مطالعہ نگار:
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس:
اس کتاب کے عناوین میں جدت وندرت ہے،شخصیات کے مختلف پہلوؤں کو تحریر میں قید کیا ہے صرف پیدائش ووفات اور دینی وعلمی کارناموں کو ہی نہیں لیا بلکہ زندگی کے اہم نشاطات کے ساتھ ان شخصیات کے محبوب فنی وعلمی امتیازات، کام کرنے کے سلیقے، اور لامتناہی سلسلوں کو چھیڑا ہے جن میں تنوع بھی ہے اور وسعت بھی،تحقیق کی جستجو بھی ہے اور کمال کا بانکپن بھی۔
اگر اس کتاب کے مشمولات وعناوین پر نظر ڈالتے ہیں تو مقدمہ وتقریظات کے بشمول 17 خاکے اس میں شامل ہیں جن کے عناوین سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے کتنی جانفشانی وجفاکشی سے کام کیا ہے۔
کتاب کی تبویب کچھ یوں شروع ہوتی ہے، سب سے پہلے ملک کے معروف قلم کار اور ندوی فاضل برادر عزیز مولانا ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی صاحب زید مجدہ کا مقدمہ ہے جس میں موصوف نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت،ان سے تعلقات، ان کی رفاقتیں،ان کے قلم کی سلاست وروانی،علم کی فراوانی اور اپنی محبتوں کو قلمی جامہ پہناکر زینت بنایا ہے اس کے بعد مولانا مناظر منعم رحمانی ندوی مہتمم مدرسہ سیدنا بلال لکھنؤ نے ''مؤلف کتاب ایک نظر میں''رقم کیا ہے جس میں موصوف محترم کا خاندانی پس منظر،ابتدائی واعلی تعلیم ولیاقت،مشہور اساتذہ،دعوتی وتجارتی اسفار اور الندوة ایجوکیشنل اسلامک سینٹر کا قیام،کاکردگیاں، امتیازات کو بیان کیا ہے ایک تقریظ برادرم مولانا سید شعیب حسینی ندوی مدظلہ کی کتاب کو چار چاند لگاۓ ہوئے ہے جس میں ڈاکٹر صاحب کی علمی وقلمی صلاحیت ،کمالا ت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ فاضل قلم کار کے قلم کا بھی گہراربط ہے انہوں نے محبت میں ڈوب کر اپنے محسن کا نقش بنانے کی کامیاب سعی کی ہے پھر عرض مؤلف میں فاضل گرامی مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن فیضی ندوی دامت برکاتہم نےبزرگان دین سے جڑنے ، استفادہ کرنے کی ترغیب اور اپنے تعلقات پر روشنی ڈالی ہے ان کی دلی تمنا ہے کہ ہم اپنے بڑوں سے مربوط ہوکر زندگی گزاریں اور ان کے کئے ہوئے کاموں،ان کی پیشانی سے ظاہر ہونیوالے خوابوں کو بھانپ کر اپنی جوانی اور علمی صلاحتیں اس کے نام کریں جس کی امت بڑی شدت سے منتظر ہے۔
یہ خوش قسمتی اور نیک بختی کی علامت ہے کہ انسان اپنے بزرگان اور محسنوں کو فراموش نہ کرے،بلکہ ان کے علمی ورثہ کی حفاظت کے ساتھ ان کی میراث کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے ،تاکہ اس کے ذریعہ آنے والی نسلوں کےدین و ایمان کے تحفظ کی راہ ہموار ہو ورنہ شاعر کی زبانی سریا سے زمین پر آسمان دے مارتا ہے۔
سوانح نگاری کی اس طویل زنجیر میں سب سے پہلے فخر گجرات حضرت مولانا عبداللہ کا پودرویؒ کی شمولیت ہے حضرت مولاناؒ ایک ہمہ گیر ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے کئی زبانوں پر دسترس اور عبور رکھتے تھے کئی زبانوں میں آپ کے دروس و خطابات مہیا ہیں جس نے امت کی کشتی کو ناخدا بن کر ساحل بکنار کیا آپ کو ﷲ تعالی نے انتظامی صلاحیت اور ادارتی امور میں فراست ایمانی عطا فرمائی تھی جس کی جیتی جاگتی مثال اپنے خون جگر سے سینچے جانے والے ادارہ جامعہ فلاح دار ین ترکیسرگجرات سے ملتی ہے، جس کی تعلیمی و تعمیری ترقیات اور اس کے عروج کی داستان آپ کے شب و روز کی مرہون ہے اور اس کی مرکزی،عالمی شناخت، اس کے تربیت یافتہ علماء کے ذریعے آج سب کے سامنے ہے، آپ کا سراپا خلوص و ایثار، جہد مسلسل بلکہ جنون کی حد تک کچھ کر گزرنے کا عزم جواں اور ملت کی کشتی کو ساحل سے ہمکنار کرنے کی دھن، لیل ونہار کی انتھک کوششوں سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آیا، اور ان کی اندرونی طاقت نے گرتوں کو تھاما، مصنف محترم نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ حضرت مولاناؒ مفکر اسلامؒ کی فکر کی ترویج و اشاعت میں اختصاص رکھتے تھے ملی تڑپ ان کے سینے میں موجزن تھی، علم ومطالعہ، وسیع فکرو نظر، زندگی کے بیش قیمت تجربات کا سرمایہ ،دینی حمیت وغیرت کا اظہار آپ کا سرمایۀ افتخار تھا، آپ نے مذہبی مفاد،دین کی بالادستی اور حق گوئی کو گلے لگایا اور اخلاص واستغناء کو اپنا شعار بنایا،اسی وجہ سے وہ جامعیت و انفرادیت کے حامل و داعی بنے،ان کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ کام کرنے کے لیۓعمر کی قید نہیں بلکہ کردار کی جلوہ گری، اندرونی تڑپ اور خلوص کی آمیزش درکار ہے جو ترقیات کی سیڑھی چڑھنے میں معاون ہے۔
دوسری شخصیت أمیر المومنین فی الحدیث حضرت مولانا محمد یونس صاحب جون پوریؒ کی ہے ڈاکٹر صاحب دامت برکاتہم نے جب شیخ یونسؒ پر قلم اٹھایا تو گویا ان کی علمی رگ بھڑک اٹھی اور ہندوستان میں علم حدیث کی قندیلیں کب روشن ہوئیں اور کب یہ شجر برگ وبال لایا اور اس نے بہاریں دکھلائی پروان چڑھنے سے فروغ پانے تک جو شخصیات اس میں شب و روز مشغول رہیں اور علم حدیث ہی ان کی پہچان بنا،سب کو شمولیت دے دی پھر شیخ الحدیثؒ کا ذکر کرتے ہیں۔
بلاشبہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد یونس صاحبؒ ایک عبقری،منفرد اور لاثانی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی عبقریت، لیاقت اور فنی مہارت ،علم حدیث میں وسعت واقفیت،اور رسوخ فی العلم سے ہندوستان اور پھر عالم عربی کو ششدر کر دیا، قدرت کے دست فیاض نے ان کو علم حدیث میں کمال اورﷲو رسولﷺ کی سچی محبت عطا فرمائی تھی، ان کے پہلو میں حدیث رسولﷺ کا خشک نہ ہونے والا ابلتا اور پھوٹتا چشمہ، حفاظت حدیث کا نہ بھجنے والا شعلۀ جوالہ آویزاں تھا،ان کو قلب سلیم،حب رسولﷺ عطا ہوئی تھیں، آپ ایک پوری نسل کے معمار اور علم حدیث کے ایک مدرسہ کے علمبردار تھے، جن کی تصنیفات، رجال سازی سے تاریخ اسلام مزین رہے گی،وہ بر صغیر ہند میں علم حدیث کا مرجع اور اپنے دور کے تنہا شہ سوار تھے،آپ کے درس حدیث کی خصوصیات کو آپ ہی کے نامور تلمیذ رشید حضرت مولانا محمد ایوب سورتی گجراتی دامت برکاتہم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
حدیث شریف کے جو ہیرے اور جواہرات اور اسرار و رموز ہمیں حضرت شیخ کے پاس ملے وہ کسی اور محدث کے پاس نہیں ملے ،آپ کی مجلس حدیث کی مثال بحر ذخار کی تھی جس میں علوم حدیث کی موجیں اور لہریں اٹھتی تھیں غواص اور شناور اپنی استعداد ظرف اور صلاحیت کے بقدر فیض یاب ہوتا، اس کے ذہن و دماغ کی سلوٹوں پر محدثین، متکلمین، مفسرین اور شارحینِ حدیث کے اسمائے گرامی نقش ہو جاتے،آپ کا طرز تدریس یہ تھا کہ روات کے احوال ذکر کرتے، علماء کرام کے اقوال میں تقابل اور موازنہ فرماتے، دونوں فریق کے دلائل کا جائزہ لیتے پھر وجہ ترجیح بیان کرتے، دوران درس ایسا محسوس ہوتا کہ ہم بچشم خود بیک وقت فتح الباری، عینی، قسطلانی اور کرمانی کی نگارشات اور شروحات کا مشاہدہ کر رہے ہیں،اور ان کی کتابیں ہماری آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی ہیں،اس طرز کا ذائقہ ہم نے بحث و تحقیق کے ذواق کی طرح چکھا،اور اس سے پڑھنے اور مطالعۀ کتب کرنے کا انداز سیکھا،بر صغیر ایشیا میں بہت سے محدثین شیخ کے تلامذہ اور تلامذہ کے تلامذہ ہیں۔
آپ کا علمی مقام بہت بلند تھا،بخاری شریف کو امام بخاریؒ کے طرز پر پڑھانے میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا انداز محققانہ وفاضلانہ تھا، ان کی بخاری فہمی پر علمائے عرب انگشت بدنداں رہ جاتے تھے،ان کی نکتہ سنجیاں، وسیع علم و فہم اور عمیق تدبر و تفکر پر شاہد ہیں، اپنے موضوع پر حجت اور فن میں امام اور سند تھے۔
تیسری شخصیت حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی رحمہ ﷲ کی ہے آپ ان کے عزیز شاگرد بھی ہیں اور ان کے خاص تربیت یافتہ بھی،آپ کے مشوروں سے زندگی گزارنے والے بھی اور انہیں کی گائیڈ لائن کے مطابق اپنے مستقبل کی تعمیر کرنے والے بھی،ڈاکٹر صاحب نے اپنے ملک سے کوسوں دور رہ کر علمِ دین کی جو شمعیں روشن کیں ان کوبنانے اور سنوارنے میں مولانا واضح رشید حسنی ندویؒ کا اہم رول ہے۔
ادیب اریب حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندویؒ ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں عربی کے ایک بلند پایہ ادیب اور صحافت کے ایک ستون تھے،آپ عربی اردو اورانگریزی صحافت میں بڑی مہارت وبصیرت اور عالم اسلام مغربی ممالک کے سیاسی اتھل پتھل پردقیق نظر رکھتے تھے، اور اس دور میں ان کا کوئی ثانی بھی نہ تھا، آپ خانوادۀ حسنی کے چشم و چراغ، دارالعلوم ندوة العلماء کے سابق معتمد تعلیم، کئی عربی و اردو ماہناموں کے مدیر و رئیس تھے،وہ علم و عمل میں جامیت کے ساتھ قدیم و جدید کا حسین سنگم اور اخلاق میں بے مثال تھے،اعلی صفات کے حامل تھے، ندوة العلماء کے تعلیمی و تربیتی ماحول کو ان کے مزاج نے اعتدال دیا، بڑے وسیع نظر وسیع الفکر جہاں دیدہ عالم دین تھے،وہ ہمیشہ شعارنا الوحید الی الاسلام من جدید کے پیامبر رہے، افراد سازی ومردم گری میں ان کو بڑا ملکہ تھا،ان کی زندگی بے نفسی وریاضت،دنوں کی تپش،راتوں کا گداز، خود انکساری، الفت و محبت اور تمام اسلامی اقدار کا پیکر جمیل تھیں،آپ کی تحریریں بڑی عالمانہ شان کی حامل اور مدلل ہوتی تھیں، شخصیت سازی پر ان کو دسترس تھی،آپ نے مسند درس و تدریس کو تقریبا 40 سال زینت بخشی اور ایک طویل جماعت اپنے زیر تربیت ایسی تیار فرمائی جو ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام اور تمام براعظموں کے اکثر ممالک میں دینی و تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب خود رقم طراز ہیں:
راقم کی حقیر شخصیت کی تکوین و تشکیل میں جن اکابر نے نمایاں کردار ادا کیا ان میں لاریب والد مرحوم(حضرت مولانا محبوب الرحمٰن ازہری) کے بعد دوسرا نام مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندویؒ کا ہے مولانا مرحوم کی ندوة العلماء آمد کے بعد سے راقم کی کلی طور پر تعلیم و تربیت مولانا کی سرپرستی میں انجام پائی،جو بلاشبہہ میری زندگی کا بیش قیمت اثاثہ ہے
مولانا کثیر الجہات اور متنوع صفات شخصیت کے حامل تھے،شاگردوں کا بے تحاشہ خیال کرتے تھے، خوب سے خوب تر بنانے کی فکر دامنگیر رہتی تھی، جو مولانا کے قریب ہوا انہیں کا ہو کر رہ گیا اس کو محبت کاایسا جام پلا دیتے پھر وہ کہیں اور میسر نہ آتا۔
ڈاکٹر صاحب کے گہر قلم سے تحریر کیا جانیوالا یہ خاکہ استاد وشاگرد کے تعلق،محبت کی ایک پہچان ہے
No comments:
Post a Comment