(1)
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
انسانی معاشرے کی تعمیر و بقا باہمی تعامل، رواداری اور حسنِ سلوک پر قائم ہے۔ اسلام نے جہاں اپنے ماننے والوں کے لیے ایک مضبوط ایمانی و اخلاقی بنیاد رکھی، وہیں نوعِ انسانی کی حرمت، عدل و احسان اور بقائے باہمی کے آفاقی اصول بھی واضح کئے۔ عصرِ حاضر کی کثیر الثقافتی، عالمی اور باہمی انحصار کی دنیا میں غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات، میل جول، تعاون اور معاشرتی و سماجی اشتراک ایک ناگزیر حقیقت بن چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں اس سوال کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے کہ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ دوستی، حسنِ سلوک اور موالات کے حوالے سے کیا ہدایات دیتا ہے؟ اور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں اس باب کے کیا نمونے ملتے ہیں؟
لفظِ موالاة شریعت کی اصطلاح میں دل کی گہرائیوں سے وابستگی، نصرت و حمایت اور دینی و سیاسی وفاداری کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ دوستی اور حسنِ معاشرت کا دائرہ اس سے مختلف اور وسیع تر ہے۔ تاریخی طور پر بعض آیات و احادیث کے ظاہری مفاہیم کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سمجھنے کی وجہ سے یہ موضوع کبھی کبھی غلط تعبیرات کا شکار بھی ہوا۔ اس بنا پر ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کے جامع اور منضبط اصولوں کی روشنی میں، نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے رہنمائی لیتے ہوئے، عصرِ حاضر کے حالات و تقاضوں کو سامنے رکھ کر اس مسئلے کی علمی توضیح کی جائے۔
سیرتِ طیبہﷺ کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے غیر مسلم اقوام و افراد کے ساتھ نہ صرف عدل، رواداری اور حسنِ سلوک کو اختیار کیا بلکہ معاہدات، تجارتی معاملات، سفارتی روابط، سیاسی ضمانتوں اور سماجی تعاون جیسے متعدد پہلوؤں میں عملی نمونے پیش کیے۔ مدینہ کا میثاق، اہلِ مکہ کے ساتھ Hudaybiyyah کا معاہدہ، نجران کے وفد کی میزبانی، یہودی ہمسایوں کے ساتھ روزمرہ تعلقات اور مشرکین کے ساتھ اخلاقی و انسانی سلوک ،یہ سب اسوۂ نبوی کے روشن ابواب ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام انسانیت کی بنیاد پر تعلقات کے دروازے کھلا رکھتا ہے، بشرطیکہ دینی وفاداری، تہذیبی تشخص اور امتیازی شناخت مجروح نہ ہو۔
عصرِ حاضر میں بین الاقوامی تعلقات، شہری ریاست کے قوانین، اقلیتوں کے حقوق، بین المذاہب مکالمہ اور عالمی تعاون جیسے معاملات میں مسلم سماج اور معاشرہ کو حکمت و بصیرت کے ساتھ ان اصولوں کی تطبیق کی ضرورت ہے۔ یہ تحقیق انہی خطوط پر یہ واضح کرنے کی کوشش کرے گی کہ شریعت نے غیر مسلموں کے ساتھ کامل دلی موالات کو کیوں ممنوع قرار دیا، اور عام انسانی دوستی، حسنِ سلوک، معاملات، پڑوسی حقوق، معاشرتی تعاون اور پرامن بقائے باہمی کو کس طرح مشروع اور مستحسن قرار دیا۔
پیشِ نظر مقالہ اسی اہم اور نازک موضوع کا ہمہ جہت جائزہ پیش کرے گا، جس میں ؛
1. قرآن و حدیث میں موالات اور دوستی کے مفاہیم کی وضاحت،
2. سیرتِ نبوی ﷺ کی عملی مثالوں کا تجزیہ،
3. مشاہیر فقہاء و مفسرین کی آراء،
4. اور عصرِ حاضر کے تناظر میں ان تعلیمات کا اطلاق،
یکجا کر کے ایک متوازن، جامع اور قابلِ عمل نتیجہ سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔
یوں یہ تحقیق نہ صرف علمی و فقہی اہمیت رکھتی ہے، بلکہ عصرِ جدید کے سماجی، سیاسی اور بین المذاہب تقاضوں کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے، تاکہ مسلمان بحیثیت امّت اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے انسانیت کے عالمی قافلے کے ساتھ مثبت اور بامقصد تعلقات قائم کر سکیں۔
مولانا محمد تقی عثمانی صاحب اس موضوع پر ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں ۔
"اسلام نے دوسرے مذاہب کے پیرؤوں کے ساتھ رواداری کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے ،خاص طور پر جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں، ان کے جان و مال، عزت وآبرو اورحقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہو، بلکہ انہیں روزگار، تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں، اُن کے ساتھ حسن ِسلوک کا معاملہ رکھا جائے اور ان کی دلآزاری سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ ہمارے فقہاء کرام نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی یہودی یا آتش پرست کو اے کافر ! کہہ کر خطاب کیا، جس سے اس کی دل آزاری ہوئی، تو ایسا خطاب کرنے والا گنہگار ہوگا۔
(فتاوی عالمگیر ی ص ۵۹/۵)
قرآن کریم نے فرمایا ہے:
”اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ نہ کرو ۔ یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “(ترجمہ سورہ ۶۰ آیت ۸)
اسی بنیاد پر احادیث کا ذخیرہ اور اسلامی فقہ اور تاریخ کی کتابیں غیر مسلم شہریوں کے ساتھ نہصرف رواداری، بلکہ حسنِ سلوک اور برابر کےانسانی حقوق کی تاکید و ترغیب سے بھری ہوئی ہیں ۔
لیکن رواداری، حسن سلوک اور انصاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مذاہب کے درمیان فرق اور امتیاز ہی کو مٹا دیا جائے، اور مسلمان رواداری کے جوش میں غیر مسلموں کے عقیدہ و مذہب ہی کی تائید شروع کر دیں یا اس عقیدہ پر مبنی مذہبی تقریبات میں شریک ہو کر یا ان کے مذہبی شعائر کو اپنا کر ان کے مذہب کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
قرآن کریم نے اس سلسلے میں جو واضح طرز عمل بتایا ہے ، وہ یہ ہے: "تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین"
اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو شائستگی کے دائرے میں اپنے مذہبی تہوار منانے کا پورا حق حاصل ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں نہ خود کوئی رکاوٹ ڈالے، نہ دوسروں کو ڈالنے دے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان کی وہ مذہبی رسمیں جو ان کے عقیدے پر مبنی ہیں، ان میں کوئی مسلمان انہی کے ایک فرد کی طرح حصہ لینا شروع کردے ۔
جو مسلمان توحید کا عقیدہ رکھتا ہو،اور لَااِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ پر ایمان اس کی شناخت کا لازمی حصہ ہو، اس کے لئے اس عقیدے کے عملی مظاہرے کا حصہ بننا روا داری نہیں، مداہنت اور اپنے عقیدے کی کمزوری کا اظہار ہے۔
اس لئے اس میں تمام پہلوؤں کی رعایت اور مختلف جہتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ (مولانا عثمانی صاحب کی تحریر سے ملخص)
فقیہ عصر،حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ
صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا محمد صابر حسین ندوی کی کتاب ،،غیر مسلموں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن سلوک اور عصری تقاضے،، کے،، مقدمہ،، میں لکھتے ہیں،،
جو اس موضوع پر بڑی چشم کشا تحریر ہے ۔
لکھتے ہیں کہ
"اسلام ایک مکمل دستور اور نظام حیات ہے، زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو، عبادات سے لے کر معاملات تک ہلکی سے لے کر بین الاقوامی تک ، مذہبی اور بین المذاہب تمام طرح کے مسائل کا حل دین اسلام میں موجود ہے، یہی بات اسلام کو باقی مذاہب سے ممتاز بھی کرتی ہے، حالات خواہ کیسے بھی ہوں ، سازگار یا نا سازگار ؛ ہر حال میں اسلام اس کے ماننے والوں کی یکساں رہنمائی کرتا ہے، اگر کوئی شخص کسی غیر اسلامی ملک میں مقیم ہو جائے تو ایسا نہیں ہے کہ وہ دین کا مخاطب نہیں رہے گا ، اس پر اعمال و فرائض سر انجام دینے کے مطالبے ویسے ہی قائم رہیں گے جس طرح اسلامی مملکت میں ہوتے ہیں، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی ، مدنی دونوں ادوار میں امت کے سامنے نمونہ پیش کیا ، اگر ایک مسلمان برادران وطن کے درمیان رہے تو وہ کیسے دعوت و مبلغ اور احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ ادا کرے، اور جب اسلامی ریاست قائم ہو جائے تو کس طرح مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے ساتھ سلوک کرے؟ ایسا نہیں ہے کہ اسلام غیر مسلموں کو ایک آنکھ نہیں دیکھنا چاہتا ، اسلام مخالف لوگوں نے یہ بات عام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ اسلام میں غیر مسلموں کی کوئی جگہ نہیں اور یہ کہ نعوذ بااللہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم ) غیر مسلموں سے محض جنگ کرنے کیلئے مبعوث کئے گئے تھے۔ یہ صریح جھوٹ ، افتری پروازی اور بغض و عناد کے سوا کچھ نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو بنو نجار، غطفان اور بہت ۔ سے قبائل جو غیر مسلم تھے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے مصالحت نہ کرتے ، میثاق مدینہ نہ ہوتی اور جہاد کا حکم اول مرحلہ ہی سے دے دیا جاتا۔
اسی طرح ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہاں پر مسلمانوں نے عرصہ دراز تک حکومت کی ہے، اگر واقعی اسلام کا یہ پیغام ہوتا تو یہاں کوئی غیر مسلم نہ بچتا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اس بات پر شاہد ہے کہ ایک مؤمن کا سب سے بڑا ہتھیارا خلاق فاضلہ ہے، اگر کوئی شخص روزہ نماز کا پابند ہو، لیکن اس کے اخلاق ایسے ہوں کہ پڑوسی کو پریشان کرتا ہو ، معاملات میں غبن کرتا ہو، خواہ وہ مسلم کے سا ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ وہ نا قابل قبول ہے، اس کی نیکیاں، اچھائیاں اعمال نامے بے وزن تصور کئے جائیں گے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ خواہ کسی مسلمان کے ساتھ معاملہ کرتے یا کسی غیر مسلم کے ساتھ ؛ ان کے مابین یکساں سلوک کرتے حتی کہ آپ نے یہودیوں سے بھی معاملہ میں کوئی کوتاہی نہ برتی اور امت کے سامنے بہترین تقلیدی نمونہ چھوڑا ، یہی وجہ ہے کہ آپ کو قرآن مجید نے انك لعلى خلق عظیم کا تمغہ دیا۔
اس وقت اشد ضرورت ہے کہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے رکھا جائے اور عملی طور پر غیر مسلموں کو دکھایا جائے کہ اسلام سراپا رحمت ہے اور اس کا وجود ملک وملت کیلئے نافع ہے، وہ سودمند، انسان دوست اور بہی خواہ ہے، خصوصاً ہندوستان میں اکثریتی سماج کے ساتھ رویہ اور سلوک میں سنت رسول کی پیروی کی جائے ، اور ملک میں ابھرتے زعفرانی، ہند و احیائیت اور عصبیت کے طوفان کو ٹھنڈا کیا جائے ، خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ آگ کو آگ سے نہیں بجھایا جا سکتا، اس کیلئے پانی کی ضرورت ہے، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ابر رحمت بن کر برسیں اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات عام کرنے کی مہم چلا ئیں ، ہاں ! یہ بات ضرور ہے کہ شعائر اسلام سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ، ایک مؤمن کیلئے کل سرمایہ حیات اس کا ایمان ہے، چنانچہ اگر کسی بھی صورت ایمان کے ساتھ مصالحت کرنی پڑے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا؛ تاہم مزاج میں نرمی ، کردار میں محبت ، معاملات میں صفائی اور بھائی چارگی مطلوب ہے، اگر ایسا کیا گیا تو یقین ہے کہ ہندوانہ تشدد ، منافرت اور تعصب میں کمی آئے گی ، اہل ایمان کیلئے راہیں کھلیں گی ، دعوت تبلیغ کی راہ ہموار ہوگی اور اس ملک میں مسلمانوں کیلئے ایک نئی صبح ہوگی "۔
نوٹ/ یہ مضمون کئی قسطوں میں ہے ، ہم وقفہ وقفہ سے اسے قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کرتے رہیں گے ۔
No comments:
Post a Comment