جنہیں میں نے دیکھا ہے
مطالعہ نگار:
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور
خاکوں کی دنیا (جنہیں میں نے دیکھا ہے )میں چوتھی شخصیت مولانا محمد غزالی ندوی بھٹکلیؒ (1944- 2018) کی ہے،ڈاکٹر صاحب زید مجدہ مضبوط قلم اور عمدہ طرز نگارش کے ساتھ ساتھ قوی حافظہ اور غیر معمولی محبت کا فیضان اپنے جلو میں رکھتے ہیں،آپ کی پہلی ملاقات مولانا مرحومؒ سے جس وقت ہوئی، اس کو اپنے ذہن کے دریچوں میں جھانک کر یادگار بنایا ہے،جناب مولانا محمد غزالی ندوی بھٹکلیؒ حضرت مولانا عبدالباری ندویؒ کے تربیت یافتہ اور ان کی فکر کے فریفتہ تھے آپ بھٹکل کے ایک مشہور علمی و سماجی خاندان میں پیدا ہوئے بزرگان دین اور اپنے دور کے عباقرۀ علم و فن اور عشق نبوی سے سرشار اکابرین سے آپ کا مضبوط تعلق رہا، انہیں کے زیر سایہ تربیت پائی، اور انہیں کے آغوش میں زندگی گزاری ظاہرا تو آپ صاحب حال بزرگ حضرت مولانا شاہ یعقوب صاحب مجددی بھوپالیؒ سے بیعت ہوئے اور ان کے زیر سایہ اپنے اندر نکھار پیدا کیا لیکن مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ سے بڑی محبت اور عقیدت تھی اور اس دور میں تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز نظام الدین دہلی سے پیوستہ رہے بلکہ 1975ء میں حج بیت اللہ سے واپسی کے بعد مرکز ہی کے ہو کر رہ گئے،آپ کی شخصیت،علمی وقار، اکابرین کا حسن ظن آپ کے بارے میں آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
حضرت مولانا عبدالباری ندویؒ خلیفہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے آپ سے جو حسن ظن رکھا،وہ لکھتے ہیں۔
ﷲ تعالی اگر قیامت کے دن پوچھے گا کہ کیا لے کر آئے ہو تو میں غزالی کو پیش کروں گا،آپ گنے چنے ان دوستوں میں ہیں،جن کی محبت کو میں اپنے لیے سرمایۀآخرت جانتا ہوں۔
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ فرماتے ہیں۔
آپ سے خصوصی محبت محسوس کرتا ہوں جو ہر ایک سے نہیں ہوتی، امید ہے کہ آپ اپنی درسگاہ اپنے خاندان اور اساتذہ کا نام روشن کریں گے۔
اور مرشد الملت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ نے آپ کو خلافت سے بھی سرفراز فرمایا، ندوۃ العلماء کی شوری کے بھی رکن رہے،علماء و مشائخ اور اہل ﷲ سے گہرے مراسم و ربط رہے،اور بہت سی اہم شخصیات کی چھاپ ان کی زندگی میں نمایاں رہی، آپ کا اصل میدان دعوت و تبلیغ بنا،اور اسی میں پیش پیش رہے اور یہی رنگ آپ پر غالب رہا مرکز نظام الدین تشریف آوری کے بعد حضرت جی مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ کی مقناطیسی شخصیت سے وہ چپک کر رہ گئے پھر مرکز میں ان کو اہم ذمہ داریاں بھی دی گئیں عرب مہمانوں کی تقریروں کا اردو ترجمہ کرنا،ان کے امور خدمت اور جملہ ذمہ داریاں آپ کے سپرد رہتی آپ بانئ تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ ﷲ علیہ کی اصلاحی کوششوں کے علمبردار بنے۔
پانچویں شخصیت کے طور پر اس مثالی مہتمم کا تذکرہ ہے جن کے دور اہتمام کے تابندہ نقوش اور سنہری یادیں آج بھی نقش کالحجر ہیں،حضرت مولانا محب ﷲ لاری ندویؒ( 1905 -1994) اس دور کی عالمی شہرت یافتہ اشخاص میں سے ہیں اور سلسلۃ الذہب کی وہ کڑی ہیں جن پر ندوہ بھی ہمیشہ ناز کرے گا،آپ ایک علمی ذوق کی حامل شخصیت اور میدان علم و عمل کے شہ سوار تھے، آپ کے مخلص رفیق مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کی خواہش پر آپ کو دارالعلوم ندوة العلماء کے اہتمام پر فائز کیا گیا اور تقریبا ربع صدی یہاں کے ایک باوقار مثالی مہتمم رہے،خدا تعالی نے آپ کو انتظامی صلاحیت وہبی طور پر عطا فرمائی تھی،آپ نے ادارتی امور فراست ایمانی اور عمل کے ساتھ انجام دئیے۔
ڈاکٹر صاحب زید مجدہ آپ کی انتظامی خوبیوں کا ذکر جمیل کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
ان کی اہم خصوصیات و کمالات میں سب کے درمیان عدل و انصاف کرنا، توازن برقرار رکھنا، فرائض وحقوق ادا کرنا،مختلف فکر اور مزاج کے حامل اساتذہ کرام کی نفسیات، مزاج، صلاحیت کے مطابق ان سے کام لینا، مقامی ملکی اور عالمی افراد وجماعت سے تعلق اور ربط،اور ہر ایک کی ضرورت اور بات کو غور سے سننا، اس کا حل تلاش کرنا، کم بولنا، لیکن وقت پر صحیح اور درست فیصلہ کرنا،سب کے حقوق کا خیال رکھنا، بلکہ ادا کرنا وغیرہ شامل ہے،ندوہ کے عظیم مشن کو رواں دواں رکھنا،طلباء کی تعلیم و تربیت،نگرانی، نئی نسل کی تیاری اور ذہن سازی، قدیم صالح اور جدید نافع کا قدم قدم پر خیال رکھنا، ادارے کی تعلیمی، تربیتی، علمی،فکری اور دینی فضا کو سازگار بنائے رکھنا، اور اس کو خوب سے خوب تر بنانا ان کے دورِاہتمام کی خصوصیات ہیں۔
آپ سراپا خلوص و ایثار کے پیکر تھے یقین محکم،عمل پیہم،جہد مسلسل کی عملی تصویر تھے،خاموش محنت آپ کا مزاج تھا، جاں فشانی سے آپ کی زندگی عبارت تھی،بہت سنجیدہ اور خاموش طبیعت تھے ،اسٹیج سے دور بلکہ نظروں سے اوجھل رہتےتھے، اخلاص وللہیت کے پیکر اور علم و عمل کے جامع تھے، اچھے انتظام و انصرام میں کام آنے والی عادت اصول و ضوابط کے انتہائی پابند تھے، قانون شکنی کا ان کے یہاں کوئی گزرنہ تھا، اور اس سلسلے میں اپنے اور پرائے کا کوئی خیال نہ تھا، ندوہ کی تعمیر و ترقی میں یقینا بہت سے اکابرین کی قربانیاں شامل ہیں کہ انہوں نے اپنے خون پسینہ سے اس کو سینچا ان میں ایک نام مولانا مرحومؒ کا بھی ہے جن کے دور اہتمام میں ندوہ کو تعلیمی و تعمیری تربیتی ترقیات نصیب ہوئیں اور یہ دور ندوہ کا زریں دور کہلائے جانے کے قابل ہے۔
چھٹے نمبر پر تذکرہ ہے ہندوستان کے ایک تاریخی وعلمی خاندان کے چشم و چراغ اور بانئ دارالعلوم وقف دیوبند حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی (1926- 2018) کا ذکر جب چھڑ گیا تو اب کیا رکئیے۔
خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ ایک جید عالم دین، مفکر و خطیب اور بہترین محدث تھے، اسرار شریعت سے واقف اور طریقت کے رموز سے آشنا تھے،ماہر تعلیم اور علوم و معارف میں کمال قدرت رکھتے تھے،اسی وجہ سے خطیب الاسلام لقب ملا، خانوادۀ قاسمی کے گل سر سبد کو اپنے والد جلیل حضرت حکیم الاسلامؒ کی وفات کے بعد اسٹیج سے جو عالمانہ شناخت حاصل ہوئی وہ حکمت قاسمی سے لبریز خطابت کی وجہ سے میسر آئی، اسی وجہ سے موزوں لقب بھی ملا،آپ کی تقریرعلمی بصیرت کا شاہکار،فقیہانہ و منطقیانہ استنباط، فلسفیانہ نکتہ سنجی اور عالمانہ وواعظانہ درس انگیزی کا مرکب ہوتی تھی، سلاست و روانی کا بہاؤ، الفاظ و جملوں کی بندش، بلند افکار و خیالات کی عکاسی ان کی خطیبانہ پہچان تھی،مدارس اسلامیہ میں نصاب تعلیم کی زمانے کے ساتھ تبدیلی کے وہ خواہاں تھے اور اس ناحیہ سے ان کی زندگی میں بہت سی کارکردگی نظر آتی ہیں، اس زاویہ سے انہوں نے اپنی قلمی آراء اور عملی طور پر سیمینار کا انعقاد بھی کیا، اور دل درد مند ودوربیں نگاہوں سے بھانپ کر حالات کو دیکھا تب وہ جمود کو توڑ کر نصاب تعلیم میں تبدیلی کے خواہاں ہوئے،خانوادۀ قاسمی کے اس چشم و چراغ پر لکھے جانے والے اس تذکرے میں ڈاکٹر صاحب نے عنوان کا انتخاب بھی نصاب تعلیم سے کیا ہے،(مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ اور مدارس اسلامیہ کا نصاب تعلیم) اس وارد میں اکثر خطیب الاسلامؒ کے اس طرز فکر و نصاب تعلیم میں تبدیلی کو لے کر گفتگو کی گئی ہے۔
No comments:
Post a Comment