سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور
دنیا کے اندر بعض اشخاص وہ ہوتے ہیں جن کی زندگی میں ابتدا ہی سے جدو جہد،کدو کاوش اور قابل رشک کارنامے وجود میں آتے ہیں اور یہ ان کی محنت میں خلوص وللہیت کے ساتھ انجام پاتے ہیں جس قدر خلوص کے ساتھ محنت ہوتی ہے اسی قدر وہ قبولیت پاتی ہے اور امت کے لئے نفع بخش ہوتی ہے کچھ ایسے ہی روشن کارنامے ہمیں حضرت مولانا محمد ہاشم صاحب قاسمیؒ سابق مہتمم جامعہ کاشف العلوم چھٹملپور کی حیات میں نظر آتے ہیں ان کی پوری زندگی دینی و علمی اورروحانی کاموں میں صرف ہوئی اور ان کی محنت و جانفشانی اور مجاہدات کے بعد مبداء فیاض نے ان کو قبولیت کا پروانہ عطا کر کے ان کو زندہ و جاوید اور ان کے نام و کام کو تابندہ کر دیا۔
آپ کی پیدائش سن 1945ء میں بروز جمعہ ہوئی، ابتدائی تعلیم عاشق رسول ولی صفت انسان حضرت الحاج میاں جی غلام نبی سے ہوئی اور حفظ قرآن مکمل کیا، اس کے بعد جامعہ کاشف العلوم کے مہتمم ثانی کے ایماء پر آپ نے کاشف العلوم میں داخلہ لیا جہاں آپ نے فارسی و عربی کی ابتدائی درجات تک مکمل توجہ اور محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی اور یہاں کے بافیض اساتذہ سے کسب فیض کیا، پھر دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا یہاں جبال علم و عمل اساتذہ کی جھرمٹ میں قرآن و حدیث کے اسباق اور روحانی شخصیات کے سائے تلے عشق و محبت اور کردار و اخلاق کو سنوارنے میں اپنا قیمتی وقت صرف کیا اور وہیں سے فراغت حاصل کی، وہاں سے فراغت کے بعد آپ کی صلاحیتوں کا اقرار کرتے ہوئے آپ کو آپ کے مادر علمی ہی میں سن 1388ھ میں حضرت مولانا شریف احمد صاحبؒ نے تقرر فرمایا اور اپنے اعتماد کا اظہار فرمایا۔
انسان کی تخلیق و تولید کے ساتھ ساتھ ﷲ تعالی نے انسان کو زبان و بیان اور نطق گویائی سے بھی سرفراز فرمایا ہے اور زبان کی سحرطرازی کا اظہار حدیث نبوی میں بھی درج ہے اگر اس میں خلوص کی آمیزش ہو جائے اسی کو شاعر
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پروازمگر رکھتی ہے کہتا ہے۔
خطابت میں انہیں خاص صفات کے مالک تھے حضرت مولانا محمد ہاشم صاحبؒ، ان کی تقریر عام فہم، انبیاء و صحابہ کے واقعات سے مستنیر اور اکابر کی حیات پر بہار پر روشنی دکھا تی تھی آپ کی خطابت کو جامعہ کاشف العلوم کے بانی و مہتمم حضرت مولانا شریف احمد صاحبؒ نے بھی ایک ہاشم ساجادو بیاں یہاں لکھ کر تسلیم کیا، اور مفکر ملت حضرت الحاج مولانا محمد اسلم صاحبؒ بھی آپ کوخطابت کا شہ سوار کہتے تھے جہاں ہم بول کر تھکتے ہیں وہاں سے ان کی تقریر کا آغاز ہوتا ہے۔
بڑے با ادب تھے اور شفیق تھے، محسن تھے، غمگسار تھے، کام آنے والے تھے، وہ اپنے عزیز و متعلقین کے یہاں بنا کسی پیشگی اطلاع کے اس لیے جاتے تھے میری وجہ سے کاموں کو چھوڑ کر پریشانی میں مبتلا نہ ہوں اور میرے انتظام میں ان کو خلل نہ ہو اپنے ایک مسترشد کے یہاں ان کے گھر اور ادارہ تشریف لے گئے وہ اس وقت سفر پر تھے تو ایک رقعہ پر ایک شعر لکھا
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
اور یہ پرچہ گیٹ کیپرکو دےکر واپس لوٹ گئے،یہ ادائیں وہ تھیں جو اب رہ رہ کر یاد آتی ہیں اور ان اکابرین کی محبت کا چراغ دلوں میں روشن کرتی ہیں،آپ ہمیشہ تواضع کا خوگر بنے رہے، انکساری کا جوہر ان میں نمایاں تھا،من تو اضع للہ رفعہ ﷲ عزوجل کی جیتی جاگتی تصویر ان کی شخصیت میں پیوست تھی،سفر ہو یا حضر، جلوت ہو یا خلوت،وہ اپنے کو چھوٹا اور معمولی انسان گردانتے تھے اور لبوں پر یہ اشعار رہتے
جو کچھ ہوا ہوا کرم سے تیرے
جو کچھ ہوگا تیرے کرم سے ہوگا
مدینہ منورہ کے تذکرے پر آپ کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی اور یہ شعر بار بار پڑھتے رہتے
لوگ سمجھیں گے محروم ووقار و تمکین
تو نہ کہہ دے میری بزم کے قابل نہ رہا
حج کے موقع پر جب آپ کی زبان سے اشعار نکلے وہ بڑے اثر انگیز اور درد لئے ہوئے ہیں۔
یہ ہاشم تمہارا چلا آ رہا ہے.....
..........
دارالعلوم ندوۃ العلما میں تعلیم حاصل کرتے وقت اکثر حضرت مولانا محمد اسلم صاحبؒ سے رسم وراہ رہتی تھی آپ کی رحلت کے بعد ان کے خلف الرشید جناب مولانا محمد آصف صاحب ندوی زید مجدہ سے دید و شنید ہوئی اور ساتھ میں ایک مخلص و ملنسار شخصیت حضرت مولانا محمد ہاشم صاحبؒ سے بھی تعارف ہوا اس کے بعد قلب میں ان کی محبت جاگزیں ہو گئی اور کاشف العلوم میں ان سے ملاقات کے لئے جانا ہونے لگا، اکثر حاضری کا معمول رہتا،بڑی مہمان نوازی فرماتے، بزرگان دین کے واقعات و مشاہدات ذکر فرماتے، حالات پر گفتگو فرماتے، اپنے خلفاء کی خبر گیری کرتے ان کے کام اور احوال دریافت کرتے ضلع سہارن پور کے اکثر مدارس میں سالانہ اجلاس کے مواقع پر آپ کی شمولیت قابل تبریک ہوتی اخیر عمر میں اسفار کم کر دئیے تھے ورنہ جدوجہد بھاگ دوڑ میں آپ نے کبھی سرد و گرم کی پرواہ نہ کی مختلف مدارس و تنظیموں کی سپرستی فرمائی اور بہترین خدمات پیش کی یہاں صبری پور میں واقع ہمارے ادارہ جامعۃ الحسنین کے سالانہ اجلاس اور تعلیمی بیداری کانفرنس کے موقع پر تشریف فرما ہوئے خطاب سے نوازا اور اس نوزائد ادارے کے تعلیمی احوال جان کر خوشی کا اظہار فرمایا۔
بچپن جوانی اور بڑھاپا ایک دینی و تعلیمی تحریک پر قربان کرنے والے کا نام حضرت مولانا محمد ہاشمؒ تھا وہ اپنے بچپن ہی میں کاشف العلوم میں آگئے، جوانی یہیں گزری، بڑھاپے میں اسی کی ترقی اور علوم نبوی کی اشاعت میں صرف ہوئے اب ان کے کام کو ان شاءﷲ العزیز ان کے روحانی خلفاء آگے بڑھائیں گے جو بڑی تعداد میں اور اعلی مقام پر فائز ہیں۔
بچپن کی تربیت، بزرگان دین سے پیوستہ تعلقات نے ان کو انسانی خصوصیات و امتیاز ات کا مرقع بنایا تھا اور کچھ خوبیاں ان کی شخصیت میں مزید چار چاند لگاتی اور ممتاز بناتی تھیں، فیضان ہاشم نامی سلسلۀ خطبات میں حضرت مولانا محمد ہاشم صاحب قاسمیؒ کے تعلق سے رقم ہے کہ فنا فی ﷲحضرت الحاج حافظ عبدالستار صاحب نانکویؒ نے آپ میں دو خوبی پاکرآپ کوخلافت سے سرفراز فرمایا تھا دیانت نفس، اور دیانت مال ،
یہ دونوں خوبی عین جوانی میں ہونا یقینا شرف کی دلیل ہیں اور یہ خوبیاں صحبت نیکاں اور اچھے ماحول سے میسر آتی ہیں اپنے نفس کی نگرانی، قدم کو سنبھال کر اٹھانے، نیز تربیت اصلاح پیش نظر رکھ کر یہ خوبیاں اجاگر ہوتی ہیں،تب انسان ان صفات سے مزین ہو کر دنیا میں بہترین کارنامے اور آخرت میں انعام خداوندی کا مستحق ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment