محمدامام الدین ندوی
خادم مدرسہ حفظ القرآن منجیاویشالی
مؤرخہ 20-12-2025 بہ روز پیر ملحد جاوید اخترصاحب اور موحد کبیر مفتی شمائل ندوی حفظہ اللہ کے مابین ڈیبیٹ ہوا۔جاوید اختر صاحب اور ان جیسے بےشمار لوگ الحادو دہریت کے علم بردار ہیں اور اسی فکر کے داعی ومبلغ ہیں۔ جہالت وجاہلیت ان کے رگ وریشے میں ہیں۔نہ تو مذہب کو مانتے ہیں اور نہ مذہبی قوانین پر عامل ہیں۔
اللہ کے وجود کو تسلیم کرنے کے لئے اور اسے گلے لگانے کے لئے انسان کا اپنا وجود ہی کافی ہے۔انسان اس میں غور کرے تو انسان کی عقلیں حیران ہوجاتی ہیں۔اور الله تعالیٰ کے وجود،اس کی ربوبیت،کو انسان بلا چون چرا قبول کرنے پر مجبور ہوجاتاہے۔
ملحدانہ نظریات کے حامل اور انہیں افکار کے مبلغ نام نہاد مفکرجاویداختر صاحب کی بولتی،مفتی شمائل ندوی اطال الله بقائہ نے بند کردی۔جاوید صاحب اپنی بات کو ثابت کرنے میں طفل مکتب ثابت ہوئے اور چاروں شانے چت ہوگئے۔ساتھ ہی ساتھ وہ پوری نشست میں مجبورو بے بس نظرآئے۔لگتاہے کہ موصوف نےتھیتھرلوجی میں ٹریپل PHDکیاہے۔جب آدمی تہیہ کرلے کہ نہیں مانناہے تو نہیں مانیں گے چاہے انہیں سورج صاف طور پر نظر ہی کیوں نہ آئے۔
دوسری جانب مفتی شمائل ندوی صاحب زیدمجدہ نے ان کی باطل نظریات وافکارکو دلیل عقلی ونقلی سے مکمل غلط ثابت کردیا۔جاوید اختر صاحب اور ان کے ہم نواؤں کو منہ کی کھانی پڑی۔مفتی صاحب کی گفتگو میں سنجیدگی،شائستگی،
عالمانہ وقار،مؤمنانہ رعب،داعیانہ شان،اخلاقی بلندی،احترام اکابر،بات میں پختگی،خوداعتمادی،
توازن،نمایاں اور قابل دیدتھی۔فریق مخالف کے ہر سوال کا مدلل اور مسکت کرنے والا جواب نے اس نشست کو نرالابنادیا۔فرعون اور حضرت موسی علیہ السلام کا مکالمہ قرآن نے پیش کیا ہے جس میں حضرت موسی کو الله تعالی نے فرعون پربرتری عطاکی اور اس وقت کا ظالم وجابر،طاقتور،حکومت کے نشے میں غرق فرماں روا بےبس ہوگیا اور الله کی ربوبیت غالب آگئی آج ایک بار پھر الله تعالی نے اپنے مضلص بندے کے ذریعے الحاد ودہریت کے شیش محل کوزمیں دوزکردیا۔اور ایوان کفروالحاد میں کھلبلی مچ گئی۔مفتی صاحب مدظلہ العالی کا پوری امت پر احسان ہے کہ آپ نےہم سب کی طرف سے فرض ادا کر دیا۔ندویت کے مضبوط قلعہ کی حفاظت کی اور دیوبندیت کے افکار میں چارچاند لگایا۔الله تعالی آپ کی اور آپ کی پوری ٹیم کی کاوش کو قبول فرمائے۔ سوربھ دیویدی جی کا شکریہ کہ انہوں نے توازن ودیانت کے پہلو کو قائم رکھا
یہ نشست حق وباطل پر مبنی تھی حق آیا اور باطل کا قلع قمع ہوا۔باطل اپنے ہمنواؤں کے ساتھ رفوچکر ہوا۔
روز مرہ کی زندگی میں بہت سی چیزیں ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھتے ہیں لیکن اس کے وجود کے قائل ہیں جیسےہوا،سردی،گرمی ،بھوک
پیاس،شربت میں گھلے شکر،سالن میں ملےنمک،دوا کی کڑواہٹ ومٹھاس،عقل ،
سوچ،سانس،وغیرہ اس کے وجود کے ہم سب شاہد ہیں چاہےداناہویابینا،خردہوں یاکلاں،پیر ہوں یا جوان سب ان چیزوں کے موجودہونےکی گواہی دیتے ہیں جبکہ ان اشیاء کوہم دیکھ نہیں سکتے۔بہت سےواقعات،حادثات،
جنہیں رونماہوتےہم اپنی آنکھوں سےنہیں دیکھتے کسی کے کہنے پر یقین کرلیتے ہیں اور اس کو مان لیتے ہیں تو خداکے وجود کی خبر مخبرصادق صلی الله عليه وسلم نے دی مان لینے میں کیا حرج ہ
۔لیکن لوگ اللہ تعالیٰ کےوجود کو نہیں مانتے ہیں یہ وہ باطل افکار ونظریات ہیں جووقتافوقتاحق کی راہ میں رخنہ انداز بنے ہیں اور اہل حق نے اس کا دندان شکن جواب دیاہے۔جناب جاوید اخترصاحب اور ان کے پیروکاروں کو مفتی صاحب نے مدلل وتشفی بخص جوابات دئے یقینا جاوید صاحب کو بات سو فی صد سمجھ میں آگئ ہوگی اور وہ اپنے نظریات سےضرورتوبہ کریں گے۔اگر ان کے اندر عناد،سرکشی،بغض،کبرجیسے کیڑے نہیں ہوں گے۔اور وہ اس ڈیبیٹ کو اپنے لئے اخروی نجات کا ذریعہ سمجھیں گے۔
ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں مفتی شمائل ندوی صاحب کو کہ آپ نے ملک کے سلگتے ماحول میں ایک ملحدودہریے کی جانب سے برپا کئے گئےطوفان بلاخیز کو بنیان مرصوص سے سدا کے لئے بند کردیاحق باطل پر غالب ہوا۔اور ہم سب کو اپنا احسان مند بنا۔الله تعالیٰ آپ کی ہر چہار جانب سے حفاظت فرمائے آمین
No comments:
Post a Comment