Translate

Monday, December 15, 2025

راہنمائی مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

راہنمائی

 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

راہنمائی دنیا کے عظیم ترین کاموں میں سے ایک ہے، اس کے لیے مختلف طریق کار استعمال کیے جاتے رہے ہیں ، اس کے پیچھے ہر دور میں اہم شخصیات کار فرمارہے ہیں اور ان کی جد و جہد کوشش لگن اور جذبہ خیر خواہی سے ملک و سماج اور انسان پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں، یہ کام انتہائی تحمل، برداشت اور صبر کا متقاضی ہوتا ہے، دلوں کی نرمی اور جذباتیت سے دوری کے بغیر اس کام کو کرنا عملاً ممکن نہیں ہوتا ملکوں کی تاریخ کے اوراق الٹیے تو بے شمار واقعات میرے اس خیال کی تائید کے لیے آپ کو مل جائیں گے۔
 آج کل رہنمائی کے لیے مشین ایجاد ہوگئی ہے آپ کوکہیں جاتاہے، راستہ نامعلوم ہے تو مشین میں اپنی منزل کا پتہ ڈال دیجئے اور بے فکر ہو کر اس کے بتائے ہوئے راستے پر گاڑی بڑھاتے جائیے ، وہ راستے کے بارے میں نقشہ بھی دکھائے گا ، ایگزٹ بھی بتائے گا، اگر آپ پڑھنا نہیں جانتے ہیں، نقشہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ بول کر بھی آپ کو بتائے گا، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ نے اس کی ہدایت کو نہیں مانا اور اپنی دھن میں آگے بڑھ گیے تو وہ آپ کو برا بھلا نہیں کہتا ، گالیاں نہیں دیتا ، یہ بھی نہیں کہتا کہ میری ہدایت نہیں ماننی ہے تو میری خدمت لیتے ہی کیوں ہو، جاؤ من مانی کرو اور گمراہ ہو جاؤ ، راہنمائی کرنیوالی یہ مشین ایسا کچھ نہیں کرتی وہ آپ کو اگلا موڑ بتا دیتی ہے، جہاں سے آپ اپنی منزل کی طرف بڑھ سکتے ہیں، دوبارہ بھی آپ نے اسکی ہدایت کی اَن دیکھی کر دی تو بھی وہ آپ سے خفا نہیں ہوتا ، بلکہ اگلا راستہ بتاتا ہے جہاں سے آپ صحیح راہ پر چل کر منزل کو جاسکتے ہیں۔
انسان کے بنائے ہوئے مشین میں راہبری کے لیے یہ خاص وصف موجود ہے کہ وہ کسی حال میں آپے سے باہر نہیں ہوتا بلکہ ہر بار بھٹکنے پر نئے راستے کی راہنمائی کرتا ہے، انسانوں کے لیے اس میں بڑا سبق ہے، وہ اگر راہنما ہے، راہ بری کرتا ہے، قائد ہے یا قیادت کرنا چاہتا ہے تو اسے لازم ہے کہ یہ صفت اپنے اندر پیدا کرے، راہنماؤں کا مزاج یہ بن گیا ہے کہ وہ ہدایت کی تھوڑی بہت اَن دیکھی پر بھی چراغ پا ہو جاتے ہیں ، مسلک ذات برادری، علاقائیت کے داعیان اور اپنی اپنی برادری کے رہنماؤں میں اس سلسلے میں بڑی کمیاں پائی جاتی ہیں، جو خود کو راہ بر سمجھتے ہیں وہ دوسروں کو برا بھلا کہنے طعن و تشنیع کرنے بلکہ کافر اور مرتد تک کہنے سے گریز نہیں کرتے ، یہ کام راہ بر کا نہیں ہے، راہ بر کا کام آخری وقت تک بغیر چراغ پا ہوئے راہنمائی کرنا ہے، اور انتہائی صبر کے ساتھ منزل تک پہونچنے کے لیے اگلا ایگزٹ (Exit) بتاتے رہنا ہے، اس کو کہتے ہیں متبادل کی تلاش ، جن لوگوں کے درمیان راہ بری کارگر نہیں ہو پارہی ہے، اس کو کو کس طرح منزل تک پہونچایا جائے یہ راہ بر کی ذمہ داری ہے، راہبر یہ کہہ کر اپنا دامن نہیں جھاڑ سکتا کہ لوگ اس کی نہیں سنتے ، ان کے مزاج کا ٹھیک نہیں رہتا ، وہ پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہوتے رہتے ہیں، یہ سب شیطانی وساوس اور عذر لنگ ہے جو راہبری کے فرض سے انسانوں کو دور کرتا ہے، یہاں معاملہ راہ زنوں سے گلہ کا نہیں ، سوال راہ برکی رہبری کا ہے، ہم اپنی ساری ناکامی دوسروں کے سر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں، یہ اطمینان ہمیں اپنے مقصد سے بھی دور کرتا ہے اور راہ پر کی جدو جہد کو نا کامی تک پہونچا دیتا ہے۔
راہ بر کی حیثیت خواص کی ہوتی ہے ، لوگوں کی بھیڑ میں وہ لوگوں سے کچھ الگ تھلگ اور ممتاز ہوتا ہے، وہ سماج کی روح اور جان ہوتا ہے، اسے کسی بھی حال میں نہ تو بھیڑ کا حصہ بننا ہے اور نہ ہی اس سے کٹ کر زندگی گزارنی ہے، اس لیے کہ عوام کی بھیڑ ہی خواص کے لیے جسم ہے، اگر یہ جسم اس سے الگ ہو جائے تو روح اس دنیا میں رواں نہیں رہ سکتی ، اس کا مقام یا تو علین ہوگا یا سجین ، روح کو رواں ہونے کے لیے جسم کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے خواص کو اگر کچھ کرنا ہے تو جسم یعنی عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا ، اسی طرح عوام کو بھی اپنی قیادت اور راہنماؤں سے بدظن نہیں ہونا چاہیے ، اس لیے کہ اگر عوام نے اپنا رشتہ خواص اور قائد سے کاٹ لیا تو وہ جسم بغیر جان کے ہو جائیں گے اور بغیر روح کے جو جسم ہوتا ہے اس کا مقام منوں مٹی تلے قبرستان ہے۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...