جنہیں میں نے دیکھا ہے
مطالعہ نگار :
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس :
جامعة الحسنین
صبری پور
اس تازہ وارد میں شخصیات کے عناوین سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن فیضی ندوی صاحب دامت برکاتہم نے قریب و بعید کی علمی وتاریخی،دینی ودعوتی اہم شخصیات کو پڑھا ہے، اور ان کی قلمی کاشت کی سیر کی ہے اور صرف تاریخی طور پر مطالعہ نہیں کیا بلکہ زبان و ادب کا ذائقہ لے کر ان کے علمی و فنی دسترخوان سے خوشہ چینی کی ہے، جیسا کہ آپ کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے اب ہم بات کریں گے اردو کے اساسی اراکین میں شامل علامہ شبلی نعمانیؒ جیسی جامع صفات اور جامع جہات شخصیت کی،عنوان ہے "علامہ شبلی نعمانی کا طرز تحریر اوران کی بعض تحریری خصوصیات ( 1857- 1914)
عنوان ہی سے معلوم ہوتا ہے اس موضوع پر لکھنے کے لئے علامہ شبلیؒ کی کتابوں کی خاک چھانی جائے گی اور تحریری خصوصیات تلاش کرنے کے لئے تحلیل و تجزیہ سے کام لینا ہوگا لیکن ڈاکٹر صاحب خوش قسمتی سے اس میدان میں بھی سبقت لے گئے،اور طبع آزمائی میں کامیابی کے ساتھ منزل کی جانب رواں دواں رہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جن اہل قلم نے لیلائے اردو کے گیسو سنوارے ،ان میں علامہ شبلی نعمانیؒ کا نام سر فہرست ہے، وہ ایک ادیب و انشاء پرداز کی حیثیت سے ممتاز اور اپنے معاصرین میں فائق نظر آتے ہیں، ان کے معجز قلم نے جو الفاظ رقم کئے ان کو ادب وانشاء کے میدان میں اتھارٹی حاصل ہوئی،اور وہ گوہر آبدار ثابت ہوئے، اس درجہ انفرادیت انکی تحریروں میں پائی جاتی ہے کہ نظر پڑتے ہی علامہ شبلیؒ کی تخلیق کا اعلان ہوتا ہے، زبان و بیان کی شگفتگی کا عنصر ان کے یہاں زیادہ ہے، اور بقول مولانا عبدالماجد دریابادی۔
علمی تحریروں کے لئے اب تک شبلی کے اسلوب سے بہتر کوئی نمونہ اردو میں موجود نہیں ہے ۔
ادب کا کوئی گوشہ نہیں جس میں انہوں نے اپنا سکہ نہ جمایا ہو اور لوہا نہ منوایا ہو۔
رام بابو سکسینہ مصنف تاریخ ادب اردو نے سچ کہا ہے ۔
اگر کوئی شخص ایک شاعر، فلسفی،مؤرخ، ناقد،ماہرِتعلیم، معلم، واعظ،ریفارمر،جریدہ نگاہ، فقیہ، محدث سب کچھ ہو سکتا ہے تو شبلی ہی کی ذات تھی۔
اسلام،بانئ اسلام یا مشاہیر اسلام پر کسی جانب سے اعتراض کئے جاتے،تو پھر شبلی کا اسلوب اپنا رنگ دکھاتا ہے دنیا کے کسی اور حصہ اور خطہ میں مسلمانوں پر کوئی افتاد پڑی تو شبلی کا قلم جولانیاں دکھانے لگا،ان کا کمال یہ تھا کہ ان کی حقیقت نگاری میں غیر مستند روایات کا حوالہ جرم تھا،آپ نے مذہب تاریخ اور ادب کو اپنے بحث و تحقیق کا موضوع بنایا اپنے بیان کو وثوق اور اعتماد کے ساتھ بیان کرنا شبلی کا آرٹ ہے، تاریخ کے میدان میں خاص طور سے شبلی کا یہ وصف قابل تعریف و تحسین ہے۔
ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں اگر ہم مختصر الفاظ میں شبلی کے اسلوب نگارش کی خصوصیات شمار کرنا چاہیں تو وہ یہ ہوں گی۔
بے ساختگی روانی۔ برجستگی اور شگفتگی۔
فارسی الفاظ و تراکیب کی خوشگوار آمیزش۔
ایجاز و اختصار،زور بیان،جوش اور قوت استدلال۔
علمی و تحقیقی متانت، اور مؤرخانہ عظمت۔
استحکام رائے اور مقصدیت۔
حقیقت نگاری۔
فصاحت وبلاغت۔
رنگینی و شعریت اور تخیل کا عنصر۔
شستگئ بیان اور ادبی لہجہ۔
احساس کمال، احساس عظمت اور تہذیبی احساس۔
تنقید نگاری۔
تحقیقی رنگ۔
انہی گوناگوں محاسن کے باعث شبلی کے اسلوب کو مقبولیت کے دربار میں جو بلند مقام ملا وہ کسی دوسرے نثر نگار کے نصیب میں نہ آسکا، عصر جدید کے تمام نقاد بہت واضح الفاظ میں اس طرز تحریر کے حسن و خوبی کا اعتراف کرتے ہیں،شبلی کا سب سے بڑا کمال جس پر تمام نقاد متفق ہیں یہ ہے کہ انہوں نے اردو اسالیب بیان کی ایک طویل روایت اور عظیم سلسلہ کو اپنے طرز تحریر میں سمو لیا ہے یہ ایک ایسی منفرد خصوصیت اور امتیاز ہے جس کی نظیر اردو ادب کی پوری تاریخ میں مفقود ہے چنانچہ ہم کو شبلی کے اسلوب نگارش میں غالب کی شگفتگی،سر سید کی منطقیت اور استدلال، حالی کی سادگی و صفائی، محمد حسین آزاد کی شوخی ورعنائی اور نذیر احمد کا روز مرہ محاورہ، سب کی حسین قوس قزح جھلملاتی نظر آتی ہے اور پھر ان سب پر شبلی کی خود اپنی جدت و ندرت اور میناکاری نے واقعہ یہ ہے کہ اردو نثرکو دنیا کی تمام ترقی یافتہ زبانوں سے آنکھیں ملانے کے قابل بنا دیا،
اگر ہم مختصر ترین الفاظ میں شبلی کے اسلوب تحریر کے محاسن کو ذہن نشیں کرنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ اس میں قطب مینار کی رفعت و بلندی، تاج محل کا شکوہ وجمال، وادئ کشمیر کا حسن،گنگ و جمن کی پاکیزگی و تقدس، سمندر کا تموج، دریا کی روانی،دلربا حسینہ کی خوش ادائی وشوخی، اور بت طناز کی رعنائی سبھی کی جلوہ نمائی یکجا مل جاتی ہے۔
قدرت نے انہیں متضاد صفات سے نوازا تھا، ان کی تحریروں میں نفاست ،بلاغت، علمیت، حلاوت،متانت اور سلاست کا اتنا حسین امتزاج ہے جو ہمیں اردو کے کسی اورانشاء پرداز میں نظر نہیں آتا۔
ڈاکٹر صاحب زید مجدہ یہیں پر نہیں رکے بلکہ اردو ادب کی ایک خاص صنف اردو شاعری پر بھی لکھا، آئندہ مضمون کا عنوان ہے " علامہ شبلی نعمانیؒ اور ان کی اردو شاعری"
ڈاکٹر صاحب زید مجدہ اپنی انگلیوں کو جنبش دے کر علامہ کی اردو شاعری پر گلکاریاں کرتے ہیں:
علامہ شبلی نعمانیؒ برصغیر کے ان چنندہ اور مایۀناز اہل دانش اور اصحاب قلم میں سے ہیں جن کو میدان تحقیق کا سر خیل اور نقد و تاریخ کا امام کہا جا سکتا ہے آپ کی فکری جامعیت اور گوناگوں علمی موضوعات پر تجدیدی نگارشات آنے والی کئی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں، لیکن آپ کا شاعرانہ ذوق،لطافت طبع،ادبی نکتہ سنجی اور نہایت معیاری سخن وری معاصر شعراء میں آپ کو نمایاں مقام اور الگ پہچان دیتی ہے اگرچہ علامہ شبلیؒ کا نام شاعروں کی فہرست میں نہیں اور نہ پبلک میں ان کو اس حیثیت سے شہرت ملی لیکن وہ ایک عظیم شاعر بھی تھے اس کا گواہ ان کا اردو اور فارسی دیوان ہے مولوی نذیر احمد صاحب اپنی تقریر سے پہلے ایک سیدھی سادی نظم بھی سنا یا کرتے تھے اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں۔
تم اپنی نثر کولو نظم کو چھوڑو نذیر احمد
کہ اس کے واسطے موزوں ہیں حالی اور نعمانی
مولانا حالی کی شاعری تو مشہور ہے مگر علامہ شبلی کی شاعری ان کے علمی کمالات کے ڈھیر میں ایسی چھپ گئی کہ وہ بہت کم لوگوں کو نظر آئی۔
وہ ہمہ گیر اور جامع شخصیت کے مالک تھے،انہوں نے اپنے قلم سے ادب،سیاست، تعلیم ،مذہب اور فلسفے کو متاثر کیا اور سب پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے آپ کا خاص میدان نثر نگاری تھا ایک طرف سیرت پر سیرت النبی ﷺ جیسی منفرد کی کتاب لکھ کر اس فن کے معلم اول بن گئے،تو دوسری طرف موازنۀ انیس ودبیر جیسی گرانمایہ تصنیف کر کے فن تنقید کو بام عروج پر پہنچا دیا،آپ نے ان فنون کو اردو زبان میں منتقل کر کے اس کا دائرہ اتنا وسیع کر دیا جس پر اردو زبان ہمیشہ ناز کرے گی۔
آپ نے اردو شاعری سے بھی اس میدان کو جلا بخشی،لیکن انہوں نے شاعری کی طرف بہت کم توجہ کی اس کے بارے میں انہی کی زبانی سنیئے وہ اپنے ایک دوست کو خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں۔
ندوے کی جھنجھٹ اور شاعری ساتھ ساتھ چلنے کی چیزیں نہیں، بہرحال چارہ بھی نہیں، ندوہ فرض مذہبی ہے اور شاعری فرض طبعی،کس کو چھوڑوں،پھر انہیں پر موقوف نہیں ایک دل ہزار سودا۔
علامہ شبلی نعمانیؒ کے شاگرد رشید اور ان کے علمی جانشین علامہ سید سلیمان ندویؒ کلیاتِ شبلی کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں۔
مولانا مرحوم کے علمی کمالات میں اگرچہ فارسی اور اردو کی شاعری بھی داخل ہے تاہم انہوں نے بذات خود کبھی اس کو اپنا قابلِ فخر کارنامہ قرار نہیں دیا اور اس حیثیت سے کبھی اپنے ہم عصروں کی صف میں حریفانہ حیثیت سے کھڑے نہیں ہوئے، بلکہ یہ ان کا ایک تفریحی مشغلہ تھا اور زیادہ تر تو اس کی تحریک خاص خاص مؤثرات و محرکات کی وجہ سے ہوتی تھی۔
ڈاکٹر صاحب آگے رقم طراز ہیں۔
یوں تو علامہ شبلی نعمانیؒ کی شعری داستان طویل ہے اور تفصیل طلب بھی، اس کے لیے کلیات شبلی کا مطالعہ ضروری ہے،
شبلی کی شاعری ان کی شگفتہ لطیف اور رسا طبیعت کا کبھی کبھی کا ابال ہے جو شعریت کے ساتھ ساتھ اچھی اور صالح سماجی قدروں کی علمبرداری کرتی ہے انہوں نے اپنی پرجوش و مزیدار سیاسی اخلاقی اور تاریخی نظموں سے اردو شاعری میں خوشگوار اضافہ کیا ان کے اسلوب میں شگفتگی و بانکپن اور چستی ملتی ہے۔
بقول عبداللطیف اعظمی کے۔
حالی نے اردو شاعری کو زندگی سے زیادہ قریب لانے کی کوشش کی لیکن یہ ابتدائی کوششیں تھیں،شبلی نے اسے ترقی دے کر کہیں سے کہیں پہنچا دیا، اردو شاعری کو زندگی کی حقیقی مسائل سے قریب سے قریب تر لاکر ہندوستانی تہذیب کا آئینہ دار بنا دیا،جدید مسائل پر طبع آزمائی کی اور ایک نئی شاعری کی داغ بیل ڈالی،شبلی کے یہاں غزل بہت کم ملتی ہے لیکن اس میں تغزل ہے، ان کا تغزل محض گل و بلبل کی حکایت اور جوانی کی داستان کے لیے نہیں،ملک و قوم کے مسائل اور تاریخ کے اوراق کی تشریح کے لیے ہے،یہ زود ہضم بھی ہے اور صحت بخش بھی،اس کا اندازہ ان کے کلام سے لگایا جا سکتا ہے۔علامہ کہتے ہیں ۔
پوچھتے کیا ہو جو حال شبِ تنہائی تھا
رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا
شبِ فرقت میں دلِ غمزدہ بھی پاس تھا
وہ بھی کیا رات تھی کہ عالم تنہائی تھا
اور پھر کس کو پسند آئے گا ویرانۀدل
غم سے مانا بھی کہ اس گھر میں خالی کر لوں
آپ جاتے تو ہیں اس بزم سے شبلی لیکن
حال دل کا کہیں اظہار نہ ہونے پائے۔
یہ شبلی کی غزل گوئی تھی جو ان کی ابتدائی دور میں منظرِ عام پر آئی ویسے وہ وقتا فوقتا سیاسی حالات پر نظمیں لکھتے رہے، آپ نے شہنشاہیت کے خلاف جرأت وہمت کے ساتھ نظمیں لکھیں ۔
ایک نظم جنگِ بلقان اور دوسری تقسیمِ بنگال کے حالات سے متاثر ہو کر لکھی جو اس وقت کے نا گفتہ بھی حالات کی عکاسی کرتی ہیں،طویل نظم ہے دو شعر لکھے جاتے ہیں،فرماتے ہیں۔
حکومت پر زوال آیا تو پھر نام و نشاں کب تک
چراغ کشتۀمحفل سے اٹھے گا دھواں کب تک
مراکش جا چکا، فارس گیا،اب دیکھنا یہ ہے
کہ جیتا ہے یہ ٹرکی کا مریض سخت جاں کب تک
یہ ہیں وہ نالۀمظلوم کی لے جن کو بھائی ہے
یہ راگ ان کو سنائے گا یتیم ناتواں کب تک
کوئی پوچھے کہ اے تہذیب انسانی کے استادو!
یہ ظلم آرائیاں تاکے یہ حشر انگیزیاں کب تک۔
طلبائے ندوہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
کئے تھے ہم نے بھی کچھ کام جو کچھ ہم سے بن آئے
یہ قصہ جب کاہے باقی تھا جب عہدِشباب اپنا
اور اب تو سچ یہ ہے جو کچھ امیدیں ہیں وہ تم سے ہیں
جواں ہو تم۔، لبِ بام آچکا ہے آفتاب اپنا۔
طنزیہ شاعری میں آپ کو بدرجۀاتم قدرت حاصل تھی، یونیورسٹی اور الحاق، عرض و نیاز بجناب مالک الملک، لیگ کی دائم المرضی کی علت اصل، بمبئی کی وفادار انجمن، یہ نظمیں اس کی بہترین آئینہ دار ہیں،جس کی مثال اردو شاعری میں ملنی مشکل ہے ان کی طنزیہ شاعری کے بارے میں رشید احمد صدیقی تحریر فرماتے ہیں:
لطیف طنزیہ لکھنے کا سہرا علامہ شبلی نعمانیؒ کے سر ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اگر ہم ان کی شاعری کے مختصر سے مجموعہ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ایک بڑے اور سچے شاعر کے کلام میں جن خوبیوں کی ضرورت ہے وہ پوری طرح ان میں موجود ہیں ۔
آخر میں ان کا مشہور شعر بر زبان ہے ۔
عجم کی مدح لکھی، عباسیوں کی داستان لکھی
مجھے چندے مقیم آستانِ غیر ہونا تھا
مگر اب لکھ رہا ہوں سیرت خاتم
خدا کا شکر ہے جو خاتمہ بالخیر ہونا تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے بھی یہ لکھ کر قلم روک دیا:
آپ کی شاعری کتنی الہامی تھی کہ شاعرانہ پیشین گوئی تاریخ کا واقعہ ہو کر رہی۔
No comments:
Post a Comment