انسانی تاریخ عام طور سے اور تاریخ اسلامی خاص طور سے ایسے لوگوں کے کارناموں سے روشن ہے، جنہوں نے حق و انصاف کے لیے بڑی سے بڑی پریشانیوں کا سامنا کیا، بڑے بڑے خطرات مول لئے، ان کو حق وانصاف کے سلسلے میں نہ تو دنیا کی بڑی سے بڑی سپر پاور طاقتوں کا جاہ و جلال روک سکا اور نہ ان کو کسی ملامت کرنے والے کی ملامت حق بات بولنے سے باز رکھ سکی، لیکن ان اہل حق اور اہل عزیمت نے اپنے ذاتی مفادات سے بلند ہوکر امت کے اجتماعی مفاد کے لئے کام کیا۔ ہمیشہ امت کی خیر خواہی کو حرزِ جاں بنائے رکھا، اعلائے کلمۃ اللہ کو اپنا نصب العین بنایا، اس کے راستے میں آنے والی ہر قسم کی پریشانیوں کو بخوشی قبول کیا، ان اہل عزیمت نے اپنی جان و مال، عزت و آبرو کی بھی پرواہ نہیں کی۔
کوئی انصاف پسند مصنف ان کی فہرست تیار کرنا چاہے تو کئی ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں، ان کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں پوشیدہ ضرور ہے لیکن وہ اہل حق اپنے روشن کارناموں کی وجہ سے زندہ ہیں، جن کارناموں کو ان کے بعض معاصرین نے قلم بند کر کے امت کے لئے ایک قیمتی اثاثہ کے طور پر محفوظ کر دیا، حالانکہ ان کے معاصرین میں بعض ایسے بھی تھے، جو انہیں کے جیسا اثر رسوخ رکھتے تھے، صاحب جبہ و دستار تھے، وقت کی ہواؤں کے ساتھ زندگی کا مادی سفر بڑے عیش و آرام کے ساتھ طے کر رہے تھے، مؤرخین نے ان دونوں ہی قسم کے علماء و مفکرین، دانشوروں وانقلابیوں اور اصحاب قلم وممتاز شخصیتوں کی زندگیوں کی ایک ایک نقل وحرکت کو بڑے سلیقے سے قلمبند کیا ہے، تاکہ جب امت کو عزیمت کے راستے پر چلنے کی دعوت دی جائے، تو ان کے سامنے کچھ عملی نمونے بھی پیش کر دئے جائیں۔
اللہ تعالی نے ہر میدان کے لئے مناسب صلاحیتوں والے افراد پیدا کئے ہیں، جو خداداد صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر اس میدان کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس سلسلے میں اسلامی تاریخ کے فقہاء و محدثین، اصحاب فلسفہ ومنطق اور اصلاح و دعوت کے میدان میں کام کرنے والوں کو بطور دلیل پیش کیا جاسکتا ہے، یہ ملکۂ خداداد اور وہبی صلاحیتیں باطل کے ظلمت کدوں میں اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں روشن قندیل کا کام کرتی ہیں، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے جب اس قندیل کو ہاتھ میں لے کر ماضی کے گلیاروں میں ان اہل عزیمت کو تلاش کیا جنہوں نے مشکل حالات میں امت کو ارتداد والحاد سے بچایا، باطل طاقتوں کا سامنا کرنا سکھایا، طوفانوں کا رخ کیسے موڑا جاتا ہے، اس کی مثالیں پیش کی اور اس طرح پوری دنیا کو عام طور سے مسلمانوں کو خاص طور سے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے "دعوت وعزیمت" نامی کتاب کی شکل میں ایک بہترین تحفہ عطا کیا۔
یہ باتیں میرے ذہن کے نقشے پر اس وقت ابھر کر آئیں، جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر ملک کے وزیراعظم کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا، اس موقع پر بعض علماء برادری سے تعلق رکھنے والے اصحاب قلم کی تحریریں سامنے آئیں جن میں حد درجہ مرعوبیت بالکل عیاں تھی، اخبارات میں تحریریں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کہیں قدم بوسی کا مظاہرہ ہورہا ہے، جس میں ہر بعد میں آنے والا شخص پہلے والے پر فوقیت لے جانے کی کوشش کر رہا ہے، اس سلسلے میں یا تو اہل عزیمت کا طریقہ اختیار کیا جانا چاہئے تھا کہ مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے آواز اٹھائی جاتی یا پھر خاموشی وسکوت اختیار کرنا چاہیے تھا لیکن یا للاسف۔
شاید ایسے اصحاب قلم کو معلوم نہیں ہے کہ وقت کا مورخ کسی زاویہ میں بیٹھے ہوئے ان کی ہر ہر حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور بعد میں آنے والوں کے لیے اس کو محفوظ کر رہا ہے وہ ایک طرف اہل عزیمت پر ہونے والے ظلم وتشدد اور ان کی حق وانصاف کے لئے ثبات قدمی کو ذکر کرنے کے بعد بڑے فخر سے کلیم عاجز کی زبان میں یہ شعر گنگنا رہا ہے کہ:
ہمیں ہیں آئینہ، آئینہ گر، آئینہ ساز، دیکھو
ادھر کیا دیکھتے ہو، اس طرف کیا ہے، ادھر دیکھو
ایسے اہل عزیمت حضرات کے روشن کارناموں پر بعد میں آنے والوں کو فخر ہوگا، پھر کوئی مفکر اسلام جیسا انصاف پسند مورخ دنیا کے پردے پر جلوہ نما ہوگا اور ہمارے معاصر اہل عزیمت کو کتابوں کے انبار میں ٹارچ لے کر تلاش کرے گا اور امت کے سامنے فخریہ انداز میں پیش کرے گا، امت کو مشکل حالات میں ان کے کارناموں سے رہنمائی ملے گی، اس کے حوصلے کو مہمیز ہوگی، حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی اور دوسری طرف ہوا کے دوست پر چلنے والوں کا بھی تذکرہ کرے گا۔
جب بھی کوئی تحریر مضمون نگار کے اشہب قلم سے نکلتی ہے، چاہے وہ کسی کتاب کی شکل میں ہو یا بحث و مقالہ اور مضمون کی شکل میں، اللہ کی تقدیر کے مطابق دنیا یا آخرت کے دفتر میں محفوظ ہو جاتی ہے اس کو آپ یہ مت سمجھئے کہ وہ مر گئی ہے، لوگ اس کو بھول گئے ہیں یا بھول جائیں گے، بلکہ وہ زندہ ہے کتب خانوں میں، دنیا کی لائیبریریوں میں اور بعد میں آنے والے محققین اور ریسرچ اسکالر کے ذریعے اس تحریر کو تازگی بخشی جاتی ہے، اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے، اس کے اسباب وعلل کو تلاش کرنے کے بعد ان سے پیدا ہونے والے اثرات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، انصاف پسند کی عقلمندی وزیرکی اور توفیق خداوندی اور فراست الہی کی داد دی جاتی ہے، پھر بطور نمونہ فخریہ طور پر نئی نسل کو ان کے ذریعے غذا بہم پہنچائی جاتی ہے، تاکہ وہ ان ہی کے جیسے سچائی اور جرات مندی کے راستے پر چلیں اور"افضل جہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر" (یعنی سب سے بڑا جہاد ظالم وجابر بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے) کی زندہ مثال بن کر سامنے آئیں، ان کی مثال تو اس سورج کی طرح ہے جو صبح کو طلوع ہوتا ہے اور شام کو غروب ہوجاتا ہے اور پھر ایک نئی تازگی اور نئی امنگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے بقول شاعر:
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے
تو آئیے اہل عزیمت کے راستے پر چلنے کا عزم کرتے ہیں، اللہ تعالی اہل عزیمت کے راستے پر ثبات قدمی نصیب فرمائے۔ آمین
No comments:
Post a Comment