مولانا عبد الستار ندوی
بنیادی طور پر ہمارے دماغ میں کچھ ایسے مراکز ہیں جو ہمیں خطرے کے وقت متنبہ کرتے ہیں مثلا ہم کسی جنگل میں ہوں اور ہمارے پیچھے کوئی درندہ لگ گیا ہو یا ہم کسی عمارت میں ہوں اور شدید زلزلہ آ گیا ہو یا اسی طرح ہم کسی گاڑی میں ہوں اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے حادثے کا شکار ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہوں تو پھر ایسے موقعوں پر ہمارے دماغ کے وہ مراکز ہمیں الارم دیتے ہیں کہ ہم اپنا دفاع کرنے کو تیار ہو جائیں، painic disorder میں یہ ہوتا ہے کہ ہمارے دماغ کا وہ حصہ بہت زیادہ غیر معمولی طور پر حساس ہو جاتا ہے اور بغیر کسی خطرے کے یہ علامات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں انسان ہمیشہ متفکر رہنے لگتاہے اور ہمیشہ اس پرنا امیدی و اداسی چھائی رہتی ہے،اگر یہ تناؤ وقتی ہو تب تو کوئی مسئلہ نہیں مگر یہ کیفیت اگر لمبے عرصے تک کسی پر طاری رہی تو اس سے جسمانی،ذہنی اور جذباتی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں خصوصاً جب یہ دائمی بن جائیں۔
طویل المیعاد تناؤ سے پیدا ہونے والے مسائل درجِ ذیل ہیں۔
جسمانی توانائی میں کمی،
سر درد،
سینے میں تکلیف،
دل کی دھڑکن تیز ہونا،
سونے میں مشکلات یا بہت زیادہ نیند،
مسلز میں تکلیف یا دباؤ،
کانوں میں گھنٹیاں بجنا، ہاتھوں یا پیروں میں سردی کا احساس یا پسینہ،
منہ خشک ہونا تھوک یا کوئی چیز نگلنے میں مشکل محسوس ہونا،
ہاضمے کے مسائل،
ازدواجی تعلقات میں تبدیلیاں،
ہائی بلڈ پریشر،
دل کے امراض،
ذیابطیس،
دمہ،
جوڑوں کے درد،
بہت زیادہ تناؤ کی علامات درج ذیل ہیں
ذہنی بے چینی،
یا خوف کے حملے،
تناؤ سے نمٹنے کے لیے منشیات کا استعمال کرنا،
بہت زیادہ کھانا،
تمباکو نوشی،
گھر والوں اور دوستوں سے دوری اختیار کرنا،
ڈپریشن میں چلے جانا۔
اگر کوئی انسان ڈپریشن میں چلا گیا تو پھر بڑے مسائل ہوتے ہیں،زندگی اجیرن بن جاتی ہے، ڈپریشن کی وجہ سے ہاضمہ اور معدے کا پرابلم تو ہوتا ہی ہے باقی زندگی کی ترتیبیں بھی بگڑ جاتی ہیں، انسان کا دل ہمیشہ اداس رہنے لگتا ہے، اگر زندگی میں کچھ اچھا بھی ہو رہا ہو تب بھی دل خوش نہیں رہتا، عام اداسی اور ڈپریشن والی اداسی میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ عام اداسی کسی خوشی کے مل جانے پر دور ہو جاتی ہے مگر یہ اداسی کس خوشی کے حاصل ہونے پر بھی نہیں جاتی ایسا شخص sad soul ہوجاتا غمزدہ رہنا اسکے مزاج میں داخل ہو جاتا ہے، ایسا شخص موجودہ خوشی سے خوش نہیں ہوتا بلکہ اس کی نگاہیں آئندہ کے غم کو تلاش کرنے میں لگی رہتی ہیں، کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا ہے بلکہ ان چیزوں میں بھی دل نہیں لگتا جو کبھی اس کا محبوب مشغلہ رہا ہو جبکہ پہلے وہ اسے خوش دلی کے ساتھ کرتا تھا، نیز یہ کہ ہر چھوٹی بڑی چیز کے لئے اپنے آپ کو قصور وار گرداننا اس کی عادت بن جاتی ہے، اس لئے زندگی اس کے لئے ایک بوجھ بن کر رہ جاتی ہے چنانچہ ایسے شخص کو بار بار خود کشی کے خیالات آتے ہیں، 2015 کے ایک سروے کے مطابق ہرچالیس سیکنڈ پہ ڈپریشن کی وجہ سے ایک خودکشی ہوتی ہے۔
ڈپریشن کے وجوہات اور اسلام کا نقطہ نظریہ۔
ڈپریشن کے کئی وجوہات ہو سکتے ہیں ان میں سے چند کا ذکر اور اسلامی تعلیمات سے ان کا حل پیش کیا جاتا ہے۔
ڈپریشن کے وجوہات میں سے سے ایک وجہ ناشکری بھی ہے ایسی حالت میں انسان اپنی نعمتوں کو چھوڑ کر دوسروں کی نعمتوں کو دیکھتا ہے بلکہ اپنی دنیاوی و مالی حالت کا موازنہ اپنے سے اوپر والے کے ساتھ کرتاہے اس کیفیت کا شکار انسان بہت پریشان رہتا ہے، اگر ہم اسلامی تعلیمات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے یہ ایک مذموم وصف ہے جو دل کے سکون کو ختم کردیتا ہے، انسان کو خوش رہنے کے لئے ضروری ہے ہے کہ ہمیشہ اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی طرف دیکھو جو تم سے کمتر ہے (دنیاوی امور میں) اور اس شخص کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ کی اس نعمت کو حقیر نہ جانو جو تم پر ہے (بخاری)
شکر ایک ایسی کیفیت ہے جس سے سکون قلب میسر ہوتا ہے اور اللہ تعالی شکر ادا کرنے والوں پر مزید عنایت فرماتا ہے سورہ ابراہیم میں اللہ تعالی فرمایاہے کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دونگا اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو میرا عذاب بڑا سخت ہے (سورہ ابراہیم آیت7)
زیادہ ماضی میں رہنا
اسی طرح اگر کوئی شخص بہت زیادہ اپنی ماضی کی باتوں کو دہراتا ہے، میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ یا میرے ہی ساتھ ایسا کیوں ہوا؟اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا،یا میرے ساتھ ایسا نہ ہوتا اگر میں ایسا کیا ہوتا، یہ جو اگر مگر کی کشمکش ہے اس سے انسان ذہنی طور سے بہت زیادہ پریشان ہوجاتا ہے،اور ڈپریشن میں جانے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں ماہرینِ نفسیات نے ڈپریشن کے منجملہ اسباب میں سے ایک بڑا سبب ماضی میں بہت زیادہ کھوئے ہوئے رہنا بھی بتایا ہے اس تعلق سے اسلام کی تعلیمات میں بھی بہت اہم صراحت موجودہے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہ اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہوتا لیکن کہو کہ یہ اللہ نے مقدر کیا تھا،اور اس نے جو چاہا وہ کیا،بیشک لفظ "اگر" شیطان کے عمل کو کھولتا ہے (یعنی شیطان کے لئے راہیں ہموار کرتا ہے) (مسلم)
اس بارے میں قرآن بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے سورہ حدید میں ہے"تاکہ تم اپنے سے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو اور نہ نہ عطا کردہ چیز پر اتر آؤ (سورہ حدید آیت 23)
زیادہ مایوس رہنا
ہمیشہ مایوس رہنا یا اکثر نا امیدی کی باتیں کرنا نا منفی سوچ اپنے ذہن و دماغ میں پالے رہنا، ان سب چیزوں سے بھی انسان ڈپریشن میں چلا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات تو بے بس اسٹیٹ آف مائنڈ میں چلا جاتا ہے،اگر ہم ڈپریشن سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ایسی زندگی گزارنی ہوگی جہاں ہم خوش رہ سکیں، خوش رہنا ٹینشن اور ڈپریشن کا سب سے بہتر ہے علاج ہے،ہمیں چاہئے کہ ہم ان چیزوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں جو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔
جدید ریسرچ بھی اس بات کو کو ثابت کر چکی ہےکہ ہنسنا، مسکرانا،اور خوش رہنا ذہنی و جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں، ذہنی تناؤ،نا امیدی اور بے چینی کو کم کرتی ہے،اسلام بھی ہمیں مسکرانے اور دوسروں کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کرتا ہے۔ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا صدقه ہے (ترمذی) پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں احادیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ عیاں رہتی تھی۔ڈپریشن سے بچنے کے لئے اور بھی طریقہ کار استعمال کئے جاسکتے ہیں۔مثلاً خدا کی سچی معرفت،آخرت پر یقین،دنیا کے فانی ہونے کا استحضار،صبر و شکر اور تحمل کو اپنانا،ذکر اللہ کی کثرت،مثبت سوچ پیدا کرنا،حسد سے بچنا،تقدیر پر پورا اور کامل ایمان،لمبے سجدوں کی پابندی،اچھی غذا لینا،ورزش کرنا،فلم اور ڈراموں سے پرہیز کرنا، اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔
اس کے علاوہ بھی ڈپریشن کے کئی وجوہات ہیں مثلا جسم میں بائیو کیمیکل کا پرابلم، یا عمر کے کسی حصے میں کبھی جسمانی استحصال، یا اموشنل ابیوز سے گزرنا پڑاہو، اسی طرح دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ بھی ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے،تحقیقات سے بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ بیماری موروثی بھی ہوتی ہے۔
ایسی بیماریوں میں عام طور پر ماہرِ نفسیات کے ساتھ کونسلنگ،ورزش،طرزِ زندگی میں تبدیلی اور سوچ کو مثبت رکھنے کی عملی مشقوں سے انسان پھر سے ہشاش بشاش ہوجاتا ہے،مگر ان کوششوں سے افاقہ نہ ہو تو کسی ماہر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کے استعمال سے بھی عصبی کیمائی مادوں کی مقدار میں توازن پیدا ہوجاتا ہے اور مریض چند ہفتوں کے اندر بہتری محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment