دریائے تصوف کا ایک اور چشمہ خشک ہوا۔
محمدامام الدین ندوی
ناظم مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی۔
موت مومن کے لئےاللہ کی جانب سےایک بیش بہا تحفہ ہے۔ہر مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس عظیم تحفہ کو قبول کرے۔
موت بندے کو اللہ سے ملانے کا ایک وسیلہ اور ذریعہ بھی ہے۔اسی لئے اسے پل سے تعبیر کیا گیا ہے۔
گذشتہ کل پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔
پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کامیدان تصوف میں ایک بڑا نام رہاہے۔آپ نے بہت سے بنجر دلوں کو سرسبزوشاداب بنایاہے۔بہت سے مایوس دلوں میں آس پیدا کی ہے۔بہت سے بےراہ رووں کو ہدایت کی منزل تک پہونچایا ہے۔
بہت سوں کے ظاہروباطن کو صیقل کیاہے۔اس وقت کے بڑے اکابر علماء نے اپنے ظاہروباطن کی صفائی کے لئے آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کئے ہیں۔آپ کی زندگی خلق خدا کواللہ ورسول سے جوڑنے میں وقف تھی۔آپ تقوی وطہارت اور للھیت میں اول صف میں تھے یقینا ایسی شخصیت کا دنیاسے جانا بڑاہی غم ناک اور ناقابل برداشت صدمہ ہے۔لیکن اللہ کا قانون ہے اور سب کے لئے ہے خواہ امیر ہو یا غریب،عالم ہو یاجاہل،ظالم ہو یا مظلوم،شاہ ہو یاگدا،موت سب کے لئے ہے اور اس کا گھونٹ سب کو پینا ہے۔
پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیت برسوں میں پیدا ہوتی ہے ایسے نفوس قدسیہ کی زندگی بھی خوش گوار اور موت بھی شاندار ہوتی ہے۔ایسے بافیض لوگ دنیا سے چلے تو جاتے ہیں لیکن ان کے فیض سے خلق خدا ہمیشہ مستفیض ہوتی رہتی ہے۔
پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے اللہ تعالیٰ ان کو متقیوں کی صف میں شامل فرمائے اور اپنے شایان شان بہتر بدلہ عنایت فرمائے آمین ۔
یقینا پیر ذوالفقار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ دریائے تصوف کے ایک بافیض چشمہ کی مانند تھے جو کل سدا کے لئے خشک ہو گئے۔
ہم اس صدمے کی گھڑی میں اہل خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment