Translate

Wednesday, December 31, 2025

(پانچویں قسط )جنہیں میں نے دیکھا ہے مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری رئیس :جامعة الحسنین صبری پور

(پانچویں قسط )
جنہیں میں نے دیکھا ہے 
مطالعہ نگار:
 سید محمد ریاض ندوی کھجناوری 
رئیس :جامعة الحسنین صبری پور
یادگار زمانہ علامہ شبلی نعمانیؒ کی تحریری خصوصیات اور ان کی اردو شاعری کو زندہ وتابندہ کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب زید مجدہ انہیں کے قابل فخر شاگردِ رشید اور معمار دارالمصنفین علامہ سید سلیمان ندویؒ کی علمی وتحقیقی بارگاہ میں قدم رکھتے ہیں اور ان کے علمی و فکری ورثے کو اپنے قلم کی جنبش میں لاتے ہیں عنوان ہے ''علامہ سید سلیمان ندویؒ کا علمی اور فکری ورثہ"۔
 ظاہر ہے بات قلم و زبان کے شناور،علم وتحقیق کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور بر صغیر کے اس جلیل القدر عالم زمانہ کی ہے،جس کی شخصیت، علمیت، جامع کمالات تھی ان کے علمی ورثے بڑی جاں فشانی اور تحقیقی نظر سے سامنے آئیں گے اور ان کی فکری آراء بڑی عرق ریزی اور وسعت فکری کے ساتھ اوراق کی زینت بنائی جاسکیں گی، ڈاکٹر صاحب کے قلم کی کائنات میں علمی وتحقیقی جستجو،شخصیات کو سمجھ کر لکھنے کا فن ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ اپنے استاد علامہ شبلی نعمانیؒ کے قابل فخر شاگرد اور دارالمصنفین کے تعمیری و فکری اور علمی و تحقیقی منصوبوں کے معمار تھے،عالم اسلام کے لیے باعث عزو ناز تھے، علامہ اقبالؒ جیسے دانائے راز نے ان کو علامہ شبلی نعمانیؒ کے بعد استاد الکل اور اسلام کےجوئے شیر کے فرہاد کے لقب سے یاد کیا،آپ کی شخصیت میں کمال جامعیت تھی، مصنف گَر کی تربیت نے ان کو کندن بنایا،وسعت مطالعہ اور علمی تبحر میں وہ یادگار سلف تھے قدیم علوم میں غیر معمولی رسوخ و مہارت کے ساتھ علم و تحقیق کے جدید تقاضوں سے آگاہ تھے۔
 ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں جب ان کی پہلی تحقیق تاریخ ارض القرآن سامنے آئی، تو اس کو اس موضوع پر پہلی تصنیف ہونے کا امتیاز حاصل ہوا ،صدی کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اس کی امتیازی شان میں کمی نہیں آئی،ان کی دوسری تصنیف سیرت عائشہ بھی ابھی تک اپنے موضوع پر بے نظیر ہے،لیکن ان کی زندگی کا اصل کارنامہ سیرت النبیﷺ کے عظیم الشان منصوبے کی تکمیل ہے، عالمی اسلامی لٹریچر میں اس کا جو مقام و مرتبہ ہے اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں، ان کی تصنیفات میں غیر معمولی تنوع ہے ایک طرف سیرت النبیﷺ، خطبات مدراس،سیرت عائشہ، تاریخ القرآن جیسی لازوال تصنیفات ہیں، تو دوسری طرف عرب و ہند کے تعلقات، اور عربوں کی جہازرانی، جیسی نادر تحقیقات، آخر الذکر دونوں موضوعات پر مشرق و مغرب دونوں جگہ ان کی کتابوں کی اشاعت کے بعد جو کچھ لکھا گیا وہ دراصل انہیں سے ماخوذ ومستفاد ہے، خیام پر ان کی کتاب اب تک بے نظیر ہے، انہوں نے قرآنیات، حدیث،فقہ اور دوسرے اسلامی موضوعات پر ایک نہایت وسیع اور ثروت مند علمی اور فکری ورثہ چھوڑا ہے، اپنی تحقیقات میں انہوں نے مستشرقین کے اعتراضات کا مدلل علمی جواب فراہم کیا، استاد گرامی کی سوانح حیات لکھی تو اس عہد کی علمی تاریخ کی تدوین کا کارنامہ انجام دیا، شعر و ادب کا بھی نہایت اعلی اور پاکیزہ ذوق تھا،عربی فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں اعلی درجہ کی شاعری کے نمونے یادگار چھوڑے، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے ارادت کے بعد ان کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا،اور تصوف کی لذت آشنائی کے اثرات ان کی زندگانی اور نگارشات میں صاف طور پر محسوس کیے گئے دارالعلوم ندوة العلماء کے معتمد تعلیمات کی حیثیت سے بھی تعمیر و ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا، اور تحریک آزادی میں بھی فعال شرکت رہی،اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے،تحریک خلافت اور جمعیت علماء سے نہایت قریبی روابط رہے،بیرون ملک جانے والی تحریک خلافت کے وفود کے رکن رکین رہے،علمی اور تحریکی دونوں لحاظ سے ایک نہایت ممتاز فعال اور ثمر آور زندگی گزاری، اور ملی اور ملکی دونوں سطح پر دیر پا اثرات چھوڑے۔

اس کے بعد اردو ادب کی ایک مشہور صنف خطوط نگاری پر اپنی انگلیوں کو جنبش دی اور سیمنار میں پیش کرنے کی غرض سے علامہ سید سلیمان ندوی اور خطوط نگاری لکھا۔
 سید الطائفة علامہ سید سلیمان ندویؒ ایک نابغۀروزگار شخصیت تھے،وہ اپنے عہد میں یگانۀ روزگار تھے، جبکہ اس وقت بر صغیر میں متعدد جبالِ علوم و فنون موجود تھے مگر سید الطائفة جیسا متنوع صلاحیتوں کا مالک جامع الکمالات والعلوم والفنون، قدیم و جدید کا سنگم،مدبر و مفسر قرآن، فقہ و حدیث، نقد و ادب اور تاریخ و سیرت کا ایساجامع ترین نظر نہیں آتا ان کی شخصیت میں اتنی جامعیت تھی کہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ نے فرمایا تھا۔
 سید صاحب کے فضائل و کمالات، اخلاق وعادات، تحقیق ریسرچ،ملی،سیاسی اور علمی خدمات اتنی متنوع ہیں کہ ان کی تفصیل کے لیے ہزاروں صفحات ناکافی ہیں۔

سید صاحب کی ان گوناگوں خصوصیات اور نگینہ جیسی ہشت پہل شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے خطوط و مکاتب کا مطالعہ ضروری ہے کسی بھی شخصیت کو سمجھنے کے لیے اس کے خطوط کا مطالعہ بے حد معاون ثابت ہوتا ہے کیونکہ خطوط کی حیثیت نجی تحریروں کی ہوتی ہے اس میں بڑی حد تک ظاہر و باطن اخلاق و کردار اور ادب و قلم کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے سید صاحب کے مراسم بہت وسیع تھے اپنے عہد کی تمام بڑی شخصیات سے ان کے اچھے روابط، بہتر تعلقات اور گہرے مراسم تھے، آپ کے ان خطوط میں عالمی حالات کا تذکرہ بھی ہے علمی نکات کا تجزیہ بھی، ادبی لطائف اور اسلوب بیان کی چاشنی ہے،قیمتی مشورے ہیں، مستقبل کی رہنمائیاں ہیں،سچ یہ ہے کہ اگر خطوط نگاری کے حدود اربعہ متعین کئے جائیں اور پھر خطوط سلیمانی کا جائزہ لیا جائے تو بھی ہر اعتبار سے خطوط سلیمانی کا اقلیم فن میں بول بالا ہوگا، چنانچہ ان خطوط میں کہیں سید صاحب مدافعت اسلام کرتے نظر آتے ہیں، کہیں خلافت کی شوکت و سطوت بیان کرتے ہیں، کہیں علمی مسائل حل کرتے نظر آتے ہیں،تو کہیں نقد وجرح، کہیں یورپ کی تہذیب پر تلخ و لطیف تبصرے کرتے ہیں،تو کبھی بخیہ دری بھی کرتے ہیں، کبھی اس امت کی زبوں حالی پر نوحہ و ماتم کرتے ہیں،تو کبھی مستقبل کے خاکوں پر گفتگو کرتے ہوئے امید کی کرن پیدا کر دیتے ہیں، کبھی ملی مسائل اور ملی قیادت سے ہم کلام نظر آتے ہیں، تو کبھی خالی سیاسی مسائل میں علمی نکتہ آفرینی کرتے دکھائی دیتے ہیں، الغرض نکتہ سنجی، ادبی لطائف اور خردوں کی علمی تربیت کا نرالا انداز کوئی دیکھنا چاہے تو خطوط سلیمانی کا مطالعہ کرے،سید صاحبؒ کا ادبی مذاق اور علمی و تحقیقی ذوق مکاتیب میں خوب نکھر کر سامنے آتا ہے، نقوش کے مکاتیب نمبر میں سے سیدصاحبؒ کے خطوط پر ڈاکٹر سید عبدﷲ نے بجا تبصرہ کیا ہے۔
کہ سید صاحب کے خطوط کا امتیازی وصف فرحت افزائی اور نکتہ آفرینی ہے۔
الغرض آپ کے مکاتیب ایک علمی فکری ادبی اور وسیع ثقافتی آماجگاہ ہیں۔

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...