میں سو گئے، تو یہ ہماری محرومی کی علامت ہوگی۔
لہٰذا آئیے! ہم سب عہد کریں کہ اس عید کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق منائیں گے۔ ہم اس دن کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائیں گے، اپنا جائزہ لیں گے ،اپنے اعمال کا محاسبہ کریں گے، اور آئندہ زندگی کو مزید بہتر بنانے کا عزم کریں گے۔ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں گے، دلوں کو صاف کریں گے، اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں گے جو محبت، امن اور بھائی چارے کا گہوارہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عید کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری عبادتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول بھی فرمائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
علماء کرام عید کو کیسے منایا جائے اور اس دن ہم کیا کریں اس حوالے لکھتے ہے ۔
"اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کے اندر ملکوتی (فرشتوں والی) اور حیوانی (جانوروں والی) دونوں صفتیں ودیعت کی ہیں،جو حالات اور ماحول کے اثرات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر غالب آتی رہتی ہیں، الٰہی ماحول مل جائے تو ملکوتی صفت غالب آجاتی ہے اورشیطانی ماحول مل جائے تو بہیمی صفت قبضہ جمالیتی ہے، ہمارے ارد گرد کے عام ماحول پرچوں کہ ابلیسیت کا طنطنہ ہے، اس لئے سال بھر ہمارے اندر صفتِ بہیمی منھ زور گھوڑے کی طرح دُم اُٹھائے دوڑتی پھرتی ہے، اسی کی توڑ اورمقابلہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے روزے جیسی اہم چیز ہمیں عنایت کی ہے۔
پھرروزہ رکھنے کے لئے ایک پورامہینہ عطا کیا، جسے ہم ’’رمضان المبارک ‘‘کے نام سے جانتے ہیں، انسان جب پورا ایک مہینہ روزہ رکھ لیتا ہے تواس کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اب وہ افطارکرے، اللہ تعالیٰ اس کی اس فطرت کی رعایت کرتے ہوئے شوال کا چاند نظرآتے ہی یہ موقع فراہم کردیتاہے؛ لیکن یہ موقع یوںہی فراہم نہیں کردیتا؛ بل کہ افطارکے پہلے دن کواس کے لئے بطوریادگاربنادیتاہے، اسی یادگار کو ’’عیدکادن‘‘ کہا جاتا ہے۔
عیدکادن بطورخاص روزہ داروںکے لئے تحفہ اورانعام کا دن ہوتاہے،بندہ اپنے مالک کی بات مان کرپورا ایک مہینہ بھوک اورپیاس برداشت کرتاہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی اس اطاعت کی قدردانی کرتاہے اوراس کے روزہ رکھنے کے عمل کوخالص اپناعمل قرار دیتاہے اوریہ فرماتاہے کہ میں بذات خوداس کابدلہ دوں گا، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:کل عمل بن آدم له الا الصیام، فانه لی وأنا أجزی به۔(مسلم، حدیث نمبر:۲۷۰۶)ابن آدم کا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے، سوائے روزہ کے، کہ یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ (اجر) دوں گا،اللہ تعالیٰ نے روزہ کو اپنا عمل کیوں قراردیا؟ اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے: یترک طعامه وشرابه وشھوته من اجلی(بخاری، حدیث نمبر:۱۸۹۴)کہ بندہ کھانا، پینااور قضائے شہوت کوصر ف میرے لئے چھوڑتاہے، حقیقت یہ ہے کہ جس قدر نفس کشی روزہ کے اندر پائی جاتی ہے، کسی دوسری عبادت میں نہیں پائی جاتی، اسی لئے اس روزہ بدلہ بھی خاص ہوتاہے۔
ایک خاص بدلہ تویہ ہے کہ قیامت کے دن انھیں جنت کے خاص دروازہ’’ریان‘‘سے جنت میں داخل کیاجائے گا، اس دروازہ سے کسی اورکوداخل نہیں ہونے دیاجائے گا(بخاری، حدیث نمبر:۱۸۱۲)، دوسرابدلہ ان کی ’’مغفرت‘‘ہے، حضرت انسؓ فرماتے ہیں: …فإذاکان یوم عیدهم، باهی بهم ملائکته، فقال: یاملائکتی!ماجزاء أجیر وفی عمله؟قالوا: ربناجزاء ہ أن یوفی أجرہ، قال: یاملائکتی، عبیدی وإمائی، قضوا فریضتی علیهم، ثم خرجوا یعجون إلی الدعاء، وعزتی وجلالی وکرمی وعلوی وارتفاع مکانی لأجیبنهم، فیقول: ارجعوا فقدغفرت لکم، وبدلت سیئاتکم حسنات۔(شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر:۳۱۱۷) ’’جب عیدکادن آتاہے توفرشتوں کے سامنے ان پرفخرکرتاہے، کہتاہے: میرے فرشتو! اس مزدورکابدلہ کیاہوگا، جواپنا کامل مکمل کرلے، وہ کہیں گے: پروردگار!اس کوپوراپورابدلہ دیاجائے گا، اللہ فرمائے گا: میرے فرشتو! میرے بندے اوربندیوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی، پھروہ لوگ گڑگڑاتے ہوئے دعاکرتے ہوئے نکلے ہیں، میری عزت وجلال اورمیری رفعت وبلندی کی قسم! میں ضروران کی دعاء قبول کروں گا، پھراللہ فرمائے گا: تم لوگ لوٹ جاؤ، میں نے تم سب کی مغفرت کردی اورتمہاری برائیوں کوبھلائیوں سے بدل دیا‘‘۔
عیدکادن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام واکرام کادن ہوتاہے؛ لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کویہ تک معلوم نہیں رہتا کہ اس دن کیاکیاکام کرنے چاہئیں؟ ذیل کے مضمون میں عیدکے دن کرنے کے ان کاموں کی وضاحت کی گئی ہے، جوشرعاً درست ہیں اوروہ درج ذیل ہیں:
۱-تکبیر:رمضان المبارک کے اختتام کے بعدافطارکی گھڑی آتی ہے، جس کی ابتداء ہلال عیدکے نظرآنے کے بعدسے شروع ہوجاتاہے، ظاہرہے کہ خیروخوبی کے ساتھ رمضان کے گزرنے پراللہ ہی کی کبریائی اوربڑٓئی بیان کی جانی چاہئے کہ اسی کے حسن توفیق سے اس گھڑی تک ہم پہنچ سکے؛ اس لئے چاندکے نظرآنے کے بعدسے اللہ کی بڑائی بیان کرنے کوایک مستحسن عمل قراردیاگیاہے، قرآن میں بھی اس کا ذکرملتاہے، اللہ تعالیٰ کاارشادہے: وَلِتُکْمِلُواْ الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُواْ اللّهَ عَلَی مَا هَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون(البقرۃ:۱۸۵)’’ تم روزوں کا شمار پورا کر لو اور اُس احسان کے بدلے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت بخشی ہے تم اُس کو بزرگی سے یاد کرو اور اُس کا شکر ادا کیا کرو‘‘،تکبیرمیں یہ الفاظ کہے جائیں: الله أکبر الله أکبر، لاإله إلاالله ، والله أکبرالله أکبر، ولله الحمد، تکبیر کہنے کایہ عمل حسب استطاعت وقتاًفوقتاً ہوناچاہئے اور انفرادی طور پر ہوناچاہئے، اجتماعی طورپرتکبیرکہنے کو نادرست قراردیاگیاہے۔
۲-غسل کرنا:اسلام میں صفائی ستھرائی اورنظافت کوبہت زیادہ پسند کیاگیاہے؛ بل کہ اسے ایمان کاجزء قراردیاگیاہے، ارشادنبوی ہے: الطهورشطرالإیمان (مسلم، حدیث نمبر:۳۶۰) ’’پاکی ایمان کاجزء ہے‘‘، اسی پاکی میں سے ایک غسل ہے، بعض خاص موقعوں سے اسے مستحب قراردیاگیاہے، ان میں سے ایک عید کے دن کاغسل بھی ہے، حدیث میں ہے: رسول اللہ ﷺجمعہ، عرفہ، عیدالفطراورعیدالاضحی کے دن غسل فرمایاکرتے تھے(جامع المسانید والسنن، حدیث نمبر:۷۶۸۶۵: ۱۰/۱۴۵۴)۔
۳-کھجوریامیٹھی چیزکھانا: پورے مہینہ روزہ رکھنے کے بعدعیدکی سعادت سے ہمیں نوازا گیا، چوں کہ روزہ کے بعدیہ دن دیاگیاہے؛ اس لئے عیدگاہ جانے سے پہلے کھجور یاکوئی میٹھی چیزکھانے کومستحب قراردیاگیاہے، اللہ کے رسولﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی؛ چنانچہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں:کان النبیﷺ لایغدویوم الفطر؛ حتی یأکل تمرات، ویأکلهن وترا۔(بخاری، حدیث نمبر:۹۲۹)’’رسول اللہ ﷺ عیدالفطرکے دن کھجورکھائے بغیر(عیدگاہ کے لئے) نہیں نکلتے تھے اورطاق عدد میں کھاتے تھے‘‘، کچھ کھاکرعیدگاہ جانے کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ نہ کھانے کی صورت میں عید کی نمازتک روزہ کاگمان ہوسکتاہے، مہلب کہتے ہیں:الحکمة فی الأکل قبل الصلاۃ أن لایظن ظان لزوم الصوم حتی یصلی العید’’نمازسے پہلے کھانے میں حکمت یہ ہے کہ گمان کرنے والایہ گمان نہ کرے کہ نمازعیدتک روزہ لازم ہے‘‘، پھرکھجورکھانے کی حکمت یہ نقل کی جاتی ہے کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے بینائی میں کچھ صغف پیداہوجاتاہے اور کجھورکے ذریعہ سے یہ کمزوری ختم ہوجاتی ہے، پھربعض تابعین نے مطلق میٹھی چیزکے استعمال کومستحب قرار دیا ہے (فتح الباری:۲/۴۴۷)۔
۴-اچھے لباس کاانتخاب:عید کادن عام دن کی طرح نہیں ہے، یہ خوشی کادن ہوتاہے، لہٰذاخوشی کااظہاربھی ہوناچاہئے، اس کے لئے بہتراوراچھا لباس زیب تن کرناچاہئے، اچھے لباس کاہرگزمطلب یہ نہیں کہ ہرحال میں وہ نیا ہی ہو؛ بل کہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان کے پاس جوبہتراوراچھاہو، وہ زیب تن کرے، خودرسول اللہ کے پاس ایک لباس تھا، جسے جمعہ وعیدین میں زیب تن کیاکرتے تھے، حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: کان للنبیﷺ جبة یلبسهاللعیدین ویوم الجمعة(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر:۱۷۶۵)’’نبی کریم ﷺکاایک جبہ تھا، جسے عیدین اورجمعہ کے دن زیب تن فرماتے تھے‘‘، اچھے لباس کے انتخاب میں اس بات کاخیال رکھناچاہئے کہ وہ شرعی اعتبارسے درست بھی ہو، آج کل بالخصوص نوجوان ایسے ایسے لباس زیب تن کرتے ہیں، جوشریعت کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں، سال میں ایک دن عیدکی نمازپڑھناہے، اس دن توکم ازکم شرعی لباس زیب تن ضرورہی کرناچاہئے۔
۵-صدقۂ فطرکی ادائے گی:محتاجوں کے تعاون کی جن شکلوں کوصاحب نصاب بندوں پرلازم کیاگیاہے، ان میں سے ایک صدقۃ الفطر بھی ہے، ’’صدقۃ الفطر ‘‘اس صدقہ کو کہا جاتا ہے، جورمضان المبارک کے روزہ افطارکی وجہ سے لازم ہوتاہے، یعنی اس کے واجب ہونے کاسبب افطار(شوال کا چاند دیکھ کرروزہ کھولنا)ہے، اس کی دوبنیادی حکمتیں ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اللہ کے رسول ﷺ کاارشادنقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’رسول اللہ ﷺ نے لغوورفث سے روزہ دار کوپاک کرنے اورمسکینوں کی غذا کے طورپرزکات فطر کو فرض کیا، جس نے (عید)کی نماز سے پہلے اسے ادا کیا تویہ مقبول زکات ہوگی، اورجس نے نماز کے بعد ادا کیا تو(اس صورت میں) یہ عام صدقات کے مثل ہے‘‘(ابوداود،حدیث نمبر:۱۶۱۱)، اب ایک اہم سوال یہ پیداہوتاہے کہ صدقۃ الفطر کی ادائے گی کن چیزوں کے ذریعہ سے کی جائے گی؟اس سلسلہ میں پانچ اشیاء کاذکراحادیث میں مذکورہے:(۱)شعیر( جو)(۲)تمر(کھجور)(۳)زبیب(کشمش)(۴)اقط(پنیر)(۵)طعام(غلہ)، حضرت ابوسعیدخدریؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ کے رسولﷺ کی زندگی میں ہم ایک صاع غلہ، یاایک صاع جو، یاایک صاع کھجور، یاایک صاع کشمش ، یاپھرایک صاع پنیرزکات فطر(صدقۂ فطر) میں نکالتے تھے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر:۶۷۳، صحیح البخاری، حدیث نمبر۱۵۰۶)، جوشخص جَو، کھجور، کشمش اورپنیرسے اداکرناچاہے تووہ ایک صاع (تقریبا: 3.180grmsتین کلوایک سواسی گرام)کے حساب سے اداکرے؛ البتہ اگرگیہوں سے اداکرناچاہتاہے تونصف صاع(تقریباً:1.590grmsایک کلوپانچ سونوے گرام) کے حساب اداکرے۔
۶-نمازعیدکی ادائے گی:عیدکے دن کاایک اہم کام ’’عیدکی نماز‘‘کی ادائے گی ہے، احناف کے نزدیک اصح قول کے مطابق واجب ہے، حسن بن علی شرنبلالی لکھتے ہیں: صلاۃ العیدین واجبة فی الأصح۔(نورالإیضاح،باب العیدین، ص:۱۰۶) ’’اصح قول کے مطابق عیدین کی کی نماز واجب ہے‘‘(مجمع الأنہر، باب صلاۃ العیدین:۱/۲۵۵)، تاہم مرجوح قول سنت ہونے کابھی ہے، علامہ سرخسیؒ نے اس کے سنت ہونے کواظہرقراردیتے ہوئے فرمایاہے: والأظهرأنهاسنة؛ ولکنها من معالم الدین، أخذها هدی وترکهاضلالة۔(المبسوط، باب صلاۃ العیدین:۲/۳۷)’’اظہریہ ہے کہ یہ سنت ہے؛ لیکن دین کے شعائراورعلامت میںسے ہے، جس کواختیارکرناہدایت اورچھوڑناگمراہی ہے‘‘،حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگردخاص حضرت امام ابویوسفؒ اسے فرض کفایہ قراردیتے ہیں (مجمع الأنہر، ۱/۲۵۵، تحفۃ الفقہاء، باب صلاۃ العیدین: ۱/۱۶۵)، عام دنوں میں سنت طریقہ پراس کی ادائے گی ہوتی گی؛ لیکن جولوگ ادانہ کرسکیں یاجہاں جمعہ کی نمازنہ ہوتی ہو، وہ لوگ چاشت کی نمازاداکرنے کی طرح دویاچاررکعت اداکرلیں، علامہ حصکفیؒ لکھتے ہیں: فإن عجز صلی أربعاً کالضحی’’اگرعاجزہوجائے توچاشت کی طرح چاررکعت نماز پڑھے‘‘، علامہ شامیؒ نے لکھاہے کہ یہ حکم استحبابی ہے اور یہ نمازعیدکی قضاء نہیں ہے کہ نمازعید کی ہیئت میں نہیں پڑھی جائے گی(ردالمحتار مع الدرالمختار:۱/ ۵۸-۵۹)؛ البتہ ثواب کے حصول کے لئے پڑھ لینابہترہے، علامہ کاسانیؒ لکھتے ہیں:فلوصلی مثل صلاۃ الضحی لینال الثواب کان حسناً ’’اگرثواب کے حصول کے لئے چاشت کی نمازکی طرح پڑھ لیتاہے توبہترہے‘‘(بدائع الصنائع، فصل صلاۃ العیدین:۲/ ۲۴۹)۔
۷-مبارک باد دینا:عیدکے دن نمازکی ادائے گی کے بعد مبارک باد دینانہ صرف یہ کہ جائزہے؛ بل کہ اسے مستحب بھی قراردیاگیاہے، علامہ شامی نے محقق ابن امیرحاج کے حوالہ سے نقل کیاہے:بل الأشبه أنهاجائزۃ مستحبة فی الجملة۔(ردالمحتار:۲/ ۱۶۹) ’’اشبہ یہ ہے کہ وہ فی الجملہ جائزمستحب ہے‘‘، اسی کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ ایساکیاکرتے تھے؛ چنانچہ حافظ ابن حجرؒنے سندحسن سے جبیربن نفیرکاقول نقل کیاہے، وہ فرماتے ہیں: کان أصحاب رسول الله ﷺ إذالتقوا یوم العیدیقول بعضهم لبعض: تقبل الله منا ومنک۔(فتح الباری:۲/ ۴۴۷)’’اصحاب رسولﷺ جب عیدکے دن ملتے توایک دوسرے سے کہتے: اللہ ہم سے اورآپ سے قبول کرے‘‘، اس سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ عیدکے دن مبارک بادی دینادرست ہے، وہاں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مبارک باد دیتے وقت ’’تقبل اللہ منا ومنک‘‘کہناچاہئے، نیزمبارک بادی دیتے وقت مصافحہ یامعانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں؛ البتہ اس کولازمی سمجھ کرنہ کیاجائے(banuri.edu.pkفتوی نمبر: 143909200979)، مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ ؓ لکھتے ہیں: عیدین میں معانقہ کرنایا عیدکی تخصیص سمجھ کرمصافحہ کرناشرعی نہیں؛ بل کہ محض ایک رسم ہے(کفایت المفتی:۳/ ۳۰۲)۔
۸-خوشی کااظہار:عیدکادن خوشی کادن ہے، اس کا اظہار بھی ہوناچاہئے؛ لیکن خوشی کے اظہارکے لئے وہی طریقہ اختیارکرناچاہئے، جوشریعت کے دائرہ میں درست ہو، ایسے اعمال سے گریزکرناچاہئے، جوشریعت کے خلاف ہو، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: دخل أبوبکروعندی جاریتان من جواری الأنصار تغنیان بماتقاولت الأنصاریوم بعاث- قالت: ولیستابمغنیتین- فقال أبوبکر: أبمزامیرالشیطان فی بیت رسول اللهﷺ وذلك فی یوم عید، فقال رسول اللهﷺ: یاأبابکر، إن لکل قوم عیداً، وهذاعیدنا۔(بخاری، حدیث نمبر:۹۵۲) ’’ابوبکرؓمیرے پاس اس وقت آئے، جب کہ میرے پاس انصار کی دولڑکیاں جنگ بعاث میں انصارکاکارنامے ذکرکرکے گارہی تھیں- فرماتی ہیں کہ وہ مغنیہ نہیں تھیں- ابوبکرنے کہا: عیدکے دن رسول اللہ ﷺ کے گھرمیں شیطان کے مزامیرسے کام لیاجارہاہے تواللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر!ہرقوم کی عید ہوتی ہے اوریہ ہماری عیدہے‘‘، اس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ عیدکے دن خوشی کااظہارکیاجاسکتاہے، یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ خوشی کے اظہارکے لئے اچھے اشعار(حمد، نعت اورنظم وغیرہ)بھی پڑھے اورسنے جاسکتے ہیں؛ لیکن آج کل بعض جگہوں پراس دن ڈی جے(DJ)وغیرہ بجایاجاتاہے، یہ کسی طورپردرست نہیں۔
یہ ہیں وہ کام ، جوہمیں عیدکے دن کرنے چاہئیں کہ یہ شرعاً درست ہیں اور ان کاموں سے مکمل طورپراجتناب کرنا چاہئے، جوشریعت کے خلاف ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے، آمین "!
نوٹ/ واوین کی تحریر ہمارے فاضل دوست اور علمی کاموں میں مشیر جمیل اختر جلیلی ندوی کی ہے
No comments:
Post a Comment